Hakim Ullah

Hakim Ullah Hakimullah

27/03/2026

دلچسپ حکایت۔۔
‏عربی کی ایک مشہور حکایت ہے کہ کسی بستی کے لوگ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے بدنام تھے۔

اسی بستی کے ایک مرد اور عورت نے خفیہ طور پر، مگر شرعی تقاضوں کے مطابق قاضی اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیا۔

کچھ عرصے بعد میاں بیوی میں ناچاقی ہوگئی۔ شوہر نے نہ صرف بیوی کو گھر سے نکال دیا، بلکہ اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کر دیا۔

خاتون انصاف کے لیے شہر کے قاضی کی عدالت میں پہنچی اور اپنی فریاد پیش کی۔
قاضی نے کہا: "تمہارے اس نکاح کی تو کسی کو خبر ہی نہیں۔"
خاتون نے اصرار کیا: "جناب! ہمارا نکاح عین شریعت کے مطابق ہوا تھا۔"
قاضی نے پوچھا: "کیا کوئی گواہ ہے؟"
خاتون نے جواب دیا: "جی قاضی صاحب! دو گواہ تھے، جن کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھایا گیا تھا۔"
قاضی نے شوہر اور گواہوں کو طلب کر لیا، مگر انہوں نے بھری عدالت میں خاتون کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیا اور بیک زبان ہو کر بولے: "ہم نے آج سے پہلے اس عورت کو کبھی دیکھا تک نہیں۔"
قاضی صاحب نے ان سب کے چہروں پر گہری نظر ڈالی اور خاتون سے پوچھا: "کیا تمہارے شوہر کے پاس کتے ہیں؟"
خاتون نے کہا: "جی ہاں۔"
قاضی نے پوچھا: "کیا تم کتوں کی گواہی اور ان کے فیصلے کو قبول کرو گی؟"
خاتون نے کہا: "جی، مجھے ان کا فیصلہ منظور ہے۔"
قاضی نے حکم دیا کہ خاتون کو اس شخص کے گھر لے جایا جائے۔ اگر کتے اسے اجنبی جان کر بھونکنے لگیں تو عورت جھوٹی ہے، اور اگر وہ اسے گھر کا فرد سمجھ کر خوشی سے اس کا استقبال کریں تو خاتون کا دعویٰ درست اور شوہر و گواہ جھوٹے ہیں۔
یہ حکم سنتے ہی شوہر اور گواہوں کے چہرے خوف سے پیلے پڑ گئے اور ان کے جسم کپکپانے لگے۔ فیصلہ ہو چکا تھا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ قاضی نے سپاہیوں کو حکم دیا: "ان جھوٹوں کو گرفتار کر لو اور انہیں کوڑے لگاؤ۔"
قاضی نے اپنے مشاہدے میں درج کیا:
"وہ بستیاں بدترین ہیں جن کے باشندوں سے زیادہ ان کے کتے سچے ہیں۔

29/12/2025

ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایکہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہاکہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!
ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔
ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔
اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔
ہم جب ایمانداری کا دم بھرتے ہیں تو شیطان ہمیشہ کمزور پہلو سے حملہ کرتا ہے۔ لاکھوں مل جائیں تو عین ممکن ہے کہ ہم وہ امانت کسی تک پہنچا دیں اور دس بیس روپے پر شیطان ورغلا دیتا ہے کہ اس سے کسی کا کیا نقصان ہونا ہے۔ معمولی سی تو رقم ہے۔
ایماندارانہ رویہ بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس پر مستقل مزاج رہنا اللہ رب العزت کی خاص توفیق سے ہوتا ہے۔
اللہ ہمیں اپنی زندگیوں میں ایماندار رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

25/12/2025

✍️ *بہلول دانا*
کہتے ہیں کہ

بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب اپ کھانے کے آداب جانتے ہیں؟
کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔

بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔
شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔

بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔

جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔ بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔

شیخ صاحب پھر وہاں جا پہنچے سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وہی سوال کیا کون ہو؟
شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ہی بتا دیں؟
کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔ بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ہے۔

بہلول نے کہا جو آداب آپ بتا رہے ہيں وہ فرع ہیں اور اصل کچھ اور ہے، اصل یہ ہے کہ جو کھا رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ہی لائےگا نور و ہدایت نہیں، شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ۔

بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ہے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیھودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا۔

سونے میں اصل یہ ہے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رہے، دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رہے،کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رہے...

24/12/2025

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی،
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
‏اے اللہ میرا چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بد کاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا.. وہ الله کے بندوں، اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔ حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں۔ اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں آ کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا۔۔ ؟
جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی جسے زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گئے حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج،
جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔
‏وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا…
آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت سعید بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھو گئی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سب کو محفوظ رکھے..!! آمین"

24/12/2025

کتبِ تاریخ میں لکھا ھے کہ 🍁
جب حجاج بن یوسف حکمران بنا تو لوگ صبح کو ایک دوسرے سے پوچھتے کہ رات کون قتل ہوا
کون قید کیا گیا🍁

اور جب ولید بن عبد الملک حکمران بنا تو لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے کہ
کونسا گھر بنایا
کیسی عمارت تعمیر کی
کہاں مکان خریدا 🍁
کیونکہ ولید اونچی عمارتوں کا شوقین تھا،

اور جب سلیمان بن عبد الملک حکمران بنا تو لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ
کھانا کیا کھایا کیسا کھایا
اور شادی کس سے کی
اور کتنی شادی کی 🍁
کیونکہ سلیمان کھانے پینے اور نکاح کا دلدادہ تھا
اور لونڈیوں کا شیدا تھا
اور جب سیدنا عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے لوگ صبح کو ایک دوسرے سے پوچھا کرتے کہ
رات نماز میں کتنا قرآن پڑھا
کتنا قرآن پاک حفظ کیا
فلاں نے اتنے نفلی روزے رکھے🍁
رات کتنی دیر نوافل پڑھے
کیونکہ عمر بن عبد العزیز قرآن کے قاری روزہ رکھنے والے اور کثرت سے یادِ الہی کرنے والے تھے۔

اسی لیئے عربی مقولہ ہے 🍁
اذا صلح الراعی صلحت رعیتہ
کہ جب حکمران اچھا ہو جائے تو عوام بھی درست ہوجاتی ھے۔،
بقول ایک خاص نسل کے
ہمارے حکمران شرابی کبابی بدکار حرام خور رشوت خور بے شرم بے حیاء بے غیرت بے دین ہیں،
تو عوام دیندار کہاں سے آجائے🍁

23/12/2025

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا،
"گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو!"

گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔
اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔
بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،
"کتنے میں بیچ رہے ہو؟"

تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔
وہ فوراً بولا،
"عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔"

بادشاہ حیران رہ گیا۔
"اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟"

گدھے والے نے ادب سے کہا،
"حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔"

بادشاہ کو یقین نہ آیا۔
"اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔
لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔"

پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،
"اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟"

وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ گدھے والے نے اسے روک دیا اور حقارت سے بولا،
"جناب! مکہ مدینہ کسی گنہگار کو نظر نہیں آتا۔"

وزیر تڑپ کر رہ گیا، غصے سے بولا،
"ہم گنہگار نہیں! ایک طرف ہو!"
وہ بیٹھ گیا، مگر ظاہر ہے کچھ نظر نہ آیا۔

اب وہ سوچنے لگا کہ اگر سچ بتا دیا تو رسوائی ہوگی۔
اچانک زور سے چلایا،
"سبحان اللہ! ما شاء اللہ! الحمدللہ! کیا روحانی منظر ہے مکہ مدینہ کا!"

بادشاہ بے چین ہوگیا۔
"ہٹو! ہمیں بھی دیکھنے دو!"
اور خود گدھے پر بیٹھ گیا۔
لیکن اسے بھی کچھ دکھائی نہ دیا۔

مگر بادشاہ ہونے کا پردہ رکھنا ضروری تھا۔
وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا،
"واہ میرے مولا! کیا کرامت ہے!
میرا وزیر تو صرف مکہ مدینہ تک پہنچا،
مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھی دکھائی دے رہی ہے!"

بادشاہ کے اُترتے ہی عوام ٹوٹ پڑی،
کوئی گدھے کو چھونے لگا،
کوئی چومنے لگا،
کوئی اس کے بال کاٹ کر تبرک کے طور پر رکھنے لگا۔

ہمارے معاشرے میں بھی ایسے ہی کچھ جعلساز اور مکار پھرتے ہیں۔
دین کا نام، دینی اصطلاحات اور کرامتوں کی کہانیاں استعمال کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں،
اور سادہ لوح عوام اندھے کانے بن کر ان کے پیچھے چل پڑتی ہے۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ انہیں سچے ولی اللہ اور ڈھونگی پیروں میں فرق ہی نظر نہیں آتا۔
ایک ولی اللہ ہمیشہ شریعت کا پیکر ہوتا ہے، اگر اس کا فعل شریعت کے متضاد ہے تو وہ پیر یا ولی نہیں...
صرف ایک ڈھونگی شیطان ہے جو مسلمانوں کو جہنم کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں سچے اولیاء کی پہچان اور عزت و تکریم کی توفیق عطا فرمائے آمین

22/12/2025

دوکاندار کی ایمانداری
کسان کی بیوی نے جو مکھن کسان کو تیار کر کے دیا تھا وہ اسے لے کر فروخت کرنے کیلئے اپنے گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو گیا، یہ مکھن گول پیڑوں کی شکل میں بنا ہوا تھا اور ہر پیڑے کا وزن ایک کلو تھا۔ شہر میں کسان نے اس مکھن کو حسب معمول ایک دوکاندار کے ہاتھوں فروخت کیا اور دوکاندار سے چائے کی پتی، چینی، تیل اور صابن وغیرہ خرید کر واپس اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا. کسان کے جانے بعد دوکاندار نے مکھن کو فریزر میں رکھنا شروع کیا۔ اسے خیال گزرا کیوں نہ ایک پیڑے کا وزن کیا جائے، وزن کرنے پر پیڑا 900 گرام کا نکلا۔ حیرت و صدمے سے دوکاندار نے سارے پیڑے ایک ایک کر کے تول ڈالے مگر کسان کے لائے ہوئے سب پیڑوں کا وزن ایک جیسا اور 900 - 900 گرام ہی تھا۔ اگلے ہفتے کسان حسب سابق مکھن لے کر جیسے ہی دوکان کے تھڑے پر چڑھا، دوکاندار نے کسان کو چلاتے ہوئے کہا کہ وہ دفع ہو جائے، کسی بے ایمان اور دھوکے باز شخص سے کاروبار کرنا اسکا دستور نہیں ہے. 900 گرام مکھن کو پورا ایک کلو گرام کہہ کر بیچنے والے شخص کی وہ شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا. کسان نے افسردگی سے دوکاندار سے کہا: ” میرے بھائی مجھ سے بد ظن نہ ہو ہم تو غریب اور بے چارے لوگ ہیں ، ہمارے پاس تولنے کیلئے باٹ خریدنے کی استطاعت کہاں. آپ سے جو ایک کلو چینی لے کر جاتا ہوں اسے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ کر دوسرے پلڑے میں اتنے وزن کا مکھن تول کر لے آتا ہوں“.

01/12/2025

Address

Puran
Puran
1950

Telephone

+923453107913

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakim Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category