Qari mufti muhammad islam online quran teacher

Qari mufti muhammad islam online quran teacher

Share

I am an online professional Quran teacher. I teach Nazra Quran, Hifz-ul-Quran, Tajweed, Translation, and Tafseer.

I provide online Quran classes in Urdu and Pashto for kids, males, and females. Islamic knowledge and guidance are also provided.

29/05/2026
29/05/2026

*پاکستان میں آج 29 مئی بروزِ جمعہ قربانی کا آخری دن ہے، اس لیے آج مغرب کا وقت داخل ہونے سے پہلے پہلے قربانی کرلیجیے!*

29/05/2026

*📝فضائل و مناقب سیدنا عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ*

✨قسط نمبر 02

*✍🏻:....افادات*
متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ ﷲ تعالیٰ
_____________________

🌻لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ

{سورۃ المائدۃ، رقم الآیة ۹٣}

*ترجمہ:*

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں، تو انہوں نے پہلے جو کھایا پیا تھا، اس کا کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ آئندہ [حرام اشیاء سے] بچتے رہیں اور ایمان اور اعمال صالحہ کو اپنائیں اور پھر تقویٰ اور ایمان پر کار بند رہیں اور پھر متقی اور صاحب احسان بن کر ہی رہیں، اور ﷲ تعالیٰ صاحبِ احسان لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔

🌼حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے اس آیت کے مصداق میں حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کو بھی شامل فرمایا ہے۔

☀️چنانچہ امام ابوبکر عبدﷲ بن محمد بن ابی شیبہ العبسی الكوفی رحمہ ﷲ (ت 235ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

” حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو (جو حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کو نامناسب انداز میں یاد کرتے ہیں) یہ پیغام پہنچا دو کہ حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے حق میں میرا نظریہ بہت عمدہ ہے۔ یقینی بات ہے کہ حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے حق میں قرآن کریم نے فرمایا کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہے، نیک اعمال کرتے رہے پھر تقویٰ اختیار کیا، ایمان پر ثابت قدم رہے، تقویٰ اور احسان کو اپناتے رہے ﷲ احسان کرنے والوں کو بہت محبوب رکھتا ہے۔“

{مصنف ابن ابی شیبة: ج 21 صفحہ364 رقم الحديث 9 كتاب الجمل}

29/05/2026

*📝فضائل و مناقب سیدنا عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ*

✨قسط نمبر 01

*✍🏻:....افادات*
متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ ﷲ تعالیٰ
_____________________

🌻اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَھُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتۡبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًی ۙ لَّھُمۡ اَجۡرُھُمۡ عِنۡدَ رَبِّھِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیْھِمۡ وَ لَا ھُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ

{سورۃ البقرۃ، رقم الآیة ۲٦۲}

*ترجمہ:*

جو لوگ اپنا مال ﷲ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کا نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں انہی لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر و ثواب ہے۔ ان کو نہ خوف لاحق ہو گا اور نہ ہی غمزدہ ہوں گے۔

🌼یہ آیت حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے حق میں نازل ہوئی۔

☀️امام شمس الدین ابو عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاري الخزرجی رحمہ ﷲ (ت 671ھ) فرماتے ہیں:

”حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ جیشِ عُسْرَہ (یعنی جنگ تبوک کے موقع پر مجاہدین) کے لیے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں 1000 دینار لے کر آئے اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے دامنِ (رحمت) پر نچھاور کر دیا۔ روای حدیث حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ (خوش ہو کر) ان دنانیر کو اپنے ہاتھوں سے الٹ پلٹ کر رہے تھے اور اس موقع پر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے حق میں فرمایا: آج کے بعد عثمان کا کوئی عمل اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اے ﷲ! عثمان کے لیے (اجر کے حوالے سے) آج کے دن کو فراموش نہ فرما۔ حضرت ابو سعید خدری رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ﷲ کے نبی صلی ﷲ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے حق میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگ رہے ہیں: اے عثمان کے رب! میں عثمان سے راضی ہوں، آپ بھی عثمان سے راضی ہو جائیں۔ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم یہ دعا رات بھر مانگتے رہے یہاں تک طلوع فجر ہو گئی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت کا ترجمہ یہ ہے) جو لوگ اپنا مال ﷲ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کا نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں انہی لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر و ثواب ہے، ان کو نہ خوف لاحق ہو گا اور نہ ہی غمزدہ ہوں گے۔

{تفسیر الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: ج1 ص578 تفسیر سورة البقرة:262}

29/05/2026

*آسان ترجمہ قرآن*

القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء
آیت نمبر 106

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ هٰذَا لَبَلٰغًا لّـِقَوۡمٍ عٰبِدِيۡنَؕ ۞

لفظی ترجمہ:
اِنَّ : بیشک | فِيْ ھٰذَا : اس میں | لَبَلٰغًا : پہنچا دینا | لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے | عٰبِدِيْنَ : عبادت گزار (جمع)

ترجمہ:
بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزار لوگوں کے لیے کافی پیغام ہے۔

*القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء*
آیت نمبر 107

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ ۞

لفظی ترجمہ:
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور نہیں ہم نے بھیجا آپ کو | اِلَّا : مگر | رَحْمَةً : رحمت | لِّلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لیے

ترجمہ:
اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

*القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء*
آیت نمبر 108

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞

لفظی ترجمہ:
قُلْ : فرما دیں | اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں | يُوْحٰٓى: وحی کی گئی | اِلَيَّ : میری طرف | اَنَّمَآ : کہ بس | اِلٰهُكُمْ : تمہارا معبود | اِلٰهٌ: معبود | وَّاحِدٌ: واحد (یکتا) | فَهَلْ : پس کیا | اَنْتُمْ : تم | مُّسْلِمُوْنَ : حکم بردار (جمع)

ترجمہ:
کہہ دو کہ : مجھ پر تو یہی وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ تو کیا تم اطاعت قبول کرتے ہو ؟

*القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء*
آیت نمبر 109

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ اٰذَنۡـتُكُمۡ عَلٰى سَوَآءٍ ‌ؕ وَاِنۡ اَدۡرِىۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ‏ ۞

لفظی ترجمہ:
فَاِنْ : پھر اگر | تَوَلَّوْا : وہ روگردانی کریں | فَقُلْ : تو کہ دو | اٰذَنْتُكُمْ : میں نے تمہیں خبردار کردیا | عَلٰي سَوَآءٍ : برابر پر | وَاِنْ : اور نہیں | اَدْرِيْٓ: جانتا میں | اَقَرِيْبٌ: کیا قریب ؟ | اَمْ بَعِيْدٌ: یا دور | مَّا تُوْعَدُوْنَ : جو تم سے وعدہ کیا گیا

ترجمہ:
پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ : میں نے تمہیں علی الاعلان خبردار کردیا ہے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ جس (سزا) کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے، وہ قریب ہے یا دور۔

*القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء*
آیت نمبر 110

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَـهۡرَ مِنَ الۡقَوۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡتُمُوۡنَ ۞

لفظی ترجمہ:
اِنَّهٗ : بیشک وہ | يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے | الْجَهْرَ : پکارنا | مِنَ الْقَوْلِ : بات کو | وَيَعْلَمُ : اور جانتا ہے | مَا تَكْتُمُوْنَ : جو تم چھپاتے ہو

ترجمہ:
بیشک اللہ تعالیٰ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بلند آواز سے کہی جاتی ہیں، اور وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔

*القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء*
آیت نمبر 111

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَدۡرِىۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏ ۞

لفظی ترجمہ:
وَاِنْ : اور نہیں | اَدْرِيْ : جانتا میں | لَعَلَّهٗ : شاید وہ | فِتْنَةٌ: آزمائش | لَّكُمْ : تمہارے لیے | وَمَتَاعٌ: اور فائدہ پہنچانا | اِلٰى حِيْنٍ : ایک مدت تک

ترجمہ:
اور میں نہیں جانتا شاید (سزا میں) یہ (تاخیر) تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور کسی خاص وقت تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دینا ہے۔

*القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء*
آیت نمبر 112

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ۞

لفظی ترجمہ:
قٰلَ : اس (نبی) نے کہا | رَبِّ : اے میرے رب | احْكُمْ : تو فیصلہ فرما | ‎بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ | وَرَبُّنَا : اور ہمارا رب | الرَّحْمٰنُ : نہایت مہربان | الْمُسْتَعَانُ : جس سے مدد طلب کی جاتی ہے | عَلٰي : پر | مَا تَصِفُوْنَ : جو تم بیان کرتے ہو

ترجمہ:
(آخرکار) پیغمبر نے کہا کہ : اے میرے پروردگار ! حق کا فیصلہ کردیجیے، اور ہمارا پروردگار بڑٰی رحمت والا ہے، اور جو باتیں تم بناتے ہو، ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔ ؏

29/05/2026

*سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کا ثبوت*

سوال
سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کا پڑھنا کہاں سے ثابت ہے؟

جواب
سنت مؤکدہ وہ سنت نماز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیشہ مداومت کے ساتھ پڑھی ہے، اور کبھی بھی بلا کسی شدید عذر کے اسے چھوڑا نہیں ہے، جب کہ سنت غیر مؤکدہ وہ سنت نماز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی پڑھی ہے اور کبھی بلا کسی عذر کے چھوڑی بھی ہے، اوران میں سے ہر ایک کا ثبوت مختلف احادیث سے ہوتا ہے، جن میں سے چند ذیل میں درج ہیں:

سنت مؤکدہ کی بارہ رکعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی پابندی سے ادا فرمائیں، اور اس کی تاکید بھی بیان فرمائی ہے،حدیث شریف میں ہے:

"عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌من ‌ثابر على ثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر ."

(سنن الترمذی، أبواب الصلاة، ‌‌باب ما جاء فيمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة من السنة، ج:2، ص:273، ط:مصطفي البابي الحلبي)

ترجمہ: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو بارہ رکعات سنت پر مداومت کرے گا ،اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۔

باقی سنتِ غیر مؤکدہ کا حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مختلف مواقع پر پڑھنا ثابت ہے ، لیکن ان پر پابندی نہیں فرمائی تھی ، بلکہ کبھی کبھار بلا عذر چھوڑنا بھی ثابت ہے، اس لیے ایسی سنتوں کو غیر موکد ہ کہا جاتا ہے،

چناں چہ حدیث شریف میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رحم الله امرءا صلى ‌قبل ‌العصر أربعا"

(صحیح ابن حبان، القسم الأول:الأوامر، النوع الثاني، ‌‌ذكر دعاء النبي صلى الله عليه وسلم بالرحمة لمن صلى ‌قبل ‌العصر أربعا، ج:1، ص:198، ط:دار ابن حزم)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:" اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعات پڑھے۔"

الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ میں ہے:

"وأما ما يتعلق بالعشاء ففي سنن سعيد بن منصور من حديث البراء رفعه 'من صلى ‌قبل ‌العشاء ‌أربعا كان كأنما تهجد من ليلته ومن صلاهن بعد العشاء كمثلهن من ليلة القدر'، وأخرجه البيهقي من حديث عائشة موقوفا وأخرجه النسائي والدارقطني موقوفا على كعب."

(كتاب الصلاة، باب النوافل ، ج:1، ص:198، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما مقدار كل واحدة منها، ووقتها على التفصيل: فركعتان قبل الفجر، وأربع قبل الظهر لا يسلم إلا في آخرهن، وركعتان بعده، وركعتان بعد المغرب، وركعتان بعد العشاء كذا ذكر محمد في الأصل، وذكر في العصر والعشاء إن تطوع بأربع قبله فحسن، وذكر الكرخي هكذا إلا أنه قال في العصر: وأربع قبل العصر، وفي العشاء وأربع بعد العشاء، وروى الحسن عن أبي حنيفة وركعتان قبل العصر، والعمل فيما روينا على المذكور في الأصل.

والأصل في السنن ما روي عن عائشة - رضي الله عنها - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من ثابر على اثنتي عشرة ركعة في اليوم والليلة بنى الله له بيتا في الجنة: ركعتين قبل الفجر، وأربع قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد العشاء» ، وقد واظب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عليها ولم يترك شيئا منها إلا مرة أو مرتين لعذر وهذا تفسير السنة...إلي قوله:

وإنما ذكر في الأصل في التطوع بالأربع قبل العصر حسن؛ لأن كون الأربع من السنن الراتبة غير ثابت؛ لأنها لم تذكر في حديث عائشة، ولم يرو أنه - صلى الله عليه وسلم - كان يواظب على ذلك؛ ولذا اختلفت الروايات في فصله إياها، وروي في بعضها أنه صلى أربعا، وفي بعضها ركعتين فإن صلى أربعا كان حسنا لحديث أم حبيبة - رضي الله عنها - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من صلى أربع ركعات قبل العصر كانت له جنة من النار»...إلي قوله:

وإنما قال في الأصل: إن التطوع بالأربع قبل العشاء حسن؛ لأن التطوع بها لم يثبت أنه من السنن الراتبة، ولو فعل ذلك فحسن؛ لأن العشاء نظير الظهر في أنه يجوز التطوع قبلها وبعدها، ووجه رواية الكرخي في الأربع بعد العشاء ما روي عن ابن عمر - رضي الله عنه - موقوفا عليه ومرفوعا إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من صلى بعد العشاء أربع ركعات كن له كمثلهن من ليلة القدر» وروي عن عائشة أنها «سئلت عن قيام رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في ليالي رمضان فقالت: كان قيامه في رمضان وغيره سواء، كان يصلي بعد العشاء أربعا لا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم أربعا لا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم كان يوتر بثلاث»."

(كتاب الصلاة، فصل : الصلاة المسنونة، ج:1، ص:284، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144401101429

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Mlakand Batkhila
Peshawar