20/11/2024
Islamic Educational Posts
Maslak AhleSunnat Hanfi Barelvi kay Ulamae Karam Kay Bayanat kay liye Hamara Page like Karain.
20/11/2024
*سجدہ سہو واجب تھا یاد نہ رہا اور سلام پھیر لیا کیا شرعی حکم
⬆️👆🔼🔼👆⬆️
*مفتی محمد اکمل مدنی صاحب*
*زبان سے ہونے والے گناہ ؟*
*نماز کے متعلق اہم مسائل ؟*
نظر بد کا قرآنی وظیفہ
اذان اور اقامت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہر کلمہ کو آخر میں ساکن پڑھا جائے، اذان میں ہر کلمہ پر وقف کرے اور اقامت میں دو دو کلمات کے بعد وقف کرے، مگر پہلے کلمہ کو بھی ساکن پڑھتے ہوئے ملائے، "قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةْ" بھی دو مرتبہ اسی طرح یعنی آخری "تاء" کے سکون کے ساتھ پڑھے، "تاء" پر پیش پڑھنا سنت کے خلاف ہے۔
اذان اور اقامت میں دو تکبیروں کو ایک کلمہ شمار کیا جاتا ہے، اذان میں ہر دو تکبیروں میں پہلی تکبیر اور اقامت میں پہلی تین تکبیروں کی راء پر رفع (پیش) پڑھنا خلافِ سنت ہے، اس کو ساکن پڑھنا چاہیے یا مفتوح کرکے (زبر کے ساتھ) دوسری تکبیر کے ساتھ ملایاجائے۔"
والدین کی وفات کے بعد اولاد پرقرآن وحدیث کی روشنی میں والدین کے کل سات حقوق ہیں جو حسب ذیل ہیں: (۱) دعائے مغفرت (۲) ایصال ثواب طاعت (۳) اکرام اعزہ واحباب واہل قرابت (۴) اعانت اعزہ واحباب واہل قرابت (۵) ادائے دین وامانت (۶) تنفیذ جائز وصیت (۷) اور گاہ گاہ ان کی قبر کی زیارت۔
واضح رہے ہدیہ وہ عطیہ ہے جو دوسرے کا دل خوش کرنے کے لیے دیا جاتاہے؛ تاکہ اللہ تعالی کی رضامندی حاصل ہو، ہدیہ اس نیت سے دینا کہ مجھے وہ اس کا بدلہ میں ہدیہ دے گا ، یہ ہدیہ نہیں ہے۔
اسی طرح ہدیہ دینے پر کسی کو مجبور کرنا بھی جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی خوش دلی کے لینا حلال نہیں ہے۔
شادی کے موقع پر ہر خاندان اور علاقہ کا عرف مختلف ہوتا ہے، اگر کسی خاندان کا عرف یہ ہے کہ وہ شادی کے موقع پر لفافہ ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دیتے ہوں، اس کو لکھتے نہ ہوں اور بعد میں اتنی ہی رقم ان کی شادی میں دینے کی نیت نہ ہو تو یہ ہدیہ ہے، اس کا لین دین جائز ہے، شرعاً کچھ حرج نہیں۔
اور اگر ایک دوسرے کو لفافوں کا دینا عوض اور بدل کے طور پر ہوتا ہو کہ جتنے فلاں نے دیے ہیں ان کی شادی میں اس سے زیادہ رقم واپس کرے گا، اور اسے نوٹ کیا جاتاہو تو یہ ”نیوتہ“ کی رسم کہلاتی ہے ، اور شرعًا یہ سودی قرض کے زمرے میں آجاتی ہے اور سودی قرض لینا دینا ناجائز اور حرام ہے، اور اگر دینے والے اس نیت سے دیتے ہیں کہ صاحبِ دعوت ان کی دعوت میں اتنی ہی رقم واپس کرے گا تو یہ قرض ہے، اور اسی قدر واپسی لازم ہے۔
قرآنِ کریم سے بھی اس بری رسم کے ناجائز ہونے کا اشارہ ملتا ہے، جیساکہ سورہ روم میں ہے:
" اور جو چیز تم اس غرض سے دوگے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجاوے تو یہ اللہ تعالی کے نزدیک نہیں بڑھتا۔" (سورۃ الروم، رقم الآیۃ:39، ترجمہ:بیان القرآن)
مفسرین نے نیوتہ کے لین دین کو بھی اس آیت کا مصداق ٹھہراتے ہوئے سود ہونے کی بنا پر ناجائز قرار دیا ہے،
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Punjab