Qari mufti muhammad islam online quran teacher

Qari mufti muhammad islam online quran teacher I am an online professional Quran teacher. I teach Nazra Quran, Hifz-ul-Quran, Tajweed, Translation, and Tafseer.

I provide online Quran classes in Urdu and Pashto for kids, males, and females. Islamic knowledge and guidance are also provided.

29/09/2026

💐 *معاش کی تنگی دور کرنے کے لیے وظیفہ*

پنج وقتہ نمازوں کی پابندی اور استغفار کی کثرت کریں، نیز فجر اور مغرب کے بعد ایک ایک مرتبہ سورہ واقعہ اور سورہ طارق پڑھیں۔بندے کا کام جائز حدود میں رہ کر کوشش کرنا ہے، نتائج اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیں، اور عمومی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حلال و پاکیزہ اور بابرکت روزی میسر فرمائے، نیز درج ذیل معمولات میں سے جو سہولت سے پڑھ سکیں یا سب ہی معمولات پڑھ لیا کریں:

1- ہر نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:

" *أَللّهمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ".*

2- جب بھی وضو کیا کریں دورانِ وضو درج ذیل دعا کا اہتمام کیا کریں:

*"أللهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ".*

3- روزگار کے حصول کے لیے فجر کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے طلوعِ آفتاب سے قبل ستر مرتبہ سورۃ الشوری کی آیت نمبر

۱۹ : *اَللّٰهُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِه یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِیْزَ*

کا ورد کریں اور پھر اشراق پڑھ کر اپنے مقصد کے لیے دعا کریں، ان شاء اللہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

4- درج ذیل دعا کثرت سے پڑھتے رہیں:

" *تَوَكَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الْذِيْ لَایَمُوْتُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَکُنْ لَّهُ شَرِیْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَکْبِيْرًا."*

(معارف القرآن، سورہ بنی اسرائیل)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ایک روز میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلا اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا، آپ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا؟ اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگ دستی نے یہ حال کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چند کلمات بتلاتا ہوں وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگ دستی جاتی رہے گی وہ کلمات یہ تھے:

" *تَوَكَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الْذِيْ لَایَمُوْتُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَکُنْ لَّهُ شَرِیْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَکْبِيْرًا* ."

اس کے کچھ عرصہ بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کا اظہار فرمایا، اس نے عرض کیا کہ جب سے آپ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے، میں پابندی سے ان کو پڑھتا ہوں۔

(ابویعلی و ابن سنی از مظہری)

*وظائف الصالحین*

29/09/2026

*حیض کی حالت میں قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا*
(7767-No)
سوال:
کیا خواتین حیض کے دنوں میں ترجمہ و تفسیر پڑھ سکتی ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ اگر قرآن مجید کا بعینہ لفظی ترجمہ کیا گیا ہو تو اس کے بھی وہی آداب ہیں جو قرآن کریم کے عربی الفاظ کے ہیں، لہٰذا حیض کی حالت میں لفظی ترجمے کے نسخے کو چھونا نہیں چاہیے اور نہ ہی ترجمہ زبان سے ادا کرنا چاہیے، البتہ زبان سے الفاظ ادا کئے بغیر صرف مطالعہ اور پڑھنے کی گنجائش ہے، اور اگر بعینہ لفظی ترجمہ نہ لکھا گیا ہو، بلکہ ترجمہ کا مراد و مفہوم بیان کیا گیا ہو تو حیض کی حالت میں اس کا چھونا، زبان سے پڑھنا اور مطالعہ کرنا جائز ہے۔
وہ کتبِ تفاسیر جن میں تفسیر غالب ہو اور قرآنی آیات کم ہوں، انہیں چھونا اور پڑھنا جائز ہے لیکن جس جگہ آیت لکھی ہو، وہاں ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 131، 236/1، ط: دار احیاء التراث العربي)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ لَا تَقْرَاَ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.

رد المحتار: (177/1، ط: دار الفکر)
''وقد جوّز أصحابنا مس كتب التفسير للمحدث ولم يفصلوا بين كون الأكثر تفسيراً أو قرآناً، ولو قيل به اعتباراً للغالب لكان حسناً''۔

الدر المختار مع رد المحتار: (292/1)
"(وقراءة قرآن) بقصده (ومسه) ولو مكتوبًا بالفارسية في الأصح (وإلا بغلافه) المنفصل كما مر (وكذا) يمنع (حمله) كلوح وورق فيه آية.
(قوله: ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف فلا يجوز مس الجلد وموضع البياض منه. وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم كما في البحر: أي والصحيح المنع كما نذكره ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره وفي التفسير والكتب الشرعية خلاف مر (قوله: إلا بغلافه المنفصل) أي كالجراب والخريطة دون المتصل كالجلد المشرز هو الصحيح وعليه الفتوى؛ لأن الجلد تبع له سراج، وقدمنا أن الخريطة الكيس. أقول: ومثلها صندوق الربعة، وهل مثلها كرسي المصحف إذا سمر به؟ يراجع (قوله: وكذا يمنع حمله) تبع فيه صاحب البحر حيث ذكره عند تعداد أحكام الحيض. وفيه أنه إن أراد به حمله استقلالا أغنى عنه ذكر المس، أو تبعا فلا يمنع منه. ففي الحلية عن المحيط: لو كان المصحف في صندوق فلا بأس للجنب أن يحمله، وفيها قالوا: لا بأس بأن يحمل خرجا فيه مصحف. وقال بعضهم: يكره. أخذ زمام الإبل التي عليها المصحف. قال المحبوبي: ولكنه بعيد، وهو كما قال. اه. أقول: وقد يقال يمكن تصوير الحمل بدون مس وتبعية كحمله مربوطا بخيط مثلا، لكن الظاهر جوازه تأمل (قوله: فيه آية) قيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دون الآية لم يكره مسه كما في القهستاني ح."

مراقی الفلاح: (95/1)
''قوله : ( إلا التفسير ) في الأشباه: وقد جوّز بعض أصحابنا مسّ كتب التفسير للمحدث ولم يفصلوا بين كون الأكثر تفسيراً أو قرآناً، ولو قيل به اعتباراً للغالب لكان حسناً۔ وفي الجوهرة: كتب التفسير وغيرها لا يجوز مس مواضع القرآن منها وله أن يمس غيرها''۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

29/09/2026

*مسواک کم سے کم کتنی مقدار ہوتو استعمال کی جائے؟*

سوال

مسواک سنت کے مطابق کتنی ہونا چاہیے ؟اور کم ہونے پر استعمال کرنا چاہیے؟

جواب
مسواک شروع میں ایک بالشت ہو تو بہتر ہے، بعد میں کم ہوجائے تب بھی مضائقہ نہیں، پھر جس قدر چھوٹی ہوکر استعمال کے قابل رہے ، ایک مشت (مٹھی) تک استعمال کی جاسکتی ہے۔

الدر المختار وحاشیہ بن عابدین میں ہے:

"(قوله: وطول شبر) الظاهر أنه في ابتداء استعماله، فلا يضر نقصه بعد ذلك ‌بالقطع ‌منه لتسويته، تأمل، وهل المراد شبر المستعمل أو المعتاد؟ الظاهر الثاني لأنه محمل الإطلاق غالبا..."

(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص :114،ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"مسواک کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیاً:

مسواک ایک بالشت سے زائد نہ رکھی جائے،ابتداءً ایک بالشت ہوتوبہتر ہے،کم میں بھی مضائقہ نہیں،پھر جس قدر چھوٹی ہوکر استعمال کے قابل رہے استعمال کی جائے۔"

(باب الوضوء،ج:5،ص:47،ط؛جمعیۃ پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144411102086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

29/09/2026

*سفر کے دوران ریل گاڑی اور بس میں نماز کا حکم*

سوال
اگر سفر طویل ہو اور دورانِ سفر دو یا تین نمازوں کا وقت بھی آ جائے، تو ریل گاڑی یا بس میں نمازوں کو کس طرح ادا کیا جائے گا؟ یہ سوال اس صورت میں ہے کہ ریل گاڑی یا بس کے رکنے کا کوئی امکان نہ ہو۔

جواب
ریل گاڑی میں فرض، واجب، سنت اور نفل نماز پڑھنا جائز ہے، خواہ کوئی عذر ہو یا نہ ہو، ٹرین چل رہی ہو یا رکی ہوئی ہو، البتہ ٹرین میں نماز ادا کرنے میں بھی استقبالِ قبلہ اور قیام شرط ہے، ان دو شرطوں میں سے کوئی ایک شرط اگر عذر کے بغیر فوت ہوجائے تو فرض اور واجب نماز ادا نہیں ہوگی، البتہ سنن ونوافل قیام کے بغیر بھی ادا ہوجاتی ہیں۔ اور ٹرین میں قیام و رکوع اور سجود کے ساتھ نماز ادا کرنے کی جگہ مل جاتی ہے، برتھوں کے درمیان موجود جگہ میں بھی اور راہ داریوں میں بھی، اور قبلہ رُخ ہوکر قیام کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی ممکن ہے؛ لہٰذا ریل گاڑی میں فرض یا واجب نماز ادا کرتے وقت قبلہ رُخ ہونا اور قیام ضروری ہوگا۔

اگر ریل گاڑی میں اس قدر رش ہو کہ قبلہ رو کھڑے ہوکر نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو اور وقت کے اندر کسی اسٹیشن پر اتر کر استقبالِ قبلہ اور قیام کے ساتھ نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہو اور ریل گاڑی مشرق یا مغرب کی سمت جارہی ہو (جیساکہ پاکستان وغیرہ میں ہے) تو دو سیٹوں کے درمیان قبلہ رو ہو کر قیام اور رکوع کر کے نماز ادا کرے اور سجدہ کے لیے پچھلی سیٹ پر کرسی کی طرح بیٹھ جائے، یعنی پاؤں نیچے ہی رکھے اور سامنے سیٹ پر سجدہ کرے، اس عذر کی صورت میں سجدے کے لیے گھٹنے کسی چیز پر ٹیکنے کی ضرورت نہیں، اور اس کی وجہ سے سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔ البتہ (پاکستان میں) اگر ریل گاڑی شمال یا جنوب کی جانب جارہی ہو تو اس صورت میں مذکورہ طریقہ کار کے مطابق نماز ادا کرنا جائز نہ ہوگا۔

اور اگر مذکورہ صورتوں کے مطابق نماز ادا نہ کی جاسکتی ہو (مثلاً قیام ہی ممکن نہ ہو، یا قیام تو ممکن ہو لیکن قبلہ رخ نہ ہوسکے، یا سجدہ نہ کیا جاسکتاہو) اور نماز کا وقت نکل رہا ہو تو فی الحال ’’تشبہ بالمصلین‘‘ (نمازیوں کی مشابہت اختیار) کرلے، پھر جب ریل گاڑی سے اتر جائے تو فرض اور وتر کی ضرور قضا کرے۔

’’بس‘‘ کے بارے میں بھی حکم اسی طرح ہے کہ اگر شہر سے باہر لمبا سفر ہو اور بس ڈرائیور کہنے کے باوجود بس نہ روکے اور نماز کا وقت نکل رہا ہو، تو دیکھا جائے گا کہ اگر بس کے اندر قبلہ رُخ ہوکر قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے تو اسی طرح نماز ادا کرے۔ چنانچہ اگر بس قبلہ رخ چل رہی ہو یا مخالف سمت جارہی ہو اور سیٹوں کے درمیان فاصلہ ہو تو قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس صورت میں اگرقیام(کھڑے ہونے) کے لیے سہارا لینا پڑے تو اس کی اجازت ہوگی، اگرپورے قیام کے دوران سہارا لینا پڑے اور ہاتھ نہ باندھ سکے تب بھی قیام نہ چھوڑے ، سہارا لے کرقیام ، رکوع اورسجدےکے ساتھ نماز ادا کرے۔ اگر بس کے زیادہ حرکت کرنے یاچکرآنے کی وجہ سے قیام نہ کرسکے تواسی راہ داری میں بیٹھ کربس کے فرش(زمین) پرسجدہ کرتے ہوئے نماز اداکرے، البتہ اگر بس شمالاً جنوباً (پاکستان وغیرہ میں) جارہی ہو تو یہ کیا جاسکتاہے کہ سیٹ کی طرف رخ کر کے قیام اور رکوع کیا جائے اور سجدے کے لیے سیٹ پر بیٹھ کر سامنے والی سیٹ پر سجدہ کرلیا جائے۔

اور اگر بس میں مذکورہ صورتوں کے مطابق نماز ادا نہ کی جاسکتی ہو (مثلاً: قیام ہی ممکن نہ ہو، یا قیام تو ممکن ہو لیکن قبلہ رخ نہ ہوسکے، یا سجدہ نہ کیا جاسکتاہو، یا ڈرائیور گاڑی نہ روکے) اور نماز کا وقت نکل رہا ہو تو فی الحال ’’تشبہ بالمصلین‘‘ (نمازیوں کی مشابہت اختیار) کرتے ہوئے نماز پڑھ لے، پھر جب گاڑی سے اتر جائے تو فرض اور وتر کی ضرور قضا کرے۔

’’و في الخلاصة و فتاوى قاضي خان و غيرهما: الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء و الصلاة يتيمم و يصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج، و كذا لو قال لعبده: إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس؛ لأن طهارة التيمم لم تظهر في منع وجوب الإعادة، و في التجنيس: رجل أراد أن يتوضأ فمنعه إنسان عن أن يتوضأ بوعيد، قيل: ينبغي أن يتيمم و يصلي ثم يعيد الصلاة بعد ما زال عنه؛ لأن هذا عذر جاء من قبل العباد فلا يسقط فرض الوضوء عنه اهـ. فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة و إن كان من قبل العبد وجبت الإعادة.‘‘

(البحر الرائق، کتاب الطهارة، باب التیمم، 1/ 149، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط و الله أعلم

فتویٰ نمبر : 144110201047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

29/09/2026

*حیض کی حالت میں دینی کتابوں کےپڑھنے کاحکم*

سوال

کیا حیض کی حالت میں منزل اور مؤمن کا ہتھیار پڑھ سکتے ہیں؟

جواب
واضح رہےحیض کی حالت میں عورت کے لیے ذکر واذکار کرنا یا قرآن مجید میں جو دعائیں آئی ہیں ان کو دعایا وظیفہ کی نیت سے پڑھنایا کوئی د ینی کتاب (جس میں اکثرحصہ قرآنی آیات کے علاوہ پرمشتمل ہوتاہے) کو چھونا اور پڑھنا جائزہے، البتہ جہاں قرآنی آیات ہوں، ایام کی حالت میں انہیں پڑھنااور ہاتھ لگاناجائزنہیں۔

لہذا حیض کے ایام میں"مومن کا ہتیار " پڑھنا درست ہے، تاہم ’’منزل‘‘ قرآنِ کریم کی مختلف سورتوں کے مجموعے کا نام ہے، جن کی سب آیات میں دعا کا معنیٰ نہیں ہے؛ اس لیے حالتِ حیض میں منزل پڑھنا جائز نہیں۔

فتاوی شامیمیں ہے:
"فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لايؤثر فيه قصد غير القرآنية". (الدر المختار وحاشية ابن عابدين ج:1 ص: 293 ط:ایچ ایم سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قوله: ( لا الکتب الشرعیة) قال في الخلاصة: ویکره مسّ المصحف کما یکره للجنب وکذلك کتب الأحادیث والفقه عندهما، والأصح أنه لایکره عنده هـ

وفي السراج عن الإيضاح: أن كتب التفسير لايجوز مسّ موضع القرآن وله أن يمسّ غيره وكذا كتب الفقه إذا كان فيها شيء من القرآن بخلاف المصحف فإن الكل فيه تبع للقرآن". (رد المحتار ج:1 ص :176ط :ایچ ایم سعید) فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144109203171

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

29/09/2026

*تعزیت کی شرعی حیثیت اور مسنون طریقہ*

سوال

تعزیت کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ہاتھ اٹھانا دعا کے لیے جائز ہے؟

جواب
کسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا ( یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا ) سنت سے ثابت ہے، تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے، ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے، تعزیت کے الفاظ اور مضمون متعین نہیں ہے،صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے: ’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهٗ مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ یا’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَکَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَکَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِکَ‘‘۔اس سے زائد بھی ایسا مضمون بیان کیا جاسکتا ہے جس سے غم ہلکا ہوسکے اور آخرت کی فکر پیدا ہو۔

باقی تعزیت کے دوران ہر آنے والے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے لیے کوئی دعا مخصوص ہے، اس لیے اس کو لازم سمجھ کر کرنا درست نہیں ہے، البتہ لازم سمجھے بغیر مغفرت کی کوئی بھی دعا کی جائے یا کبھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرلی تو کوئی حرج نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 167)
"ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه، وتغمده برحمته، ورزقك الصبر على مصيبته، وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلاً عن الحجة. وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»".فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144001200433

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

29/09/2026

*جو مسواک بچ جائے، اس کا کیا کیا جائے؟*

سوال

مسواک استعمال کرنے کے بعد جو ٹکڑا بچ جاتا ہے، اس کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب
مسواک استعمال کرنا چوں کہ سنت ہے اور اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قائم ہے، اس لیے اس کا ادب بھی کرنا چاہیے، لہٰذا مسواک کا جو ٹکڑا بچ جائے اور نا قابلِ استعمال ہوجائے، تو اسے کسی پاک صاف جگہ پر رکھ دیا جائے، یا مٹی میں دفن کردیا جائے، اسے کچرے میں نہیں پھینکنا چاہیے۔

رد المحتار میں ہے:

"الكتب التي لاينتفع بها يمحى عنها اسم الله و ملائكته و رسله و يحرق الباقي و لا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء."

(کتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:422، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144409101283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

29/09/2026

🌾 🌼 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

🌷 *آج کا کیلینڈر*

🥀 *16 ربیع الثانی 1448ھ*

🌸 *14 اسو 2083 بکرمی*

🪷 *29 ستمبر* *2026ء*

*بروز منگل*

💦 ‌ *وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدباءَ بعد يومِئذٍ*
*حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے نبی ﷺ کو کھانے پر مدعو کیا جو کہ اس نے (خصوصی طور پر) تیار کیا تھا، میں بھی نبی ﷺ کے ساتھ گیا، اس نے جو کی روٹی اور شوربا پیشِ خدمت کیا جس میں کدو اور خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے، میں نے نبی ﷺ کو پلیٹ کے کناروں میں کدو تلاش کرتے ہوئے دیکھا، چنانچہ میں اس روز سے کدو پسند کرتا ہوں* ۔
*متفق علیہ ، مشکوة المصابیح 4180*

29/09/2026

السلام علیکم ورحمةالله وبركآته

انسان اپنا مستقبل تو نہیں بدل سکتا لیکن اپنی عادات کو بدلنے پر اختیار رکھتا ہے اور اس کی خوبصورت و سیرت عادات ہی ہیں جو اس کے مستقبل کو بہتر کرسکتی ہیں اسی طرح انسان غصے کے وقت تحمل سے کام لیتے ہوئے تھوڑا رک جائے اور جب غلطی سرزد ہوجائے تو اس وقت تھوڑا جھک جائے تو یقین کریں زندگی بہت آسان ہوجائے گی جس رب نے دو جہانوں کے معاملات سنبھال رکھے ہیں وہ رب تمہیں بھی سنبھال لے گا۔

زندگی بخیر و عافیت
بروز منگل
29 ستمبر 2026
16 ربیع الثانی 1448

28/09/2026

Address

Mlakand Batkhila
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qari mufti muhammad islam online quran teacher posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share