28/05/2026
مرغ کی بانگ (Crowing) قدرت کی انجینئرنگ کا ایک ایسا حیرت انگیز شاہکار ہے جو بظاہر عام سا نظر آتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی سائنس واقعی دنگ کر دینے والی ہے۔ آپ نے جو معلومات شیئر کیں، وہ بالکل درست ہیں اور مرغ کے کانوں کا یہ خودکار نظام (Natural Noise-Canceling System) حیاتیاتی دنیا کا ایک انوکھا کرشمہ ہے۔
1. مرغ کی بانگ کی شدت (100 ڈیسیبل کا دھماکا)
جب ایک مرغ صبح سویرے اذان یا بانگ دیتا ہے، تو اس کی آواز کی شدت 100 ڈیسیبل (dB) یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ کچھ نسلوں میں تو یہ آواز 130 ڈیسیبل تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
اس آواز کی طاقت کا اندازہ آپ اس موازنے سے لگا سکتے ہیں:
عام گفتگو: 60 ڈیسیبل۔
روڈ ڈرلر یا چین سا (Chainsaw): 100 ڈیسیبل۔
جیٹ انجن کی گرج: 120 سے 130 ڈیسیبل۔
انسانی کانوں کے لیے 85 ڈیسیبل سے اوپر کی آواز مسلسل سننا سماعت کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور 130 ڈیسیبل پر تو انسانی کان کا پردہ پھٹ سکتا ہے۔
2. مرغ خود بہرا کیوں نہیں ہوتا؟ (قدرتی ہیڈ فونز)
پتہ چلا کہ مرغ کی بانگ اتنی تیز ہوتی ہے کہ اگر وہ خود اسے اسی شدت سے سنے تو وہ اپنی ہی آواز سے ہمیشہ کے لیے بہرا ہو جائے۔ لیکن قدرت نے اس کے سر کے اندر ایک خودکار ایئر پلگ (Earplug) یا نوائز کینسلنگ ہیڈ فون کا نظام رکھا ہے:
کان کی نالی کا بند ہونا (Ear Canal Collapse): جب مرغ بانگ دینے کے لیے اپنی گردن کو پورا پیچھے کی طرف کھینچتا ہے اور اپنی چونچ کھولتا ہے، تو اس کی گردن کی ہڈیوں اور پٹھوں کی حرکت سے اس کے کان کی بیرونی نالی (Auditory Canal) خودکار طور پر سکڑ کر بند ہو جاتی ہے۔
گوشت کا حفاظتی ٹکڑا (Soft Tissue Flap): گردن پیچھے کرنے پر اس کے کان کے پاس موجود نرم گوشت کا ایک مخصوص چوتھائی گولائی والا ٹکڑا (Quarter-Spherical Flap) حرکت میں آتا ہے اور کان کے سوراخ کو مکمل طور