31/05/2026
*شیخ الحدیث مولانا مغفوراللہ باباجی صاحب دامت برکاتہم*
*شاگرِ خاص حضرت مولانا مارتونگ باباجی رحمتہ اللہ علیہ*
یقیناً مولانا مغفوراللہ باباجی علم کی دنیا کا ایک علمی پہاڑ ہیں۔ جن کے دامن میں حدیث، فقہ، تفسیر اور روحانیت کے خزانے محفوظ ہیں۔
*نسبت و تربیت:*
حضرت مولانا مغفوراللہ صاحب دامت برکاتہم عارف باللہ، مجددِ وقت حضرت مولانا مارتونگ باباجی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرِ خاص اور تربیت یافتہ ہیں۔ جس در سے فیض پانے والا خود ایک مکمل درسگاہ بن جاتا ہے، اسی در کی برکت سے حضرت کی شخصیت بھی علم، عمل اور اخلاص کا پیکر بنی۔
*علمی مقام:*
"شیخ الحدیث" کا لقب صرف نام نہیں، یہ ایک ذمہ داری ہے۔ حضرت موصوف کو حدیث شریف کے علوم میں ایسی مہارت حاصل ہے کہ الفاظ کے ظاہر کے ساتھ اس کی روح تک پہنچ جاتے ہیں۔
*شخصیت کے اوصاف:*
1. *سادگی و زہد*: دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز، سادگی ہی ان کا طرہ امتیاز ہے۔
2. *اخلاصِ نیت*: تدریس و وعظ میں شہرت کا کوئی دخل نہیں، صرف رضائے الٰہی مقصود ہے۔
3. *شفقتِ شیخ*: طلبہ کے ساتھ والد جیسی شفقت اور مرشد جیسی نگاہِ تربیت۔
4. *عمل کا نمونہ*: جو فرماتے ہیں خود اس پر عمل کر کے دکھاتے ہیں۔
*خدمات:*
حضرت کی زندگی کا ایک لمحہ امت کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف ہے۔ ان کی مجالسِ حدیث سے نکلنے والے طلبہ آج دین کے چراغ بن کر دنیا کو منور کر رہے ہیں۔ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا علم کے ساتھ دل کی صفائی بھی پا لیتا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ حضرت شیخ الحدیث مولانا مغفوراللہ باباجی صاحب دامت برکاتہم کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں مزید برکت دے، ان کے فیض کو عام فرمائے، اور ان کا سایہ ہم سب پر تادیر قائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
"العلماء ورثۃ الانبیاء" کی یہ زندہ مثال ہے۔