Islamic Fatawa

Islamic Fatawa

Share

Asslamolikum! We will share islamic masail.You can Ask any time in Comments.

19/01/2026

جواب
صورتِ مسئولہ میں قرآنِ کریم کی آیات، اسماءِ الٰہیہ، احادیثِ مبارکہ پرمشتمل اوراق اورقرآنی مصاحف کے علاوہ دیگر کتب اور اوراق کی ریسائیکلنگ کرناجائز ہے، اوراس عمل کےنتیجے میں باقی رہ جانے والے گودے کودوبارہ استعمال میں لاتے ہوئے اس سےگتہ بنانااوراسےکسی اورمصرف میں استعمال کرناجائز ہے ۔البتہ قرآنِ کریم کی آیات، اسماءِ الٰہیہ، احادیثِ مبارکہ پرمشتمل اوراق کی ریسائیکلنگ کرناجائزنہیں ہے۔

نصاب الاحتساب میں ہے:

"وَفِي وَصَايَا الْمُلْتَقط: كتب ورسائل يسْتَغْنى عَنْهَا وفيهَا اسْم الله تَعَالَى يمحى عَنْهَا، ثمَّ يلقى فِي المَاء الْكثير الْجَارِي أَو يدقن فِي أَرض طيبَة، أَو يفعل ذَلِك قبل المحو وَلَايحرق بالنَّار، كَذَا رُوِيَ عَن مُحَمَّد بن مقَاتل الرَّازِيّ: فعلى هَذَا لَو غسلهَا بِالْمَاءِ الْكثير الْجَارِي وَاتخذ مِنْهُ قَرَاطِيس كَانَ أفضل".(نصاب الاحتساب، الباب الثاني الاحتساب على من يستخف بالحروف والكواغذ ونحوها ۱/۹۵)

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"ولو محا لوحًا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز، وقد ورد النهي عن محو اسم الله تعالى بالبزاق، كذا في الغرائب". (الفتاوی الهندية، الباب الخامسفي آداب المسجد والقبلة والمصحف ... الخ ۵/۳۲۲ ط:رشیدیه)فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144105200516

18/01/2026

اپیل تعاون برائے مدرسہ فیضُ الہدیٰ

الحمدللہ!
مدرسہ فیضُ الہدیٰ پشاور کےلئے دو مرلہ مکان خریدا گیا ہے، جس کی وجہ سے مدرسے پر تقریباً 22 لاکھ روپے کا قرضہ آگیا ہے۔

تمام احبابِ ایمان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس نیک اور دینی کام میں اپنا مالی حصہ ڈال کر ثوابِ دارین (دنیا و آخرت کا اجر) حاصل کریں۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت:
قرآن و حدیث میں اللہ کی راہ میں مالی تعاون کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
اور ارشادِ ربانی ہے:
"جو شخص اللہ کو قرضِ حسنہ دے گا تو اللہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھا دے گا، اور اس کے لیے عزت والا اجر ہے۔" (سورۃ الحدید:11)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (مسلم)
مدرسہ کی تعمیر صدقہ جاریہ ہے، جس کا ثواب قیامت تک جاری رہتا ہے۔

رابطہ کی تفصیلات:
پتہ:
سردار احمد جان کالونی، گلی نمبر 14، پشاور
الداعی الی الخیر:
مفتی محمد نواز
فون نمبر
Easy Paisa
03139524123

29/12/2025
16/03/2025

سوال
عورت کے اعتکاف کا طریقہ کیا ہے اور نیت کیا کرنی ہوتی ہے ؟

جواب
عورتوں کے لیے بھی اعتکاف کرنا سنت ہے اور ثواب کا باعث ہے،عورتوں کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کریں، یہی ان کے لیے بہتر ہے اور گھر کی مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جسے گھر میں نماز ، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے متعین کرلیا گیا ہو، اگر گھر میں عبادت کے لیے پہلے سے خاص جگہ متعین نہیں ہے تو اعتکاف کے لیے گھر کے کسی کونے یا خاص حصے میں چادر یا بستر وغیرہ ڈال کر ایک جگہ مختص کرلی جائے، پھر اس جگہ اعتکاف کیاجائے۔اور عورتوں کے لیے گھر کی مسجد بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے مسجد کا حکم ہے۔اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہوگا۔

عورت اعتکاف کی جگہ سے باہر کھانے پکانے یا گھر کے کام کاج کے لیے نہیں نکل سکتی، اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔اگر اس کو باہر سے اس کے اپنے لیے کوئی کھانا لاکر دینے والا نہیں ہے تو یہ باہر کھانا اٹھانے کے لیے جاسکتی ہے، کھانا اٹھاکر فوراً اندر آجائے ، باہر نہ رکے، ورنہ اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔البتہ عورت اپنی اعتکاف گاہ کے اندر رہ کر گھر کے کام کاج (مثلاً آٹا گوندھنا، کھاناپکانا، کپڑے دھونا وغیرہ) سرانجام دے سکتی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ان کاموں کے لیے کوئی متبادل انتظام کرلے؛ تاکہ پوری یک سوئی کے ساتھ یہ عبادت اپنی روح اور مقصد کے ساتھ ادا ہوجائے۔

اعتکاف کی نیت یہی ہے کہ اعتکاف کے ارادے سے عبادت کے لیے مخصوص جگہ دس دن کے لیے بیٹھ جائے۔اور زبان سے یہ کہہ دیاجائے کہ میں دس دن کے مسنون اعتکاف کی نیت کرتی ہوں تو یہ بہتر ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 113):

"و أما المرأة فذكر في الأصل: أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها، ولا تعتكف في مسجد جماعة، وروى الحسن عن أبي حنيفة أن للمرأة أن تعتكف في مسجد الجماعة، وإن شاءت اعتكفت في مسجد بيتها، ومسجد بيتها أفضل لها من مسجد حيها، ومسجد حيها أفضل لها من المسجد الأعظم، وهذا لايوجب اختلاف الروايات، بل يجوز اعتكافها في مسجد الجماعة على الروايتين جميعاً بلا خلاف بين أصحابنا، والمذكور في الأصل محمول على نفي الفضيلة لا على نفي الجواز توفيقاً بين الروايتين، وهذا عندنا."

المبسوط للسرخسي (3/ 119):

" (قال): ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها، وقال الشافعي - رحمه الله تعالى -: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة، الرجال والنساء فيه سواء، قال: لأن مسجد البيت ليس له حكم المسجد ؛ بدليل جواز بيعه، والنوم فيه للجنب والحائض، وهذا؛ لأن المقصود تعظيم البقعة، فيختص ببقعة معظمه شرعاً، وذلك لا يوجد في مساجد البيوت.
(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل، كما في حق الرجال، وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي صلى الله عليه وسلم لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة؟ فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة»."

الفتاوى الهندية (1/ 211):

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها، إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لاتخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".

فقط واللہ اعلم

14/03/2025

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کس مدرسے یا مکتب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زکوۃ ،نفلی اور واجبی صدقات لے سکتا ہے آیااس میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد کا اعتبار ہے یا ان کی عمروں کا اعتبار ہے یا ان کی حیثیتوں کا بھی کچھ دخل ہے برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں ؟

جواب
زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کا مصرف اور اس کے مستحقین فقرا اور مساکین ہیں ان کو مال دینے سے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ ادا ہو جاتی ہیں اسی طرح دینی مدارس کے طلبا کو زکوٰۃ ، صدقات واجبہ اور نافلہ دینا جائز ہے صورت مسئولہ میں وہ دینی مدارس جو غریب طلبا کے کھانے وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں ان کے لیے صدقات واجبہ اور زکوٰۃ کی رقم لینا جائز ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ غریب و فقیر طلبہ کو نقد، کھانے پینے یا کپڑوں کی بجائے اس رقم کو براہ راست معلمین و ملازمین کی تنخواہوں اور مکانات کی تعمیر یا دیگر انتظمات وغیرہ میں خرچ کرنا جائز نہیں ۔ تاہم طلبا کو نقد رقم دینے کے بعد اگر وہ ماہانہ اخراجات کی مد میں مدرسے کو واپس کریں یا اپنی مرضی سے ثواب کی نیت سے مدرسے میں جمع کریں تو پھر مدرسہ اور مکتب طلبا سے لی ہوئی رقم مصالح مدرسہ کے مطابق ہر مد میں خرچ کرسکتا ہے البتہ نفلی خیرات و صدقات کو تعمیر و تنخواہ میں بلا تملیک صرف کرنا جائز ہے ۔

ولا يجوز ان يبني بالزكوةالمسجد ، وكذاالقناطر ،والسقاية ، واصلاح الطرقات ، و كري الانهار ، والجهاد وكل مالا تمليك فيه ۔(الفتاوى الهندية كتاب الزكوة ، الباب السابع ،باب في المصارف ج1ص188)

وبهذاالتعليل يقوى مانسب للواقعات من ان طالب العلم يجوز له اخذ الزكوة ولوغنيا اذا فرغ نفسه لافادة العلم واستفادته لعجزه عن الكسب ، والحاجة داعية الى مالا بد منه كذا ذكره المصنف ،قال ابن عابدين قلت :وهو كذلك ۔(الدر المختار على صدر رد المحتار كتاب الزكوة باب المصارف ج3ص286،285)

فتویٰ نمبر : 4492/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

تاریخ تصدیق : 2020-09-13

12/03/2025

سوال
خوشبو لگانامثلاً عطر،سینٹ، پرفیوم لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ ایک بڑے بزرگ عالم دین نے اگر بتی سے روزہ ٹوٹنے کا کہا ہے۔

جواب
روزے کی حالت میں عطر اور پرفیوم لگا سکتے ہیں، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ پرفیوم لگاتے وقت اس کے ذرات حلق تک نہ پہنچیں۔

اسی طرح روزے کی حالت میں اگر بتی کا دھواں بغیر ارادہ کے خود بخود حلق میں داخل ہوجائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ اگربتی جلا کر خود اس کےدھویں کو سونگھا، جس کی وجہ سے دھواں اندر چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عوداً أو عنبراً له ذاكراً لإمكان التحرز عنه، فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي.

(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكراً لصومه أفطر؛ لإمكان التحرز عنه، وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس".

(کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، 2/ 395/سعید)

فقط واللہ اعلم

10/03/2025

سعودیہ میں رہنے والا شخص پاکستان میں بھی اپنا صدقہ فطر ادا کرسکتا ہے۔ اگر صدقہ فطر گندم کی صورت میں ادا کرنا ہو تو اس کی مقدار گندم کے حساب سے پونے دو کلو گندم ہے، چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے۔

اور اگر قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے وہاں کا اعتبار ہوگا، لہذا اگر آپ سعودیہ میں مقیم ہیں اور عید الفطر وہیں کریں گے تو آپ پر سعودیہ عرب کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا، خواہ آپ یہ قیمت سعودیہ عرب میں ادا کریں یا آپ کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔ لہذا پاکستان میں اگر آپ صدقہ فطر دینا چاہیں تو سعودیہ میں پونے دو کلو گندم کی قیمت کے لحاظ سے پاکستان میں صدقہ فطر ادا کرنا ہوگا، پھر آپ کی مرضی ہے کہ پاکستانی کرنسی کی صورت میں دیں یا ریال کی صورت میں۔فقط واللہ اعلم

10/03/2025

سوال
این ایف ٹی یعنی نان فنجیبل ٹوکن (NFT: Non-fungible token) کیا ہے؟ این ایف ٹی کسی بھی چیز کی تصویر فروخت کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے، یہاں تک کہ دادا، دادی لوگ کھیت سے پیسے کمانے کے لئے تصویر فروخت کررہے ہیں، مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔

جواب
صورتِ مسئولہ میں NFT: Non-Fungible Token ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں ڈیجیٹل ایسٹس (Digital Assets) یعنی تصاویر، موسیقی / میوزک، ویڈیوز اور دیگر اسی نوع سے تعلق رکھنے والی اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے، اس نوع کی خرید و فروخت میں کئی قسم کے مفاسد ہیں، پہلی خرابی یہ ہے کہ اس میں جاندار اور غیر جاندار دونوں قسم کی تصاویر کی خرید و فروخت ہوتی ہیں اور قرآن و حدیث کی رو سے جاندار کی تصویر کی خرید و فروخت تو دور کی بات جاندار کی تصویر کھینچنا اور بنانا ہی حرام اور ناجائز ہے اور آخرت میں سخت ترین عذاب کا باعث ہے تو اس سے بچنا لازم ہے، نیز اس زمانے میں لوگ سیلفی کے نام سے تصاویر کھینچتے ہیں اور اس کی قباحت کا اندازہ بھی نہیں کر پاتے اور پھر ان کو اس پلیٹ فارم پر فروخت بھی کرتے ہیں اور رقم بنام نفع بھی حاصل کرتے ہیں جو کہ شرعا ناجائز اور حرام ہے۔

اور دوسری خرابی یہ ہے کہ اگر غیر جاندار کی تصویر کھینچ کر اس کو اس پلیٹ فارم پر فروخت کریں یا پھر اسی پلیٹ فارم سے کوئی غیر جاندار کی تصویر کو خریدیں تو اس صورت میں بھی یہ معاملہ درست نہیں، اس لئے کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ NFT کے اس مخفف میں (T) سے مراد ٹوکن ہے اور ٹوکن کا مطلب ملٹی لیول مارکیٹنگ ہے، یعنی جس نے پہلی دفعہ کوئی چیز فروخت کی اب وہ چیز اس پلیٹ فارم سے جتنی دفعہ کسی خریدار کو فروخت ہوگی تو سب کو اس کا فیصد کے اعتبار سے نفع ملے گا، یہ بھی شرعا ناجائز ہے۔

اور تیسری بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس میں خرید و فروخت ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہوتی ہے، اور ڈیجیٹل کرنسی کے اندر شرعا حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط نہیں پائے جاتے بلکہ یہ محض ایک فرضی کرنسی ہے جو کہ عدد کی شکل میں اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں اور ان عدد کا خارجی اعتبار سے کوئی وجود نہیں ہوتا، جبکہ مال یا کرنسی کے لیے عین کا ہونا ضروری ہے جو کہ یہاں نہیں ہے، نیز اس ضمن میں ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ اس پلیٹ فارم سے جب کوئی چیز خریدی جاتی ہے تو خریدنے والا اس کا مالک نہیں ہوتا بلکہ وہ چیز اس کے اکاؤنٹ میں صرف رجسٹرڈ کردی جاتی ہے قبضہ نہیں ہوتا، اور قبضہ سے قبل منقولی چیز کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا ان مذکورہ مفاسد کی بنا پر NFT کے پلیٹ فارم سے کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾﴿البقرة: 275﴾

مسند امام احمد میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله حرم على أمتي ‌الخمر، والميسر، والمزر، والقنين، والكوبة."

(‌‌مسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: 11/ 124، ط: مؤسسة الرسالة)

معالم التنزیل میں ہے:

"(ولا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل) ای بالحرام یعنی بالربا والقمار والغضب والسرقة."

(سورة النساء:29، (2/ 1119)، ط:دار طیبة)

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن ‌القمار ‌من ‌القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء، فصل فی البیع: 6/ 403، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

10/03/2025

Peshawar ke liye sadqa fither or fidya ki miqdar or Qimat.
Donation jazz cash numbr for Madrssa Faiz ul huda Peshawar
03139524123

07/03/2025

سوال
اگر روزے کی حالت میں مکھی یا مچھر اڑتے ہوئے منہ میں داخل ہو جائیں اور پیٹ میں چلے جائیں جبکہ یہ انجانے میں ہوا ہو تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب
روزہ کی حالت میں اگر خود بخود بلا اختیار مکھی مچھر منہ کے اندر جاکر حلق سے اتر جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر کوئی قصدا ایسا کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، صرف قضا لازم ہوگی ،کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ یہی حکم دیگر حشرات الارض کا بھی ہے۔

الفتاوی ہندیہ میں ہے :

"وما لیس بمقصود بالأکل، ولا یمکن الاحتراز عنہ کالذباب إذا وصل إلی جوف الصائم لم یفطرہ کذا فی إیضاح الکرمانی ولو اخذ الذباب ، واکلہ یجب علیہ القضاء دون الکفارتہ."

(الفتاوی الہندیة ۔ کتا ب الصوم ۔ النوع الاول ، ما یو جب القضاء دون الکفارتہ 1/ 203 )

فقط واللہ اعلم

06/03/2025

سوال
کیا اذان ہونے تک سحری کھا سکتے ہیں؟

جواب
واضح رہےسحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اب اگر فجر کا وقت داخل ہوچکا ہے تو کھانا پینا جائز نہیں، فجر کا وقت چوں کہ صبح صادق ہونے پر ہوتا ہے اور فجر کی اذان صبح صادق ہوجانے کے بعد دی جاتی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں اذان شروع ہونے کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز نہیں ہے، پس اگر کسی نے اس دوران ناواقفیت میں کھا پی لیا تو اس کا روزہ نہ ہوگا، بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔

دینی کتب کی کسی دوکان سے کسی مستند ادارے کا دائمی نقشہ (مثلاً پروفیسر عبداللطیف مرحوم وغیرہ کا )خرید لیں،اس نقشہ میں صبح صادق کا جو وقت لکھا ہو تا ہےاس کے مطابق روزہ بند کر لیں،اور سنت یہ ہے سحری کا وقت ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے سحری کھانا بند کر دیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ زید بن ثابت سے روایت کر تے ہیں کہ انہوں نے بیان کیاکہ ہم نے رسول اللہﷺ کے سا تھ سحری کھا ئی پھر (جلد ہی)آپ ﷺنماز فجر کے لیے کھڑے ہو گئے،حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ سحری کھانے اورفجر کی اذان کے درمیان کتنا وقفہ رہا ہو گا؟انہوں نے فر مایا پچاس آیات کے بقدر ۔حضرت مولانامنظور نعمانی اس حد یث کی تشرٰیح میں فر ما تے ہیں!صحت مخارج اورقواعد قرات کے لحاظ کے ساتھ پچاس آیات کی تلاوت میں پا نچ منٹ سے بھی کم وقت صر ف ہو تا ہے،س بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ رسول ﷺ کی سحری اور اذان فجر کے درمیان صر ف چار پانچ منٹ کا فصل تھا (معارف الحدیث، کتاب الصوم، ج3۔4،ص349،ط:دار الاشاعت)

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Street No 14
Peshawar