Naeem Qur'an Academy

Naeem Qur'an Academy

Comments

عورت صرف ایک مرد کیلئے ہے دوسرے کے پاس نہیں جا سکتی اگر ایک سے زیادہ لوگوں کو ملنے سے عورت کے اندر زہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ
ایڈز + AIDS
غیر مسلمز کی حرکتیں دوسرے کو برباد کرنے کی ہیں؛

یاد رکھیں زنا موت ہے وہ بھی ایڈز کی صورت میں؛
اسے لازمی پڑھیں اور شیئر کریں

اپنے بچوں کو اس لعنت سے بچائیں برائیوں کو جڑھ سے نکالنے میں مہیم کا حصہ بنیں؛

یورپ جس سیکس ایجوکیشن اور جس جہنم کے گڑھے کی طرف ہمارے سکولز اور کالجز اور یونیورسٹیز کو دھکیل رہا ھے اسکے بارے میں بھی تھوڑا سا سنو! پڑھو!
پاکستان آج کل دنیا کا سب سے ذیادہ PORN(فحش سیکس) فلمیں دیکھنے والا ملک بن گیا ہے۔
جب کے ہماری قوم کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
دنیائے کفر اس قوم کو بدنام کرنے پہ متحد ہو چکے ہیں۔

یہ ان کا 5 جنریشن وار کا ایک حربہ ہے x ویڈیوز کے معاشرے پر بداثرات؛
1: بےاولاد افراد کا بڑھ جانا
2: دماغی کینسر
3: طلاق کا بڑھ جانا
4: مثبت سوچ کا ختم ہو جانا
اور کم عمری میں بالغ ہو جانا
ہم جب شوشل میڈیا کے زریعے
ڈیم بنوا سکتے ہیں
موبائل لوڈ پر ٹیکس ختم کروا سکتے ہیں
زینب کو انصاف دلوا سکتے ہیں
شوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف دنیائے کفر کی چلنے و الی مہم بند کروا سکتے ہیں
تو
ہم تمام پورن سائٹس پاکستان میں ہمیشہ کے لیے بند کروا سکتے ہیں۔

آج سے پہلے اس چیز کو سلطان صلاح دین ایوبی نے مکمل بند کیا تھا
قران پاک میں ارشاد ہے جس کا مہفوم ہے؛
ً تم جن کی مشاہبت اختیار کرو گے انہی کے ساتھ شمار کے جاؤ گے ً
کیا پتا آپ کا ایک فارورڈ میسج آپ کو سلطان کا سپاہی بنا دے۔
ہمارا مقصد:
تمام P**n سائٹس پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد کرنا ہے.

**n_Websites_in_Pakistan

هم لوگ هر روز گنھٹے 24 Mobile استعمال کرتے هیں آج اس کام کے لیے بھی استعمال کرو اس Message کو تب تک Forward اور SHARE کرتے جاؤ جب تک گندی فلمیں مکمل طور پر پاکستان میں Block نہ
ہو جاٸیں۔

جو جو ایسا چاہتے ہیں وہ یہ POST اپنے سارے GROUPS میں شئیر کریں۔

Bhaio Behno Islam ky lye zaror share karna Social Media pe;

WhatsApp
IMO
Twitter
Facebook

آٶ مل کر آج یہ کام کریں
اپنی نسل کا مستقبل سنواریں
پاکستان کو گندگی سے پاک کریں۔

Facebook کی ہر ID پر یہ پر یہ میسیج ضرور ہونا چاہیئے
جو ایسا نہیں چاہتا وہ بیشک اسے Share نہ کرے وہ چاہتا ہے کہ ہماری نسل اس گندگی کی دلدل سے نہ بچے۔

مجھے آپ سب کا تعاون چاہیئے
اگر ایسا ہو جاۓ تو بہت سی براٸیوں سے ہمارا ملک بچ سکتا ہے۔
اور ہمارے نبیؐ اور ہمارا رب ہم پر راضی ہو سکتا ہے
یہ اہم پیغام خدا را خود بھی پڑھئیے اور دوسرے مسلمانوں تک ضرور پہچائیے اور اپنی قوم وامت پر رحم کیجئیے۔ شکریہ!

اسلامی پوسٹس اور اسلامک ایشوز پر مبنی تحقیقی ویڈیوز او?

Operating as usual

10/09/2022

’’جو شخص قرآن اور موت (یاد کرنا) کو نہیں چھوڑتا تو پھر اس کے سامنے پہاڑ بھی آپس میں ٹکراتے ہیں تو وہ نہیں شکست نہیں کھائے گا۔‘‘

عربی ادب سے ماخوذ

ترجمہ:
نعیم اختر ربانی

19/07/2021

عربی مقولہ

جو شخص تمہیں نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرے

14/07/2021
16/01/2021
22/10/2020

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
بھلائی کی بات یہ نہیں کہ تمہارے پاس مال و اولاد کثیر ہو بلکہ بھلائی یہ ہے کہ تمہارے پاس علم بکثرت ہو اور تمہارا حلم (حوصلہ ، صبر ، استقامت ، برادشت) بہت بلند ہو۔

اللہ رب العزت کی عبادت کی وجہ سے لوگ بربادی کا شکار نہیں ہوتے۔ (لیکن کرنے کا کام یہ ہے کہ) جب تم کوئی نیکی کا کام کرو تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کیا کرو اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو معافی کے طلبگار ہو۔

عربی سے ترجمہ
از⁦✍️⁩
نعیم اختر ربانی

21/10/2020

ابنِ جوزی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
جو دنیا کے انجام کے بارے میں فکر مند رہتا ہے تو وہ خوف کو پال لیتا ہے۔ جو راستے کی طوالت کا یقین کر لیتا ہے وہ سفر کی تھکان کا شکار ہو جاتا ہے۔

لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جس امر کے وقوع کا یقین ہو بندہ اسی کو بھول جاتا ہے اور جب اس کے نقصان کا اندازہ ہو جائے تو ڈر جاتا ہے۔

ہائے افسوس! وہ لوگوں سے ڈرتا ہے حالانکہ "اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے"( سورۃ الاحزاب ، 37)

عربی سے ترجمہ
⁦✍️⁩ از
نعیم اختر ربانی

18/10/2020

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس دعا کو صبح و شام باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے۔ آپ بھی اپنے معمولات میں شامل کیجیے

"اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي،ومن فوقي، وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي".

03/10/2020

پسماندگی، دین سے روگردانی کا نتیجہ

⁦✍️⁩از قلم
رشحاتِ ربانی/نعیم اختر ربانی

انسانی فطرت ہے کہ اسے سب سے زیادہ جو چیز تحریک دیتی ہے وہ "فکر" ہے۔ یہ فکر نظریے اور اعتقاد کو جنم دیتی ہے۔ پھر انسان انہی کے زیرِ اثر عمل کی دنیا میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ عمل کی درستی اور صحت کا مدار نظریے اور عقیدے کی صحت پر مبنی ہوتا ہے لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کا عمومی نظریہ اور عقیدہ تو درست ہوتا ہے مگر اس پر جدت اور گردشِ زمانہ کی دھول بیٹھ جاتی ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کے زیرِ سایہ ان ہواؤں میں رچی ہوئی خوشبو کے مزے لینے کا عادی ہو جاتا ہے جو دیگر نفوسِ انسانی کے نتھنوں تک پہنچ رہی ہو۔ وہ بھول جاتا ہے کہ گردشِ دوراں کی مخالف سمت اس کے عقیدے کی تکمیل کا ساماں اس کی انتظار میں ہے۔ ایسی ذمہ داری اس کی راہ دیکھ رہی ہے جس سے نظریے کی صداقت اور پختگی کا یقین ہو۔ مگر اس ہوا کے نشے اور سرور میں اس قدر محو ہوجاتا ہے کہ فرائض کی تشنگی کا احساس تک نہیں رہتا۔

چناچہ ہم بھی گردشِ زمانہ سے متاثر ہو کر چند ایسے فکری مغالطوں کے حصار میں جکڑے گئے ہیں کہ ہماری بحثیتِ مسلمان عملی زندگی کا پودا خونِ جگر کی عدمِ دستیابی سے خشک ہو رہا ہے۔ ہمارے پسینے کی مہک سے جس پودے کو تازگی ملتی تھی۔ جدوجہد کی وجہ سے جس کے پھول کھلتے تھے اور جس کے لیے ہماری تگ ودو فرحت کا ساماں تھی۔ یوں بے آسرا اور بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔ ذیل میں ہم چند ایسی فکری کج رویوں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ ان سے درگزر کر کے اپنے عقیدے کے پھول کے لیے نمو کا تریاق مہیا کریں۔

ہمارا عمومی مزاج یہ بن چکا ہے کہ دینِ حنیف کے احکامات ، رب العالمین کے فرامین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل پیرا ہونا ، ان کی تبلیغ کرنا ، دوسروں کو نیک کاموں کے کرنے کا کہنا اور برے کاموں سے بچنے کی ترغیب دینا اور خود اپنی معاشرت ، معیشت ، سیاست ، خاندانی اور گھریلو زندگی کو اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق ڈھالنا صرف علماء ، مشائخ ، مولویوں اور آئمہ مساجد کا کام ہے۔ داڑھی رکھنے والے مولوی نما مبلغین کا فریضہ ہے اور ہم جیسے چاہیں اور جو چاہیں کر گزریں۔ ہم اس دینِ حنیف کے مکلف نہیں۔ ہماری ذمہ داری فقط کلمہء طیبہ کا اقرار تھا جو ہمیں ماں کی گود میں نصیب ہو گیا لہذا ہم تادمِ آخر ان دیگر فرائض سے سبکدوش ہو گئے۔ ایسا ہرگز نہیں! بلکہ ہم میں سے ہر ایک فرد کا فریضہ ہے کہ خود اپنی زندگی کے تمام ایام کو دین اور شریعت کے مطابق گزارے اور دیگر افراد کو فرائض کی تبلیغ کے ذریعے آگاہی دے۔

لیکن اس خامی کے بعد ایک اور بڑی خامی یہ سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم بات کرنے والے کی حیثیت اور سٹیٹس کو دیکھتے ہیں اگر تو وہ صاحبِ اقتدار ، عہدیدار یا معروف سکالر ہے تو درخورِ اعتنا سمجھتے ہیں ورنہ کان دھرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہمارے سماج کا معیار "قول اور بات" ہونی چاہیے۔ مبلغ اور متکلم کے رکھ رکھاؤ اور ظاہری بود و باش کو لائقِ اعتنا سمجھ کر اس کی بات کی اہمیت کو ختم کر دیتے ہیں تو پھر ہم تک پہنچنے والی بات جتنی بھی قیمتی ہو ہم اسے سرِ دیوار مارتے ہیں۔ پھر گمراہیوں اور تاریکیوں کی راہوں کے مسافر بن کر گمشدہ قافلے کے ہمسفر ہو جاتے ہیں۔

اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ہم عوامی پذیرائی کا جائزہ لیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ جب کوئی مبلغ لوگوں کو برائی سے روکتا ہے تو عموماً جواب ملتا ہے کہ "سب لوگ ایسا کر رہے ہیں کیا وہ غلط ہیں؟" گویا ہمارے اذہان نے عرف کے عمل اور سکہ رائج الوقت کو معیار حق اور قابلِ اعتناء سمجھ لیا ہے۔ ساری دنیا ہلاکت کے گڑھے کے کنارے کھڑے ہوئے ہوا کے ایک جھونکے کے انتظار میں ہو تو ہم بھی اس تماشے میں شریک ہونے کے لئے بھاگ کر جاتے ہیں۔ جس ڈگر اور راہ پر دیگر افراد رختِ سفر باندھتے ہیں ہم بھی بنا سوچے سمجھے اسی جانب رخ کر دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کی دیکھا دیکھی میں ان ہی کی فکر ، سوچ ، راہ اور منزل کو اپنی راہ ، منزل اور فکر بنا لیتے ہیں۔ اسی پر عمل کی تعبیری تصویر قائم کرتے ہیں۔ وقت اور جدوجہد کی مدد سے اس میں رنگ بھرتے ہیں۔ بھونڈے اور اختراعی دلائل سے اس کی ظاہری چمک دمک اور دلکشی کو بڑھانے کی تگ ودو کرتے ہیں۔ سوچے اور دیکھے بغیر کہ ہمارے معاشرے ، ہماری روایات ، اقدار اور سماج پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ہمارا مذہبِ اسلام اس فکر اور نظریے کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟ اور جو اعمال اس نظریے ، سوچ اور فکر پر منتج ہو رہے ہیں۔ عند للہ ان کی حیثیت (قبول و عدمِ قبول کے حوالے سے) کیا ہے؟
ان ساری فکری اور نظریاتی برائیوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہم ان پھولوں کی نمائش سے فیض یاب نہیں ہو پاتے جن پر ان فکری ناہمواریوں کی دھول جمی ہوئی ہوتی ہے۔ ان اعمال کی طرف ذہن متوجہ نہیں ہوتا جن کی بجاآوری سے ہمارا دامن خالی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ان فکری ناہمواریوں کو ختم کرکے اس عملی پسماندگی کو دور کرنا چاہیے تاکہ عند اللہ سرخرو ہو سکیں۔

روزنامہ اساس
تاریخ اشاعت: 02-10
جمعۃ المبارک


04/09/2020

4 ستمبر یومِ حجاب

⁦✍️⁩ نعیم اختر ربانی

حجاب مسلم خواتین کی عزت ، وقار ، مان ، فخر اور غرور ہے۔ یہ ہر ہوس پرستانہ نگاہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ پاک امہات المومنین ، ازواجِ مطہرات اور سیدات رضوان اللہ علیھن کے ساتھ صورتاً ہم آہنگی کا اظہار ہے اور یہ باور کروانا ہے کہ ہمارا تعلق اس اشرف اور پاکباز خاندان سے ہے جس کا عرش والے بھی احترام کرتے ہیں۔ ان پاک بیبیوں سے ہماری مشابہت ہے جن کے بسترِ مبارک پر ملائکہ کے سردار حضرت جبرائیل امین علیہ السلام پاک پروردگار کا سلام لے کر اترتے تھے۔

حجاب میں لپٹی خواتین بزبانِ حال یہ اعلان کرتی ہیں کہ ہمارا تو نسب عالی ، نسبت اشرف و مکرم ، دستور ساری دنیا سے بالا و ارفع ، لباس تمام تر طبعی ، مذہبی ، گروہی ، قومی ، نفسیاتی ، شخصی اور معاشرتی تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ حجاب عورت کا ساتھ چلتا ہوا ایک محافظ ہے جو ہر ایرے غیرے کی توجہ کو مرکوز ہونے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

کسی نے بزرگ سے سوال کیا گیا کہ "عورت کو اسلام میں پابند کیا گیا ہے اور آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔ اسے اپنے آپ کو بے حجاب کرنے کی بھی اجازت نہیں" تو بزرگ نے جواب دیا کہ "اسلام ایک صراف کی طرح رمز شناس اور فرد شناس ہے۔ جس طرح صراف تمام ہیرے اور جواہرات کو خوبصورت ڈبوں میں بند کر کے الماریوں میں ڈھانپ کر رکھتا ہے تاکہ ہوا کے ساتھ آنے والی گرد بھی اس پر نہ پڑے۔ کیونکہ اگر گرد پڑی اور ذرا سی میل اوپر آ گئی تو پھر قیمت میں کمی واقع ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعینہٖ اسلام کا معاملہ ہے کہ اسلام عورت کو عزت اور مقام کی اس بلندی اور چوٹی پر فائز سمجھتا ہے کہ جسے دوسرا مذہب یا ملک اس طرح کا مقام دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسلام جب عزت دینے کی بات کرتا ہے تو پھر اسے ان تمام مواقع ، افعال ، اعمال اور مقامات کی خبر بھی دیتا ہے جن سے دور رہ کر اس عزت کی بحالی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام نے اسی عزت کو محفوظ رکھنے کے لیے خواتین کو حجاب کا حکم دیا اور یہ فرمایا کہ " آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی ازواج اور دوسری مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ جب وہ گھر سے نکلیں تو اپنے چہروں کو ڈھانپ کر نکلا کریں (القرآن)۔
کیونکہ اسلام یہ ہی چاہتا ہے کہ جو اس نے عزت ، مقام اور تحفظ عورت کو دیا ہے وہ عورت کے پاس ہمیشہ موجود رہے۔ اس پر کسی کی نگاہ کی میل نہ پڑے اور کسی فرد کے ہوس پرستانہ خیالات کی محور بھی نہ بنے ۔ بس وہ آزاد دنیا میں اپنی ماحول کے اندر محفوظ اور خوشحال ہو۔

28/08/2020

روزنامہ اساس کے ادارتی صفحے پر شائع ہونے والا میرا کالم بعنوان "فلاح کا مدار" آپ کی پیاری نگاہوں کی نذر
پڑھ کر رائے ضرور دیجیے گا

⁦✍️⁩از قلم
رشحاتِ ربانی| نعیم اختر ربانی

بے ثبات دنیا کے ظاہری دلکش مناظر اور بے ہنگم راستوں پر چلنے والا اور اردگرد کے ماحولیاتی نظارے کرنے والا انسان اپنے آپ کو اس بحرِ عمیق میں اکیلا اور تنہا محسوس کرتا ہے۔ ہروقت کی کوشش اور جدوجہد کا مدار فقط کامیابی اور کامرانی کے حصول کے اردگرد چکر کاٹنا ہے۔ ہر ممکن کوشش محض اس لیے کرتا ہے کہ کہیں سے کامیابی کے دامن تک رسائی حاصل ہو جائے اور پھر اس متاعِ عزیز کے قریب تر ہو کر عزیز تر ہوتا جائے۔ مگر صحیح رخ کے تعین کے بغیر وہ اس دامن تک کیسے پہنچ پائے گا؟ ایک بھٹکا ہوا راہی محض زمینی فاصلوں کو مانپنے اور گردوغبار کو دامن میں سمونے کے علاوہ کیا کر سکتا ہے؟ کیونکہ راستے ہی منزل کا پتہ دیتے ہیں۔ اور راستوں سے ناآشائی اور طریقِ چلن سے ناواقفیت بیچ صحراء میں موت کا جام تو پلا سکتی ہے مگر آبِ حیات کی بوند تک پیدا نہیں کر سکتی۔ آبِ حیات اسی وقت میسر آئے گا جب راستوں اور طریقِ چلن سے آشنائی کے بعد منزل تک صحیح سالم پہنچا جائے۔

قرآنِ حکیم نے اس مشکل کو حل کر دیا اور کامیابی کا ایک عظیم نسخہ اہلِ دنیا کے سپرد کیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ " تحقیق وہ شخص فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی (اعلیٰ :14) اسی طرح دوسرے مقام پر قرآن مجید نے اسی مفہوم کو نئے انداز سے بیان کیا ارشاد فرمایا " تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا (الشمس :9)۔ درج بالا آیات میں خدا تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو اور کامیابی بھی وہ جو تمہارے خواب و خیال کے لحاظ سے نہیں بلکہ پروردگار کی طرف سے مسلّم اور مستند کامیابی ہے تو اپنا تزکیہ کر لو۔ یعنی اپنے آپ کو خوب پاک کر لو۔ علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رح اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ " جس کا باطن شرک سے اور ظاہر نجاست سے اور مال زکوٰۃ نہ دینے کے میل سے اور دل یادِ الٰہی کی غفلت سے اور ضمیر نفسانی عیوب سے اور اعضاء جسمانی گناہوں کے میل سے پاک ہو وہ کامیاب مطلب یہ کہ زکوٰۃ سے جس نے مالی کثافت کو دور کیا اور نماز سے ظاہری نجاست کو دور کیا اور ذکرِ خداوندی سے دل کی کدورت کو اور نفس کو امراضِ نفسانیہ کی آلائش سے اور اعضاءِ جسم کو گناہوں کی گندگی سے وہی نجات پا گیا ( تفسیر مظہری ج 12)۔

درج بالا باتوں سے واضح ہو گیا کہ تزکیہ کا عمل ہر شعبہ ہائے زندگی میں کارفرما ہونا چاہیے۔ انفرادی تخصیص ، اجتماعی تنقیص ، گروہی تفویض ، خاندانی اور نسبی تفرد سے پاک ہر انسان اور گروہِ انسانی کے ساتھ تزکیہ کا عمل منسلک ہے۔ جب کوئی فرد یا جماعت اپنے آپ کو تزکیہ کے عمل سے مبرا اور پاک خیال کرے گی تو اس صورت میں فساد اور خرابی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اسی کے متعلق مولانا امین احسن اصلاحی صاحب فرماتے ہیں کہ "تزکیہ کا عمل انسانی معاشرہ کے کسی خاص گروہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام افراد اور تمام گروہوں بلکہ پورے معاشرے سے یکساں طور پر ہے۔ کوئی شخص بھی اس کے بغیر آخرت میں نجات حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کی حیثیت دین میں صرف ایک فضیلت کی نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے لیے ناگزیر انفرادی ضرورت ہے۔ یہ نجات اور فلاحِ آخرت کے لیے ایک شرط ہے جس کو پورا کیے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل نہیں کو سکتا۔ ( تزکیہ نفس ص 20)

تزکیہ کی اہمیت صرف یہیں تک محدود نہیں کہ متبعین اور پیرو اپنے آپ کو پاک کریں۔ باری تعالیٰ نے طریقِ تزکیہ اور اسبابِ تزکیہ مکمل اور اکمل طور پر نازل فرمادیے۔ تو انسان انہی کی روشنی اور راہنمائی میں اپنی ذات کے شب و روز ، معاملات اور ارشادات سنوارے اور درست کرے۔ لیکن اس کے باوجود باری تعالیٰ نے انبیآء علیھم السلام کی بعث کا مقصد ہی تزکیہ کو قرار دیا۔ یعنی وہ امت کو پاک کرنے اور ان کی روحانی تربیت اور اصلاح کرنے کے لیے تشریف لائے۔ چنانچہ باری تعالیٰ نے جابجا انبیآء علیھم السلام کے مقصدِ بعثت کو بیان کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قرآنِ حکیم یوں بیان کرتا ہے کہ۔ "اے ہمارے رب! آپ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجیں جو انہیں آپ کی آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ اور ان کا تزکیہ کرے بے شک آپ تو غالب آنے والے اور حکمت والے ہیں" (بقرہ 129) اسی طرح سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 151 میں بھی بعینہٖ اسی مضمون کو بیان کیا گیا۔ اور اس میں واضح بتا دیا کہ انبیآء علیھم السلام کی بعثت کا اصل مقصد "اصلاح اور تزکیہ" ہے۔ اور اس اصلاح اور تزکیہ کے لیے اسباب و زرائع تلاوتِ قرآنِ حکیم اور تعلیمِ کتاب اللہ اور حکمتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب انبیآء علیھم السلام اپنے مقصدِ اصلی تزکیہ کو عملاً شروع کریں گے تو وہ ان اسباب کے زریعے لوگوں کے دلوں کو گداز کر کے ایمان کی حلاوت ان کے دل میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

مذکورہ تمام باتوں سے علم ہوتا ہے کہ انسان جب بھی فلاح کے دشوار گزار راستے پر گامزن ہوتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ اس نسخہء کیمیا کو اپنے پلو کے ساتھ باندھ لے۔ اگر اس اکسیر کو اپنے سامانِ سفر میں سرفہرست نہ رکھا اور دنیا کی دلکشی اور دلفریبی کی لُو میں بہک کر فلاح کی پگڈنڈی سے اتر گیا تو پھر اسے درست راستے پر آنے کے لیے ان کھائیوں سے دوبارہ اٹھ کر ان راستوں کو تلاش کرنا ہو گا جن پر وہ اس سے پہلے چل رہا تھا۔

ہر راہی اور مسافر کے لیے لازم ہے کہ وہ تزکیہ اور خود احستابی کی انگلی پکڑ کر پرخطر راستوں کو سر کرے اور منزل کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اردگرد دکھائی دینے والی بے فائدہ اور باعثِ ضرر اشیاء سے نظروں کو بچائے اور تزکیہ کو راہبر بناتے ہوئے قدم بہ قدم اس سے اصلاح لیتا رہے۔ تاوقتیکہ اجل آ پہنچے اور منزل کا دیدار نصیب ہو۔

بقیہ اقساط کے لنکس

1: علم برائے عمل ہی راہِ نجات ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1381023862081245&id=100005209336550

2: خوفِ الٰہی نیکیوں کی جڑ اور برائیوں میں روکاوٹ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1391982434318721&id=100005209336550

3: موت کی یاد نیکیوں کی راغب اور گناہوں میں مانع
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1403120236538274&id=100005209336550

4: گناہ شناسی کا مزاج
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1413514472165517&id=100005209336550

5:گناہوں کی ایک بڑی وجہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1436177999899164&id=100005209336550

6: محاسبہ نفس۔۔۔کیوں اور کیسے؟

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1441929269324037&id=100005209336550

7: اصلاح کے مراحل (پہلا حصہ)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1453313198185644&id=100005209336550

8: اصلاح کے مراحل 2
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1464390830411214&id=100005209336550

9: اصلاح کے مراحل 3
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1477047362478894&id=100005209336550

فیس بک آئی ڈی کا لنک
https://www.facebook.com/profile.php?id=100005209336550

فیس بُک پیج کا لنک
https://www.facebook.com/Naeem-Akhter-Rabbani-599738687099876/

Photos from Naeem Akhter Rabbani's post 24/06/2020

Photos from Naeem Akhter Rabbani's post

Photos from Naeem Akhter Rabbani's post 22/06/2020

Photos from Naeem Akhter Rabbani's post

Photos from Naeem Akhter Rabbani's post 16/06/2020

Photos from Naeem Akhter Rabbani's post

16/05/2020

اہم اعلان

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم نے ایک ماہ پہلے " فن تحریر و تحقیق کورس" شروع کروایا تھا۔ بحمد اللہ جس کا اختتام چند روز قبل ہو چکا ہے۔ تمام شرکاء کورس نے بھر پور انداز میں محنت کی۔ اپنے تئیں تمام اسباق کو دلجمعی سے پڑھا اور دی جانے والی مشقوں کو خوب سے خوب تر طریقے سے حل کیا۔

ہر سبق کے ساتھ اس سے متعلقہ مشق بھی دی جاتی تھی تاکہ سبق طلباء کے ذہن نشین ہو جائے۔ پھر کورس کے اختتام پر ہم نے ایک " امتحان" بھی منعقد کروایا جس میں ساڑھے تین گھنٹے کا وقت دیا گیا ماشاءاللہ تمام طلباء نے بہت عمدہ جوابات تحریر کیے۔

ہم نے کورس کی تشہیر کے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ کورس کے اختتام پر سند سے بھی نوازا جائے گا۔ لہذا وعدے کے مطابق ہم "اسناد" دینے کا بھی اعلان کر رہے ہیں۔

تمام اسانید کی تصاویر تھوڑے سے وقفے کے بعد ہمارے آفیشل پیج پر ہی ملاحظہ فرمائیں۔

کورس کے تمام شرکاء کو بہت مبارک ہو کہ انہوں نے بفضلِ خدا کورس مکمل پڑھا۔ تحریر و تحقیق کے رموز سے آشنائی حاصل کی اور ان کے قواعد کے متعلق بہت کچھ سیکھا۔

تمام طلباء کے لیے دعا گو ہیں کہ اللّٰہ رب العزت انہیں تخلیقی صلاحیتوں سے نوازے اور ان صلاحیتوں پر تحقیق کا رنگ چڑھائے آمین ثم آمین

نعیم اختر ربانی
(چیئرمین ربانی فاؤنڈیشن)

10/05/2020

مدر ڈے پر میری لکھی گئی ایک تحریر آپ کی پیاری نگاہوں کی نذر۔۔۔۔ پڑھ کر رائے ضرور دیجئے گا۔

از قلم ✍
نعیم اختر ربانی

ماں ایک ایسی عظیم ہستی ہے کہ اللّٰہ رب العزت بھی انسان کے ساتھ اپنے پیار اور محبت کی مثال دینے کے لیے جس کا انتخاب کرتا ہے۔ جس کے پیار کو بطورِ مثال کے ذکر کرتا ہے۔
ماں ایک ایسی ہستی ہے کہ جس کی جھڑکیں بھی پھول کی پتیوں کی طرح نرم ، نازک ، ملائم اور محبتوں سے لبریز ہوتی ہیں۔
ہمارا سارا بچپن ان کی نگاہوں کے سامنے ہنستے کھیلتے مسکراتے گزر جاتا ہے۔ کبھی جو چلتے چلتے لڑکھڑائیں تو جھپٹ کر دونوں بازوؤں کا سہارا دیتی ہیں۔ کبھی جو تیوری چڑھائیں تو دنیا کی ساری دولت نچھاور کرنے کا جذبہ آنکھوں سے چھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی جو رونا شروع کر دیں تو ایسی ایسی لوریاں ان کی زبان سے سننے کو ملتی ہیں کہ دنیا کے عظیم تخلیق کار کا احساس ابھرتا ہے۔ دستر خوان پر جب خاندان کے تمام افراد اپنا اپنا پیٹ بھرنے میں مصروف ہوتے ہیں اس وقت مائیں اپنے بچوں کو نوالے توڑ توڑ کر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ جسم کی حرارت ذرا سی تیز ہو تو ان کا دل دھک دھک کرنے لگ جاتا ہے۔
نفرت کے تصور سے بھی ان کی آشنائی نہیں ہے۔ وہ محبتوں کی پالنہار معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے اعضاء و جوارح سے محبتوں کے بے پناہ قصے پر دم گویا رہتے ہیں۔ ان کا دامن زمانے کے نشیب و فراز سے اپنے معیار اور پیار میں فرق نہیں لاتا۔ ان کی کتابِ عشق میں رنگ ، نسل ، ذات پات اور مرتبے کے الفاظ درج ہی نہیں۔ بس ان کی کوکھ سے جنم لینے والا کوئی بھی ہو اس کے لیے جنت کی ٹھنڈی چھاؤں ثابت ہوتی ہیں۔ غموں کی دیوڑی سے جب مغموم آہیں بھرتا ہوا نکلتاہے تو ان کی عشق کی تمازت سے لبریز لب تمام غموں کو راکھ کر دیتے ہیں۔
رات گئے جب گھر لوٹتے ہیں تو ماں کی نگاہوں کو منتظر پاتے ہیں۔ سارے گھر والے سو جاتے ہیں مگر ایک ماں کی آنکھ نہیں بند ہوتی۔ وہ کھلے دروازے پر ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی ہے۔ اکثر اوقات جب زیادہ دیر ہو جائے تو وہ مصلہ بچھا کر خیر کی دعائیں مانگنے اور اپنے پرودگار سے مناجات کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔
افسوس کہ اس مصروف زندگی میں اس ماں کے پاس بیٹھنے کو ہمارے پاس وقت نہیں۔ دعائیں لینے ، ہدایات سننے اور ڈانٹ ڈپٹ کھانے کبھی ماں کے گھٹنے کے ساتھ بیٹھ جانا۔ یقیناً آپ کی زندگی کا خوبصورت ترین لمحہ ہو گا کہ جب آپ دنیا کے دوسرے افراد کی رہنمائی کرتے ہوں انہیں لیکچرز دے کر اور موٹیوٹ کر کے زندگی کی راہوں پر گامزن کرتے ہوں۔ مگر جب گھر لوٹتے ہیں تو آپ کی ماں آپ کو بچوں کی طرح سمجھاتی ہے۔ جلد لوٹ آنے ، کسی غیر سے ملتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ، دوران سفر کسی اجنبی سے لے کر کچھ نہ کھانے کی ہدایات دیتی ہیں۔ پیار کے یہ حسین لمحات ہر کسی کو نصیب ہوں۔ آمین

30/04/2020

یہ خبر کسی کو یاد ہے؟ ؟ ؟
تو پھر وزیراعظم صاحب کو کریڈیٹ کس بات کا دے رہے ہیں۔۔۔۔ خدارا ! لیڈر کی محبت میں حقائق کو نہ چھپائیں

10/03/2020
05/03/2020

میں مرد اور عورت کی برابری کا قائل ہوں آپ کی رائے کیا ہے؟

میں مرد ہوں مجھے عورت کی برابری کے حقوق چاہیئے۔۔۔!
میں جب بس میں سوار ہوں تو لڑکیاں مجھے دیکھ کر سیٹ چھوڑ دیں
میں جب بینک،ڈاکخانے یا کسی بھی دفتر میں جاوں تو لڑکیاں مجھے لائن کراس کر کے آگے جانے دیں،اور خود انیسویں نمبر سے شروع ہوں۔۔!
جب کبھی پبلک میں میری کسی لڑکی سے لڑائی ہو جائے تو میرا حق ہے میں لڑکی کو وٹ وٹ چپیڑیں ماروں اور لڑکی آگے سے ہاتھ نہ اٹھائے۔۔جیسے مرد سے توقع کی جاتی ۔۔۔!
میرا حق ہے،میں جیسے چاہوں کپڑے پہنوں۔۔لہذا اب سے میں سکن ٹائٹ انڈر وئیر میں گھوما کروں گا صرف۔۔۔!
اور سنو اگر میرے باڈی کٹس یا کسی بھی عضو کی ظاہر ہوتی شبیہ کسی لڑکی کو بری لگی تو یہ میرا قصور نہیں اس کے ذہن کی گندگی ہو گی۔۔۔!
بائیک پنکچر ہونے پر لڑکا روڈ سائیڈ سٹاپ پر کھڑا ہو کے موبائل پر گیم کھیلے گا،اور لڑکی موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بیٹھ کے چلاتے ہوئے پنکچر لگوانے جائے گی۔۔!
اور بالکل ایسے ہی پٹرول ختم ہونے پر لڑکا سٹیرنگ سنبھالے گا اور لڑکی کار کو دھکا لگائے گی۔۔۔!
دیکھیے میں برابری کا قائل ہوں مجھے برابری کے حقوق دینے بھی ہیں خواتین کو میں انہیں اپنے سے کم نہیں سمجھتا۔۔۔!
لہذا دسمبر کی سردی میں جب کسی لوکل بس میں سوار ہوتے ہوئے جگہ کم پر پڑ گئی تو میں بھاگ کر سیٹ پر بیٹھ جاوں گا اور نبیلہ،شکیلہ صائمہ کھڑی ہوں گی۔۔۔ صبا،مہوش،صدف،عائشہ وغیرہ بس کے باہر لگے ہوئے پائپ کو پکڑ کر لٹکی ہوں گی،ربینہ،ارم،بشری،سدرہ وغیرہ بس کی چھت پر چڑھ کر بیٹھیں گیں،جہاں آگے سے آنی والی زور دار ہوا میک اپ اکھاڑ پھینکے اور منہ میں گھس کر باگڑ بلا بنا دے۔۔
ہمارے محلے کا گٹر بند ہے اور میں کسی فیمنسٹ عورت کو بلاؤں گا جو گٹر میں گلے تک اتر کر گٹر صاف کرے اور بالٹیاں بھر بھر کے دور پھینک کے آئے۔۔۔
اور آج میرے ہمسائے کی پانی کی باری ہے،اس نے بتایا ہوا گھر کہ بیٹے جبار کو بخار ہے وہ نہیں جائے گا تین بجے رات کو پانی لگانے،لہذا بیٹی کو سمجھا دیا ہے کہ بیلچہ کدال وغیرہ سنبھال لے اور صبح ادھا گھنٹا پہلے ای اٹھ جائے کہیں پانی کو دیر نہ ہو جائے۔۔!
دیکھو اب یہ آپشن نہیں ہے لڑکی کے لیے کہ جاب مل گئی تو مل گئی ورنہ گھر بیٹھنا نہ نہ نہ۔۔یہ تو کمزوری ظاہر ہو جائے گی۔۔اب نوکری نہ ملنے پر چاچے غفورے کے اینٹوں کے بھٹے پر جانا ہے سمیرا نے۔۔اور سوبیہ کی ٹھیکیدار سے بات ہو گئی جو سڑک بنا رہا وہاں تارکول ڈالنے کے لیے مزدور چاہیے

29/02/2020
20/02/2020
19/02/2020
17/02/2020

امن الناس بر مولائے ما
آں کلیمِ اوّلِ سینائے ما

(علامہ اقبال )

ہمارے طُور کا پہلا کلیم
تصویر کیف
جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
رونق بازار مصطفیٰ بھی ہیں اور حاملِ انوارِ مصطفیٰ بھی
حاصِل افکارِ مصطفیٰ بھی ہیں اور مظہرِ کردارِ مصطفیٰ بھی
واقفِ اسرارِ مصطفیٰ بھی ہیں اور زینت ِ دربارِ مصطفیٰ بھی
نگہتِ گلزار مصطفیٰ بھی ہیں اور کشتۂ دیدارِ مصطفیٰ بھی
اور سب سے بڑی بات یہ کہ
’’آپ ساکنِ مزارِ مصطفیٰ ہیں ‘‘
یہی نہیں بلکہ ۔
٭ پر تو کمالِ مصطفیٰ ہیں تو صدیق
٭ جلوۂ جمال مصطفیٰ ہیں تو صدیق
٭ ناشرِ اقوالِ مصطفیٰ ہیں تو صدیق
٭ نقشۂ حالِ مصطفیٰ ہیں تو صدیق
٭ صورتِ قالِ مصطفیٰ ہیں تو صدیق
صدیق ! میں تیری عظمت پہ قربان
تو سراپا جلال بھی ہے اور پیکر جمال بھی
صدیق تو دین کا کمال بھی او رمصطفیٰ کی ڈھال بھی
ابوبکر صدیق تو معظم بھی ہے مکرّم بھی
تو مومنوں کا مُعلم بھی ہے آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خادم بھی ابوبکر صدیق !
تو اسیرِ حلقہ مُوئے رسول ہے
زینت و آرائش کوئے رسول ہے
پروانۂ شمعِ رُوئے رسول ہے
کُشتۂ خمِ ابروئے رسول ہے ۔
صدیق ! ستارے تیری عظمتوں کو سلام کرتے ہیں فرشتے تیرے قصیدے پڑھتے ہیں اللہ کا رسول تجھے اعزاز عطافرماتا ہے ۔

تیری وفا کو میرا سلام ہو تو کتنا عظیم ہے صُبح کے سویروں میں غار کے اندھیروں میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا رفیق ہے ۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن و تشنیع کرنے والے اتنا تو خیال کریں کہ ۔
صدیق جانثار رسول بھی ہیں اور غم گسارِ رسول بھی
وفادارِ رسول بھی ہیں اور پاسدارِ رسول بھی
راز دارِ رسول بھی ہیں اور یارِ غار رسول بھی
ابوبکر صدیق کو ظالم اور غاصب نہ کہیے اگر کہنا ہے تو ۔
ابوبکر صدیق کو عندلیبِ گُلستانِ رسول مختار کہیے
عرصۂ محبت کا شہسوار کہیے
عاشقانِ رسول کا قافلہ سالار کہیے
غریبوں کا غمگسار کہیے صحابہ کا تاجدار کہیے
مسکینوں کا مدد گار کہیےعشق بلالی کا خریدارکہیے
حاملِ نور پروردگار کہیےصداقت کا علم بردار کہیے
اورثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ کہیے۔
ہاں ہاں !
ابوبکر صدیق پیشوائے کاملین ہیں اور خلیفۃ المسلمین ہیں تاج الصالحین ہیں امیر المومنین ہیں امام المتقین ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ابوبکر صدیق اصدق الصادقین ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جانشین ہیں پروانۂ رحمت للعالمین ہیں اور والدِ اُم المومنین ہیں قافلہ سالارِ سالکین اور سلطان المقربین ہیں ۔

نیّرِ بُرجِ عطا صدیق ہیں
منبعٔ جُود و سخا صدیق ہیں

مرکزِ مہر و وفا صدیق ہیں
محورِ صدق و صفا صدیق ہیں

حامِلِ نُورِ خدا صدیق ہیں
یارِ غارِ مصطفیٰ صدیق ہیں

کیوں نہ صاؔئم اُ ن کو میں ہادی کہوں
حامیٔ دین ہُدیٰ صدیق ہیں

سیّدنا صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان تخیلات سے ماوریٰ صدیق کا مقام تصورات سے بالا اس لئے کہ صدیق پروردۂ نگاہِ رسول اور خُدا تعالیٰ کا مقبول ہے ۔
صدیق ! مرکز پُرکارِ وفا ہیں
صدیق ! فنافی العشقِ مصطفیٰ ہیں
صدیق ! نائب سیّدالانبیاء ہیں
صدیق ! مصدرِ فیوضاتِ مُرتضیٰ ہیں
جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
مُشفق بھی ہیں اور شفیق بھی
رہبر بھی ہیں اور خلیق بھی
احسن بھی اور عتیق بھی
صادق بھی ہیں اور صدیق ؓ بھی
صدیق بحرِ رحمت کے غریق ہیں
صحابہ کے اتالیق ہیں
حق وباطل میں وجہ تفریق ہیں
نامۂ محبت کی مُہر تصدیق ہیں
اور سب سے بڑی بات کہ صدیق نائب ِرسول اور خلیفۂ بلا فصل بالتحقیق ہیں ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ خوش نصیب اورعالی قدر صحابیٔ رسول ہیں جن کو مصطفیٰ کی کرشمہ سازیوں اور بندہ نوازیوں نے خصائل و شمائل اور فضائل و کرامات کا بحرناپید ا کنار بنادیا تھا ۔

سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک عام انسان کی طرح نہ دیکھو صدیق کو دیکھنا ہے تو یوں دیکھو کہ ۔
صدیق اکبر انبیاء و مرسلین کے تاجدار کے ساتھی ہیں‘‘
گلشن کو ن و مکاں کی بہار کے ساتھی ہیں۔
لامکان کے شہسوار کے ساتھی ہیں
دونوں جہان کے شہریار کے ساتھی ہیں ۔
ہاں ہاں ! صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر برسنے والی پتھروں کی یلغار کے ساتھی ہیں
مکہ سے مدینہ آنے والی رہگزار کے ساتھی ہیں
سانپوں کے رہنے والے غار کے ساتھی ہیں
بدر میں چلنے والی تلوار کے ساتھی ہیں
اُحد میں آنے والے آزار کے ساتھی ہیں
بلکہ اسلام کے ہر معرکہ کارزارکے ساتھی ہیں
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ اُس مزار کے ساتھی ہیں جس کی زیارت اور سلامی کے لئے ستر ہزار فرشتوں کا روز و شب نزول ہوتا ہے اُس مزار کے ساتھی ہیں جس میں بزمِ کونین کے دُولہا رہتے ہیں ۔ اُس مزار کے ساتھی ہیں جس میں دونوں عالم کے آقا ؤ مولا استراحت پذیر ہیں
جس میں جنت کے مالک و مختار اور کوثرو سلسبیل کے ساقی رہتے ہیں
وہ مزار پر انوار ! جہاں نور ہے نار نہیں
وہ گلشنِ سدا بہار ! جہاں پھول ہے خار نہیں
وہ دارالقرار ! جہاں یار ہے مار نہیں
وہ حریم شہریار ! جہاں رحمت ہے آزار نہیں

ہاں ہاں ! میرے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وہ بیت الشرف ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسکن ہے
جہاں حضوری ہے دوری نہیں
جہاں تریاق ہے زہر نہیں
جہاں رحمت ہے قہر نہیں
جہاں چارا ساز ہے بے چار ا نہیں
جہاں شبنم ہے شرارا نہیں
جہاں حُسن ہے قباحت نہیں
جہاں سکون ہے وحشت نہیں ۔
پیارے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اُس مزار میں رونق افروز ہیں‘‘
جہاں خزاں نہیں بہار ہے
جہاںظلم نہیں پیار ہے
جہاں بے چینی نہیں قرا ر ہے
جہاں درد نہیں دوا ہے
جہاں مرض نہیں شفا ء ہے
جہاں صرصر نہیں صبا ہے
جہاں ظلمت نہیں ضیاء ہے
جہاں فنا نہیں بقا ہے
جہاں غیر نہیں حبیب ہے
جہاں مریض نہیں طبیب ہے ۔

وہ مزارِ مُقدس جس میں نور ہی نو ر ہے سُرور ہی سُرور ہے رحمت ہی رحمت ہے برکت ہی برکت ہے اور سلامتی ہی سلامتی ہے ۔

سیّدنا صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسکن وہ گُلستانِ کرم ہے جہاں چلنے والی بادِ رحمت کا ہلکا سا جھونکا جہنم کے شعلوں میں برودت کا فوری بھر دے ۔

صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اُس جلوہ گاہِ نور کا مکیں ہے جہاں ظلمتوں کے گذر کا امکان ہی ختم ہوچکا ہے پھر ان حالات میں یہ کس قدر نادانی اور حقائق سے رُو گردانی ہے کہ معاذ اللہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لائقِ مواخذہ سمجھا جائے اور اس پر مختلف طریقوں سے الزام تراشی کی جائے اور اگر کوئی نادان ایسا کرتا بھی ہے تو اس کا اپنا ہی نقصا ن ہے حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا نقصان ہوگا ۔

اُن کا مقام تو ہر قسم کے مطاعن کی دست بُرد سے ویسے ہی باہر ہے بھلا آسمان کی طرف مُنہ اٹھا کر تھوکنے سے آسمان کا کیا بگڑتا ہے وہاں تک یہ ناپاک چھینٹے پہنچنے کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ہاں تھوکنے والے کو تھوڑا بہت یقیناً مُتاثر ہونا پڑے گا ۔

حضور ﷺکی دُعا
یہ تو خیر ایک جملہ معترضہ تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایسے رفیق اور ساتھی ہیں او راس قدر نگاہِ محبوب میں جچے ہوئے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اللہ تعالیٰ کے دربار میں استدعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ابوبکر کو آخرت میں بھی میرے ساتھ ہی رکھنا ۔
چنانچہ کتبِ احادیث و سیر میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ دُعا اس طرح مرقوم ہے ۔
الّٰلھم اجعل ابا بکرٍ مع فی درجتی یوم القیامۃ ۔
(حلیتہ الاولیاء ج۱ ص ۳۳ )(الوفا ج ۱ ص۲۸۶)
اور پھر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ دعا منظور بھی ہوگئی چنانچہ اگلی سطروں میں اس طرح لکھا ہے ۔
فا وحٰی اللّٰہِ تعالیٰ الیہ ان اللّٰہ قد استجاب لک

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مانگی ہوئی دُعا کے مُسترد ہونے کا تو سوال ہی پید ا نہیں ہوتا بہر حال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دُنیا و آخرت میں امام الانبیاء تاجدارِ کون و مکاں محبوبِ رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ ہیں اور سرورِ دوعالم کہیں بھی اُن کی علیٰحدگی پسند نہیں فرماتے بلکہ خدا تعالیٰ سے اُن کی رفاقت طلب فرماتے ہیں ۔

جبھی تو ہم کہتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا محبوب متصوّر کرتے ہو تو محبوب کی محبوب چیزوں سے نفرت نہ کیا کرو جب تک محبوب کے محبوب لوگوں کو محبوب نہیں بنایا جائے گا دعویٰ محبت خام اور باطل قرار پائے گا ۔

Videos (show all)

دشمنان اسلام کی سازشوں کا شکار مت بنیں۔۔۔ فرقہ بندی سے باز آ جائیں
نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟
نئے سال کی مبارک باد دینا کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مولانا محمد مکی الحجازی صاحب کی زبانی سنیے
سابق امریکی گلوکارہ جینیفر جراوت کی سورۃ بقرہ کی تلاوت۔۔۔۔۔ شیئر ضرور کریں

Location

Telephone

Website

Address

Pindi Gheb
43260

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Other Educational Consultants in Pindi Gheb (show all)
The Little Cadet School System Pindigheb The Little Cadet School System Pindigheb
Attock
Pindi Gheb

The Little Cadet School System Pindigheb

SEEK Pindigheb SEEK Pindigheb
Eid Gah Road Pindigheb
Pindi Gheb

We help the learners in their academic development,concept clarity and improvement of grades with th

Life Institute Of Modern Courses and Academy Pindigheb Life Institute Of Modern Courses and Academy Pindigheb
Pindi Gheb, 43260

We Provide Training for NEBOSH IGC(UK) in 40 Days also Tuition and Coaching to Matric,FSC,FA,ICOM ,

Science and commerce academy pindi gheb Science and commerce academy pindi gheb
Mohallah Insari Market Pindi Gheb Near Pepal Wali Masjid Qazi Afzal Advocate Str
Pindi Gheb, 43260

We are opening science and commerce Academy in pindi gheb "Our mi