Dars E Quran O Sunnat

Dars E Quran O Sunnat

Share

Authentic and Real Information about Islam
اسلام کی حقیقی اور مستند تعلیم?

السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ
آج کا دور علم اور معلومات و آگاہی کا دور ہے۔۔۔کسی بھی چیز،بات،عقیدے اور نظریے وغیرہ کے بارے میں کہیں سے بھی کوئی معلومات حاصل ہوں تو اس بات سے متعلقہ مستند شخصیت سے رابطہ کرے،پھر اس موضوع پر مستند کتب کا مطالعہ کرے اور کسی بھی قسم کے سوال یا تشکیک کی سورت مین مستند شخصیت سے ہی رجوع کرے۔خود کو کسی بھی طرح یک طرفی مطالعہ کا عادی نہ بنائے بلکہ ہمہ جہت مطالعہ کرے

02/02/2026

السلام علیکم!
شاید آپ ہی اللّہ تعالیٰ کے وہ پیارے اور مقبول بندے ہوں جن کی وجہ سے ہم سب کی بھی بخشش ہوجائے.... آئیے حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق نصف شعبان کی رات (شب برات)اللّہ تعالیٰ سے اپنی اور سب امت کی بخشش و مغفرت؛بھلائی, ترقی,خوش حالی، عافیت, امن و سلامتی اور دنیا وآخرت کی کامیابی کے لیے اجتماعی توبہ اور دعا کریں.
*اجتماع شب برات*
*پیر 2 فروری*
رات
بعد عشاء7:40 بجے تا 9:35 بجے
*مسجد یحییٰ کمپنی* *بوشر*
.تلاوت, نعت, درود و سلام,
مختصر بیان,صلاۃ التسبیح, ذکر اور رقت آمیز دعا(علامہ محمد الیاس شاہ ہاشمی صاحب ) .... صلوۃ التسبیح 9 بجے
دوست احباب کے ساتھ شرکت کریں. شکریہ
*IJTIMA Shabe Biraat*

2 February 2026.
Monday

*Yahya Masjid Bowshar*
From 8 to 9:35 pm
Plz attend
Muhammad Ilyas Shah Hashmi

18/01/2026

علم اور علماء کی فضیلت و عظمت

مقدمہ
❖ جب ہم خیر کے دروازوں اور وقت گزارنے کے بہترین طریقوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اللہ عزوجل کے نزدیک علمِ دین سے بڑھ کر کوئی قیمتی، کوئی بلند، کوئی عظیم، کوئی اعلیٰ، کوئی معزز اور کوئی ارفع چیز نظر نہیں آتی۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم عطا کیے جانے والوں کے درجے بلند فرماتا ہے﴾ (المجادلہ: 11)۔
درجات کی بلندی فضیلت کی دلیل ہے، کیونکہ اس سے مراد ثواب کی کثرت ہے، اور ثواب کی کثرت سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿اور کہہ دیجیے: اے میرے رب! میرا علم بڑھا دے﴾ (طٰہٰ: 114)۔
پس اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے نبی ﷺ کو کسی چیز میں زیادتی کا حکم نہیں دیا سوائے علم کے، حالانکہ فضائل بہت اور بے شمار ہیں۔ اگر یہ بات علم کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتی تو پھر کس چیز پر کرے گی؟

اور اس مقالے میں ہم، ان شاء اللہ تعالیٰ، علم اور علماء کی فضیلت کے مختلف پہلوؤں، ان سے متعلق آداب، نشانیوں اور رہنمائیوں کو بیان کریں گے۔

علم کی فضیلت
❖ جان لو کہ علم وہ سب سے شریف چیز ہے جس کی طرف رغبت کرنے والا رغبت کرے، اور وہ سب سے افضل چیز ہے جسے طالب محنت اور جدوجہد سے حاصل کرے، اور وہ سب سے نفع بخش سرمایہ ہے جسے کمانے والا کمائے؛ کیونکہ اس کی شرافت کا فائدہ خود اس کے حاصل کرنے والے اور طالب کو پہنچتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟﴾ (الزمر: 9)۔
پس عمل کرنے والا عالم، جاہل کے برابر نہیں ہو سکتا، اس فضیلت اور نور کی وجہ سے جو اللہ نے عالم کو عطا کیا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ان باتوں کو تو صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں﴾ (العنکبوت: 43)۔
پس عالم، اللہ کے کلام اور اس کے مقاصد کو زیادہ سمجھنے والا، اور اس کے اوامر و نواہی کو زیادہ جاننے والا ہوتا ہے۔

❖ کہا گیا ہے: علم ایسی عزت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں، اور ادب ایسا مال ہے جس پر زوال کا خوف نہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے: علم بہترین وراثت ہے، اور اس پر عمل کرنا سب سے کامل شرف ہے۔

❖ علم کی فضیلت سے وہی لوگ ناواقف رہتے ہیں جو خود جاہل ہوتے ہیں؛ کیونکہ علم کی فضیلت کو علم ہی کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے۔ جس کے پاس اس کا نور نہ ہو وہ اس کی قدر نہیں جانتا، اہلِ علم کو حقیر سمجھتا ہے، اور دنیا کی ان چیزوں کو زیادہ اہم سمجھتا ہے جن کی طرف اس کا دل مائل ہوتا ہے۔

❖ سچ کہا گیا ہے: عالم جاہل کو اس لیے پہچان لیتا ہے کہ وہ خود کبھی جاہل رہا ہوتا ہے، اور جاہل عالم کو اس لیے نہیں پہچان پاتا کہ وہ کبھی عالم نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جس چیز کو نہ جانا جائے اس سے دشمنی پیدا ہو جاتی ہے، اور علم سے روگردانی دراصل اس کے فہم اور ذوق سے محرومی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

سب سے افضل علوم
❖ سب سے افضل اور بلند مرتبہ علم، اصولِ دین کا علم ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، دلائل کے ساتھ توحید کا اثبات، اور اس کی صحت پر حجتیں قائم کرنا۔
اہلِ فہم کے مطابق علم کی شرافت اس کے معلوم کی شرافت کی طرف لوٹتی ہے؛ جتنا معلوم عظیم ہوگا اتنا ہی اس کا علم عظیم ہوگا۔ اور جب سب سے عظیم معلوم اللہ جل جلالہٗ ہے تو اس کی معرفت سب سے اعلیٰ اور ارفع علم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿کہہ دیجیے: سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ کہہ دیجیے: اللہ﴾ (الانعام: 19)۔

❖ اسی لیے اللہ کی معرفت عبادت کی بنیاد اور اس کا ستون ہے۔ جس نے اپنے رب کو پہچان لیا اس کی عبادت درست اور اس کا قصد سیدھا ہو جاتا ہے، اور جو اپنے رب سے ناواقف ہو اس کی عبادت میں اضطراب رہتا ہے چاہے وہ سجدے ہی کیوں نہ زیادہ کرے؛ کیونکہ عبادت اخلاص اور قربت کا نام ہے، اور اخلاص اسی کے لیے درست ہو سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ کس کے لیے خالص ہو رہا ہے۔

علماء کی فضیلت
❖ علم اور علماء کے درجات وہ مراتب ہیں جن پر لوگ رشک کرتے ہیں، مگر یہ نہ تو تمناؤں سے حاصل ہوتے ہیں اور نہ سستی سے، بلکہ محنت، مشقت، جاگنے، اخلاص اور سچی نیت سے حاصل ہوتے ہیں۔ جو یہ سمجھے کہ وہ آرام اور کاہلی سے بلند مقام پا لے گا وہ دھوکے میں ہے۔

❖ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی:
“میں علم والا ہوں اور ہر عالم کو پسند کرتا ہوں۔”
(روایت: ابن عبدالبر)
اور ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا: ایک عالم اور دوسرا عابد، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔”
(ترمذی: حسن صحیح)

❖ اس میں واضح دلیل ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور جب ان کا علم عمل اور اخلاص کے ساتھ ہو تو وہ لوگوں کے لیے چراغ اور راہِ راست کی طرف رہنمائی کرنے والے ہوتے ہیں۔

کچھ علم کا سیکھنا فرض ہے
❖ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔”
(بیہقی)
اور یہاں علم سے مراد اصل میں علمِ دین ہے، جس کا ایک حصہ ہر مکلف پر فرضِ عین ہے، جس کا چھوڑنا یا بلا وجہ مؤخر کرنا جائز نہیں۔
امام شافعیؒ کے مطابق اس میں ظاہری فرائض اور واضح حرام چیزوں کا علم شامل ہے جن سے ناواقف رہنے کی کسی کو اجازت نہیں۔
اور امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ فرضِ عین وہ علم ہے جس کے بغیر واجب ادا ہی نہیں ہو سکتا، جیسے وضو اور نماز کا طریقہ۔

علم قول و عمل پر مقدم ہے
❖ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ کسی قول یا عمل میں داخل ہونے سے پہلے اس کا شرعی حکم جانے تاکہ نادانستہ حرام میں نہ پڑ جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اپنے گناہ کی معافی مانگو﴾ (محمد: 19)۔
یہاں علم کو استغفار سے پہلے ذکر کیا گیا، کیونکہ صحیح قول اور عمل صحیح علم پر موقوف ہیں۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
“اے ابوذر! اگر تم جا کر اللہ کی کتاب کی ایک آیت سیکھ لو تو وہ تمہارے لیے سو رکعت نماز سے بہتر ہے…”
(ابن ماجہ)

علم استاد سے حاصل ہوتا ہے، محض مطالعے سے نہیں
❖ دینی علم صرف کتابیں پڑھ لینے یا انٹرنیٹ کے بکھرے ہوئے مواد سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ معتبر اور ثقہ اہلِ علم سے سیکھنا ضروری ہے۔
ابن سیرینؒ فرماتے ہیں:
“یہ علم دین ہے، دیکھ لو کہ تم اپنا دین کس سے لے رہے ہو۔”
(مسلم)

بغیر علم کے فتویٰ دینے کا خطرہ
❖ دین میں بہت سی خرابیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ انسان اپنی حد سے تجاوز کر کے ان امور میں بولنے لگتا ہے جن کا اسے علم نہیں ہوتا۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ علم کو علماء کی وفات کے ذریعے اٹھا لے گا، پھر لوگ جاہلوں کو رہنما بنا لیں گے جو بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

خاتمہ
❖ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع اور اس کا فضل عظیم ہے۔ اگر معمولی عمل پر اتنا اجر ہے تو دین کے علم کے ساتھ مشغول رہنے والے کا اجر کتنا عظیم ہوگا!
پس علم کی طلب، اس کی تعلیم اور اس کے پھیلاؤ میں رغبت رکھو، اور سستی سے بچو۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بلند درجات حاصل کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم و احکم، والحمد للہ رب العالمین۔

تحریر:
اللہ کی رحمت کا امیدوار
ڈاکٹر محمد عبدالجواد الصباغ

14/01/2026

مکمل واقعہ معراج....
تاریخِ اسلام کے واقعات اور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ معراج ہے۔ اسے ہم نے مختلف کتب و رسائل اور آرٹیکلز میں پڑھاہوگا، ہر ایک نے اپنے انداز میں اسے تحریر کیا، کسی نے مختصر تو کسی نے تفصیل کے ساتھ اور کسی نے اس کے مخصوص حصے کا ذکر کیا تو کسی نے اسے اشعار کی صورت میں بیان کیا۔

اس مضمون میں ہم تفصیل کے ساتھ واقعۂ معراج کا ذکر کریں گے تاکہ قاری ایک نظر میں مکمل واقعہ معراج پڑھ لے۔

معراج کے متعلق عقیدۂ اہل ِسنّت

حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: بیتُ اللہ شریف سے بیتُ المقدس تک کی جسمانی معراج قطعی یقینی ہے،اس کا انکار کفر ہے۔بیت المقدس سے آسمان بلکہ لامکان تک کی معراج کا اگر اس لیے انکار کرتا ہے کہ آسمان کے پھٹنے کو ناممکن مانتا ہے تو بھی کافر ہے کہ اس میں آیاتِ قرآنیہ کا انکار ہے ورنہ گمراہ ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ آیۃ کریمہ“سُبْحانَ الَّذِیۡۤ سے بَارَکْنَا حَوْلَہ“ تک بیت المقدس تک کی معراج کا ذکر ہے اور”لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیاتِنَا“ میں آسمانی معراج کا ذکر ہے اور”اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ البَصِیۡرُ“میں لامکانی معراج کا ذکر ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 8/135)

واقعۂ معراج کب ہوا؟

مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جسمانی معراج نبوت کے گیارہویں سال یعنی ہجرت سے دو سال پہلے اپنی (چچا زاد) ہمشیرہ امِّ ہانی کے گھر سے ستائیسویں رجب دوشنبہ کی شب کو ہوئی۔ (مواہب لدنیہ مع زرقانی، 2/70، 71، مراۃ المناجیح، 8/135)

امِّ ہانی کے گھر سے مسجد حرام تک

معراج کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اس بارے میں شارح ِ بخاری علامہ محمود عینی حنفی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرت اُمِّ ہانی رضی اللہُ عنہا کے گھر پر آرام فرمارہے تھے جوشعب ابی طالب کے پاس تھا، گھر کی چھت کھل گئی، فرشتہ اندر داخل ہوا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گھر سے اٹھاکر مسجد حرام لائے جبکہ آپ پر اونگھ کا اثر تھا۔ (عمدۃ القاری، 11/600، تحت الحدیث:3887)

شقِّ صدر اور براق پر سواری

اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں حطیم میں آرام کررہا تھا کہ اچانک ایک آنے والا میرے پاس آیا اور میری ہنسلی کی ہڈّی سے لے کر پیٹ کے نیچے تک کا حصّہ چاک کیا۔ میرا دل نکالا، پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں میرا دل زم زم سے دھویا گیا، پھر اسے حکمت سے بھرا گیا، پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ رکھا گیا۔ پھر میرے پاس سفید رنگ کا ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا میں اس پر سوار ہوا۔(بخاری، 2/584، حدیث:3887، مسلم،ص87، حدیث: 411ماخوذاً)

مسجد حرام سے نکلنے کے بعد تین مقامات پر نماز

براق پر سوار ہونے کے بعد بیتُ المقدس کی طرف آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سفر شروع ہوا، اس دوران آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف مقامات پر نماز ادافرمائی اور مختلف مشاہدات کئے،ان میں سے چند کا ذکر کیاجاتاہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیتُ المقدس کی طرف جاتے ہوئے دورانِ سفر تین مقامات پر نمازیں پڑھیں۔ چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ دورانِ سفر ایک مقام پر حضرت جبرائیل نے عرض کیا :اترئیے اور نماز پڑھ لیجئے! میں نے اُتر کرنماز پڑھی، پھر عرض کیا: معلوم ہے کہ آپ نےکس جگہ نماز پڑھی ہے؟ (پھر کہنے لگے)آپ نے طیبہ(یعنی مدینہ پاک) میں نماز پڑھی ہے، اسی کی طرف آپ کی ہجرت ہو گی۔ پھر ایک اور مقام پر عرض کیا کہ اتر کر نماز پڑھ لیجئے، میں نے اتر کر نماز پڑھ لی، جبریل علیہ السّلام نے عرض کیا: معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟(پھر کہنے لگے) آپ نے طُورِ سیناپر نماز پڑھی ہے جہاں اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو ہَم کلامی کا شَرَف عطا فرمایا تھا۔ پھر ایک اور جگہ عرض کیاکہ اتر کر نماز پڑھ لیجئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، جبریل نے عرض کیا: معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ (پھر کہنے لگے) آپ نے بیتِ لحم میں نماز پڑھی ہے جہاں حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کی وِلادت ہوئی تھی۔(نسائی، ص81، حديث:448)

دورانِ سفر کے چندمشاہدات

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیتُ المقدس کی طرف جاتے ہوئے راستے کے کنارے ایک بوڑھی عورت دیکھی، حضرتِ جبرائیل سے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ عرض کیا: حضور! بڑھے چلئے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آگے بڑھ گئے، پھر کسی نے آپ کو پُکار کر کہا: ہَلُمَّ یَامُحَمَّد یعنی اے محمد! اِدھر آئیے۔ حضرتِ جبرائیل نے پھر وہی عرض کیا کہ حُضُور! بڑھے چلئے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آگے بڑھ گئے۔ پھر ایک جماعَت پر گزر ہوا۔ انہوں نے آپ کو سلام عرض کرتے ہوئے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَوَّلُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا آخِرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَاشِرُ یعنی اے اوّل! آپ پر سلامتی ہو، اے آخر! آپ پر سلامتی ہو۔ اے حاشِر! آپ پر سلامتی ہو۔حضرتِ جبرائیل علیہ السّلام نے عرض کیا: حُضُور! ان کے سلام کا جواب مرحمت فرمائیے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سلام کا جواب ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد مسلسل دو جماعتوں پر گزر ہوا تو وہاں بھی ایسا ہی ہوا۔(دلائل النبوة للبيهقى، 2/362)

بیتُ المقدس آمد

ا یک روایت میں ہے کہ حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیت المقدس میں بابِ ِیمانی سے داخِل ہوئے پھر مسجد کے پاس آئے اور وہاں اپنی سواری باند ھ دی۔(سیرت حلبیہ، 1/523) آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: میں نے براق کو اسی حلقے میں باندھا جہاں انبیائے کرام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر باہر نکلا تو بُخاری شریف کی رِوَایَت کے مُطَابِق یہاں آپ کے پاس دودھ اور شراب کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں مُلاحظہ فرمایا پھر دودھ کا پیالہ قبول فرما لیا۔ اس پر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کہنے لگے : ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَاکَ لِلْفِطْرَۃِ لَوْ اَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ اُمَّتُکَ یعنی تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جس نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فطرت کی جانب رہنمائی فرمائی، اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شراب کا پیالہ قبول فرماتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت گمراہ ہو جاتی۔“( صحيح البخارى، ص۱۱۸۱، الحديث : ۴۷۰۹)

مشاہدات کی تفصیل

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیتُ المقدس پہنچنے کے بعد حضرتِ جبرائیل نے عرض کیا: وہ بڑھیا جسے آپ نے راستے کے کنارے مُلاحَظہ فرمایا تھا، وہ دنیا تھی، اس کی صرف اتنی عمر باقی رہ گئی ہے جتنی اس بڑھیا کی ہے۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا وہ اللہ کا دشمن ابلیس تھا، چاہتا تھا کہ آپ اس کی طرف مائل ہو جائیں۔ جنہوں نے آپ کو سلام عرض کیا تھا وہ حضرتِ ابراہیم، حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ عیسیٰ علیہم السّلام تھے۔(دلائل النبوة للبيهقى،2/ 362)

انبیائے کرام کی امامت

یہ سفر کرتے کرتے ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیت ُالمقدس تشریف لائے جہاں مسجدِ اقصیٰ میں انبیائے کرام کی امامت فرمائی۔چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ جب میں بیتُ المقدس میں آیا تو انبیا ئے کرام جمع تھے، حضرت جبریل علیہ السّلام نے مجھے آگے کیا تو میں نے ان کی امامت کی۔(نسائى، ص81، حدیث:448)

انبیائے کِرام کے خطبے

مسجدِ اقصیٰ میں نماز کے بعد بعض انبیائے کرام علیہم السّلام نے خطبے دیئے۔ سب سے پہلے اللہ کے خلیل حضرت سیِّدنا ابراہیم علیہ السّلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے مجھے خلیل بنایا، عظیم بادشاہت عطا فرمائی، امام اور اپنا فرمانبردار بندہ بنایا، میری اقتدا و پیروی کی جاتی ہے، مجھے آگ سے نجات عطا فرمائی اوراسے مجھ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کر دیا۔

ان کے بعد حضرت سیِّدنا موسیٰ علیہ السّلام کہنے لگے: تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے مجھ سے کلام فرمایا، مجھے اپنی رِسالت اور کلمات کے لئے منتخب فرمایا، مجھے راز کہنے کو قریب کیا، مجھ پر تورات نازِل فرمائی، میرے ہاتھ پر فِرعون کو ہلاک فرمایا اور میرے ہی ہاتھ پر بنی اسرائیل کو نجات عطا فرمائی۔

ان کے بعد حضرتِ سیِّدنا داوٗد علیہ السّلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے مجھے بادشاہت عطا فرمائی، مجھ پر زبور نازِل فرمائی، لوہے کو میرے لئے نرم فرما دیا، میرے لئے پرندوں اور پہاڑوں کو مسخر فرما دیا، مجھے حکمت اور فصل خِطاب عطا فرمایا۔

ان کے بعدحضرت سیِّدنا سلیمان علیہ السّلام کہنے لگے: تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے میرے لئے ہواؤں، جنوں اور انسانوں کو مسخر فرما دیا، شیاطین کو بھی مسخر فرما دیا اور اب یہ وہ کام کرتے ہیں جو میں ان سے چاہتا ہوں مثلاً بلند وبالا مکانات تعمیر کرنا اور تصویریں بنانا، مجھے پرندوں کی بولی اور ہر چیز سکھائی، میرے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرمائی جو میرے بعد کسی کے لئے نہیں۔

ان کے بعد حضرت سیِّدنا عیسیٰ علیہ السّلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے مجھے تورات اور انجیل سکھائی، مجھے پیدائشی اندھے اور کوڑھ کے مرض والے کو تندرست کرنے والا اور اپنے اِذْن سے مُردوں کو زندہ کرنے والا بنایا، مجھے آسمان پر اُٹھایا، مجھے کافِروں سے پاک کیا، مجھے اور میری ماں کو شیطان مردود سے پناہ عطا فرمائی جس کی وجہ سے اُسے میری ماں پر کوئی راہ نہیں۔

ان سب حضرات کے بعد اللہ کے حبیب، امام الانبیاء، صاحبِ معراج صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خطبہ دیا، خطبے سے پہلے آپ نے انبیائے کرام سے فرمایا کہ تم سب نے اپنے ربّ کی ثنا بیان کی ہے، اب میں رب کی تعریف وثنا بیان کرتا ہوں۔ پھر آپ نے اس طرح خطبہ پڑھا: تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور تمام انسانوں کے لئے خوش خبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا، مجھ پر حق وباطِل میں فرق کرنے والی کِتاب کو نازِل فرمایا جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے، میری اُمَّت کو لوگوں میں ظاہِر ہونے والی سب اُمَّتوں میں بہترین اُمَّت بنایا، درمیانی اُمَّت بنایا اور انہیں اوّل بھی بنایا اور آخر بھی، میرے لئے میرا سینہ کُشادہ فرمایا، مجھ سے بوجھ کو دُور فرمایا، میرے ذِکْر کو بلند فرمایا اور مجھے فاتِح اور خاتِم بنایا۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدنا ابراہیم علیہ السّلام نے فرمایا: بِہٰذَا فَضَلَکُمْ مُحَمَّدٌ یعنی اسی وجہ سے محمد نے تم پر فضیلت پائی۔ (دلائل النبوة للبيهقى، 2/ 400، 401)

آسمانوں کی طرف سفر

یہاں مسجدِ اقصیٰ تک کے معاملات مکمل ہوئے ، اب آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔

چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتےہیں: پھرمجھے سواری پر سوار کیا گیا، جبرئیل علیہ السّلام مجھے لیکر چلے حتّٰی کہ وہ دنیا کے آسمان پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا: کون؟ فرمایا:جبریل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے، فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟فرمایا:ہاں۔ تو کہا گیا: مَرْحَباً بِهِ فَنِعْمَ المَجِيءُ جَاءَ(یعنی ان کو خوش آمدید ہو وہ خوب آئے) پھر دروازہ کھولا گیا،جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت آدم علیہ السّلام تھے، جبریل نے کہا: یہ آپ کے والد آدم علیہ السّلام ہیں انہیں سلام کرو، میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا،پھر فرمایا: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی صالح فرزند، صالح نبی تم خوب تشریف لائے)، آپ نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر فرمائی۔

جنتی وجہنمی اَرواح

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کے دائیں بائیں کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا، جب آپ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو پڑتے ہیں۔ حضرت جبریل نے عرض کیا: ان کے دائیں اور بائیں جانب جو صورتیں ہیں یہ ان کی اولاد ہیں، دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانِب والے جہنمی ہیں۔ (بخاری، 1/140، حديث:349)

حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں:پھر مجھے جبریل علیہ السّلام اوپر لے گئے حتّٰی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا: کون؟ فرمایا: جبریل، پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا: ہاں،کہا گیا: خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے،پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اندر پہنچا تو وہاں حضرت یحیی ٰعلیہ السّلام اور عیسیٰ علیہ السّلام تھے۔جبریل علیہ السّلام نے کہا:یہ یحیی ٰعلیہ السّلام ہیں اور یہ عیسیٰ علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کرو۔میں نے سلام کیا: ان دونوں نے جواب دیا۔پھر انہوں نے کہا: مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے)۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی۔ پھر جبریل علیہ السّلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے، دروازہ کھلوایا، پو چھا گیا کون؟ فرمایا: جبریل، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا: انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ کہا گیا: خوش آمدید تم خوب ہی آئے۔ پھر دروازہ کھولا گیا، جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السّلام تھے۔ جبریل علیہ السّلام نے کہا: یہ یوسف علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کرو۔ میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا۔ پھر کہا: مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ(یعنی صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے) انہیں حسن کا ایک حصّہ دیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی۔پھر جبریل مجھے اوپر لے گئے حتّٰی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا: کون ہے؟ فرمایا: جبریل ہوں، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ کہا گیا: خوش آمدید اچھا آنا، آپ آئے۔ تو دروازہ کھولا گیا، جب اندر گئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السّلام تھے۔ جبریل علیہ السّلام نے کہا:یہ ادریس علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا اور کہا: مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی)۔ انہوں نے مجھے بھی خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی۔ پھر مجھے اوپر لے گئے حتّٰی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون ہے؟ کہا: جبریل ہوں، پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے۔ دروازہ کھولا گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السّلام تھے۔ جبریل علیہ السّلام نے کہا: یہ ہارون علیہ السّلام ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا۔ پھر کہا:مَرْحَبًا بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی) انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی۔ پھر مجھے اوپر لے گئے حتّٰی کہ چھٹے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون ہے؟ فرمایا: جبریل ہوں، پوچھاگیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھاگیا کیا انہیں بلایاگیا ہے؟ فرمایا: ہاں،کہاگیا: خوش آمدید آپ اچّھا آنا آئے۔ دروازہ کھولا گیا میں اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السّلام تھے۔ جبریل علیہ السّلام نے کہا: یہ موسیٰ علیہ السّلام ہیں انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا۔ پھر کہا: بِالاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ (یعنی خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی)۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی جب وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ علیہ السّلام رونے لگے۔ ان سے پوچھا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے؟ فرمایا: اس لئے کہ ایک فرزند میرے بعد نبی بنائے گئے، ان کی امّت میری امت سے زیادہ جنّت میں جائے گی۔پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف لے گئے، جبریل علیہ السّلام نے دروازہ کھلوایا، پوچھا: گیا کون ہے؟ فرمایا: جبریل ہوں، پوچھا گا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ فرمایا: حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟فرمایا: ہاں۔ کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے، میں داخل ہوا تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السّلام تھے۔ آپ بیتُ المعمور کے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف فرماتھے، جبریل علیہ السّلام نے کہا: یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السّلام ہیں انہیں سلام کریں، میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا۔ پھر فرمایا:مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ۔(یعنی خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی)۔(بخاری، 2/584، حدیث:3887، مسلم،ص87، حدیث:411)

سدرۃ ُالمنتہی

آسمانوں کے بعد مزید قربِ ِخاص کی طرف سفر کا آغاز ہوا، اس بارے میں پیار ے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں:پھر میں سدرۃُ المنتہیٰ تک اٹھایا گیا۔(سدرۃُ المنتہیٰ بیری کا ایک نورانی درخت ہے) ا س کے پھل مٹکوں کی طرح اور پتے ہاتھی کے کانوں کی طر ح تھے۔ جب اسے اللہ کا کوئی حکم پہنچتا ہے تو متغیر ہوجاتاہے۔ اللہ کی مخلوق میں ایسا ایک بھی نہیں جو اس کے حسن کی تعریف کرسکے۔ تو اللہ نے مجھ پر وحی فرمائی جو وحی فرمائی۔ جبریل علیہ السّلام نے کہا:یہ سدرۃُ المنتہیٰ ہے۔ وہاں چار نہریں تھیں: دو نہریں خفیہ تھیں اور دو نہریں ظاہر۔ میں نے: پوچھا اے جبریل! یہ کیا ہے؟عرض کیا کہ خفیہ نہریں جنّت کی دو نہریں ہیں اور ظاہری نہریں وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیتُ المعمور لایا گیا، اس کے بعد میرے پاس ایک برتن شراب کا، ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا، میں نے دودھ کا پیا لہ لیا تو جبریل علیہ السّلام نے کہا:یہ فطرت ہے، اسی پر آپ اور آپ کی امت ہوگی۔(بخاری، 2/584، حدیث:3887، مسلم،ص87، حدیث:411)

مقامِ استویٰ

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آسمانوں اور سدرۃُ المنتہی کے بعد سفر جاری رکھتے ہوئے ایک مقام پر پہنچےجسے مستوی کہاجاتاہے، وہاں آپ نے قلموں کے چلنے کی آوازیں سنیں۔اس کے بعد آپ براق پر سوار ہوئے تو اس حجاب کے پاس آئے جو اللہ کریم کے قربِ خاص میں ہے۔اچانک اس حجاب سے ایک فرشتہ نکلا، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت جبریل سےفرمایا: یہ کون ہے؟ حضرت جبریل نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق سے ساتھ مبعوث فرمایا، بطور مکان کے میں تمام مخلوق میں سب سے زیادہ قریب ہوں لیکن اس فرشتہ کو میں نے اپنی تخلیق سے لیکر اب تک دیکھا نہیں تھا۔(تاریخ الخمیس، 1/311)یوں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم (سفر کو جاری رکھتے ہوئے) ایک مقام سے دوسرے مقام تک، ایک حجاب سے دوسرے حجاب تک گئے، حتّٰی کہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں حضرت جبریل رک گئے، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے جبریل! مجھ سے الگ نہ ہو، عرض کیا: اے میرے آقا! ہماری رسائی بس ایک معلوم مقام تک ہے۔ میں اگر ایک بال برابر بھی آگے جاؤں گا تو جل جاؤں گا۔ اس رات تو میں آپ کے احترام کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہوں ورنہ میراآخری ٹھکانہ سدرۃُ المنتہی ہے۔(تاریخ الخمیس، 1/311)

حضرت جبریل کی انتہا

حضرت جبریل صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود ہی فرمایا تھاکہ میرا آخری ٹھکانا سدرۃُ المنتہی ہے، لیکن شبِ معراج نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے انہیں سدرۃُ المنتہی سے آگے جانے کی اجازت مل گئی، حضرت جبریل کے رکنے کے بعد اب نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اکیلے چلے، آپ اندھیرے والے حجابات سے گزرتے گئے حتّٰی کہ سترّ ہزار(70000) ایسے موٹے حجابات سے بھی تجاوز کر گئے جن میں سے ہر ایک کی طوالت پانچ سو(500) سال کے برابر تھی، اور ہر حجاب کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ تھا، تو ایک مقام پر براق رک گیا، وہاں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رفرف نامی ایک سبز خیمہ ملاحظہ فرمایا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ تھی، آپ اس خیمے پر چڑھے اور اس کے ذریعے عرش تک پہنچے۔ (تاریخ الخمیس، 1/311) اس کے بعد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مزید قربِ خاص کی طرف بڑھے، آپ سے فرمایا گیا، میرے قریب ہوجائیے،میرے قریب ہوجایئے حتی کہ ہزار مرتبہ فرمایا گیا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہر بار پکارے جانے پر ترقی کرتے گئے حتّٰی کہ دنا کےمقام پر پہنچے، پھر مزید ترقی کرتے گئے تو فتدلی تک پہنچے۔ پھر مزید ترقی کرتے گئے حتی کہ اپنی منزل قاب قوسین او ادنی تک پہنچے جیسا کہ اللہ پاک نے قراٰن ِکریم میں ارشاد فرمایا۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے رب کے قریب ہوئے، یہ قرب مقام و مرتبے کے اعتبار سے تھا نہ کہ مکان کے اعتبار سے، کیونکہ اللہ پاک مکان سے پاک ہے۔(اب آپ وہاں پہنچے جہاں، نہ زماں تھا نہ مکاں، نہ اوپر تھا نہ نیچے، نہ شمال تھا نہ جنوب، نہ مشرق تھا اور نہ ہی مغرب، یہ سب نہ تھے، بس خدا کی ذات تھی اور اس کے حبیب تھے،جو قرآن و حدیث میں آیاہے اس پر ہمارا ایمان، مزید ہمیں سوچنے اور عقل دوڑانے کی ضرورت نہیں) اس کے بعد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اللہ کریم کو سجدہ کیا، کیونکہ اس مرتبے کو آپ نے اللہ تعالی کی فرمانبرداری کےذریعے حاصل کیا، سجدے میں خاص قرب ملتاہے جیساکہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اپنے رب کے زیادہ قریب وہ بندہ ہوتاہے جو سجدہ کرتا ہے۔(تاریخ الخمیس، 1/311)

نمازوں کی فرضیت

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہر دِن رات 50 نمازوں کا تحفہ (بھی) عَطا فرمایا۔ واپس آتے ہوئے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچے تو وہ عرض گُزَار ہوئے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ربّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت پر کیا فرض فرمایا؟ ارشاد فرمایا : 50نمازیں۔ اس پر حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کیا : ”اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَا یُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ فَاِنِّیْ قَدْ بَلَوْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَخَبَرْتُہُمْ یعنی واپس اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس جائیےاور اُس سے کمی کا سوال کیجئے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت سے یہ نہیں ہو سکے گا، میں نے بنی اسرائیل کو آزما کر دیکھ لیا ہے اور ان کا تجربہ کر لیا ہے۔“ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واپس ربّ تَعَالٰی کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے اور عرض کیا : ”یَارَبِّ خَفِّفْ عَلٰی اُمَّتِیْ یعنی اے میرے ربّ! میری اُمَّت پر تخفیف فرما۔“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واپس حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پانچ نمازیں کم کر دی ہیں۔ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پھر وہی عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت سے یہ نہ ہو سکے گا ، واپس اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس جائیے اور اُس سے کمی کا سوال کیجئے۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ربّ تَعَالٰی کی بارگاہ میں حاضِر ہوتے تو وہ پانچ نمازیں کم فرما دیتا پھر حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس تشریف لاتے تو وہ اور کمی کا عرض کر کے واپس ربّ تَعَالٰی کی بارگاہ میں بھیج دیتے، حتی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! دِن اور رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس گُنا ہے، اِس طرح یہ 50نمازیں ہوئیں۔ جو نیکی کا ارادہ کرے پھر اسے نہ کرے تو اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر کر لے تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو بُرائی کا ارادہ کرے پھر اس سے باز رہے تو اُس کے نامۂ اَعْمال میں کوئی بُرائی نہیں لکھی جائے گی اور اگر بُرا کام کر لیا تو ایک بُرائی لکھی جائے گی۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس تشریف لائےاور انہیں اس بارے میں بتایا تو حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پھر وہی عرض کیا کہ واپس اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس جائیے اور اُ س سے کمی کا سوال کیجئے۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : میں اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس اتنی بار گیا ہوں کہ اب مجھے حَیَا آتی ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب الاسراء الخ، ص۷۹ ، الحديث : ۱۶۲)

جنت و دوزخ کی سیر

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رب تعالیٰ کے دیدار کےبعد اپنی امت کےلئے نمازوں کا تحفہ لیکر واپسی کا سفر شروع فرمایا، جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم واپس لوٹے تو حضرت جبریل آپ کے ساتھ رہے۔ چنانچہ حضرت جبریل نے عرض کیا: یارسول اللہ!بے شک آپ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر اور اس کے چنے ہوئے ہیں، اللہ پاک نے آپ کو اس رات وہ بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا جہاں تک مخلوق میں سے نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچا اور نہ ہی کوئی نبی، بس یہ عزت آپ ہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے آپ کو جنت و دوز خ کی سیر کرائی، ان کے مناز ل آپ کو دکھائے۔ آپ نے جنت میں جن چیزوں کو ملاحظہ فرمایا ان میں حوریں، محلات، جنتی غلام/خادم، چھوٹے بچے، درخت، پھل، کلیاں، نہریں، باغیچے، پھول، باغات، حوض، کمرے اور گیلریاں وغیرہ۔ اور جہنم میں جوملاحظہ فرمایا وہ زنجیریں، ہتھکڑیاں یا طوق، بیڑیاں، سانپ، بچھو، گدھے کے رینگنے کی طرح کی آوازیں، کھولتا پانی، جلتے دھوئیں وغیرہ۔ (تاریخ الخمیس، 1/314، 315)

زمین پر تشریف آوری

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےواپسی میں جنت اور دوزخ کو ملاحظہ فرمایا، اس کے بعد آسمانوں سے ہوتے ہوئے بیتُ المقدس پھر مکہ شریف حضرت ام ہانی کے گھر تشریف لائے جہاں سے سفر کی ابتداہوئی تھی، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیت المقدس تک آئے، حضرت جبریل آپ کے ساتھ تھے، پھر آپ وہاں سے مکہ شریف حضرت ام ہانی کے گھر اپنے بستر پر تشریف لائے، جبکہ رات کا کچھ حصّہ باقی تھا۔ (تاریخ الخمیس، 1/315)

معراج کا اعلان

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رات گزارنے کےبعد یہ واقعہ لوگوں میں بیان کرنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فر مایا:مجھے اس رات بیت المقدس تک سیر کروائی گئی، پھر وہاں سے آسمانوں کی۔ ابو جہل نے کہا: آپ نے اس ایک رات میں بیت المقدس کا سفر کیا اور مکہ میں ہمارے ساتھ ہی صبح کررہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں۔ابو جہل اس خوف سے انکار نہ کرسکا کہ آپ یہ بات اپنی قوم میں بیان کریں گے۔تو حضور ِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا کہ کیا یہ بات اپنی قوم کو بتائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔یہ سن کر ابو جہل نے آواز لگائی کہ اے بنی کعب! یہاں آؤ۔ تو سب لوگ جمع ہوئے، نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور ابو جہل کےپاس بیٹھ گئے۔ ابوجہل نے کہا: جو بات بیان کرنی ہے اپنی قوم سے کریں، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مجھے اس رات سیر کرائی گئی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: کہاں سے کہا ں تک؟فرمایا بیت المقدس تک۔پھر لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے یہاں آکر صبح کی ہے؟ فرمایا :ہاں۔ لوگوں نے کہا یہ تو عجیب بات ہے۔ ان میں بعض نے تالیاں بجائیں، بعض ہنسنے لگے، اور بعض نے اپنے سروں پر ہاتھ رکھا۔اس معاملے کو محال اور تعجب کی نگاہ سے دیکھا گیا، اس کی وجہ سے بعض ایمان والے مرتد ہوگئے جبکہ بعض نے تصدیق کی۔(تاریخ الخمیس، 1/315)

واقعۂ معراج اور صدیق اکبر

امُّ المؤمین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے روایت ہےکہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مسجد اقصیٰ تک کی سیر کرائی گئی، آپ نے صبح لوگوں کو خبر دی، مؤمنوں میں سے کچھ نے تصدیق کی اورکچھ نے نہیں کی، کچھ مشرکین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہُ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے: کیا آپ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ اُنہوں نے راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی سیر کی؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اَوَ قَالَ ذٰلِکَ؟ کیا واقعی میرے آقا نے یہ فرمایا ہے؟ کہا: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: لَئِنْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَقَدْ صَدَقَ یعنی اگر آپ نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ رات کو بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟ فرمایا: ”نَعَمْ! اِنِّیْ لَاُصَدِّقُہٗ فِیْمَا ہُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذٰلِکَ اُصَدِّقُہٗ بِخَبْرِ السَّمَاءِ فِیْ غُدْوَۃٍ اَوْ رَوْحَۃٍ جی ہاں! میں تو ان کی آسمانی خبروں کی بھی صبح وشام تصدیق کرتا ہوں اور یقیناً وہ تو اِس بات سے بھی زِیادہ حیران کُن اور تَعَجُّب خیز ہے۔ واقعۂ معراج کی فوراً تصدیق کرنے کی وجہ سے آپ کو صدّیق کہا جاتاہے۔(المستدرك
للحاكم، 4/ 25، حديث: 4515)
دعوت اسلامی

Want your school to be the top-listed School/college in punjab?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Mianwali Punjab
Punjab