Khyber Medical University, Peshawar

Khyber Medical University, Peshawar

Share

Complete Guidelines for Admissions into Khyber Medical University, Peshawar.

26/05/2026

Feedback from parents of children with Type-1 Diabetes after the awareness session at KMU Hospital & Research Center

25/05/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔

عید کی خوشیوں کے ان دنوں میں ایک نوجوان، جس نے BS مکمل کرنے کے بعد یہاں انٹرنشپ شروع کی تھی، بارڈر بند ہونے کی وجہ سے اپنے گھر واپس نہ جا سکا اور گزشتہ 10 ماہ سے پشاور میں انتہائی مشکل حالات میں تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
سرحد بند ہونے کی وجہ سے وہ اس عید پر بھی اپنے گھر نہیں جا سکے گا۔ یہ اس کی مسلسل دوسری عید ہے جو گھر والوں سے دور گزر رہی ہے۔

یہاں نہ کوئی قریبی رشتہ دار ہے، نہ مستقل روزگار اوور نہ ہی کوئی سہارا۔ حالات کافی مشکل ہو چکے ہیں۔

اگر کوئی بھائی، دوست یا صاحبِ حیثیت کسی بھی طرح رہنمائی، عارضی سہارا یا مدد کر سکے تو بہت مہربانی ہوگی۔
مزید تفصیلات اور کنٹیکٹ کے لئے انباکس میں رابطہ کر سکتے ہیں۔

23/05/2026

KMU Hospital & Research Center has started dedicated services for Pediatric Hematology and Oncology patients with a separate specialized unit.

The unit is providing treatment & care for children with cancer, including chemotherapy services on a day care basis.
Indoor admission & inpatient care facilities will also be available soon to further strengthen comprehensive pediatric cancer care services.

22/05/2026

ORIC-KMU has achieved outstanding distinctions in the latest Higher Education Commission (HEC) rankings:

​1st Position in Khyber Pakhtunkhwa

​2nd Position among all Medical Universities across Pakistan

​13th Position nationwide out of all recognized ORICs

​This incredible achievement reflects our commitment to fostering a vibrant research ecosystem, advancing technology transfer & driving healthcare innovation in the region. It is a direct testament to the visionary leadership of Dr. Zohaib khan the and the tireless dedication of the ORIC team & the exceptional academic contributions of our faculty members & researchers.

20/05/2026

MDCAT to be held on August 16, 2026

16/05/2026

Elevate your clinical skills and master ECG interpretation! Join our workshop led by Mr. Ahsan Ullah. Learn to identify arrhythmias, recognize infarction patterns, and interpret ECGs like a pro.
Date: May 19, 2026.
Venue: INS-Lecture Hall 09, 1st Floor.
Registration link:
https://forms.gle/L7Jsw12wNyb5Jcrc7

14/05/2026

کوئی کسی کا سہارا بن جائے تو زندگی بدل جاتی ہے۔
آئیے، آج ہم کسی کے لیے وہ سہارا بنیں۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان کینسر (Germ Cell Tumor) جیسے موذی مرض سے طویل جنگ لڑ چکا ہے۔ اللہ کے فضل سے اس کے مشکل علاج اور بڑے آپریشنز مکمل ہو چکے ہیں، مگر آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ڈاکٹرز کے مطابق مریض کو باقاعدہ فالو اپ، ٹیسٹس، میڈیسن اور نیوٹریشنل سپورٹ کی ضرورت ہے۔
اس وقت درج ذیل ضروری سپلیمنٹس اور میڈیسن درکار ہیں:

• Pegstim 6mg Injection — 15000
• Centrum Tablets — 6000
• Ensure Milk × 2 — 5800
Total Amount Required: 26800

مزید یہ کہ علاج کے دوران تقریبا 380000 کا مقروض بھی ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت آمدن کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں۔

کبھی یہ اپنے گھر والوں کا سہارا تھا، آج خود آپ کی توجہ اور مدد کا منتظر ہے۔

اگر ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑا سا بھی تعاون کرے تو نہ صرف اس کا علاج جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اس کے کندھوں سے قرض کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔

تعاون کے لئے:

National Bank of Pakistan
IBAN: PK39NBPA1450004169710298

11/05/2026

کچھ ڈاکٹر صرف علاج نہیں کرتے ۔ وہ ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔

کینسر جیسے مرض کا نام سنتے ہی اکثر گھرانوں پر خوف، بے بسی اور مایوسی چھا جاتی ہے۔ ایسے وقت میں مریض صرف میڈیسن کا نہیں بلکہ حوصلے، یقین اور خلوص کا بھی محتاج ہوتا ہے۔

ایسے ہی قابل، محنتی اور انسان دوست ڈاکٹرز میں ایک نام
ڈاکٹر اشفاق احمد شاہ کا بھی ہے، جو خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں میڈیکل آنکالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

کینسر کے کئی مریضوں کی کامیاب کہانیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اگر بروقت تشخیص، درست علاج اور ایک مخلص ڈاکٹر میسر ہو تو کینسر کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر اشفاق احمد اور ان کی ٹیم نہ صرف اپنی مہارت بلکہ اپنے رویے، حوصلہ دینے کے انداز اور مریضوں کے لئے خلوص کی وجہ سے بھی قابل تحسین ہیں۔ ایسے ڈاکٹر واقعی مسیحا ہوتے ہیں جو صرف بیماری کا علاج نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو زندگی کی امید واپس دیتے ہیں۔

یہ پوسٹ کسی اشتہار یا ریفرل کے طور پر نہیں، بلکہ اُن تمام ڈاکٹرز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہے جو دن رات مریضوں کی زندگیاں بچانے میں مصروف ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو کامل شفا عطا فرمائے اور ہمارے ڈاکٹروں کو مزید کامیابیاں دے۔ آمین

10/05/2026

OFFICIAL STATEMENT
From Khyber Medical University.

Khyber Medical University (KMU) is a recognized Government university, and all its constituent and affiliated nursing colleges are duly registered with the relevant authorities. The issue regarding students’ pre-registration has also been resolved.

Students and parents are advised not to rely on fake news or misinformation circulating online and to follow only official KMU sources for authentic updates.

KMU reserves the right to take legal action against anyone involved in spreading false or misleading information against the university.

Photos from Khyber Medical University, Peshawar's post 07/05/2026

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا آگاہی سمپوزیم 2026 کا انعقاد کیا گیا.

تقریب میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ، تشخیص اورعلاج سے متعلق آگاہی کی اہمیت پر زور دیا گیا
تقریب سے پروفیسر ڈاکٹر سمیع سراج ،خالد وقاص چمکنی،ڈاکٹر عائشہ امتیاز، ڈاکٹر درِ نایاب کا خطاب
خیبر میڈیکل یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف فارما سیوٹیکل سائنسز (کے ایم یو آئی پی ایس) پشاور اور نگہبانِ خون فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام حفیظ اللہ آڈیٹوریم میں تھیلیسیمیا آگاہی سمپوزیم 2026 کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس کا موضوع “Hidden No More: Finding the Undiagnosed, Supporting the Unseen” تھا۔ تقریب میں ڈائریکٹر آئی پی ایس پروفیسر ڈاکٹر سمیع سراج ،الخدمت فائونڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر خالد وقاص چمکنی ، ڈاکٹر عائشہ امتیاز،پرائم ہسپتال کی ڈاکٹر درِ نایاب کے علاوہ فیکلٹی اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج سے متعلق آگاہی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ تھیلیسیمیا ایک قابلِ تدارک موروثی بیماری ہے جس سے بچاؤ شعور، آگاہی اور قبل از شادی اسکریننگ کے ذریعے ممکن ہے۔ماہرین کاکہنا تھا کہ پاکستان میں اوسطاً صرف 5 فیصد افراد ہی رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرتے ہیں جو کہ تھیلی سیمیا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی کم ہے۔مقررین کاکہنا تھا کہ ملک میں تھیلیسیمیا اور بڑھتے ہوئے حادثات کے پیش نظر بلڈ ڈونیشن کلچر کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تھیلیسیمیا نہ صرف قابل علاج مرض ہے بلکہ بعض حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس سے بڑے پیمانے پر بچائو بھی ممکن ہے جس کے لیے لوگوں میں شعور وآگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر نگہبانِ خون تنظیم کا بھی ذکر کیا گیا جسے کے ایم یو کے طلبا نے فروری 2025 میں قائم کیاتھا۔ اس تنظیم کا مقصد تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور رضاکارانہ خون کے عطیات کو فروغ دینا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Peshawar
25100