ہمارے انتہائی مشفق، سرپرستِ اعلیٰ، پیکرِ عجز و علم، حضرت مولانا فداء حسین حقانی صاحب
مدرسہ عبداللہ بن مسعود چار سدہ روڈ لنڈے سڑک پشاور
اہم اعلانات، اصلاحی پیغامات اور ادارے کے احوال و مسائل کو آپ تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
مدرسوں کو موبائل نے برباد کردیا ہے..!
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
جب دین کے پاسبان ہی تصویر و ویڈیو کی مصنوعی دنیا اور نفس پرستی کے اسیر ہو جائیں، تو عام انسان کا دین سے رشتہ کمزور ہونا فطری ہے؛ آج معاشرے کو تقاریر کی نہیں، بلکہ اسوہِ اسلاف کے حامل عملی نمونوں کی ضرورت ہے۔
اہلِ علم کی سوشل میڈیا پسندی طلبہ پر اس کے تباہ کن اور منفی اثرات
دینی مدارس کا نظام ہمیشہ سے صرف کتابی تعلیم کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ "تربیت" اور "شخصیت سازی" کا مرکز رہے ہیں۔ یہاں استاد کا مقام ایک رہنما اور اخلاقی نمونے کا ہوتا ہے۔ لیکن جب خود بعض اساتذہ اور اہل علم حضرات سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصویروں کے شوقین بن جائیں، اور اپنے ہی شاگردوں کو ان ویڈیوز کا حصہ بنانا شروع کر دیں، تو اس کے طلبہ کی ذہنیت پر انتہائی خطرناک اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں:
۱. علمی رعب اور احترام کا جنازہ
جب ایک طالب علم اپنے استاد کو کیمرے کے سامنے غیر سنجیدہ پوز دیتے، ویڈیوز بناتے یا سستی شہرت کے لیے شاگردوں کو ساتھ بٹھا کر کلپس ریکارڈ کرتے دیکھتا ہے، تو اس کے دل سے استاد کا وہ علمی رعب، دبدبہ اور احترام ختم ہو جاتا ہے۔ جب احترام ہی باقی نہ رہے، تو استاد کی کہی ہوئی دینی اور اخلاقی باتیں طالب علم کے دل پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
۲. طلبہ میں سستی شہرت اور ریاکاری کا زہر
طالب علم کا ذہن بالکل کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے اساتذہ کو لایکز، ویوز اور کمنٹس کی دوڑ میں مگن دیکھتا ہے، تو اس کے معصوم ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ علم کا اصل مقصد اللہ کی رضا یا عمل نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر مشہور ہونا ہے۔ استاد کا یہ عمل طلبہ کے اندر اخلاص کو مٹا کر "ریاکاری" اور دکھاوے کا گند بھر دیتا ہے۔
۳. پڑھائی سے توجہ کا مکمل خاتمہ جب استاد خود کلاس یا مدرسے کے ماحول کو ویڈیو شوٹنگ کا ذریعہ بنائے گا، تو طالب علم کا ذہن درس اور مطالعے سے ہٹ جائے گا۔ وہ سبق یاد کرنے کے بجائے اس سوچ میں گم رہے گا کہ اگلی ویڈیو کون سی بنے گی، اس میں میرا کیا کردار ہوگا، اور لوگ اس پر کیا کمنٹس کریں گے۔ یوں استاد کی ایک غلط عادت طلبہ کا پورا علمی مستقبل تباہ کر دیتی ہے۔
۴. اخلاقی بگاڑ اور غیر سنجیدگی
مدارس کے طلبہ سے جس سنجیدگی، وقار اور حیا کی امید کی جاتی ہے، اساتذہ کی یہ ویڈیوز اسے ختم کر دیتی ہیں۔ طلبہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ جب ہمارے بڑے اور مقتدا حضرات ہی کیمرے کے سامنے یہ سب کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنا اور غفلت برتنا کوئی عیب نہیں ہے۔ اس طرح اساتذہ کا اپنا عمل طلبہ کے لیے اخلاقی بگاڑ کا لائسنس بن جاتا ہے۔
18/06/2026
16/06/2026
"
1۔ مسجد میں موبائل کا خلل: روحانی سکون میں رکاوٹ
جب مسجد میں نماز یا دعا کے دوران موبائل بجتا ہے یا لوگ اس میں مصروف ہوتے ہیں، تو دل کی یکسوئی ختم ہو جاتی ہے۔ عبادت کا اصل مقصد اللہ کے ساتھ لو لگانا ہے، لیکن موبائل کا شور اور اس کی طرف توجہ انسان کو اس روحانی سکون سے دور کر دیتی ہے جو مسجد کا خاصہ ہے۔
2۔ مکتب (کلاس روم) میں موبائل کے منفی اثرات: توجہ اور عمل کی تباہی
کلاس روم میں موبائل کا ہونا بچوں کی توجہ کو مکمل طور پر منتشر کر دیتا ہے۔ استاد جو سبق پڑھا رہا ہوتا ہے، بچہ اسے سمجھنے کے بجائے ڈیجیٹل دنیا میں کھو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ علم حاصل کرنے کی صلاحیت اور عمل کا جذبہ بھی دم توڑ دیتا ہے۔
3۔ بچوں کے ذہنوں میں خلفشار: علم سے دوری
موبائل کی سکرین بچوں کے معصوم ذہنوں میں ہر وقت ایک خلفشار اور بے چینی پیدا رکھتی ہے۔ وہ یکسوئی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے وہ حقیقی علم اور اخلاقی آداب سیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
موبائل کا استعمال اتنا ہی کریں جتنا ضروری ہو، ورنہ یہ ضرورت کب عادت اور کب تباہی بن جائے گی، آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
بچوں کا بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد ذیادہ جوشیلا اور جزباتی ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اس وقت میں انھیں صحیح معنوں میں والدین کی توجہ پیار اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو خدارا اس بات کو سمجھیں اورانھیں توجہ دیں۔ ان سے دوستی کریں
ان کی رائے کو اہمیت دیں۔ نا کہ غصے اور مار پیٹ سے انھیں دبانے کی کوشش کریں۔
روحانی بصیرت کا فقدان انسان کے باطنی آئینے کو دھندلا دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی خامیوں کو دیکھنے کے بجائے اپنی ذات کے حصار میں قید ہو کر خود کو ہر غلطی سے مبرّا اور بہترین سمجھنے لگتا ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہم
*دوستی میں بھی حد سے تجاوز نہ کریں*
اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کے تابع بنا کر بھی دوست بناؤ تو اس دوستی کے اندر بھی اس بات کا اہتمام کرو کہ وہ دوستی حدود سے تجاوز نہ کرے، بس وہ دوستی ایک حد کے اندر رہے، یہ نہ ہو کہ جب دوستی ہو گئی تو اب صبح سے لے کر شام تک ہر وقت اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے اور اسی کے ساتھ کھانا پینا ہے اور اب اپنے راز بھی اس پر ظاہر کیے جا رہے ہیں، اپنی ہر بات اس سے کہی جا رہی ہے، اگر کل کو دوستی ختم ہو گئی تو چونکہ تم نے اپنے سارے راز اس پر ظاہر کر دیے ہیں، اب وہ تمہارے راز ہر جگہ اچھالے گا اور تمہارے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
اس لیے دوستی اعتدال کے ساتھ ہونی چاہیے، یہ نہ ہو کہ آدمی حدود سے تجاوز کر جائے۔
از کتاب: عظیم عالمی شخصیت جلد دوم... خلاصہ وعظ... (10) دوستی میں اعتدال
مطبوعہ: ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Peshawar
25000