امیر المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں قحط پڑ گیا تو صحابی رسول حضرت بلال بن حارث المزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کی : یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرما دیجئے وہ ہلاک ہو رہی ہے۔ سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا: تم حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جا کر میرا سلام کہو اور بشارت دے دو کہ بارش ہو گی اور یہ بھی کہہ دو کہ وہ نرمی اختیار کریں۔ حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوئے اور خبر دے دی۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ سن کر رونے لگے ، پھر فرمایا: یا رب !عَزَّوَجَلَّ، میں کوتاہی نہیں کرتا مگر اسی چیز میں کہ جس سے میں عاجز ہوں۔
حوالہ جات :
مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، ۷ / ۴۸۲، الحدیث: ۳۵،
وفاء الوفاء، الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الفصل الثالث، ۲ / ۱۳۷۴، الجزء الرابع
islam ki dunya
آقا کےغلام
*وَماۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِـيُـطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذْ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَـهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا* ۞
ترجمہ:
اور ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو یہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بےحد رحم فرمانیوالا پاتے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو یہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بےحد رحم فرمانیوالا پاتے۔ (النساء : ٦٤)
*پرانی سازش نیا انداز*
ایک طرف سپریم کورٹ قادیانیوں کو ریلیف دے چکا ہے اور
دوسری طرف
قانون تحفظ ناموسِ رسول 295c کے خلاف ایک بڑی گہری سازش کا آغاز ہو چکا ہے، قانون کا غلط استعمال روکنے کے عنوان سے 11 اگست کو ملک کے مختلف شہروں میں سٹیپ ون لینے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
اگر ہم متوجہ و متفکر نہ ہوئے اور بروقت بھرپور ردعمل نہ دیا تو آئندہ کچھ وقفے سے سٹیپ ٹو لیا جائے گا جو پہلے سٹیپ سے زیادہ منظم اور زیادہ قوت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
خدارا آواز اٹھائیں
خدارا امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور بھرپور تحریک چلائیں
خدارا اہل اقتدار کو جھنجھوڑیں اور بتائیں کہ یہ اسلام اور وطن دونوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے
یہ کون لوگ ہیں جنہیں اہل غزہ پر ہونے والا ظلم اور کشمیر کے مسلمان کی مظلومیت تو نظر نہیں آتی لیکن حیلوں بہانوں سے گستاخ کو تحفظ دینا چاہ رہے ہیں
اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں عزت رسول کے قانون پر سرعام طعن کی اجازت کون دے رہا ہے ؟
انتظامیہ اس سازش پر خاموش کیوں ہے ؟
اے اسلامیانِ پاکستان
دنیا اہلِ کفر قوانینِ ختم نبوت اور قانون ناموسِ رسالت ختم کروانے یا کم از کم غیر موثر بنوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور ان گھناؤنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہر کوشش کر رہا ہے
اگر ہم نے اس بار بھی اپنی ذمہ داری بروقت اور بھرپور طریقے سے ادا نہ کی تو قانون ناموسِ رسالت 295c بھی کسی حد تک سازش کی نظر ہو جائے گا۔
خدارا متوجہ ہوں، متحد ہوں اور اس سازش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
تحفظ ختم نبوت سے وابستہ جماعتیں عملی طور ردعمل دینے کا اعلان کریں۔
جن شہروں میں یہ پروگرام ہونے جا رہے وہاں مختلف مکاتب فکر کی دینی تنظیموں کے حضرات وفود کی صورت میں انتظامیہ سے ملیں اور عزت حبیب کے خلاف ہونے والی سازش کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں
منیر احمد علوی عفی عنہ
6 اگست 2024
حال وارد
مسجد الحرام مکہ مکرمہ
*گرمیوں میں خدمت خلق کے چھوٹے چھوٹے کام*
1۔ گلی محلے، بازار سڑکوں اور انتظار گاہوں کے کنارے ٹھنڈے میٹھے پانی کے نظام کو فروغ دیا جائے، اپنے گھر دکان کے باہر پانی کا کولر بھر کے رکھ دیں یا چند دوست مل کر ضرورت کی جگہ پر نیا ہینڈ پمپ یا واٹر کولر لگوا دیں، شاید ہمارے اس عمل سے خدا ہمیں جنت کے چشموں سے سیراب ہونا نصیب کر دے۔
2۔ ٹریفک سگنلز، بس اسٹیشنز، عوامی انتظار گاہوں اور ایسی ہر جگہ پر جہاں لوگ کچھ وقت کے لیے رکتے ہوں، مخلوق خدا کو گرمی سے بچانے کے لیے سائبان کے نظام کو فروغ دیا جائے، کوئی درخت، چھوٹی چھتری یا گرین شیٹ لگوا دی جائے، شاید ہمارے اس عمل سے خدا ہمیں جہنم کی گرمی سے بچا لے۔
3۔ بغیر سائبان کے کھڑے چھابڑی فروشوں اور ٹھیلے والوں کے لیے سایے کا انتظام کر دیا جائے، ضرورت کے مطابق ایک مناسب سائز کی فولڈنگ چھتری وغیرہ ہدیہ کر دی جائے۔
4۔ اگر آپ دوران ڈارئیونگ بند گاڑی میں اے سی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو چلچلاتی گرمی میں پیدل چلنے والوں، سائیکل، موٹر سائیکل سواروں، اور رکشے والوں کا خصوصی خیال رکھیں، انہیں پہلے گزرنے کا موقع دیں، ٹھنڈک میں بیٹھے ہمارے اس چھوٹے سے عمل سے گرمی میں جلتا انسان یقینا ٹھنڈک محسوس کرے گا۔
5۔ گرم موسم میں اگر کسی سے گرمی سردی ہو جائے یا کوئی ایسے ہی الجھ پڑے تو اسے خدا کی رضا کے لیے معاف کر دیں اور سلام کرتے ہوئے اپنی راہ لیں، حدیث مبارکہ میں اس شخص کو جنت کے کنارے محل کی گارنٹی دی گئی ہے جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے۔
6۔ اپنے عزیز و اقارب اور گلی محلے میں نظر دوڑائیں، اگر کسی کو چھت والے یا فرشی پنکھے یا ائیر کولر کی ضرورت ہے تو اسے پورا کر دیں، پانی ٹھنڈا رکھنے کے لیے مناسب سائز کا کولر مہیا کر دیں۔
7۔ جتنا ہو سکے اپنے ارد گرد پودے اور درخت لگانے کو فروغ دیا جائے، چرند پرند اور انسان ٹھنڈے سائے سے لطف اندوز ہوں گے اور دعا دیں گے، دین نے ہم سے ہر جاندار کے ساتھ حسن سلوک میں اجر کا وعدہ کیا ہے، کیا خبر خدا ہمیں بھی جنت کے درختوں کا سایہ نصیب کر دیں۔
8۔ پرندوں کے لیے کسی سایہ دار جگہ میں دانے اور پانی کا انتظام کر دیں۔
9۔ کسی روڈ کنارے یا چوک میں کام کے منتظر بیٹھے مزدوروں اور اپنے قرب و جوار میں کسی مسجد و مدرسے کے بچوں کو ٹھنڈے پانی کی بوتلیں پیش کریں یا دودھ سوڈا اور روح افزا بنا کر دیں، دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں پلائیں یا معصوم بچوں کا کھوئے والی قلفیوں سے اکرام کریں، رزق حلال کی جستجو کرنے اور قرآن پڑھنے والوں کے سینوں کی ٹھنڈک ہماری قبر کو ٹھنڈا رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔
حدیث مبارکہ میں مخلوق خدا کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کو برے خاتمے اور بری موت سے بچاؤ کے علاوہ ہر طرح کی آفتوں اور ہلاکتوں سے حفاظت کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے، اور پھر خلق خدا اپنے خالق کا کنبہ ہے، خدا کا محبوب بننے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ اس کے کنبے کی دیکھ بھال کی جائے اور راحت پہنچانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔
13/05/2024
islam ki dunya Hafiz Sales and perches grup Hafiz Hafeez Ur Rehman Hafiz Naeem ur Rehman Hafiz sale and perches #شبقدر #موت
احباب مشورہ دیں کہ مسجد کی جگہ لیں یا نہیں کیونکہ ان کی شرط ہے کہ فورا آباد بھی کرنی ہے نماز کیلئے بھلے گزارہ والی ہی بنائیں تو گزارہ والی بھی بنائیں گے تو کم از کم تین لاکھ روپے خرچہ آئے گا صرف ایک واش روم اور بالکل چھوٹی سی مسجد اور بھت چھوٹی سی چار دیواری.
حالات مالی یہ ہے ہیں کہ جمع وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے کل دو احباب کو کال کی تھی قرض حسنہ کیلئے فی الحال کوئی بھی جواب نہیں آیا.
پلاٹ دینے والا شخص کہ رہا ہے اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھ کر شروع کریں کوئی نہ کوئی راستہ بن جائے گا.
مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا ہے کیونکہ میں خود مدرس شخص ہوں پڑھاتا ہوں جیسے عام لوگ چندہ وغیرہ کرتے ہیں اس طرح میں نہیں کر سکتا اور میں چھٹی بھی نہیں کر سکتا
جب میں نے مدرسہ شروع کیا تھا اس وقت استاد محترم مولانا منظور احمد مینگل صاحب نے دعاء کے ساتھ فرمایا تھا کہ اخراجات بھلے کم رکھو لیکن محنت کر کے پڑھاؤ خود
ہر وقت ادھر ادھر بھاگ دوڑ والی ترتیب نہ ہو
خیر الحمدللہ مدرسے کی ترتیب تو چل رہی ہے.
لیکن مجھے بھت ہی مشکل لگ رہا ہے آپ حضرات کے سامنے حالات رکھ دئے ہیں مشورہ دیں کیا کروں جگہ لوں یا نہیں
حالانکہ ہمیں مسجد کی جگہ کی اشد ضرورت بھی ہے مدرسے کے ساتھ ساتھ مسجد بھت ضروری ہے کافی سارے معاملات حل ہو جاتے ہیں.
*گھروں میں برکت کے 12 اسباب*
1- بسم اللّٰہ اور ذکر الٰہی کا اہتمام
2- وقت پر فرض نماز ادا کرنا
3- قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام
4- اللّٰہ کا تقویٰ اختیار کرنا
5- کھانا اکھٹے ہو کر کھانا
6- رزق کی تلاش میں صبح جلدی نکلنا
7- اللّٰہ پر توکل کرنا جیسا اس کا حق ہے
8- خرید و فروخت میں ایمانداری کا ثبوت دینا
9- مالی صدقہ کرنا
10- صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کی خیال داری
11- اللّٰہ کی بہت زیادہ شکر گزاری اور تعریف کرنا
12- مستقل استغفار کا اہتمام کرنا
islam ki dunya Hafiz Naeem ur Rehman Hafiz Sales and perches grup Hafiz sale and perches Hafiz Hafeez Ur Rehman #شبقدر #موت
فیک لائف کا فتنہ
انسان کے اخلاقی وجود کو جو خطرناک بیماریاں لاحق ہیں ان میں جھوٹ اور مبالغے پر مبنی زندگی گزارنے کا فتنہ آج کل کے دور میں سرفہرست ہے۔ ایک وقت تھا کہ انسان کی زندگی کے نجی پہلو پوشیدہ رہتے تھے مگر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے دور میں اب کوئی چیز پرائیویٹ رہی ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی فیلمی لائف، کام کاروبار، سوشل انٹرایکشن، دولت وسرمایہ وغیرہ سب ہی کی نمود و نمائش اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہو رہی ہے۔ آج میں نے کیا کھایا، کیا پہنا، کس سے ملاقات کی اور کن اہم لوگوں اور طاقتور حلقوں تک میری رسائی ہے، یہ سب کچھ اب سوشل میڈیا پر نشر ہوتا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جعلی یعنی فیک لائف کا فتنہ اس وقت ہمارے معاشرے میں عروج پر ہے۔
فیک لائف کا مطلب یہ ہے کہ انسان بظاہر ایسا دکھائی دینے اور بننے کی کوشش کرے جو وہ دراصل ہے نہیں۔ اگر انسان کے پاس معمولی درجے کا علم ہو مگر وہ تکلف سے کتابوں سے جزئیات تلاش کر کے دوسروں کے سامنے اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرے۔ بہت زیادہ مال و دولت نہیں ہے تو انسان دکھلاوا کر کے فیک انداز میں خود کو امیر کبیر ظاہر کرے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس اثر و رسوخ والا عہدہ و حیثیت نہ بھی ہو تو وہ جھوٹ بول کر دوسروں کو یہ تاثر دے کہ میں بہت طاقتور اور پہنچ والا ہوں۔ سوشل میڈیا کی فیک لائف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان مشہور شخصیات سے ملاقات کی تصویریں شئیر کر کے اپنے حلقہ احباب میں شیخیاں بگھارے کہ میرے تو بہت اوپر تک تعلقات ہیں۔ کپڑے، جیولری وغیرہ بھی دوسروں سے مستعار لے کر یا فیک پہن کر ایک ایسا ماحول بنائے کہ دوسرے مرعوب ہو جائیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ چلن اور بیماری ہمارے ہاں عام ہو گئی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کیا ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیخی بگھارنا نہایت برا کام ہے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی "جواظ" یعنی متکبر انداز میں شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔ کسی زمانے میں جھوٹ پر مبنی ڈینگیں مارنے اور شیخی بگھارنے والے کو معاشرے میں ذلیل اور کم تر سمجھا جاتا تھا مگر سوشل میڈیا کے دور میں یہ کام ایک دھندے اور صنعت کا روپ دھار چکا ہے۔ فیک لائف اس انداز فکر کا عملی نمونہ ہے۔
اللہ کے بندے اور بندیاں اپنی زندگی کو سچ اور قول سدید کے گرد استوار کرتے ہیں۔ عزت جھوٹ بول کر اپنا رعب اور دبدبہ قائم کرنے میں نہیں ہے بلکہ سچ بول کر پرسکون ہونے میں ہے۔ فیک لائف کے سہارے جینے والے کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا ہے کہ کب میرا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کس کو میں نے کیا کہانی سنا کر اپنا مطلب نکالا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا شخص کچھ عرصے بعد جھوٹا اور فراڈی مشہور ہو جاتا ہے۔لوگ اس کے پیچھے اس کے بارے میں اور اس کے فیک لائف اسٹائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بسا اوقات تو فیک لائف اختیار کرنے والا شخص دنیا میں ہی بدنامی اور رسوائی کا سامنا کرتا ہے کہ جن لوگوں کو اس نے جھوٹے بھرم کی بنیاد پر گمراہ کیا ہوتا ہے وہ اپنے نقصان کی تلافی کے لئے انتقامی کارروائیوں سے بھی باز نہیں آتے۔
سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے ہماری حقیقی زندگی پر اثرات کے بارے میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انسان بہت کمزور ہے اور اسے سمجھ ہی نہیں آتی اور وہ فیک لائف کے فتنے کا شکار ہو کر اس کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ انسان رجوع الی اللہ کرے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اسے رسوا کرے خود ہی سچ اور حقیقت پر مبنی زندگی کو اختیار کر لے۔ یقینا اللہ بہت کریم اور معاف کرنے والا ہے۔ اللہ سے مسلسل دعا کریں کہ اللہ ہم سب کو شرمندگی، رسوائی سے بچائے اور ہمارے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے۔
islam ki dunya
02/05/2024
islam ki dunya
#شبقدر #موت #رمضان
اہل غـــزہ، کلام الٰہی کے ســچــے عـــاشــق
ایک مجلس میں قرآن سنانے کی تقریب
6 ماہ سے اہل غزہ جس ثابت قدمی اور صبر و تحمل کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد دجالی قوت کے مظالم کو خندہ پیشانی سے سہہ رہے ہیں، اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ انسان بہت کمزور ہے آخر اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے، لیکن ایک ایسا آب حیات ہے، جسے پینے کے بعد یہی کمزور انسان فولاد بن جاتا ہے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔ جی ہاں، وہ آب حیات رب کا کلام، قرآن مجید ہے۔ اہل غزہ کا کلام کتاب کے ساتھ جو تعلق ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی بھی خطے میں پیش نہیں کی جا سکتی۔ اندازہ لگایئے کہ بموں کی برسات، گولیوں کی بوچھاڑ، توپ کے گولوں کی بارش میں بھی وہاں قرآنی حلقے قائم ہیں۔ جس پر ہم گزشتہ کسی نشست میں روشنی ڈال چکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب صفوۃ الحفاظ کی محافل بھی منعقد ہونے لگی ہیں۔ صفوۃ الحفاظ اہل غزہ کا ہی طرئہ امتیاز ہے۔ اس نام سے منعقد ہونے والے پروگرامات میں ایک ہی مجلس کے اندر پورا قرآن کریم سنایا جاتا ہے۔ 6 ماہ کی نسل کشی اور وحشیانہ جنگ کے باوجود، ہولناک مظالم سہنے اور قیامت کا مشاہدہ کرنے کے باوجود اہل غزہ کا کتاب الٰہی سے تعلق اور عقیدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بلکہ ان کے اس عزم وحوصلہ، صبر وثبات اور برداشت وتحمل کا راز بھی یہی عشق قرآن ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں عاشق قرآن ہیں۔ جمعہ کے روز شمالی غزہ میں 500 بچوں اور بچیوں نے "صفوۃ الحفاظ" پروگرام میں شرکت کی اور ایک ہی مجلس میں پورا قرآن کریم سنانے کا شرف حاصل کیا۔ اس طرح کے پروگرام اہل غزہ کا خاصہ ہیں۔ غزہ سے آنے والا ایک فلسطینی اہل غزہ کے کتاب الٰہی سے عشق اور مضبوط تعلق کا حال یوں بیان کرتا ہے: آپ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ ہم ہر کام میں قرآن کے ذریعے رب کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ گزشتہ تقریباً 16 برس سے ہم مکمل حصار میں مقید کر دیئے گئے ہیں۔ جینے کی تمام راہیں مسدود کردی گئی ہیں۔ ہم نے قرآن سے رجوع کیا تو اس نے بتایا: ”جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے لئے ہر مشکل سے راہِ نجات عطا کرے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرے گا کہ جو اس کے گمان میں بھی نہ ہوگی۔“ (الطلاق -۵۶:۲-۳) ہم خود اس کو اور اپنی نسلوں کو قرآن کریم کے زیر سایہ لے آئے۔ دانہ، پانی، دوا، سازو سامان، سب ناپید ہونے لگے۔ قرآن کریم سے پوچھا تو اس نے بتایا: ”خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔“ (الزمر ۹۳:۳۵) ”زمین وآسمان میں چلنے والی کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کا رزق خود خدا کے ذمے نہ ہو۔“ (ھود۱۱:۶) اور یہ کہ ”انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی وہ سعی و کوشش کرے گا۔“ (النجم ۳۵:۹۳) ہم نے زیر زمین سرنگوں کے ذریعے سانس کی ڈوری برقرار رکھنے کی سعی شروع کر دی۔ میلوں لمبی سرنگوں کا پورا جال بچھ گیا۔ تھوڑی سی کوشش میں رب کی اتنی نصرت شامل ہوگئی کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود روز مرہ کی کئی اشیا ایسی ہیں کہ جو غزہ میں تقریباً آدھی قیمت میں مل رہی ہیں، جب کہ مصر میں جہاں سے یہ اشیا لائی جا رہی ہیں وہی چیزیں دگنی قیمت میں ملتی ہیں، مثلاً چھوٹا گوشت یا تو ملتا ہی نہیں، ملے تو غزہ میں 30 مصری پونڈ کلو ملتا ہے، جب کہ مصر میں 60 پونڈ میں، غزہ میں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ کیونکہ نایاب ہے تو قیمت بڑھا دو۔ (یہ حالیہ جنگ سے پہلے کی بات ہے) غزہ میں ایک خدا کا خوف اور ہر دم بیدار قیادت آنے سے فلسطین کی تاریخ میں پہلی بار وہ امن و امان قائم ہوا کہ جس کا ذکر ہم صرف تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ کسی نے سوال کیا لیکن اس 90 فٹ گہری زیر زمین فولادی دیوار کا کیا بنا جو ان سرنگوں کو بند کرنے کے لئے مصر اور غزہ کی سرحد پر تعمیر کی گئی ہے اور اس کے لئے امریکہ سے ایسی آہنی چادریں بھیجوائی گئی تھیں کہ بم بھی جن پر اثر نہ کرسکے؟ کہنے لگا: یہاں ہم نے پھر قرآن کریم سے استفسار کیا۔ قرآن نے جواب دیا: ”ان سے مقابلے کے لئے ہر وہ طاقت فراہم کرو جو تمہارے بس میں ہے۔“ (انفال ۸:۰۶) ہم نے ان فولادی دیواروں کو کاٹنے کے لئے جو کچھ بھی انسانی ذہن میں تدبیر آسکتی تھی، اختیار کی۔ ساتھ ہی ساتھ اس آیت کا ورد اور خدا سے مدد بھی طلب کرتے رہے۔ یقین کیجئے کہ بموں سے بھی نہ کٹ سکنے والی ان چادروں میں بھی ہم اتنے بڑے شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوگئے کہ اب وہاں سے گاڑیاں تک گزر سکتی ہیں۔ یہی نہیں قرآن کریم نے ہمیں بتایا: ”ہو سکتا ہے کوئی چیز تمہیں ناپسندیدہ لگ رہی ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر اور باعث خیر ہو۔“ (البقرہ۲:۶۱۲) اس آہنی دیوار سے پہلے ہمارا ایک مسئلہ یہ تھا کہ طویل ہونے کی وجہ سے سرنگیں درمیان سے بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ اب ان آہنی اور کنکریٹ کی دیواروں سے انہیں درمیان میں ایک مضبوط سہارا مل گیا ہے۔ 90 روز میں مکمل حفظ قرآن کے معجزے کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگا: زیادہ بڑی تعداد اب 90 نہیں 40 روز میں پورا قرآن حفظ کرنے لگی ہے۔ اب بچوں کے علاوہ بچیوں اور خواتین کے لئے بھی حفظ قرآن کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ غزہ کی ایک معمر داعیہ صبحیہ کا کہنا ہے کہ: ”ہمارا یقین ہے کہ ہماری نصرت کے تین مطلوبہ ستون ہیں: مسجد، قرآن اور ثابت قدمی۔“ ہماری خواتین صرف رمضان یا جمعہ ہی کو مساجد نہیں جاتیں بلکہ ہفتے میں تین روز عصر سے عشا تک مسجدیں آباد رکھتی ہیں۔ صرف نمازوں کی ادائیگی ہی نہیں کرتیں، ایک مسلسل اور جامع تربیتی پروگرام میں شریک ہوتی ہیں۔ اس دوران دروس بھی ہوتے ہیں۔ مختلف کورسز بھی اور تربیتی ثقافتی اور تفریحی مقابلے بھی۔ ہماری تربیتی سرگرمیوں میں ہر عمر کی بچیاں اور خواتین شریک ہوتی ہیں، لیکن 10 سے 14 سال کی بچیاں ہماری خصوصی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ صبیحہ کا کہنا تھا ”ہمارا یقین ہے کہ ہم جب تک قرآنی اخلاق سے آراستہ نہیں ہوں گے، آزادی کی نعمت حاصل نہیں کرسکتے۔ دشمن نے بھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ وہ اخلاقی بے راہ روی پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے اور ہم قرآن کے سہارے اپنی اخلاقی جنگ لڑ رہے ہیں۔ غزہ میں دار القرآن والسنۃ نے 60 روز کے اندر اندر قرآن کریم حفظ کروانے کا آغاز کیا۔400 بچوں اور بچیوں نے حفظ کیا۔ اگلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پھر تباشیر النصر (فتح ونصرت کی علامات) کے عنوان سے کیمپ لگائے گئے۔ اس سال 3 ہزار طلبہ وطالبات نے قرآن حفظ کیا۔ پھر تو غزہ میں جگہ جگہ حفظ قرآن کیمپ لگنے لگے۔ حدیث کے مطابق حافظ قرآن کے والدین کو حشر میں وقار ومرتبت کا تاج پہنچایا جائے گا۔ سورج کی روشنی اس کے سامنے ماند ہوگی۔ بعد میں مخیمات تاج وقار (تاج الوقار کیمپ) کے عنوان سے جگہ جگہ سرگرمی ہونے لگی۔ بینر دکھائی دیتے ہیں: ھذا ھو جیل النصر ”یہ ہے وہ نسل جسے رب کی نصرت ملنا ہے۔“ تاج الوقار، للاقصیٰ انتصار ”تاج وقار، اقصیٰ کی نصرت ہے۔“ صبحیہ نے کہا: میں نے حفظ قرآن کیمپ کی ایک تقریب تقسیم اسناد میں شرکت کی، 14 ہزار حفاظ جمع تھے، سب کے چہرے قرآنی نور سے دمک رہے تھے۔ غزہ سے آنے والا مسافر بتا رہا تھا، اس وقت غزہ میں ان نئے حفاظ کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب ہم قرآن اور بندوق، دونوں سے آراستہ ہیں۔
09/04/2024
انعام کی رات
#موت #شبقدر #رمضان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Punjab