مفتی محمدسہیل خان شیرانی دیوبندی

مفتی محمدسہیل خان شیرانی دیوبندی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سپیشل کورس براے علماء کرام ومفتیان کرام AIدرس اول
18/03/2026

سپیشل کورس براے علماء کرام ومفتیان کرام AI
درس اول

رمضان اسپیشل آن لائن تربیتی کورس کے پہلے سبق میں ہم نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا بنیادی تعارف حاصل کیا۔اس ویڈیو میں شامل اہم نکات:- مصنوعی ذہ...

05/03/2026

دورہ اصول قرآن سے ماخوذ شارٹ کلپ
اہل بدعت کانعرہ رسالت یارسول کہنے کاحکم

05/03/2026
18/12/2025

حقیقتِ فیض وفیضان نظر اور فریبِ نظر
ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تحریر: محمد سہیل خان شیرانی
فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی
اسلامی عقائد کی اساس "توحید" پر ہے، اور تصوف اس توحید کو دل کی گہرائیوں میں اتارنے کا نام ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں بعض اصطلاحات کے غلط استعمال نے فکری خلط مبحث پیدا کر دیا ہے۔ خصوصاً "فیض" اور "فیضانِ نظر" کو ایک ہی ترازو میں تولنا ایک بنیادی علمی مغالطہ ہے، جس کی وضاحت ناگزیر ہے۔
۱. فیض اور فیضانِ نظر: جداگانہ حقیقتیں
محققانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو "فیض" اور "فیضانِ نظر" اپنی حقیقت اور دلالت میں جداگانہ اصطلاحات ہیں۔
* فیض: تصوف کی ایک معروف اور مستند اصطلاح ہے، جس سے مراد وہ باطنی برکات ہیں جو اللہ کے مقبول بندوں کے چھوڑے ہوئے علمی آثار، کتب، یا ان کی قبروں کے پاس حاصل ہونے والے انوارات و سکون سے متعلق ہیں۔
* فیضانِ نظر للاموات: یہ عموماً اہل بدعت کا وہ نظریہ ہے جس میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ میت یا ولی ہمیں (دنیاوی معاملات میں) دیکھ رہا ہے اور اس کی "نگاہ" کے فیضان سے ہمارے معاملات سنور رہے ہیں۔ یہ نکتہ وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے عقیدے میں بگاڑ جنم لیتا ہے۔
۲. تاثیرِ صحبت اور زندہ و مردہ کا فرق
کسی زندہ بزرگ یا استاد کے لیے "بفیضانِ نظر" کی اصطلاح استعمال کرنا کسی درجے میں قابلِ فہم ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں معاملہ اسبابِ ظاہری، تربیتِ عملی اور نظرِ التفات سے متعلق ہے۔ ایک مربی کی توجہ اپنے شاگرد کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔
لیکن وفات کے بعد فیض کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ میت ہمیں دیکھ رہی ہے یا عالمِ برزخ سے براہِ راست تصرف کر رہی ہے۔ میت سے منسوب فیض، اگر کسی صحیح معنی میں لیا جائے، تو وہ زیادہ سے زیادہ عندالقبر انوارات، یا اس بزرگ کے چھوڑے ہوئے علمی و روحانی ورثے تک محدود ہے۔ اس سے آگے بڑھنا علمی اور شرعی طور پر خطرناک ہے۔
۳. موہومِ شرک اور احتیاطی پہلو
"فیضانِ نظر سے فیض لینا" (بعد از وفات) ایک مشکوک تعبیر ہے، بلکہ ایسا موہوم کلمہ ہے جس میں شرک کا ایہام (وہم) پایا جاتا ہے۔ اگرچہ کوئی شخص اس کی بعید از قیاس تاویل کر لے، تب بھی احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔
شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ جہاں توحید کا معاملہ ہو، وہاں مبہم اور ایہام پیدا کرنے والے الفاظ سے بچا جائے، کیونکہ یہ تعبیر نہایت نازک ہے جسے عام لوگ سادہ طور پر "فیض" سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں اور غیر شعوری طور پر "نظریہِ نگرانیِ خلق" (یعنی میت کا دیکھنا) کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
۴. اہل سنت کا حقیقی تصوف
یہ کہنا کہ تصوف کی باتیں توحید کے غلبہ کی وجہ سے سمجھ نہیں آتیں، محلِ نظر ہے۔ تصوف اگر قرآن و سنت کے دائرے میں ہو تو وہ نہ اجنبی ہے اور نہ ناقابلِ قبول۔ ہم اس تصوف کے قائل ہیں جو شریعت کی روشنی میں ہو۔ الحمدللہ ہمارا بھی تصوف سے تعلق ہے، مگر ہمارا علم اتنا کمزور نہیں کہ ہم "فیض" اور "فیضانِ نظر" جیسی متضاد معنوی اصطلاحات کے درمیان تمیز نہ کر سکیں۔
ہمارے نزدیک دو ٹوک مؤقف یہ ہے:
* فیض: تصوف کی ایک معروف و مقبول اصطلاح ہے۔
* فیضانِ نظر الاموات والاولیاء: اہل بدعت کا ایجاد کردہ ایک باطل نظریہ ہے۔
۵. حاصلِ بحث
جو لوگ میت کے "دیکھنے" اور "نگرانی" کو فیضانِ نظر کا نام دیتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی صفتِ بصارت اور صفتِ رقیب میں غیر اللہ کو شریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ صاحبِ قبر کی حیاتِ برزخی برحق ہے، مگر وہ کائنات کے نظم و ضبط یا لوگوں کے احوال کی نگرانی پر مامور نہیں ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم الفاظ کے چناؤ میں شرعی احتیاط کو ملحوظ رکھیں اور ایسے تمام موہوم کلمات سے بچیں جو عامۃ الناس کو غلو اور فکری بدعت کی طرف لے جائیں۔ اگر اس علمی موقف میں کہیں لغزش ہو تو اہل علم سے رجوع کی درخواست ہے، تاکہ اصلاح ہو سکے۔
واللہ الموفق۔



#توحید





#دیوبندی













13/12/2025

درباری ملا و درباریت کا ایک منظر

کل جو منظر سامنے آیا، وہ کسی فکری اتحاد یا دینی ہم آہنگی کی علامت کم، اور دربار کے آداب کی جھلک زیادہ محسوس ہوا۔ یہاں اختلاف دب گیا، زبان محتاط ہو گئی، اور سب نے ایک خاص حد کے اندر رہنا بہتر سمجھا۔

تمام مسالک کے درباری علماء ایک ہی صف میں باوقار انداز سے موجود تھے۔ نہ مناظرہ، نہ تند و تیز بیانات، نہ فتوؤں کی گونج۔ یوں لگا کہ اختلاف وقتی طور پر پس منظر میں چلا گیا ہو۔

یہ خاموشی شاید کسی اجتماعی دانش کی علامت بھی ہو سکتی ہے، اور شاید اس احساس کی بھی کہ بعض مقامات پر احتیاط کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مگر سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

کسی درباری عالم کی طرف سے یہ بات سننے میں نہیں آئی کہ “استثناء” کی حقیقت کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے لے کر انبیاء، صحابہ اور ائمہ میں سے کسی کو بھی یہ اصول نہیں دیا کہ وہ ہمیشہ احتساب سے بالا ہوں۔ جواب دہی ایک ایسا اصول ہے جو سب کے لیے ہے، اور اسی سے عدل کا تصور قائم رہتا ہے۔

تمام مسالک کے درباری علماء کی ایک پہچان یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ حکمرانوں کی تعریف تو کی جاتی ہے، مگر نصیحت، تذکیر اور احتساب کی بات کم سنائی دیتی ہے۔ حالانکہ دینی روایت میں خیرخواہی اور حق بات کہنا ہمیشہ اہم رہا ہے۔

اگر یہ اجتماع محض نظم و ضبط کی مثال تھا تو بھی یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ کیا یہی ضبط اور احتیاط ہم کمزور کے سامنے بھی اختیار کرتے ہیں؟
اور کیا یہی زبان، یہی توازن، اور یہی شائستگی ہماری دینی گفتگو کا مستقل حصہ بن سکتی ہے؟

یہ منظر شاید ایک تقریب تھا،
مگر اس نے بہت سے سوالات چھوڑ دیے ہیں۔

— ذاتی رائے

الحمدللہ!آج ایک اور علمی سنگِ میل طے ہوا۔ 🌿مجھے ابھی OpenAI کی طرف سے“ChatGPT Foundations for Teachers”کا سرٹیفکیٹ اور ب...
12/12/2025

الحمدللہ!
آج ایک اور علمی سنگِ میل طے ہوا۔ 🌿

مجھے ابھی OpenAI کی طرف سے
“ChatGPT Foundations for Teachers”
کا سرٹیفکیٹ اور بیج مل گیا ہے۔ 🎓✨

اس کورس نے مجھے جدید مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس، تحقیق، اور علمی مواد کی تیاری میں صحیح طریقے سے استعمال کرنے کا ایک نیا اعتماد اور وسعتِ نظر دی ہے۔

بطور معلم و محقق، میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ کلاسیکی اسلامی علوم کو جدید علمی و تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے—
اور AI اس سفر میں ایک زبردست، مفید، اور باوقار اوزار ثابت ہو رہا ہے۔

آگے بھی ان شاء اللہ کوشش ہوگی کہ علم، تحقیق، اور ٹیکنالوجی کو اس انداز میں جوڑا جائے کہ
طلبہ، اساتذہ، اور علمی دنیا—سب کو فائدہ پہنچے۔

آپ سب کی دعاؤں اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے… 🌙📘

Earners of the ChatGPT Foundations for Teachers badge have built fluency in using ChatGPT to support everyday educator workflows. They’ve developed skill in navigating the tool, writing and refining effective prompts, and applying core educator use cases across communication, planning, and classro...

Address

Pishin
86700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مفتی محمدسہیل خان شیرانی دیوبندی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share