Urdu Khankah Academy خانقاہِ اُردُو اکادمی ادبیات وسائنز

  • Home
  • Pakistan
  • Phalia
  • Urdu Khankah Academy خانقاہِ اُردُو اکادمی ادبیات وسائنز

Urdu Khankah Academy خانقاہِ اُردُو اکادمی ادبیات وسائنز Islam Abad campus
Mbdin campus
Phalia campus
Quetta Campus
Bagh Campus
Boha Hassan Campus

16/02/2026
حضرت معاویہ کا سب سے بڑا محب وہ ہے جو ان کی مدح و طعن دونوں پر خاموش رہے:"حضرت معاویہؓ: مشاجراتِ صحابہ میں زبانِ طعن و م...
25/08/2025

حضرت معاویہ کا سب سے بڑا محب وہ ہے جو ان کی مدح و طعن دونوں پر خاموش رہے:

"حضرت معاویہؓ: مشاجراتِ صحابہ میں زبانِ طعن و مدح کی بندش ہی اتحادِ امت کا راستہ"

اسلامی تاریخ کے کئی ابواب پر وقت کے ساتھ گرد جمتی گئی، لیکن کچھ ابواب ایسے ہیں جن سے گرد کبھی نہ ہٹ سکی اور نہ ہی مکمل طور پر چھپائی جا سکی۔ ان میں ایک بڑا اور مسلسل باعثِ نزاع باب حضرت معاویہؓ کا ہے۔ چودہ سو برس گزرنے کے باوجود ان کی شخصیت پر اختلافِ رائے نہ صرف قائم ہے بلکہ مسلسل شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ کوئی ان کے لیے لافِ مدح کے قصیدے پڑھتا ہے، تو کوئی زبانِ ملامت دراز کرتا ہے۔ مگر کیا اس اختلاف کا کوئی ایسا حل ممکن ہے جو امت کے اتحاد کی فضا کو برقرار رکھ سکے؟ یہی سوال اس تحریر کا محرک ہے۔

حضرت معاویہؓ کی شہرت کا اصل محرک:

اگر تاریخ کے دریچوں سے دیکھا جائے تو حضرت معاویہؓ کی شخصیت کا تاریخی قد و قامت دراصل حضرت علیؓ کی مخالفت اور خلافت کے خلاف عملی بغاوت کی وجہ سے ابھرا۔ اگر وہ حضرت علیؓ کے خلاف میدان میں نہ آتے، تو شاید وہ دیگر ہزاروں صحابہ کی طرح گمنام ہی رہتے، جن کی صحبتِ نبویؐ یقینا باعثِ شرف ہے، مگر تاریخ میں ان کا عمل یا اثر نمایاں نہیں۔

صحابہ کا ادب اور غلطیوں کا اعتراف:

اہلِ سنت کا اصول ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عدول (یعنی بیانِ حدیث میں قابلِ اعتماد) ہیں۔ مگر یہ اصول معصومیت کا مفہوم نہیں رکھتا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ:

* بعض صحابہ سے شرعی حدود کا صدور ہوا،
* بعض فتنے میں مبتلا ہوئے،
* اور بعض سے اجتہادی یا جذباتی لغزشیں بھی ہوئیں۔

ایسے میں کسی صحابی کے ساتھ ادب و احترام اپنی جگہ، لیکن ان کی سیاسی یا عملی خطاؤں کو "معصومانہ اجتہاد" کہہ کر تقدیس عطا کرنا غیر علمی رویہ ہے۔
یہاں شیخ البانی کا قول دہرانا بھی مفید رہے گا: شیخ البانی نے کہا اہل تشیع تو صرف 14 معصوم مانتے ہیں لیکن اہلسنت تو ہر وہ شخصیت جس کے ساتھ حضرت لگ جائے اسے معصوم قرار دینے پر تُل جاتے ہیں۔ اہل تشیع کے تو صرف 14 معصوم ہیں مگر اہلسنت کا ہر حضرت ہی معصوم ہے۔

کیا حضرت معاویہ مجتہد تھے؟

اجتہاد کی شرائط میں علمِ قرآن، حدیث، اصولِ فقہ، فہمِ شریعت، عربیت، اور تقویٰ شامل ہیں۔ تاریخی ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ:

* حضرت معاویہؓ نہ معروف فقہاء صحابہ میں شامل ہیں،
* نہ محدثین میں، نہ مفسرین میں،
* ان کے فتاویٰ یا علمی اجتہادات کی کوئی مستقل روایت موجود نہیں۔

ایسے میں ان کے سیاسی فیصلوں کو "اجتہاد" کہنا علمی و اصولی طور پر محلِ نظر ہے۔ یہ کہنا کہ حضرت علیؓ سے بغاوت ایک "اجتہاد" تھی، نہ صرف اجتہاد کے مفہوم کی توہین ہے، بلکہ امت کے اجتماعی ضمیر کے خلاف بھی ہے۔

تاریخی حقائق جن کا انکار ممکن نہیں:

کئی ایسے امور ہیں جن کا دفاع مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے:

* حضرت علیؓ جیسے خلیفۂ راشد کے خلاف خروج،
* بیت المال کو ذاتی مراعات کے لیے استعمال،
* صحابہ پر مال و جاہ کے ذریعے سیاسی دباؤ،
* منبروں پر حضرت علیؓ کو سب و شتم کروانا (جو کہ کئی تاریخی منابع میں موجود ہے)، مگر اب تو لوگ اس ثابت شدہ حد تواتر کو پہنچے ہوئے تاریخی واقعہ کو جھٹلانے پر بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن اپنی ساری کوششوں کے باوجود وہ تاریخ کو نئے سرے سے نہیں لکھ پائیں گے.
* یزید کی زبردستی بیعت اور خلافت کو ملوکیت میں بدلنا۔

یہ سب ایسے ناقابل انکار حقائق ہیں جنہیں محض "سیاسی حکمت" یا "اجتہاد" کہنا تاریخ اور اخلاقیات، دونوں سے خیانت ہے۔

مدح و طعن دونوں سے اجتناب: اعتدال کی راہ:

اس تمام فکری تجزیے کے باوجود، صحابہ کے درمیان فتنے کو چھیڑنا امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ حضرت معاویہؓ کی حمایت میں دلائل لاتے ہیں، وہ نا دانستہ طور پر دوسرے فریق کو ان کی خطائیں گنوانے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس سے:

* امت کا طالب علم الجھتا ہے،
* فرقہ وارانہ تقسیم گہری ہوتی ہے،
* اور وہ زخم جو بھرنے کی بجائے دُہائی مانگتے ہیں، پھر سے رسنے لگتے ہیں۔

اس مسئلے کا واحد متوازن حل یہی ہے کہ حضرت معاویہؓ کے معاملے میں خاموشی اختیار کی جائے — نہ مدح، نہ طعن۔ یہی "مشاجراتِ صحابہ پر سکوت" کی اصل روح ہے۔

حضرت علیؓ و اہلِ بیت کی مدح: عینِ ایمان:

دوسری طرف، حضرت علیؓ اور اہلِ بیتؑ کا دفاع، ان کی محبت اور ان کے فضائل بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ ایمان کا جزوِ لاینفک ہے۔ ان پر طعن ممکن ہی نہیں، کیونکہ:

* قرآن میں ان کی تطہیر کا ذکر ہے (آیت تطہیر)،
* حدیثِ ثقلین اور حدیثِ سفینہ میں ان کی برتری کا اعلان ہے،
* اور سیرتِ نبویؐ میں ان کی محبت کو نجات کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

اس لیے خاموشی صرف اُن صحابہ کے معاملے میں ہو سکتی ہے جن کے کردار پر تاریخ نے سوالیہ نشان لگائے ہیں — نہ کہ اہلِ بیت کے لیے۔

حضرت معاویہ کے دفاع و مدح کا نتیجہ: شیعیت کی طرف مائلیت میں اضافہ:

جن لوگوں نے اس خدشے کے پیشِ نظر کہ اگر حضرت معاویہ کا دفاع نہ کیا گیا اور ان کی مدح و ستائش کا بیان نہ کیا گیا تو لوگ اہل تشیع کے پروپیگنڈہ کا شکار ہو جائیں اور شیعیت کی طرف مائل ہو جائیں گے، تو ان کی اطلاع کیلیے عرض ہے ان کے اس دفاع و مدحِ حضرت معاویہ کا نتیجہ الٹ نکلا ہے۔۔۔۔ عام اہلسنت کو فطرتًا اھلبیت سے محبت ہے اور وہ حضرت معاویہ کے معاملہ میں کف لسان پر ہیں ، جب ان کے سامنے مدحِ حضرت معاویہ پر زور دیا گیا تو وہ اہلسنت علماء کو مخالفِ اھلیبیت سمجھ کر شیعیت کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ ہم نے خود کئی عام کسی بھی تنظیم سے غیر وابستہ لوگوں سے سنا کہ اھلسنت مولوی تو یزیدی و اموی ہو چکے ہیں، وہ اھلبیت کا ذکر ہی نہیں کرتے ، اس لئے ہم نے اھلبیت کا ذکر سننے کیلیے اہل تشیع کی مجالس میں جانا شروع کر دیا ہے۔۔ ہمارے خطباء یہ سمجھنے سے ہی اب تک قاصر رہے ہیں کہ حضرت معاویہ کی مدح و فضائل کا بیان عوام اھلسنت کے نزدیک مخالفتِ اھلبیت کا مظہر ہے۔ خطباء جتنا مرضی زور لگا لیں وہ پوری دنیا کے اہل اسلام کے اس عوامی رویے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بندہ فضائلِ اھلبیت اور فضائل معاویہ اکٹھے بیان کر سکے۔۔ نتیجتًا خطباء کے اس غیر محتاط، غیر حکیمانہ رویے سے عوامِ اھلسنت پر الٹا اثر ہوا ہے اور شیعیت کی طرف ان کے جھکاؤ میں اضافہ ہوا ہے ۔۔۔
ہمیں آج تک سمجھ نہیں آئی کہ حضرت معاویہ کے دفاع و مدح کی ضرورت کیا ہے؟ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کی ہم مدح و دفاع کرتے ہیں، اگر ایک کا نہ کیا تو کیا قیامت آ جائے گی؟ حضرت معاویہ کا دفاع و مدح کرنا کیا ایمانیات کا بنیادی حصہ ہے؟ حضرت معاویہ کی ذات 1400 سال سے امت میں باعثِ نزاع ہے اور قیامت تک باعثِ نزاع ہی رہے گی، یہ ان کا اپنا نصیب ہے کہ ان کی ذات نزاع کیلیے چنی گئی ہے۔۔ حضرت معاویہ کا سب سے بڑا دفاع ہی یہی ہے کہ جب کوئی آپ کے خلاف بات کرنے لگے تو کہا جائے کہ بھائی خاموش! وہ صحابی رسول ہیں اور ان کی جتنی بھی غلطیاں ہیں ان کا بیان کرنا بندے کو گستاخی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہی کف لسان ہے اور کف لسان کا معنی حضرت معاویہ کے متعلق مکمل خاموشی اختیار کرنا ہے، مدح و مذمت دونوں لحاظ سے۔۔ ۔۔
حضرت معاویہ کے خلاف جتنی زبانِ طعن دراز ان کے فضائل و مدح کرنے والوں نے کروائی ہے اتنی تو بدترین دشمن بھی نہیں کروا سکتا۔ وہ بھی عالمِ برزخ میں کہتے ہوں گے کہ مجھے بھی خدا نے کیسے حمایتی عطا کیے ہیں کہ روز میری خطاؤں کو عام کرنے کے اسباب فراہم کرتے رہتے ہیں۔
ہم نے تو عوامی طبقات میں یہ بھی سنا ہے کہ معروف اھلسنت علماء میں سوائے ڈاکٹر طاہر القادری و منہاج القرآن کے کوئی مودت و محبت اھلبیت کا اصل داعی باقی نہیں بچا۔ یہ ابھی رات کو بھی یونان سے آئے ہوئے عام اھلسنت کے احباب سے سنا جو کسی بھی تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں۔
خطباء و رہنمایان اھلسنت سے اپیل ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں، کف لسان کا صحیح مفہوم سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں، ورنہ پانچ-دس سال بعد عوام کی طرف سے یہ سب لوگ رد کر دیئے جائیں گے، امت تو اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے گی مگر ان کا کوئی نام لیوا بھی باقی نہ رہے گا.

نتیجہ: امت کے اتحاد کی واحد سبیل:

حضرت معاویہؓ کا ذکر چودہ صدیوں سے باعثِ نزاع ہے اور بظاہر یہ نزاع قیامت تک رہے گا۔ لہٰذا امت کے لیے بہتر یہی ہے کہ اس شخصیت پر طعن و مدح سے مکمل اجتناب کرے، اور تمام توانائی اسوۂ علیؓ و اہلِ بیتؑ کی سیرت سے رہنمائی لینے پر صرف کرے۔ ان کی سیرت ایمان کا نور ہے، اور حضرت معاویہؓ کے معاملے میں سکوت اتحاد کا چراغ۔

تحریر:
ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری
گجرات

بارش کا پانی: فائدے، احتیاطیں، اور سیلاب سے بچاؤ کے مؤثر طریقےاز: پروفیسر محمد احمد رضا سیالوی  تعارف:بارش اللہ تعالیٰ ک...
22/07/2025

بارش کا پانی: فائدے، احتیاطیں، اور سیلاب سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
از: پروفیسر محمد احمد رضا سیالوی



تعارف:

بارش اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جسے قرآن میں "ماء مبارک" یعنی برکت والا پانی قرار دیا گیا ہے۔ قدرتی پانی کے تمام ذرائع میں بارش کا پانی سب سے خالص، نرم، اور زود ہضم مانا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ صاف ماحول میں جمع اور استعمال کیا جائے۔ دنیا بھر میں ماہرین صحت، ماحولیات، اور واٹر ٹیکنالوجی کے ماہرین اس پانی کی افادیت پر تحقیق کر چکے ہیں۔



بارش کے پانی کے طبی اور جسمانی فوائد:

1. خالص اور کیمیکل سے پاک:
بارش کا پانی کسی قسم کے کلورین، فلورائیڈ یا دوسرے صنعتی کیمیکل سے پاک ہوتا ہے، بشرطیکہ یہ صاف سطح یا برتن میں جمع کیا گیا ہو۔

2. تیزابیت میں کمی:
انسانی جسم کے نظامِ انہضام کو متوازن رکھنے کے لیے کم pH والا پانی بہتر ہوتا ہے، اور بارش کا پانی نسبتاً کم تیزابی ہوتا ہے۔

3. جلد اور بالوں کے لیے مفید:
بارش کے پانی سے غسل کرنے سے جلد نرم، بال چمکدار، اور خشکی کم ہوتی ہے، کیونکہ یہ پانی ہلکا اور معدنی نمکیات سے پاک ہوتا ہے۔

4. گردے اور جگر کی صفائی:
بارش کا پانی جسم کے فاضل مادوں کو نکالنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر اگر خالی پیٹ پیا جائے۔

5. قوتِ مدافعت میں اضافہ:
قدرتی پانی جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے، بشرطیکہ پانی صاف ستھرا اور بغیر جراثیم کے ہو۔

#2024
#2025

بارش کا پانی پینے سے پہلے اہم احتیاطیں:

پہلی بارش نہ پیجیے:
سال کی پہلی بارش اکثر فضائی آلودگی کو دھو کر زمین پر لاتی ہے، اس لیے اسے پینا مناسب نہیں۔

صاف برتن یا ٹینکی کا استعمال:
پانی جمع کرنے کے لیے ایسے برتن یا ٹینک استعمال کریں جو پہلے سے صاف ہوں اور جن میں زنگ یا کیمیکل نہ ہوں۔

فلٹریشن اور ابالنا ضروری:
پینے کے لیے بارش کے پانی کو فلٹر کرنا یا ابالنا بہتر ہے تاکہ جراثیم ختم ہو جائیں۔



ماحولیاتی اور زرعی فوائد:

1. زمین کی نمی میں اضافہ:
بارش کے پانی سے زمین کو قدرتی نمی ملتی ہے، جو فصلوں کے لیے نہایت مفید ہے۔

2. زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری:
بارش کا پانی اگر ارتھ ریچارج کنووں یا واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کے ذریعے زمین میں جذب ہو، تو پانی کی سطح بلند ہوتی ہے۔

3. نہری نظام پر بوجھ کم ہوتا ہے:
بارش کے پانی کو استعمال میں لا کر ہم نہری اور ٹیوب ویل نظام پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔



سیلاب کی روک تھام اور مفید مشورے:

بارش کے پانی کو ضائع ہونے اور سیلاب میں بدلنے سے روکنے کے لیے چند عملی تجاویز پیشِ خدمت ہیں:

1. بارش کا پانی جمع کرنے کے نظام (Rainwater Harvesting):

شہروں میں گھروں کی چھتوں پر بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے پائپ سسٹم نصب کیا جائے۔

یہ پانی فلٹر کر کے پینے، کپڑے دھونے، یا زمین میں جذب کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

2. ارتھ ریچارج ویلز:

ہر محلے یا بلاک میں ارتھ ریچارج کنوے کھودے جائیں تاکہ اضافی پانی زمین میں جذب ہو کر نہ صرف سیلاب کو روکے بلکہ زیر زمین پانی میں اضافہ کرے۔

3. چھوٹے تالاب یا رین واٹر ذخیرہ گاہیں:

دیہی علاقوں میں یا کھیتوں کے قریب چھوٹے تالاب بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی قدرتی طور پر جمع ہو اور زمین میں جذب ہو سکے۔

4. نالوں اور ندیوں کی صفائی:

سیلابی پانی کے بہاؤ کے لیے نالے، ندی نالیاں، اور نچلے علاقے صاف ستھرے اور کھلے رکھنا ضروری ہے تاکہ پانی کا اخراج رکاوٹ کے بغیر ممکن ہو۔

5. شہری منصوبہ بندی میں واٹر مینجمنٹ کا شامل ہونا:

نئی سوسائٹیوں، سڑکوں اور بلڈنگز کی تعمیر میں بارش کے پانی کے نکاس اور ذخیرہ کا انتظام لازمی قرار دیا جائے۔

#بارش

نتیجہ:

بارش کا پانی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اسے ضائع کرنا نہ صرف نعمت کی ناشکری ہے بلکہ ہمارے ماحولیاتی مسائل، جیسے کہ پانی کی قلت اور سیلاب، کو مزید سنگین بناتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے طریقے اپنائیں بلکہ عام لوگوں میں اس شعور کو بھی عام کریں کہ قدرتی وسائل کا تحفظ ہماری انفرادی اور قومی ذمہ داری ہے۔





#ماحولیات

#سیلاب


#پاکستان

#بارش


#صحت



#ساون





















Address

Near Jameh Muhammad Asif Backside Of Residence Of Dr Ali Gyas Tarar
Phalia
50400

Opening Hours

Monday 03:00 - 20:00
Tuesday 15:00 - 20:00
Wednesday 15:00 - 20:00
Thursday 15:00 - 20:00
Friday 15:00 - 20:00
Saturday 15:00 - 21:00
Sunday 14:00 - 16:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Khankah Academy خانقاہِ اُردُو اکادمی ادبیات وسائنز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share