میاں نعمان اسد

میاں نعمان اسد لوکی کہندے ہسدا رہندا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او کی جانن کی کج سہندا

25/11/2025

دِل کے بجائے مجھ میں دھڑکتی ہے اب مشین
ہر صُبح پونے آٹھ سے
دِن ساڑھے چار تک

24/11/2025

بہترین دنوں کے لئے بدترین دنوں سے گزرنا پڑتا ھے

28/08/2025

پھالیہ کے قریبی گاؤں سیدا شریف کے 29/08/2025 کے مناظر

07/08/2025


کتنے کیوٹ ہیں آپ
پھول کھاتے ہو کیا؟
🙂❤️

بچوں کی طرف سے Love U ہو گیا سر جی        Maryam Nawaz Sharif Rana Sikandar Hayat
07/08/2025

بچوں کی طرف سے Love U ہو گیا سر جی

Maryam Nawaz Sharif Rana Sikandar Hayat

06/08/2025

* میرےدوست کو پولیس ویری فیکشن کی ضرورت پڑی تو خدمت مرکز جا پہنچا۔
کہتا ہے کہ میں نے جیسے ہی کمپیوٹر پے شناختی کارڈ لگایا وردی میں بیٹھا شخص میری طرف دیکھ کر مسکرایا ۔
ایک دفعہ تو میں سمجھا لے استاد کوٸ پرچہ ورچہ نکل آیا ای
خیر صاحب کہنے لگے
سر موباٸل کا کیمرہ آن کر کے مجھے دیں
جس پر مجھے لگا جدید سسٹم ہے میرا فوٹو لے کر ویری فیکشن پر لگانا ہوگا
میں نے خوشی سے کیمرہ کھولا اور موباٸل جناب کو تھما دیا
جس پر صاحب نے اپنی کمپیوٹر سکرین کی تصویر بنا کر مجھے دیتے ہوۓ کہا ۔سر آپ کے9600 کے چلان ہیں یہ جمع کرواٸیں
اور ساتھ ہی بولا
سر اس کے علاوہ کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی۔ 🙂

نوٹ: تمام شہروں میں سیف سٹی کیمرہ ایکٹو ہو چکے ہیں بائیک پر ہیلمٹ نمبر پلیٹ اور گاڑی میں سیٹ بیلٹ اور کالے شیشے نا ہونے کا دھیان رکھیں کیونکہ یہ چالان ہر جگہ آپ کے سامنے آ جائیں گے...

06/08/2025

 #شکریہـسپریمـکورٹ
30/07/2025

#شکریہـسپریمـکورٹ

یہ ہے پنجاب حکومت پر ایک دل دہلا دینے والا اور آنکھیں کھول دینے والا نوحہ — ایک ایسے سرکاری ملازم کی آواز جس نے تیس سال ...
27/07/2025

یہ ہے پنجاب حکومت پر ایک دل دہلا دینے والا اور آنکھیں کھول دینے والا نوحہ — ایک ایسے سرکاری ملازم کی آواز جس نے تیس سال تک ریاست کی خدمت کی، مگر ریٹائرمنٹ کے وقت بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا:

---

**پنجاب کے سرکاری ملازمین کے حقوق پر ڈاکہ — ظلم کی نئی تاریخ**

میں نے تیس سال پنجاب حکومت کی خدمت کی۔ زندگی کی بہاریں بھی دفتر کی فائلوں میں گزریں اور سردیاں بھی۔ کبھی اتفاقیہ رخصت مکمل نہ کی، استحقاقی چھٹیاں بھی سنبھال سنبھال کر رکھیں، کہ شاید ریٹائرمنٹ کے وقت تھوڑا سکھ کا سانس ملے، بچوں کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

میری آنکھوں کے سامنے میرے بچے جوان ہوئے، ان کی خواہشیں پروان چڑھیں، اور میں نے اُن سے وعدہ کیا:
**"بیٹا! جب میں ریٹائر ہوں گا، تمہارے خواب پورے کروں گا۔"**

لیکن دو دسمبر 2024 کو، ایک **ظالمانہ نوٹیفکیشن** آیا — صرف پنجاب کے ملازمین کے لیے، جس نے میرے تمام خواب، تمام قربانیاں، اور تمام امیدیں روند ڈالیں۔
ایک ایسا شاہی حکم نامہ، جس نے ہمارے **قانونی و آئینی حقوق** چھین لیے — وہ شرائط جن پر ہم نے نوکری شروع کی، انہیں کچل دیا گیا۔

**یہ ظلم صرف پنجاب میں ہوا۔**
پورے پاکستان میں کہیں ایسا نہیں ہوا۔ کہیں نہیں۔

اب نئے نوٹیفکیشن کے تحت:

* میری گریجویٹی **چالیس فیصد کم** ہو چکی ہے
* میری ماہانہ پنشن **تیس فیصد کم** کر دی گئی
* میری سنبھالی ہوئی **چھٹیوں کا کوئی معاوضہ نہیں** دیا جا رہا
* میرے ماہانہ تنخواہ سے کاٹی گئی **انشورنس کی رقم** بھی دبا لی گئی — جو ہر مہذب دنیا میں ریٹائرمنٹ پر واپس دی جاتی ہے

اگر کوئی اصلاح کرنی تھی، تو کیا **قانونی مشاورت، عبوری مدت، اور ملازمین کی شمولیت** ضروری نہ تھی؟
دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ **ایک دن میں نوٹیفکیشن جاری کر کے پینشن یافتہ ملازمین کو تباہ کر دیا جائے۔**

میری بیٹی نے پوچھا:
**"ابو، کتنے پیسے ملے؟ ہم اپنا خواب کب پورا کریں گے؟"**
اور میں... میں خاموش رہا۔ میری زبان ساتھ نہ دے سکی۔ صرف آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔

مجھے **شرمندگی نے نگل لیا**۔
ایک باپ جو تمام عمر اپنے بچوں سے کہتا رہا "بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا"، آج اُن سے **جھوٹ بولنے پر مجبور** تھا۔

یہ سب کچھ پاکستان کے سب سے خوشحال صوبے — **پنجاب** — میں ہوا۔
جہاں نوکری کے وقت وعدے ہوتے ہیں، اور ریٹائرمنٹ پر **تحقیر** دی جاتی ہے۔
جہاں ایک ملازم کی عزت اس وقت تک ہے، جب تک وہ کام کا پرزہ ہے — پھر اس کو ردی سمجھ کر **ٹھکرا دیا جاتا ہے۔**

---

**اے پنجاب حکومت! ہم تمہارے ملازم تھے، غلام نہیں۔**
ہم نے اپنی زندگیاں دی ہیں، سزائیں نہیں مانگی تھیں۔
یہ نوٹیفکیشن صرف ایک مالی دھوکہ نہیں، **ہمارے وقار، اعتماد، اور نسلوں کے مستقبل پر ڈاکہ** ہے۔

***اب یا تو یہ فیصلہ واپس لو — یا یاد رکھو، تاریخ بہت تلخ انصاف کرتی ہے۔***
تحریر و ترتیب: ندیم یونس ثمر

گھر بیٹھ کر احتجاج کرنے والے تمام ملازمین کو بہت بہت مبارک
27/07/2025

گھر بیٹھ کر احتجاج کرنے والے تمام ملازمین کو بہت بہت مبارک

27/07/2025

مہنگائی Syed Mehdi Bukhari کی وال سے کاپی
کا رونا روتے آنسو خشک نہیں ہوتے مگر تلاشنے نکلو تو باہنر بندہ نہیں ملتا۔ اگر مل ہی جائے تو دوسرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پروفیشنل ازم کو یہاں دور سے سلام ہے۔ اگر آپ خالی باہنر ہیں اور پروفیشنل ازم سے دور ہیں تو آپ دراصل کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ کو کیسے یقین دلاؤں کہ اس معاشرے میں کام کرتے اور چونکہ میرے کام کی نوعیت ہی عوام الناس سے ڈائیریکٹ تعلق پر مبنیٰ ہے مجھے کوئی خال خال ہی پروفیشنل ملے ہیں۔ میں نے نتیجہ نکالا ہے کہ یہاں لوگ اپنے نامساعد حالات کے خود ذمہ دار ہیں۔ وہ ناں اپنے اندر اسکل ڈویلپمنٹ پر توجہ دیتے ہیں ناں پروفیشنل رویہ اپنانے کو یہاں ضروری سمجھا جاتا ہے۔

سونے پہ سہاگا ہماری من حیث القوم ایسی ذہن سازی ہے کہ لوگوں کی کاہلی، غیر پروفیشنل رویہ اور جنرل ایٹیچیوڈ کو یہ کہہ کر ٹالا جاتا ہے “ استاد بندہ ہے اس کا مزاج ہی ایسا ہے”۔ نہیں، یہ نری بکواس ہے۔انسان جتنا بھی باہنر ہو اگر وہ اپنے کام میں سُست، ڈاکومینٹیشن میں ناکام اور دوران کام اپنے رویے میں ٹیم ورک سے عاری ہے تو وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ باقی اس کے ہنر کو سلام ہے۔

آپ فری لانسر ہیں، آپ بہت قابل تخلیق کار ہیں، آپ کسی بھی شعبہ سے وابستہ ہیں اگر آپ Managed نہیں تو آپ ناکام رہیں گے۔ آج کے دور میں آپ چاہے کم ہنر مند ہوں پر اگر آپ ڈاکومینٹیشن میں یا پریزینٹیشن میں اچھے اور ویل مینجڈ ہیں تو یقین مانئیے آپ کامیاب ہیں اور آپ کو کام ملے گا۔ یہاں لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کی قابلیت و ہنر تب ہی آپ کے کام آ سکتا ہے جب آپ اس کو اچھے سے پیش کر سکیں۔ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ آپ کو کام دینے سے قبل آپ کی پروفائل یا ورک کو خود وزٹ کرے یا دیکھے یا آپ کے تین تین صفحوں کے سی وی پڑھے۔

یوں نہیں کہ پہلی بار ایسا ہوا یا میں پہلی بار اس موضوع پر لکھ رہا ہوں۔ میں لکھ کے تھک گیا ہوں۔ یہاں کیا بابو کریسی اور کیا کرتے دھرتے کوئی بھی پروفیشنل ازم کی پ سے بھی واقف نہیں۔ ہاں غربت کا رونا رونے میں سب یکساں ہیں۔کچھ عرصہ قبل ہی میں نے ایک جاب پوسٹ کی جو فوٹوگرافی سے متعلقہ تھی۔ چونکہ میں نے خود ملک سے باہر ہونا تھا اس واسطے پبلک میں لگا دی کہ کوئی باہنر انسان مل جائے تو اس کو کام سمجھا کر تسلی کر کے دے دوں۔ اس میں چار ڈاکومنٹس مانگے تھے جو کہ ہر پروفیشنل انسان کے پاس ہونے چاہئے اور ان ڈاکومنٹس کے بنا کوئی ادارہ کوئی فرم آپ کو کام نہیں دے گا۔

۱- پروفائل ، یعنی آپ نے آج تک کیا کام کیا ہے اور کن کن اداروں یا افراد کے واسطے کیا ہے۔ اچیومنٹس کیا ہیں۔ ورک سیمپل کیا ہیں۔

۲- ٹیکنیکل پروپوزل، یعنی آپ مطلوبہ کام کو سرانجام دینے کو کیا حکمت عملی اپنائیں گے۔ آپ کے ٹیم ممبران کون ہیں اور ان کی کیا خاصیت ہے۔ ان کا کیا پروفائل ہے۔

۳۔ فنانشل پروپوزل، یعنی آپ اس سارے کام کو سرانجام دینے کے کیا چارجز لیں گے۔ پر ڈے پرائس کیا ہو گی۔ نیز آپ کو ایڈوانس چاہئیے ہو گا تو آپ کی کُل پرائس کا کتنا فیصد ایڈوانس چاہئیے ہو گا اور کیوں چاہئیے ہو گا۔

۴۔ ایکوپمنٹ یا ٹولز لسٹ، یعنی آپ کے پاس کیا سامان موجود ہے۔ ان کی تفصیلات کیا ہیں۔

مجھے سینکڑوں میسجز موصول ہوئے تھے۔ ہر ایک کو کام تو چاہئیے تھا مگر ایسے کہ بس ایک لنک بھیج کے اسے مل جائے۔ 99 فیصد لوگوں نے مجھے کوئی ڈاکومنٹ نہیں بھیجا۔ صرف اپنی پرؤفائل کا لنک بھیجا کہ یہاں سے میرا کام دیکھ لیں اور مجھے اشد ضرورت ہے، بس مجھے دے دیں۔ چند لوگوں کا کام میں نے دیکھا بھی اور وہ ٹیلنٹڈ تھے مگر میں اس واسطے چپ رہا کہ خالی ٹیلنٹ کسی کام کا نہیں۔ان کا رویہ پروفیشنل نہیں یہ ٹیم ورک سے عاری ہیں۔

صرف ایک فیصد لوگوں نے مجھے ڈاکومنٹس بھیجے ۔ ان میں سے بھی آدھے لوگوں نے ادھورے بھیجے تھے۔ کچھ لوگوں تو ایسے تھے جن کے میسجز نے مجھے چونکا کے رکھ دیا تھا۔ ان کا پیغام تھا “ اگر پیسے اچھے ہیں تو میں کر سکتا ہوں”۔

لوگوں کے مطمع نظر پیسے تو ضرور ہوتے ہیں مگر یہ نہیں ہوتا کہ ہم خود کتنے پروفیشنل ہیں اور کس رویے سے پیش آ رہے ہیں۔ پیسے تو سب کو چاہئیے، مجھے بھی آپ کو بھی۔ کوئی جھولی میں ڈالنے آتا ہے کیا اس دنیا میں ؟ اپنے اندر قابلیت پیدا کرو گے تو ملیں گے ناں۔ مجھے انگنت بار کئی لوگوں نے اداروں کے ترجمان یا کرتے دھرتوں نے کہا “ بخاری یہ کام ہے۔ اگر کوئی انٹرسٹڈ ہوا تو ہمیں بتانا یا ہمیں تلاش کر دو”۔ میری کبھی یہ جرات نہ ہو سکی کہ آگے سے کہہ دوں “ اگر پیسے اچھے ہیں تو میں کر لیتا ہوں”۔ وجہ ؟ وجہ سادہ اور سیدھی ہے۔ اس نے مجھے کام کی آفر نہیں کی مجھ سے مدد یا مشورہ چاہا ہے۔ میں کیوں اس کو اپنی سروس آفر کر دوں ؟ اور اگر ایسا کروں گا تو یہ نان پروفیشنل اٹیچیوڈ ہو گا۔ آپ نوٹس لیں یا ناں لیں مگر پروفیشنلز نوٹس لیتے ہیں کہ کون کتنا پروفیشنل ہے۔

یہ تو رہی پروفیشنل ازم کی کہانی۔ میں کئیں بار جاب بورڈ یا انٹرویو بورڈ میں بیٹھا ہوں۔ سامنے آنے والے امیدوار کاغذ پر تو انتہائی قابل ملتے ہیں مگر سوالات کرنے لگیں تو جواب میں زیرو۔ یعنی ڈگری ہے پر اسکلز نشتہ۔ تھیوری معلوم ہے مگر ex*****on میں زیرو۔ یہ مسئلہ ہمارے تعلیمی نصاب کا تو ہے ہی ہے کہ ڈگری یافتہ مگر اسکلز سے ناآشنا رٹے رٹائے طوطے قسم کے بیروزگار ہر سال پیدا کیے جا رہے ہیں مگر اتنا ہی قصور ان طوطوں کا اپنا ہے جنہوں نے ڈگری لینا اپنی اچیومنٹ سمجھ کر کافی جانا اور کام کرنے پر توجہ نہیں دی۔ صاحبو، ڈگری ضروری ہے مگر بنا اسکلز کے وہ بس ردی کا ٹکرا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی چلے جاؤ مشکل پیش آئے گی۔ اور پھر اسی فیصد لوگوں کی سی وی لمبی چوڑی اور جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہے۔ انہوں نے جو جو مینشن کیا ہوتا ہے اس میں کم و بیش آدھا جھوٹ ہوتا ہے۔ دو تین ٹیکنیکل سوالوں میں ہی ناک آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ مشورہ یہ ہے کہ آپ جس سکل میں انتہائی ماہر ہیں صرف وہی مینشن کریں چاہے وہ ایک آدھ ہی ہو۔

اب بات کر لوں یونیورسٹیوں میں داخل ہوتی نوجوان نسل پر جسے یوتھ کہا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں نئے سال کے لئے فلم اینڈ ٹی وی اور ماس کمیونیکیش بیچلرز و ماسٹرز پروگرام کے ایڈمیشن ٹیسٹ اور انٹرویوز تھے۔ فلم اینڈ ٹی وی سے متعلقہ امیدواروں کے انٹرویو بورڈ میں میں بھی شامل تھا۔ اصغر ندیم سید اور میں نوجوانوں سے عام سے سوالات پوچھتے رہے لیکن یوتھ نے ایسے ایسے جواب دیئے کہ آفرین۔ مثال کے طور پر ہر کوئی ڈائریکٹر بننا چاہتا تھا مگر ان سے پوچھو کہ کس ڈائریکٹر سے آپ انسپائر ہو تو کسی کا نام نہیں آتا تھا۔۔ اگر ان سے پوچھا کہ اس شعبہ میں کیوں آنا چاہتے ہو تو جواب آتا تھا " سر بس سائنس نہیں اچھی لگتی یا پھر یہ جواب کہ شوبز یا جرنل ازم میں اسکوپ بہت ہے" ۔۔۔۔۔

مزے کی بات میرے ان سوالات کہ آپ نے کبھی کوئی کتاب پڑھی ؟ ادب سے لگاؤ ہے ؟ پڑھتے ہیں تو کونسا ادیب پسند ہے ؟ کے جواب میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی اکثریت نے یہی کہا کہ نہیں کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی ۔۔۔ جن دو چار نے کہا کہ پڑھی ہیں انہوں نے سنی سنائی مشہور کتابوں کا بتا دیا جن کے مصنف کا نام تک ان کو نہیں معلوم تھا۔۔ایک بچے نے تو حد ہی کر دی۔ وہ بڑے اعتماد سے بولا " یس سر کتابیں پڑھتا ہوں " ۔ اصغر صاحب نے پوچھا کہ کیسی کتابیں کس نوعیت کی ؟ جواب آیا " سر یہی پیار محبت والی شاعری" ۔۔۔

انٹرویوز بھگتا کر چائے منگوائی تو اصغر ندیم سید بولے "مہدی ۔۔۔ اس یوتھ کا کچھ نہیں ہو سکتا"۔

یہ دنیا ڈگریوں سے زیادہ ہینڈز آن سکلز کی دنیا ہے۔ یونیورسٹیاں پولٹری شیڈ بنی ہوئی ہیں فارمی مرغیاں پروڈیوس کرتی جا رہی ہیں۔مارکیٹ میں کھپت نہیں۔ تھیوری یا نصاب رٹا دیتے ہیں پریکٹیکل سکلز سکھاتے نہیں۔ والدین سے گذارش ہے کہ اپنے بچوں کو ووکیشنل انسٹیٹیوٹس سے پڑھائیں۔ ان کے اندر اسکلز ڈویلپ کریں۔ ان کی ٹیکنیکل ڈگری کروائیں جس کی دنیا کو ضرورت ہو۔ ڈگری برائے ایجوکیشن کو چھوڑ دیں۔ ڈگری برائے اسکلز ڈویلپمنٹ ہو۔

دنیا میں کوئی شخص بیکار نہیں ہوتا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتیں پہچاننے میں ہی ساری عمر گنوا دیتے ہیں۔مجھے آئے روز ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن کا بھیجنے والا غربت، نامساعد حالات اور بیروزگاری کا رونا روتے کسی نوکری کی آس میں پیغام بھیج رہا ہوتا ہے۔ وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو سرکاری نوکری یا پرائیویٹ نوکری کر تو رہے ہیں مگر تنخواہ سے گذر بسر ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے پیغامات وصول پا کر میں خود پریشان ہو جاتا ہوں کہ اب ان کو کیا جواب دوں۔

دیکھیں، آج کا دور سرمایہ دارانہ نظام کا دور ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ایسا ہے کہ اگر آپ ذرا سے بھی قابل ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ کے حالات نہ بدل سکیں۔ آپ اپنے اندر ہنر پیدا کریں یا سیکھیں۔ہر انسان کے اندرکچھ خداداد اور کچھ محنت کر کے پیدا کردہ اسکلز ہوتی ہیں۔ ان کو جس نے پہچان لیا وہ کامیاب ہے۔

دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ آپ اپنی قیمت یا ویلیو کو پہچان لیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کی پہچان بھی نہیں ہو پاتی۔ اور یہ المیہ بڑے بڑے باہنر لوگوں کے ساتھ ہے۔ہم اپنی مارکیٹ ڈھونڈنے، خود کو اس میں مارکیٹ کرنے اور اپنی ویلیو یا قیمت کا تعین کرنے میں ہی عمر گذار جاتے ہیں۔ باہنر ہونا کافی نہیں ہوا کرتا۔ آپ لاکھ باہنر ہوں مگر آپ اس سے آشنا ہی نہ ہوں کہ آپ کے فن یا سروسز کی قیمت اور ان کی مارکیٹ کیا ہے تو آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

تیسری بات یہ ہے کہ کبھی بھی ایک انکم سورس پر انحصار نہ کریں۔ آپ کے دو یا دو سے زائد انکم سورس ہونا چاہئیے۔ آپ کے اندر ایسی قابلیت ہو کہ آپ مواقعوں کو دیکھیں اور ان مواقعوں سے فائدہ لیں۔ اگر آپ نے کچھ سرمایہ کما لیا ہے تو اسے کسی کام میں لگائیے نہ کہ بینک بیلنس کی صورت اکاؤنٹ میں رکھیں۔

میرے مخاطب وہ لوگ ہیں جو قدرے باشعور، ہنرمند اور فیصلہ لینے کی قوت رکھتے ہیں۔ زندگی ڈرپوک انسان کے لیے ڈراؤنی ہی رہتی ہے۔ کامیاب وہ ہوتا ہے جو رسک لینا جانتا ہے اور رسک لیتا ہے۔ کاروبار کا خیال خود کو حاملہ کرنے جیسا ہے مگر یہ کوئی نہیں جان سکتا کہ بچہ تندرست ہو گا کہ معذور۔ ذرا سی متعلقہ کاروباری میدان میں ریسرچ اور طلب و رسد کی معلومات لے لینے سے رسک فیکٹر صفر بھی کیا جا سکتا ہے۔

اتنا لمبا مضمون لکھنے کا ایک ہی مقصد ہے۔ اپنی صلاحیتوں کا پہچانیں، بروئے کار لائیں، سمارٹ بنیں، دنیا کی کوئی طاقت اس سرمایہ دارانہ نظام میں آپ کا حصہ مارنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ آپ میں سے کوئی بیکار انسان نہیں ہے۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ صلاحیت ہے۔

میں ایسے بہت سے لوگوں کو ملا ہوں جن کے اندر کوئی غیر معمولی صلاحیتیں نہیں ہیں مگر وہ کامیاب ہیں۔ وجہ بس یہ کہ ان کی اپنے شعبے میں ریسرچ ہے کہ کیا چل رہا ہے اور کیا بِک رہا ہے۔اس کے ساتھ وہ پیپر ورک یا پریزنٹیشن میں بہت ویل مینجڈ ہیں۔ نوکری کریں مگر ساتھ ساتھ وہ کام بھی کریں جو آپ کر سکتے ہیں ۔ رسک شرط ہے۔ بنا رسک لیے آپ ترقی نہیں کر سکتے۔ یہ رونا چھوڑ دیں کہ مالی حالات اچھے نہیں۔ نوکری کی آس بھی کسی سے نہ رکھیں۔ کوئی آپ کا ہاتھ نہیں پکڑے گا۔

ہر انسان کے لیے وہی ہے جتنی اس نے سعی کی۔ القرآن

Address

Phalia

Telephone

+923455861257

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میاں نعمان اسد posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to میاں نعمان اسد:

Shortcuts

Share