*کوئی بھی نیکی حقیر نہیں*
الحدیث النبوی:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ، أَوْ سَبْعُونَ بَابًا، أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے (شاخیں) ہیں، ان میں سے ادنی (سب سے چھوٹا) شعبہ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے۔
سنن ابن ماجہ: 57
جامع مسجد رحمانیہ \ Jami Masjid Rahmania
جامع مسجد رحمانیہ گاؤں بھمبہ کلاں کے اندر اہل حدیث کی مسجد ہے جو کہ شاہ صاحب والی مسجد کے نام سے معروف ہے
بھمبھ کلان اور گردو نواح میں کتاب وسنت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ، اس صفحہ کا اجراء کیا جارہا ہے ، ساتھ ساتھ مسجد سے اور اس کے تحت دیگر اداروں میں سرانجام دی جانے والے خدمات کا تذکرہ کیا جائے گا ۔
مسجد کے بانیاں اور سرکردہ لوگوں کا ذکر خیر بھی اہداف میں شامل ہے .
اولین مقصد قرآن وسنت کی سچی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور معاشرے میں پھیلنے والی بے راہ روی اور انارکی کا سد باب کرنا ہے .
تاکہ بندگان خ
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
تین ایسے لوگ ہیں جو نہ جنت میں داخل ہوں گے، اور نہ ہی قیامت کے دن الله اُن پر نظر کرم فرمائے گا:
1) والدین کا نافرمان،
2) مَردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت، اور
3) دیّوث (بے غیرت خاوند).
اور تین ایسے لوگ ہیں جن پر الله قیامت کے دن نظر رحم نہ فرمائے گا:
1) والدین کا نافرمان،
2) عادی شرابی،
3) دے کر احسان جتانے والا.
مسند احمد 6180
(نسائی 2563؛ السلسلة الصحيحة 329، 840)
سخاوت اور ایثار کا مہینہ
```الحدیث النبوی:```
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ ، وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیرات(صدقات) کرنے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کرتے تھے۔
```صحیح البخاری:4997```
ماہ رمضان کا آغاز اور رحمتوں کے دروازے
```الحدیث النبوی:```
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو(اللہ تعالی کے خصوصی کرم سے) آسمان کے تمام (رحمتوں) کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے (سات)دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔
```صحیح البخاری:1899```
مومن ایسا نہیں ہوتا
```الحدیث النبوی:```
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن (کسی پر)لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے“۔
```جامع الترمذی:2019```
والد جنت کا دروازہ
```الحدیث النبوی:```
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی (خدمت ، نیک کاموں میں اطاعت کر کے )حفاظت کرو۔
```سنن ابن ماجہ:3663```
مؤمن کی فکرمندی
```الحدیث النبوی:```
مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ، نہ تھکاوٹ ، نہ بیماری ، نہ غم حتی کہ کوئی فکر بھی جو اسے فکرمند کر دے مگراس کے بدلے اس کے گناہوں کومٹا دیاجاتا ہے ۔
```صحیح مسلم:6568```
شہید۔۔۔۔۔اوردنیا میں واپسی کی تمنا
```الحدیث النبوی:```
(عَنْ)أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ:مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلَ : عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو( اللہ کے راستے میں ) کیونکہ وہ شہادت(اور شہید) کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔
```صحیح البخاری:2817```
معاملات میں آسانی کی دعا
```الحدیث النبوی:```
عَنْ أَنسٍ أَن رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: اَللهم لَاسَهَل إِلَا مَا جَعَلَتْه سَهْلًا، وَأَنْت تَجْعَل الْحَزَن إِذَا شِئْت سَهْلًا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اے اللہ جسے تو آسان بنا دے اس کے علاوہ کوئی آسانی نہیں اور جب تو چاہتا ہے سختی کو آسان کر دیتاہے
```سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:2886```
بھائی کی عزت
```الحدیث النبوی:```
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرفُوعاً: إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا اسْتِطَالَةُ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ أَخِيهِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
سب سے بڑی زیادتی کسی آدمی کا اپنے( مسلمان ) بھائی کی عزت ( کو بغیر کسی کے حق کے ) برباد کرنا ہے۔
```الاحادیث الصحیحۃ:3950```
مقصد پر قربان ہونے والے
```الحدیث النبوی:```
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .
سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے“۔
```جامع الترمذی:1421```
قالَ ﷺ:
تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو چاہیئے کہ:
1) اپنے ہاتھ سے اسے بدل دے،
2) اگر اتنی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اسے بدل دے،
3) اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل سے (اسے بدلنے کی تدبیر سوچے)، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے.
مسلم 177
(ترمذی 2172؛ ابوداؤد 4340؛ نسائی 5011)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Punjab