فجر و عصر کے بعد نماز جنازہ
امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک پر چلنے والوں کے لئے نماز صبح کے بعد جنگ سورج طلوع نہ ہو جائے اور عصر کی فرض نماز کے بعد جب تک مغرب کی فرض نماز نہ ہو جائے کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ اکثر وبیشتر ب اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل و کرم سے حرمین شریفین کی زیارت نصیب کراتا ہے تو وہاں اکثر یہ واقعہ پیش آتا ہے ۔ صبح کی فرض نماز کے بعد فور الیعنی ادھر سلام پھیرا اور ادھر نماز جنازہ ہونے لگتی ہے تو ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ اور ایسا ہی عصر کی نماز کے بعد ہوتا ہے تو ایسی
حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ نماز جنازہ پڑھیں کہ نہیں؟ ج فجر و عصر کے بعد نوافل جائز نہیں (ان میں دوگانہ طواف بھی شامل ہے ) مگر نماز جنازہ سجدہ تلاوت اور قضا نمازوں کی اجازت ہے۔ اس لئے نماز جنازہ ضرور پڑھنی چاہئے
ap ky masail or unka haal
Quran/Hadith/Islamic reminders
بازار میں نماز جنازہ مکروہ ہے
ہمارے بازار میں اکر نماز جنازہ ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے ٹریک بھی رک جاتا ہےاور ۱۵۹
لوگوں کا آنا جانا بھی رک جاتا ہے جب کہ قریبی روز پر اس کیلئے جگہ بھی بنی ہوئی ہے لیکن پھر بھی یہاں پڑھائی جاتی ہے تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟
ج کسی مجبوری کے بغیر بازار میں اور راستے میں نماز جنازہ پڑھانا مکروہ ہے ۔
نماز جنازہ حرمین شریفین میں کیوں ہوتی ہے ؟
با س تازہ شمارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ جہاں پنج گانہ نماز با جماعت ہوتی ہے وہاں نماز جنازہ مکروہ ہے جبکہ کعبہ شریف ، مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دیگر مسجدوں میں اسی جگہ نماز جنازہ
پڑھاتے ہیں تو کیا نہیں پڑھنا چاہئے؟ میں کا یہ عذر اور مجبوری کی حالت مستثنی ہے حرمین شریفین میں اتنی بڑی جگہ میں اتنے مجمع کا بہ سہولت
نا ہے۔ منتقل نہ ہو سکنا کافی عذر ہے ۔
نماز جنازہ کیلئے حطیم میں کھڑے ہونا
س حرم شریف میں تقریباً روزانہ کسی نہ کسی نماز کے بعد جنازہ ہوتا ہے ، اکثر لوگ حطیم میں کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ جبکہ امام مقام ابراہیم کے پاس کھڑا ہوتا ہے۔ تو کیا حظیم میں
نماز جنازہ ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟
ج متقدمین سے تو یہ مسئلہ منقول نہیں ، البتہ علامہ شامی نے ایک رومی عالم کی گفتگو نقل کی ہے کہ وہ اس کو درست نہیں سمجھتے تھے اور علامہ شامی نے لکھا ہے کہ ” وہ خود اس کو صحیح سمجھتے ہیں۔ " ( ج ۲، ص ۲۵۶ طبع جدید ) جہاں تک مجھے معلوم ہے عام نمازوں میں بھی اور نماز جنازہ میں بھی لوگوں کو حطیم شریف میں کھڑے نہیں ہونے دیا جاتا
نماز جنازہ کی جگہ فرض نماز ادا کرنا
کیا یہ بات صحیح ہے کہ جہاں نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے وہاں فرض نماز نہیں پڑھ سکتے؟ ج یہ توضیح نہیں کہ جہاں نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہو وہاں فرض نماز نہیں پڑھ سکتے۔ البتہ مسئلہ اس کے بر عکس ہے کہ جو مسجد نماز پنج گانہ کے لئے بنائی گئی ہو وہاں بغیر عذر کے جنازہ کی نماز مکروہ ہے ۔
نماز جنازہ سنتوں کے بعد پڑھی جائے
س ہمارے علاقے کی مسجد میں چند دونوں سے یہ ہو رہا ہے کہ کسی بھی نماز کے اوقات میں اگر کوئی ہ میں بھی جنازہ آجاتا ہے تو مسجد کے امام صاحب فرض نماز کے فورا بعد نماز جنازہ پڑھا دیتے ہیں جبکہ دوسری مساجد اور ہماری مسجد میں پوری نماز کے بعد نماز جنازہ ہوا کرتی تھی مگر اب چند روز سے ہماری مسجد میں فرض نماز کے فوراً بعد نماز جنازہ ہو جاتی ہے اور اس طرح کافی نمازی قبرستان تک جنازہ میں شریک ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ آپ سے گزارش یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں فرض نماز کے فوراً بعد نماز جنازہ ادا کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
ج اصل مسئلہ تو یہی کہ فرض نماز کے بعد جنازہ پڑھا جائے پھر سنتیں پڑھی جائیں لیکن در مختار میں بحر سے منقول ہے کہ فوٹی اس پر ہے کہ جنازہ سنتوں کے بعد پڑھا جائے۔
نجر و عصر کے بعد نماز جنازہ
امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک پر چلنے والوں کے لئے نماز صبح کے بعد جنگ سورج طلوع نہ ہو جائے اور عصر کی فرض نماز کے بعد جب تک مغرب کی فرض نماز نہ ہو جائے کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ اکثر وبیشتر ب اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل و کرم سے حرمین شریفین کی زیارت نصیب کراتا ہے تو وہاں اکثر یہ واقعہ پیش آتا ہے ۔ صبح کی فرض نماز کے بعد فور الیعنی ادھر سلام پھیرا اور ادھر نماز جنازہ ہونے لگتی ہے تو ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ اور ایسا ہی عصر کی نماز کے بعد ہوتا ہے تو ایسی
حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ نماز جنازہ پڑھیں کہ نہیں؟ ج فجر و عصر کے بعد نوافل جائز نہیں (ان میں دوگانہ طواف بھی شامل ہے ) مگر نماز جنازہ سجدہ تلاوت اور قضا نمازوں کی اجازت ہے۔ اس لئے نماز جنازہ ضرور پڑھنی چاہئے۔
نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا مکروہ ہے
اکثر یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جنازہ محراب کے اندر رکھ کر محراب کے سرے پر امام کھڑے ہو جاتے ہیں اور مقتدی حضرات مسجد میں صف آرا ہو جاتے ہیں بعد میں نماز جنازہ پڑھادی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے ؟
ج مسجد میں نماز جنازہ کی تین صورتیں ہیں اور حنفیہ کے نزدیک علی الترتیب تینوں مکروہ ہیں۔ ایک یہ کہ جنازہ مسجدمیں ہو اور امام و مقتدی بھی مسجد میں ہوں ، دوم یہ کہ جنازہ باہر ہو اور امام و مقتدی مسجد تازہ امام اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور کچھ مقتدی مسجد کے اندر ہوں۔
اگر کسی عذر صحیح کی وجہ سے مسجد میں جنا میں جنازہ پڑھا تو جائز ہے۔
اگر پانچ چھ ماہ میں پیدا شدہ بچہ کچھ دیر زندہ رہ کر مر جائے تو کیا اس
کی نماز جنازہ ہوگی ؟
س اگر کسی عورت کا پانچ چھ ماہ کے دوران مرا ہوا بچہ پیدا ہوتا ہے ، یا پیدا ہونے کے بعد وہ دنیا میں اور نماز جنازہ کے بارے میں بتائیے؟ نے کفنانے
ج جو بچہ پیدائش کے بعد مر جائے اس کو غسل بھی دیا جائے اور اس کا جنازہ بھی پڑھا جائے خواہ چند لمحے ہی زندہ رہا ہو ۔ لیکن جو بچہ مردہ پیدا ہوا اس کا جنازہ نہیں۔ اسے نسلا کر اور کپڑے میں لپیٹ کر بغیر جنازے کے دفن کر دیا جائے مگر نام اس کا بھی رکھنا چاہئے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Quetta
87800