26/04/2021
#قسط نمبر 2
درس اور افتا کی ابتدا :
جب امام مالک تعلیم سے فارغ التحصیل ہو گئے تو آپ نے مسجد نبوی میں درس اور افتا کے لیے مجلس شروع کر دی. امام صاحب کا اپنا قول ہے کہ جب تک ستر علماء نے شہادت نہیں دے دی تھی کہ میں اس منصب کا اہل ہوں میں نے مجلس شروع نہیں کی تھی. ١° امام صاحب نے تابعین سے صحابہ کے فتوے سیکھے صحابہ میں سے امام صاحب نے حضرت عمر رض اور ابن مسعود رض کے فتاوی اور فیصلوں کی پیروی کی. امام صاحب نے اپنی مجلس کی شروعات مسجد نبوی میں حلقہ درس قائم کر کے کی کیونکہ اس زمانے میں مسجد نبوی میں ہی علما کی مجالس ہوتی تھیں امام صاحب بھی مسجد نبوی میں ہی درس دیا کرتے تھے لیکن بعد میں جب آپ کو اجرائے بول کے مرض لاحق ہوا تو پھر باقی عمر آپ نے اپنے گھر میں ہی درس دیا.
طریقہ درس :
امام صاحب کے درس دینے کا طریقہ یہ تھا کہ درس کے دوران امام صاحب بڑے وقار اور سکون کے ساتھ بیٹھتے تھے کوئی لغو بات نہیں کرتے اور طلباء بھی اسی چیز کی پابندی کرتے تھے کہ کسی بھی طرح کوئی ایسا واقعہ ان سے سرزد نہ ہو جائے جس سے امام صاحب کی مجلس کا ماحول خراب ہو جائے. امام صاحب نے پچاس سال درس دیا اور احادیث بیان کیں اور اس عرصہ میں آپ ایک یا دو مرتبہ ہنسے تھے. ٢° اس واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امام صاحب کس قدر ایک با رعب شخصیت کے مالک تھے اور کس طرح با ادب طریقے سے درس دیا کرتے تھے اور طلباء کس قدر با ادب طریقے سے ان کی مجلس میں بیٹھتے تھے. جب امام صاحب مسائل کے متعلق جواب دیتے تو کوئی اتنا زیادہ اہتمام نہیں کرتے تھے لیکن جب آپ حدیث بیان کرتے تو اس سے قبل وضو کرتے بہترین کپڑے پہنتے اور مسند پر بیٹھ کر حدیث رسول بیان کرتے. مجلس میں امام صاحب کی ماجودگی میں ان کا ایک شاگرد احادیث پڑھتا اور اگر وہ پڑھنے میں کہیں غلطی کرتا تو اس کی درستگی امام صاحب خود فرما دیتے تھے. اپنے فتاوی امام صاحب اپنے شاگردوں کو لکھنے کی ترغیب نہیں دیتے تھے اگرچہ منع بھی نہ کرتے تھے لیکن یہ بات پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کی ہر بات کو لکھ لیا جائے. امام صاحب صرف ان مسائل کا جواب دیتے تھے جو واقعی واقع ہوتے تھے اگر کوئی مسئلہ فرض کر کے ان سے پوچھا جاتا تھا تو آپ اس کا جواب نہیں دیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ بس وہی بات پوچھا کرو جو ہوتی ہے اور جو نہیں ہوتی اسے چھوڑ دو. جب امام صاحب کی شہرت اور مقبولیت مشرق سے مغرب تک ہو گئی تو علماء اور طلباء حدیث سننے کیلئے اور لوگ آپ سے مسائل پوچھنے کے لیے دور دراز کے علاقوں سے آتے تھے اور آپ ان کو اپنے علم سے فیضیاب کرتے تھے.
کاروبار :
امام صاحب کے بھائی نضر کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور امام صاحب بھی ان کے ساتھ مل کر یہی کام کرتے تھے. نضر خود علم میں اس قدر مشغول تھے کہ آغاز میں امام صاحب کی پہچان یہ تھی کہ مالک نضر کے بھائی لیکن جب بعد میں امام صاحب کو شہرت حاصل ہوئی تو لوگ یہ کہنا شروع ہو گئے کہ نضر مالک کا بھائی.
معاشی حالات :
شروع میں امام صاحب کے حالات کچھ سازگار نہ تھے اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ امام صاحب زیادہ وقت علم حاصل کرنے میں مشغول رہتے تھے اور کاروبار کی طرف کم توجہ دیتے تھے. اس طرح امام صاحب کو اپنی زندگی میں معاشی تنگی کا بھی سامنا کرنا پڑا. لیکن جب امام صاحب پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا تو امام صاحب کے حالات بدل گئے معاشی تنگی دور ہو گئی اور اللہ تعالی نے رزق میں اضافہ فرما دیا.
امام صاحب نے اپنی زندگی میں دونوں حالات دیکھے تنگدستی بھی اور کشادگی رزق بھی جب امام صاحب کے مالی حالات بہتر ہو گئے تو آپ کا انداز زندگی شاہانہ ہو گیا اور آپ کے کھانے، کپڑے اور مکان سے یہ شاہانہ پن ظاہر ہوتا تھا. اس سلسلے میں امام صاحب کے اقوال میں یہاں درج کرنا چاہتا ہوں.
امام صاحب فرماتے ہیں :
"میں کسی آدمی کے لیے پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی نعمتوں کی بخشش کی ہو اور پھر اس کی زندگی میں اس کا اثر ظاہر نہ ہو خاص کر اہل علم پر". ٣°
آپ فرمایا کرتے تھے :
"مجھے یہ پسند ہے کہ قاری ( طالب علم) نہایت اجلے کپڑے پہنے. " ٤°
امام صاحب بلکل اپنے ان اقوال پر عمل درآمد کرتے کیونکہ جب امام صاحب کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں کشادگی عطا فرمائی تو وہ پھر امام صاحب کے طرز زندگی سے ظاہر ہونے لگی اور امام صاحب زیادہ تر سفید لباس پہنتے تھے.
خلفا سے تعلق اور تحائف لینا :
امام مالک نے اپنی حیات میں بنو امیہ اور بنو عباس دونوں اسلامی حکومتیں دیکھیں لیکن امام صاحب نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا. امام صاحب نہ حاکموں اور خلفا کی مخالفت کرتے تھے اور نہ کبھی اپنے قول و عمل سے ان کا دفاع کرتے تھے. امام صاحب خلفا سے تحائف وصول کر لیا کرتے تھے. جب امام صاحب سے تحائف لینے کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : " خلفا سے بے شک کوئی حرج نہیں، یعنی بے شک وہ خلفا سے لیتے ہیں لیکن ان کے علاوہ دوسروں سے تو اس میں اعتراض ہے ". ٥° امام صاحب کے مرتبہ اور مرکز اجتماعی کے پیش نظر یہ بھی ان کے ذمہ تھا کہ غریب اور نادار طلبا کی امداد کریں اور محتاجوں کی حاجت پوری کریں. اس لیے وہ اس نیت سے بھی خلفا کے تحفے قبول کرتے تھے. ٦° امام صاحب خود خلفا کے تحفے قبول کر لیتے تھے لیکن دوسروں کو اس خوف سے تحفے لینے سے منع کر دیتے تھے کہ دوسرے کی نیت ہو سکتا آپ جیسی نہ ہو.
جاری ہے......
نوٹ :
پہلی قسط کا لنک پوسٹ کے پہلے کمنٹ میں موجود ہے.
١. #ابوزہرہ، ترجمہ : عبیداللہ قدسی، امام مالک، ص ٥٢
٢.ایضا، ص ٦٦
٣.ایضا، ص ٦٣
٤.ایضا
٥.ایضا، ص ٦١
٦.ایضا