29/08/2026
⭐ عنوان: وہ ستارے بجھ گئے، مگر روشنی باقی ہے ⭐
جس قوم کے علم و عمل کے ستارے رخصت ہو جائیں، وہاں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ آج ہمارے درمیان سے تین ایسے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے، جن کی روشنی میں نہ صرف ایک ادارے بلکہ پوری ایک نسل نے اپنے ایمان، علم اور عمل کا سفر طے کیا۔
⭐ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ — زینت المحدثین، قرآن و حدیث کے گہرے سمندر، جن کی زبان سے سنتِ رسول ﷺ کی تعلیمات رواں تھیں۔ آپ کی مجلس ذکر و درس نے بے شمار لوگوں کو جاہلیت کے اندھیروں سے نکال کر نورِ ایمان سے مزین کیا۔
⭐ مفتی الثقلین حضرت مولانا مفتی سیف اللہ رحمہ اللہ— جن کی نظر میں دنیا و آخرت دونوں کا فقہ تھا۔ فتوے ان کے ہاتھ میں ہوتے تھے اور رحمت ان کے دل میں۔ لوگ مشکل میں آتے، آپ کے دربار سے جواب لے کر جانے والے کا دل سکون سے بھر جاتا۔
⭐ نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک حضرت مولانا حامد الحق شہید رحمہ اللہ — انتظامی طور پر ملت کے خدمت گزار، مگر دل سے ایک فقیرِ صادق۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسلامی تعلیم کے فروغ اور دارالعلوم کی تعمیر و ترقی میں لگا دی۔
تینوں بزرگ ایک ہی محاذ کے سپاہی تھے — علم کے، عمل کے، اور خدمتِ ملت کے۔ آج یہ ستارے غروب ہو گئے، مگر ان کے صدقے کے درخشاں ہمدرد اور شاگرد آج بھی اس میدان میں سرگرداں ہیں۔
🤲 اللہ پاک تینوں مظلومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے خاندانوں کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے، اور ان کے علم و عمل کو ہمارے لیے مشعلِ راہ بنائے۔ آمین ثم آمین۔
✍️ کاتب الحروف:- محمد قاسم جان قاسمی