15/07/2025
Courtesy : Ummat Public School Quetta.آفیشل
**إنا لله وإنا إلیه راجعون**
کچھ شخصیات خاموشی سے آتی ہیں، مگر اپنی خوشبو سے فضاؤں کو مہکا دیتی ہیں؛ اور جب وہ رخصت ہوتی ہیں تو گویا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ ایسی ہی ایک باوقار، مخلص، اور دردمند شخصیت **استاد نوروز علی زاہدی تھے، جن کی وفات پر دل سوگوار ہے اور آنکھیں اشکبار۔
استادِ محترم *امت پبلک اسکول* کے اوّلین پرنسپل اور *مرکزِ تعلیمی و ثقافتی امت* کے سابق جنرل سیکرٹری کے منصب پر فائز رہے۔
وہ گزشتہ کچھ عرصے سے سرطان (کینسر) جیسے مہلک مرض کا صبر و حوصلے سے سامنا کر رہے تھے لیکن ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور طبیعت کی شگفتگی نے کبھی اُن کے درد کو ظاہر نہ ہونے دیا.
ان کی سادہ مزاجی، راست گفتاری، نرم خوئی اور دوسروں کے لیے ہمہ وقت دستیاب رہنے کا وصف اُنہیں ہم سب کے دلوں کے قریب لے آیا۔ وہ دوستوں کے لیے سایۂ رحمت تھے، شاگردوں کے لیے مشفق راہنما، اور محفلوں میں ایک پُرنور مسکراہٹ کی مانند تھے.
مرکز تعلیمی و فرھنگی اُمت اس سانحۂ ارتحال پر دلی رنج و الم کا اظہار کرتی ہے، اور دعا گو ہے کہ ربِ کریم اُن کی مغفرت فرمائے، اُنہیں اَعْلیٰ عِلِّیِّیِن میں جگہ عطا کرے، اور اُن کے اہلِ خانہ و احباب کو صبر و تسلی عطا فرمائے۔
**وہ چلے گئے، مگر ان کی خوش اخلاقی، محبت، اور خدمت کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا۔**