Habib Ur Rehman Saroya

Habib Ur Rehman Saroya

Share

Jutt/ Rider/ Ravian/ Blogger/ Poet/ Youth Activist 🇵🇰

23/08/2022

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق صاحب نے آج ضلع راجن پور کا دورہ کیا تباہ حال لوگوں سے ملے اور الخدمت فاؤنڈیشن کے امدادی کاموں کا جائزہ لیا شکر ہے جہاں لیڈران کو اپنی اپنی کرسیوں کے لالے پڑے ہیں ان حالات میں کسی نے ان بے سہاروں کی بھی داد رسی کی شکریہ قائد❤️⚖️
#وسیب #سیلاب

07/08/2022

جامعات میں پڑھائی جانے والی سید ابوالاعلی مودودی کی کتب کے معاملہ کو لیکر سیکولر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کہ سامنے آچکا ہے
اور بھارتی میڈیا جو ہمیشہ سے جھوٹ بولنے میں ماہر رہا ہے اس معاملہ میں بھی اپنا بنیادی کردار ادا کر رہا ہے اور سید مودودی پہ بے بنیاد الزام لگا رہا ہے.

02/08/2022
11/05/2021


Advisor : Dr. M. Farooq Haider
General Secretary : Habib Saroya

08/05/2021

عید الفطر کے ایس و پیز جاری

05/05/2021

01/05/2021


Advisor : Dr. M. Farooq Haider
President : Aiza Riaz Butt
General Secretary : Habib Saroya




29/04/2021


Advisor : Dr. M. Farooq Haider
President : Aiza Riaz Butt
General Secretary : Habib Saroya

26/04/2021

#قسط نمبر 2

درس اور افتا کی ابتدا :
جب امام مالک تعلیم سے فارغ التحصیل ہو گئے تو آپ نے مسجد نبوی میں درس اور افتا کے لیے مجلس شروع کر دی. امام صاحب کا اپنا قول ہے کہ جب تک ستر علماء نے شہادت نہیں دے دی تھی کہ میں اس منصب کا اہل ہوں میں نے مجلس شروع نہیں کی تھی. ١° امام صاحب نے تابعین سے صحابہ کے فتوے سیکھے صحابہ میں سے امام صاحب نے حضرت عمر رض اور ابن مسعود رض کے فتاوی اور فیصلوں کی پیروی کی. امام صاحب نے اپنی مجلس کی شروعات مسجد نبوی میں حلقہ درس قائم کر کے کی کیونکہ اس زمانے میں مسجد نبوی میں ہی علما کی مجالس ہوتی تھیں امام صاحب بھی مسجد نبوی میں ہی درس دیا کرتے تھے لیکن بعد میں جب آپ کو اجرائے بول کے مرض لاحق ہوا تو پھر باقی عمر آپ نے اپنے گھر میں ہی درس دیا.

طریقہ درس :
امام صاحب کے درس دینے کا طریقہ یہ تھا کہ درس کے دوران امام صاحب بڑے وقار اور سکون کے ساتھ بیٹھتے تھے کوئی لغو بات نہیں کرتے اور طلباء بھی اسی چیز کی پابندی کرتے تھے کہ کسی بھی طرح کوئی ایسا واقعہ ان سے سرزد نہ ہو جائے جس سے امام صاحب کی مجلس کا ماحول خراب ہو جائے. امام صاحب نے پچاس سال درس دیا اور احادیث بیان کیں اور اس عرصہ میں آپ ایک یا دو مرتبہ ہنسے تھے. ٢° اس واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امام صاحب کس قدر ایک با رعب شخصیت کے مالک تھے اور کس طرح با ادب طریقے سے درس دیا کرتے تھے اور طلباء کس قدر با ادب طریقے سے ان کی مجلس میں بیٹھتے تھے. جب امام صاحب مسائل کے متعلق جواب دیتے تو کوئی اتنا زیادہ اہتمام نہیں کرتے تھے لیکن جب آپ حدیث بیان کرتے تو اس سے قبل وضو کرتے بہترین کپڑے پہنتے اور مسند پر بیٹھ کر حدیث رسول بیان کرتے. مجلس میں امام صاحب کی ماجودگی میں ان کا ایک شاگرد احادیث پڑھتا اور اگر وہ پڑھنے میں کہیں غلطی کرتا تو اس کی درستگی امام صاحب خود فرما دیتے تھے. اپنے فتاوی امام صاحب اپنے شاگردوں کو لکھنے کی ترغیب نہیں دیتے تھے اگرچہ منع بھی نہ کرتے تھے لیکن یہ بات پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کی ہر بات کو لکھ لیا جائے. امام صاحب صرف ان مسائل کا جواب دیتے تھے جو واقعی واقع ہوتے تھے اگر کوئی مسئلہ فرض کر کے ان سے پوچھا جاتا تھا تو آپ اس کا جواب نہیں دیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ بس وہی بات پوچھا کرو جو ہوتی ہے اور جو نہیں ہوتی اسے چھوڑ دو. جب امام صاحب کی شہرت اور مقبولیت مشرق سے مغرب تک ہو گئی تو علماء اور طلباء حدیث سننے کیلئے اور لوگ آپ سے مسائل پوچھنے کے لیے دور دراز کے علاقوں سے آتے تھے اور آپ ان کو اپنے علم سے فیضیاب کرتے تھے.

کاروبار :
امام صاحب کے بھائی نضر کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور امام صاحب بھی ان کے ساتھ مل کر یہی کام کرتے تھے. نضر خود علم میں اس قدر مشغول تھے کہ آغاز میں امام صاحب کی پہچان یہ تھی کہ مالک نضر کے بھائی لیکن جب بعد میں امام صاحب کو شہرت حاصل ہوئی تو لوگ یہ کہنا شروع ہو گئے کہ نضر مالک کا بھائی.

معاشی حالات :
شروع میں امام صاحب کے حالات کچھ سازگار نہ تھے اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ امام صاحب زیادہ وقت علم حاصل کرنے میں مشغول رہتے تھے اور کاروبار کی طرف کم توجہ دیتے تھے. اس طرح امام صاحب کو اپنی زندگی میں معاشی تنگی کا بھی سامنا کرنا پڑا. لیکن جب امام صاحب پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا تو امام صاحب کے حالات بدل گئے معاشی تنگی دور ہو گئی اور اللہ تعالی نے رزق میں اضافہ فرما دیا.
امام صاحب نے اپنی زندگی میں دونوں حالات دیکھے تنگدستی بھی اور کشادگی رزق بھی جب امام صاحب کے مالی حالات بہتر ہو گئے تو آپ کا انداز زندگی شاہانہ ہو گیا اور آپ کے کھانے، کپڑے اور مکان سے یہ شاہانہ پن ظاہر ہوتا تھا. اس سلسلے میں امام صاحب کے اقوال میں یہاں درج کرنا چاہتا ہوں.
امام صاحب فرماتے ہیں :
"میں کسی آدمی کے لیے پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی نعمتوں کی بخشش کی ہو اور پھر اس کی زندگی میں اس کا اثر ظاہر نہ ہو خاص کر اہل علم پر". ٣°
آپ فرمایا کرتے تھے :
"مجھے یہ پسند ہے کہ قاری ( طالب علم) نہایت اجلے کپڑے پہنے. " ٤°
امام صاحب بلکل اپنے ان اقوال پر عمل درآمد کرتے کیونکہ جب امام صاحب کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں کشادگی عطا فرمائی تو وہ پھر امام صاحب کے طرز زندگی سے ظاہر ہونے لگی اور امام صاحب زیادہ تر سفید لباس پہنتے تھے.

خلفا سے تعلق اور تحائف لینا :
امام مالک نے اپنی حیات میں بنو امیہ اور بنو عباس دونوں اسلامی حکومتیں دیکھیں لیکن امام صاحب نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا. امام صاحب نہ حاکموں اور خلفا کی مخالفت کرتے تھے اور نہ کبھی اپنے قول و عمل سے ان کا دفاع کرتے تھے. امام صاحب خلفا سے تحائف وصول کر لیا کرتے تھے. جب امام صاحب سے تحائف لینے کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : " خلفا سے بے شک کوئی حرج نہیں، یعنی بے شک وہ خلفا سے لیتے ہیں لیکن ان کے علاوہ دوسروں سے تو اس میں اعتراض ہے ". ٥° امام صاحب کے مرتبہ اور مرکز اجتماعی کے پیش نظر یہ بھی ان کے ذمہ تھا کہ غریب اور نادار طلبا کی امداد کریں اور محتاجوں کی حاجت پوری کریں. اس لیے وہ اس نیت سے بھی خلفا کے تحفے قبول کرتے تھے. ٦° امام صاحب خود خلفا کے تحفے قبول کر لیتے تھے لیکن دوسروں کو اس خوف سے تحفے لینے سے منع کر دیتے تھے کہ دوسرے کی نیت ہو سکتا آپ جیسی نہ ہو.
جاری ہے......
نوٹ :
پہلی قسط کا لنک پوسٹ کے پہلے کمنٹ میں موجود ہے.

١. #ابوزہرہ، ترجمہ : عبیداللہ قدسی، امام مالک، ص ٥٢
٢.ایضا، ص ٦٦
٣.ایضا، ص ٦٣
٤.ایضا
٥.ایضا، ص ٦١
٦.ایضا







21/04/2021

قسط نمبر #1
پیدائش نام و نسب :
نام مالک ، ابو عبداللہ کنیت، امام دارالہجرت لقب، والد کا نام انس سلسلہ نسب، مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر، بن عمر بن حارث بن غیمان بن جثیل،بن عمرو ابن حارث ذی اصبح. ١° والدہ کا نام عالیہ تھا جو شریک بن عبدالرحمن بن شریک کی صاحبزادی تھیں٢°امام مالک مدینہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے متعلق مورخین کا آپس میں اختلاف ہے لیکن اکثر علماء کا خیال یہ ہے کہ آپ 93ھ میں پیدا ہوئے اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ امام مالک نے خود فرمایا: "میں 93ھ میں پیدا ہوا"٣°

خاندان :
امام مالک کا تعلق ایک خالص عرب خاندان سے تھا . جو جاہلیت اور اسلام دونوں میں معزز تھا ،بزرگوں کا وطن یمن تھا، مگر اسلام کے بعد مدینہ منورہ میں آ کر آباد ہوئے سب سے پہلے امام مالک کے پردادا ابو عامر مدینہ منورہ آئے اور ان کی شادی بنی تمیم میں ہوئی اس کے بعد وہ بنی تمیم کے حلیف ہو گئے مالکیوں میں مشہور ہے کہ آپ صحابی تھے اور غزوہ بدر کے بعد مدینہ آئے اور غزوہ بدر کے علاوہ نبی ص کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے لیکن یہ روایت مالکیوں میں مشہور ہے محقق محدثین نے اس روایت کو صحیح نہیں مانا. ابو سہیل سے مروی رویت ہے کہ ان کے دادا مدینہ آئے اور بنی تمیم میں شادی کی. ٤°ابو سہیل جو کہ اپنے خاندان کے بارے میں سب سے بہتر جانتے تھے انہوں نے بھی اپنے قول میں اپنے دادا کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ صحابی تھے.
امام مالک کے دادا مالک بن ابو عامر بڑے تابعین اور علما میں سے تھے ان کے تین بیٹے تھے انس جو کہ امام مالک کے والد تھے، ربیع اور ابو سہیل نافع ،ابو سہیل نافع ایک بلند پایہ محدث تھے ثقات تابعین اور ارکان حدیث میں ان کا شمار ہے. اپنی کتاب موطا میں امام مالک نے اپنے چچا ابو سہیل نافع سے بھی روایت کیا ہے.

تعلیم و تربیت :
امام مالک نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو علم حدیث میں مشغول رہتا تھا آپ کے خاندان والے احادیث کے ساتھ صحابہ کے فتوے بھی جمع کرتے تھے آپ کے دادا مالک بن ابو عامر بڑے تابعین اور علما میں سے تھے انہوں نے حضرت عمر رض، حضرت عثمان رض، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رض اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رض سے روایتیں بیان کی ہیں. یہ وہ علم و عمل سے لبریز خاندان تھا جس میں امام صاحب نے پرورش پائی جس وقت امام صاحب مدینہ میں تعلیم و تربیت حاصل کر رہے تھے مدینہ سنت کا گہوارہ اور فتاوی کا وطن تھا. علما و صحابہ میں سے صف اول کے لوگ یہاں جمع ہو گئے تھے پھر ان کے شاگرد وہاں ہوئے اور اس سارے ماحول کا امام صاحب نے پورا پورا فائدہ اٹھایا. امام مالک نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا تھا حفظ قرآن کے بعد امام صاحب حفظ حدیث میں مشغول ہوگئے. یہ سب اس علم دوست ماحول کا اثر تھا جو امام صاحب نے اپنے خاندان میں پایا کہ امام صاحب بچپن میں ہی حفظ قرآن کے بعد علم حدیث میں مشغول ہو گئے.

امام مالک کے اساتذہ :
ربیعہ رائی کی شاگردی :
امام مالک سب سے پہلے ربیعہ رائی کی مجلس میں بیٹھے امام صاحب بچپن سے ہی ربیعہ رائی کی مجلس میں جانا شروع ہو گئے تھے امام صاحب بچپن سے ہی بہت ذہین اور اعلی حافظہ کے مالک تھے. ربیعہ رائی کثیر الحدیث، ثقہ، محدث و فقیہ تھے ان کا درس مسجد نبوی میں قائم ہوتا تھا انہوں نے حضرت انس بن مالک رض اور بہت سے علما تابعین سے روایت کی ہے.

ابن ہرمز کی شاگردی :
امام مالک کا قول ہے کہ میں ابن ہرمز کے پاس سات سال رہا( اور ایک رویت میں آٹھ سال تک ہے ). ٥°اس عرصہ کے دوران امام صاحب نے کسی اور کی شاگردی اختیار نہیں کی. امام مالک ابن ہرمز سے بہت زیادہ متاثر تھے اور وہ ان کے ایسے اساتذہ میں سے تھے جن کی طرف پوری طرح مائل رہے امام مالک نے علما میں ابن ہرمز کے اسوہ صالحہ کو پسند کیا ہے.امام مالک نے ابن ہرمز سے لوگوں کے اختلاف کے متعلق علم سیکھا اور اہل ہوس کے رد کرنے کا طریقہ سیکھا. ٦°

حضرت نافع کی شاگردی :
ابن ہرمز کی رغبت نے ان کو جدال و فساد کے بغیر طلب حقیقت کا وارث بنا دیا. اس کے بعد امام صاحب علم حاصل کرنے کے لیے دوسرے لوگوں کے پاس بھی گئے اور پہلی مجلس کو بھی نہیں چھوڑا. امام مالک نافع کے مکان پر جاتے تھے. وہ ان کا مکان سے نکلنے کا انتظار کرتے رہتے، پھر مسجد تک ساتھ جاتے یہاں تک کہ جب حضرت نافع ٹھہر جاتے اور مطمئین ہو جاتے تو ان سے ملاقات کرتے اور حدیث اور فقہ کے مسائل دریافت کرتے. ان سے بہت سی احادیث حاصل کیں اور ابن عمر کے فتوے سیکھے حضرت ابن عمر کا فقہ اور حدیث میں بڑا مقام ہے. انہوں نے احادیث نبوی سے احکام کا استنباط کیا ہے اور اصول بنائے ہیں.٧°

ابن شہاب الزہری کی شاگردی :
امام مالک جب ابن شہاب الزہری کی مجلس درس میں آنے لگے اس وقت امام صاحب کا حافظہ کمال کو پہنچ چکا تھا اس کا اندازہ امام صاحب سے مروی ایک روایت سے ہوتا ہے. آپ نے خود فرمایا حضرت زہری سے ملاقات ہوئی ہم ان کے پاس گئے. اور ربیعہ بھی ساتھ تھے. ہم سے آپ نے چالیس سے زیادہ احادیث بیان کیں، پھر دوسری صبح ہم ان کے پاس گئے. آپ نے فرمایا کتاب میں دیکھو تاکہ میں تمہیں احادیث بیان کروں کیا میں نے جو کچھ تمہیں کل بیان کیا تھا اسے دیکھ لیا؟ ان سے ربیعہ نے کہا یہاں ہے وہ شخص جو تمام آپ کو سنا دیگا جو آپ نے کل بیان کیا تھا، فرمایا کون ہے؟ ربیعہ نے کہا ابن ابی عامر، کہا سناؤ، میں نے انہیں چالیس حدیثیں سنا دیں، زہری نے کہا میں سمجھا تھا کہ میرے سوائے یہ احادیث کسی دوسرے کو حفظ یاد نہیں ہیں. ٨°

امام مالک کا احترام حدیث :
امام مالک کو بچپن سے ہی بہت زیادہ احترام حدیث تھا جب تک وہ سکون سے بیٹھ نہیں جاتے تھے وہ علم حدیث حاصل نہیں کرتے تھے اس سے احترام اور حدیث لکھنے کا شوق دونوں ظاہر ہوتے ہیں اسی لیے وہ کبھی حدیث کھڑے کھڑے نہیں سنتے تھے اور نہ کبھی پریشانی و بے چینی کے عالم میں حدیث کا سبق پڑھتے تھے.
جاری ہے.......

١: ، حیات امام مالک، مجلس نشریات اسلام مطبوعہ شکیل پرنٹنگ پریس کراچی، ص ٩
٢: ، سیرت ائمہ اربعہ، ادارہ اسلامیات لاہور، ذیقعدہ ١٤١٠، ص ٩٨
٣: #ابوزہرہ ،ترجمہ: ، امام مالک، شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز،ص٣٣
٤: ایضاً ص ٣٧
٥: ایضاً ص٤٣
٦: ایضاً ص ٤٥
٧:ایضاً ص ٤٦
٨: ایضاً








10/04/2021

😊

Want your school to be the top-listed School/college in punjab?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Narang
Punjab