Top Skills Trainer Amjad Ali

Top Skills Trainer Amjad Ali

Share

Here you are not a number but a name

15/02/2025

کیلکولیٹر کے اہم بٹنز اور ان کے استعمال کی مکمل رہنمائی

کیلکولیٹر صرف بنیادی جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی خاص بٹن ہوتے ہیں جو حسابات کو تیز اور آسان بنانے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر کاروباری حضرات اور طلبہ کے لیے۔
ذیل میں ان بٹنز کے استعمال اور فوائد کی تفصیل دی جا رہی ہے:

---

1️⃣ GT (Grand Total) بٹن

یہ بٹن تمام الگ الگ حسابات کا گرینڈ ٹوٹل نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

استعمال:
اگر آپ نے کیلکولیٹر پر مختلف حسابات کیے ہیں اور ان سب کا مجموعہ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں، تو GT بٹن دبانے سے تمام حسابات کا کل نتیجہ نظر آئے گا۔

✔ فائدہ: یہ بٹن ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو ایک ساتھ کئی حسابات کرتے ہیں اور آخر میں ان سب کا مجموعہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

---

2️⃣ M+ (Memory Plus) بٹن

یہ بٹن کسی بھی نمبر کو میموری میں جمع (Add) کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

استعمال:
اگر آپ نے "50" لکھا اور پھر M+ دبایا، تو یہ نمبر کیلکولیٹر کی میموری میں محفوظ ہو جائے گا۔ اگر آپ بعد میں "30" لکھ کر دوبارہ M+ دبائیں، تو اب میموری میں "80" محفوظ ہوگا (50+30=80)۔

✔ فائدہ: بڑی حسابی جمع تفریق کرتے وقت یہ بٹن بہت مددگار ہوتا ہے، کیونکہ آپ مختلف اعداد کو یادداشت میں محفوظ کر کے بعد میں استعمال کر سکتے ہیں۔

---

3️⃣ M- (Memory Minus) بٹن

یہ بٹن میموری میں پہلے سے موجود نمبر میں سے کوئی نیا نمبر منفی (Subtract) کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

استعمال:
اگر میموری میں پہلے سے "80" محفوظ ہے اور آپ "20" لکھ کر M- دبائیں، تو میموری میں اب "60" رہ جائے گا (80-20=60)۔

✔ فائدہ: بڑی رقوم کے حساب میں آسانی، خاص طور پر جب آپ مختلف اخراجات یا منافع میں سے رقم منہا کرنا چاہتے ہوں۔

---

4️⃣ MRC (Memory Recall & Clear) بٹن

یہ بٹن دو کام کرتا ہے:

✅ پہلی بار دبانے سے میموری میں محفوظ نمبر دکھاتا ہے (Recall کرنا)۔
✅ دوبارہ دبانے سے میموری کو مکمل صاف کر دیتا ہے (Clear کرنا)۔

✔ فائدہ: اگر آپ نے کوئی نمبر میموری میں محفوظ کیا ہے اور بعد میں اسے دیکھنا یا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو MRC بٹن دبائیں۔

---

5️⃣ +/- (Plus Minus) بٹن

یہ بٹن کسی بھی نمبر کی علامت (Sign) کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

استعمال:
اگر آپ نے "25" لکھا ہے اور +/- دبائیں، تو یہ "-25" میں بدل جائے گا۔ دوبارہ دبانے سے پھر "+25" ہو جائے گا۔

✔ فائدہ: مثبت اور منفی نمبرز کے درمیان تبدیلی میں آسانی، خاص طور پر اکاؤنٹنگ اور بینکنگ کے حسابات میں مفید۔

---

6️⃣ MU (Mark-Up) بٹن

یہ بٹن زیادہ تر منافع (Profit Margin) نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر دکانداروں اور کاروباری حضرات کے لیے۔

استعمال:
اگر کسی چیز کی قیمت 500 روپے ہے اور آپ اسے 20% منافع کے ساتھ بیچنا چاہتے ہیں تو:

1️⃣ 500 لکھیں
2️⃣ MU دبائیں
3️⃣ 20 لکھ کر % دبائیں

کیلکولیٹر خود بخود وہ قیمت دکھائے گا جس پر آپ کو وہ چیز بیچنی چاہیے تاکہ 20% منافع حاصل ہو۔

✔ فائدہ: کاروباری حضرات کے لیے قیمتوں کا درست حساب لگانے میں بہت مددگار، خاص طور پر ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹ میں۔

---

📌 نتیجہ

یہ خصوصی بٹنز کیلکولیٹر کو زیادہ طاقتور اور کارآمد بناتے ہیں۔

✅ GT
ان افراد کے لیے مثالی ہے جو مختلف حسابات کے گرینڈ ٹوٹل کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔
✅ M+, M-, اور MRC
ان لوگوں کے لیے بہترین ہیں جو بڑے حسابات کو میموری میں محفوظ رکھ کر بعد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
✅ MU
دکانداروں اور کاروباری حضرات کے لیے قیمتوں اور منافع کے حسابات کو آسان بناتا ہے۔

اگر آپ ان بٹنز کو سمجھ کر استعمال کریں، تو کیلکولیٹر کا استعمال زیادہ مؤثر اور تیز ہو سکتا ہے، خاص طور پر کاروبار، اکاؤنٹنگ اور تعلیمی میدان میں۔

29/01/2025

Posting in free time

28/11/2024

سوچ ہماری ذات کو تشکیل دیتی ہے یا ہم سوچتے ہیں سوچ کا انتخاب کرتے ہیں ؟

یہ سوال فلسفے کی ایک پرانی اور بہت اہم بحث ہے، جسے ہم "فلسفۂ موضوعیت اور معروضیت" یا "عینیت اور مادیت" کے نام سے جانتے ہیں۔ اسکا خلاصہ یہ ہے کہ آیا مائنڈ یعنی ذہن یا شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے یا میٹر یعنی مادی دنیا۔
1. مثالی پس منظر (Idealism):
اس نظریہ میں کہا گیا ہے کہ اصل حقیقت ذہن یا شعور ہے، اور مادی دنیا اسی شعور یا خیالات کی پیداوار ہے۔ مثالی فلسفے کے مشہور فلسفی جیسے کہ پلاٹو اور برکلے کا ماننا تھا کہ مادی اشیاء کا وجود صرف ہمارے ذہنوں میں ہی ہے۔ ان کے مطابق حقیقت ذہن یا شعور پر مبنی ہے، اور کائنات کا تمام علم یا تجربہ شعور کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
2. مادیت پس منظر (Materialism):
اس کے برعکس، مادیت کے نظریہ میں کہا جاتا ہے کہ اصل حقیقت مادہ ہے اور شعور اسی مادے کا نتیجہ ہے۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور مارکسزم کی فلسفیانہ بنیادیں مادیت پسندی پر ہیں۔ ان کے مطابق ہمارا شعور اور خیالات مادی دنیا کا ہی عکس ہیں، اور ہم شعور کے بغیر مادے کا تصور نہیں کر سکتے۔
3. دوہری نظریہ (Dualism):
بعض فلسفی، جیسے کہ ڈیکارٹ، کہتے ہیں کہ ذہن اور مادہ دونوں اپنی جگہ حقیقت ہیں، اور دونوں کے درمیان ایک تعلق موجود ہے۔ یہ نظریہ "دوہری" (Dualism) کہلاتا ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر مکمل ترجیح دینا ممکن نہیں۔
کیا جواب ممکن ہے؟
یہ سوال آج بھی حتمی طور پر حل نہیں ہو سکا اور مختلف مکاتبِ فکر اسے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ کوئی اسے شعور سے شروع کرتے ہیں تو کوئی مادے سے، اور ہر نظریہ کے پاس اپنی توجیہات ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق میں بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا شعور مادی ہے یا کوئی الگ وجود رکھتا ہے۔
مختصر جواب: یہ آپ کے نقطہ نظر اور فلسفیانہ ترجیحات پر منحصر ہے کہ آپ کیا مانتے ہیں۔ حقیقت کے بارے میں یہ سوال ایک معمہ ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا۔

DTMI

28/11/2024

نکولو مکیاویلی کی کتاب دی پرنس ، (The Prince by Niccolo Machiavelli) نکولو مکیاولی، اٹلی کے شہر فلورنس میں 1469 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک مشہور فلسفی، سیاستدان اور تاریخ دان تھے۔ ان کی سب سے معروف تصنیف "دی پرنس" (Il Principe) ہے جو کہ 1513 میں لکھی گئی تھی مگر ان کی موت کے بعد 1532 میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب سیاست اور حکمرانی کے اصولوں پر مبنی ہے اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔

کتاب کا موضوع:
"دی پرنس" بنیادی طور پر ایک نصیحت نامہ ہے جو حکمرانوں کو سیاسی طاقت کے حصول اور اس کے برقرار رکھنے کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مکیاولی نے اس کتاب میں مختلف حکمرانوں کی مثالیں دیتے ہوئے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کیا ہے۔

*اہم موضوعاتِ*

*1. سیاسی طاقت اور حکمرانی* :

مکیاولی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایک حکمران کو کس طرح سیاسی طاقت حاصل کرنی چاہئے اور اسے کس طرح برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے مختلف طریقوں کا ذکر کیا ہے جن میں جنگ، دھوکہ دہی، طاقت کا استعمال اور عوام کی حمایت شامل ہیں۔

*2. مقصد کے جواز* :

مکیاولی کی مشہور قول "مقصد وسائل کو جواز بخشتا ہے" (The ends justify the means) اس کتاب کا ایک مرکزی خیال ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایک حکمران کا مقصد اچھا ہو تو اسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی طریقے کا استعمال کرنا چاہئے، چاہے وہ طریقے غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہوں۔

*3. انسانی فطرت:*

مکیاولی نے انسانی فطرت کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ نظریہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، انسان بنیادی طور پر خود غرض اور موقع پرست ہوتے ہیں۔ ایک حکمران کو ہمیشہ انسانوں کی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئے۔

*4. قسمت اور تدبیر* :

مکیاولی نے قسمت (Fortuna) اور تدبیر (Virtù) کے تعلق پر بھی بحث کی ہے۔ ان کے مطابق، قسمت اور تدبیر دونوں ہی اہم ہیں مگر ایک حکمران کو ہمیشہ اپنی تدبیر پر انحصار کرنا چاہئے اور قسمت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

*کتاب کی اہمیت اور تنقید:*

"دی پرنس" کو اس کی حقیقت پسندانہ اور غیر جذباتی انداز کی وجہ سے بہت سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب سیاسیات کی دنیا میں ایک انقلابی حیثیت رکھتی ہے اور اسے اکثر "جدید سیاسیات کی بنیاد" کہا جاتا ہے۔

تاہم، اس کتاب کو اس کے غیر اخلاقی مشوروں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ کئی لوگوں نے مکیاولی کو بے رحم اور خود غرض سیاستدان کے طور پر پیش کیا ہے۔
"دی پرنس" ایک انتہائی اہم اور متاثر کن کتاب ہے جو آج بھی سیاسیات کے طلباء اور عملی سیاستدانوں کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مکیاولی کے خیالات اور نظریات پر بحث و مباحثہ آج بھی جاری ہے اور یہ کتاب ہمیشہ ایک موضوع بحث رہے گی۔
یقیناً، "دی پرنس" (The Prince) نیکولو میکیاولی کا ایک مشہور سیاسی فلسفہ کا شاہکار ہے۔ اس کتاب میں بہت سے اہم اقتباسات ہیں جو سیاسی حکمت عملی اور حکمرانی کے بارے میں میکیاولی کی فکر کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم اقتباسات درج ہیں:

1. "The ends justify the means."
- "مقاصد وسائل کو جائز قرار دیتے ہیں۔"

2. "It is better to be feared than loved, if you cannot be both."
- "یہ بہتر ہے کہ آپ سے محبت کرنے کے بجائے آپ سے خوف کیا جائے، اگر آپ دونوں نہیں کر سکتے۔"

3. "The first method for estimating the intelligence of a ruler is to look at the men he has around him."
- "کسی حکمران کی ذہانت کا اندازہ لگانے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگوں کو دیکھا جائے۔"

4. "The lion cannot protect himself from traps, and the fox cannot defend himself from wolves. One must therefore be a fox to recognize traps, and a lion to frighten wolves."
- "شیر خود کو جالوں سے نہیں بچا سکتا، اور لومڑی خود کو بھیڑیوں سے نہیں بچا سکتی۔ اس لیے انسان کو جالوں کو پہچاننے کے لیے لومڑی بننا پڑتا ہے، اور بھیڑیوں کو ڈرانے کے لیے شیر۔"

5. "The promise given was a necessity of the past: the word broken is a necessity of the present."
- "جو وعدہ کیا گیا وہ ماضی کی ضرورت تھی: جو وعدہ توڑا گیا وہ حال کی ضرورت ہے۔"

6. "A prince never lacks legitimate reasons to break his promise."
- "ایک شہزادے کے پاس کبھی بھی اپنے وعدے توڑنے کے جائز وجوہات کی کمی نہیں ہوتی۔"

7. "It is not titles that honor men, but men that honor titles."
- "یہ عہدے نہیں ہیں جو مردوں کو عزت دیتے ہیں، بلکہ مرد وہ ہیں جو عہدوں کو عزت دیتے ہیں۔"

8. "Everyone sees what you appear to be, few experience what you really are."
- "ہر کوئی دیکھتا ہے کہ آپ کیا نظر آتے ہیں، چند لوگ جانتے ہیں کہ آپ حقیقت میں کیا ہیں۔"

9. "The wise man does at once what the fool does finally."
- "عقلمند وہ فوراً کر لیتا ہے جو بے وقوف آخر میں کرتا ہے۔"

10. "He who wishes to be obeyed must know how to command."
- "جو حکم ماننے کا خواہشمند ہے، اسے حکم دینا آنا چاہیے۔"

یہ اقتباسات "دی پرنس" کے مرکزی خیالات کو بیان کرتے ہیں، جس میں میکیاولی نے سیاسی حکمت عملی، قیادت، اور انسانی فطرت کے بارے میں اپنی نظریات پیش کیں ہیں۔

پیشکش تاریخ ادب اور مذہب

28/11/2024

انسانی دماغ کی بنیادی جسمانی اور ساختی نشوونما عام طور پر 25 سال کی عمر تک مکمل ہو جاتی ہے، لیکن دماغ میں سیکھنے، تجربات، اور نئے نیورل کنکشن بنانے کی صلاحیت 40 سے 50 سال کی عمر تک، اور اس کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے۔

40 سے 50 سال کی عمر میں دماغ کی نشوونما:

1. نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity): دماغ نئی معلومات حاصل کرنے، نئی مہارتیں سیکھنے، اور تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے، خاص طور پر اگر انسان علمی (cognitive) سرگرمیوں میں مگن رہے۔

2. علمی صلاحیتیں: اس عمر میں، دماغ کی علمی صلاحیتوں (جیسا کہ حکمت، تجربات سے سیکھنے، اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت) میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر دماغ کو متحرک رکھا جائے۔

3. دماغ کی صحت پر اثرات: اگرچہ عمر کے ساتھ نیورونز کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور دماغ کی رفتار سست ہو سکتی ہے، مگر دماغی صحت مند عادات، جیسے متوازن غذا، ورزش، اور ذہنی مشقیں، دماغ کی نشوونما کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

4. نئے نیورل کنکشنز: دماغ مسلسل نئے نیورل کنکشنز بناتا ہے، خاص طور پر جب انسان نئی مہارتیں سیکھے یا دماغی طور پر چیلنجنگ کاموں میں شامل ہو۔

خلاصہ:

اگرچہ 40 سے 50 سال کی عمر میں دماغ کی ساختی نشوونما کم ہو جاتی ہے، لیکن علمی اور عملی نشوونما ممکن ہے۔ دماغ کی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے اسے متحرک رکھنا ضروری ہے۔

28/11/2024

Comments for Online class of English Creative Writing.
Content and blogs
Business writing
Proposal writing
Proposal letter/email
Cover letter etc

10/10/2024

A classic philosophical dilemma!

This situation is reminiscent of the "Trilemma" or "Double Bind" concept in philosophy, where every option seems unacceptable.

*Philosophical Perspectives:*

1. *Existentialism*: Embrace the uncertainty and take responsibility for your choices. Choose the lesser harm, and acknowledge that no perfect solution exists.

2. *Utilitarianism*: Weigh the consequences of each option and select the one that minimizes overall harm.

3. *Deontology*: Consider the moral rules and duties. If moving forward, going back, and stopping all violate moral principles, re-evaluate the situation to find an alternative.

4. *Stoicism*: Focus on what you can control, accept the situation, and find inner peace amidst uncertainty.

*Possible Solutions:*

1. *Re-evaluate assumptions*: Challenge your perceptions of "Haram," "harm," and "more harm." Ensure your understanding is accurate.

2. *Seek alternative paths*: Explore unconventional solutions or compromise between options.

3. *Take a temporary pause*: Stop and reassess, but don't consider it a permanent solution.

4. *Consult wisdom*: Seek guidance from trusted mentors, experts, or spiritual leaders.

*Philosophical Quotes:*

1. "The only true wisdom is in knowing you know nothing." - Socrates (Encourages humility and re-evaluation)
2. "The greatest harm can come from the best intentions." - Sophocles (Warns against unintended consequences)
3. "The whole is more than the sum of its parts." - Aristotle (Suggests considering the broader context)

*Actionable Advice:*

1. Clarify your values and priorities.
2. Gather more information to better understand the situation.
3. Consider seeking advice from multiple perspectives.
4. Take small, incremental steps to test potential solutions.

10/10/2024

*خلیفہ ھارون رشید کا دور تھا،،،*

*مدارس اجاڑ ہونے لگے۔۔۔*

*خلیفہ نے قاضی القضاۃ سے کہا:*
**کیا سبب ہے کہ مدارس و معالم کی طرف عوام کا رحجان کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے؟*

*قاضی صاحب نے جواب دیا،*
*اگلے سال جواب دوں گا…*

*خلیفہ تڑپ کر بولے:* *سوال ابھی اور جواب سال بعد؟*
*سمجھ نہیں آئی بات!*

*قاضی صاحب نے فرمایا:*
*ہر سوال کی نوعیت مختلف ہوتی ہے یہ ایسا سوال ئے جس کے جواب میں سال لگ جائے گا۔۔۔*

*وقت گزرنے لگا اگلی عید آ گئی،*
*عید کی امامت کے فرائض قاضی صاحب ادا کیا کرتے
تھے۔۔۔*
*عوام و خواص سبھی عید کے دن عید گاہ پہنچ گئے، مگر قاضی صاحب تشریف نہیں لائے۔۔۔*

*قاضی صاحب کو لینے کے لئے سرکاری نمائندے پہنچے، مگر قاضی صاحب نے انکار کر دیا کہ وہ عید کی نماز نہیں پڑھائیں گے۔۔۔*

*نمائندگان و کار پردازگان کے اصرار و منت سماجت پر قاضی صاحب نے فرمایا کہ:*
*میں پالکی میں جاؤں گا، مزید یہ کہ پالکی بھی خلیفہ وقت اٹھانے کے لئے آئے۔۔۔*
*وزراء و نمائندگان ششدر و انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ کیسا غیر معقول مطالبہ ہے،*
*مگر قاضی صاحب ڈٹے رہے۔۔۔*

*مجبوراََ خلیفہ کو اطلاع دی گئی۔۔۔*
*خلیفہ علم و علماء دوست انسان تھے۔۔۔*

*خود چل کر آ گئے قاضی صاحب تشریف لائے عید کی نماز ہو گئی۔۔۔*

*وقت گزر گیا، لیکن عید کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ خلیفہ پھر حاضر ہوئے اور کہا:*

*قاضی صاحب مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے، بٹھانے کے لئے چٹائیاں بھی کم پڑ گئی ہیں، اور وزراء اور ارکان سلطنت کے بچے بھی چٹائیوں پر بیٹھے علم حاصل کر رہے ہیں۔۔۔*

*قاضی صاحب نے فرمایا:*

*آپ کے سوال کا جواب مل گیا؟*
*خلیفہ بولے:*
*کون سا سوال اور کون سا جواب؟*
*قاضی صاحب بولے:*
*آپ نے کہا تھا، کہ مدارس میں طلبہ کیوں نہیں آتے؟*

*خلیفہ بولے:*
*جواب کیا ہے؟*

*قاضی صاحب نے کہا:*
*آپ حاکم وقت ہیں، آپ نے ایک بار صاحب علم امام کو عزت دی ہے، تو مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اتنے آ گئے، کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی، اگر اسی طرح ارباب علم و فضل کی توقیر کرو گے، تو تبھی لوگ علم کی طرف آئیں گے۔۔۔*

*اس واقعہ کے بر عکس میرے ملک خداداد پاکستان میں ہیرو یا تو کھلنڈرے ہیں یا فلمی
اداکار (جنھیں اچھے وقتوں میں کنجر کہا جاتا تھا) یہاں ڈاکٹر قدیر خان جیسے اصلی ہیرو کو جب عزت دینے کا وقت آیا تو پسِ زنداں ڈال دیا گیا اور ان کی آخری زندگی فُٹ پاتھوں کی نظر ہو گئی۔۔۔*

*یہاں مدارس کے علماء و آئمہ اور وارثانِ علمِ نبوت کو سپیکروں کے جھوٹے مقدمات میں چوروں کے ساتھ ھتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں،،،*
*حق مانگنے پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، اوباشوں اور بدمعاشوں سے ان پر بدترین سلوک کروایا جاتا ہے۔۔۔*

*آج تک کسی طالب علم کو انٹر نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے پر کوئی شاھی
پروٹوکول نہیں دیا گیا،*
*کروڑوں روپے کی برسات فقط ایک نیزہ پھینکنے والے پر کر دی جاتی ہے اور فل شاھی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔۔۔*

*جبکہ اس کے مقابلے میں کتنے طلبہ نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر کسی حاکم وقت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔*

*جب ملک وملت کی خدمت پر رسوائی ملے،*

*علم کے وارثوں کی بے توقیری ہو گی،*

*جب اچھا ناچنے والوں کو ہیرو اور ہیروئن قرار دے کر قومی سطح کے اعزازات و ایوارڈز سے نوازا جائے گا،*
*جب ملک کو ایٹمی پاور بنانے والے بےنام کر دیئے جائیں گے، تو میرے ملک میں گویے (مراثی، بھانڈ کنجر) اور کھلنڈرے تو پیدا ہو سکتے ھیں، مگر کوئی غزالی، کوئی رازی، کوئی بوعلی سینا، کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان، کوئی طارق بن زید، کوئی خالد بن ولید، کوئی ٹیپو سلطان، کوئی میجر عزیز بھٹی، کوئی امام بخاری، امام مسلم، ابن تیمیہ پیدا نہیں ہو گا۔۔۔*

*اگر کسی کی سمجھ میں آ جاۓ تو پلٹ آئیں اپنے ماضی کی طرف، اپنے روشن مستقبل کی طرف۔۔۔*
*ہمارا مستقبل تعلیم میں ہے، تقدس میں ہے، حیا اور عفت و پاکدامنی اور غیرت و حمیت میں ہے، اپنے اصلی ہیروز کو پہچانیں، ان کی قدر کر لیں ورنہ۔۔۔*
*تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں،،، Copied

10/10/2024

زندگی کے ابتداء کی کیمسٹری
تحریر: ڈاکٹر عاکف خان

اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نظریہ ارتقاء اور زندگی کی ابتداء ایک ہی نظریہ ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ نظریہ ارتقاء زندگی کی ابتداء نہیں، ارتقاء کی وضاحت کرتا ہے۔

جبکہ زندگی کی بنیاد پروٹینز اور ڈی این ہے سے ہوئی ہے جو کہ چند بنیادی مالیکیولز پر مبنی ہوتے ہیں جنہیں امینو ایسڈز (amino acids) کہا جاتا ہے۔ انہی سے پروٹینز بنتے ہیں جو کہ اس جاندار سیل کے باقی اعضاء جیسے سیل وال، مائٹو کانڈریا وغیرہ بناتے ہیں۔

ان امینو ایسڈز یا جاندار آرگانک مالیکیولز کو لیبارٹری میں قدرتی کنڈیشنز میں بے جان ان آرگانک مالیکیولز (کاربن ڈائی آکسائیڈ، ہائیڈروجن، نائٹروج، میتھین، سلفر اور پانی) سےکئی دہائیاں قبل بنایا جا چکا ہے۔ اس تجربے کا نام ملر ارے تجربہ (Miller-Urey Experiment) ہے جسے بعد میں بھی کئی دفعہ بہتر طریقے سے مزید امینو ایسڈز بنانے کے لیے ریپیٹ بھی کیا گیا ہے۔

یہ تجربہ سٹینلے ملر نے نوبیل لاریٹ ہیرولڈ ارے کے ساتھ مل کر انیس سو باون میں یونیورسٹی آف شگاگو میں کیا۔ یہی تجربہ کینیتھ وائلڈ نے بھی انیس سو باون میں الگ سے آزادانہ طور پر کیا۔ دلچسپ طور پر جب اسی تجربے کے مواد کا انیس سو ننانوے میں دوبارہ تجزیہ کیا گیا تو جدید آلات اور ٹیکنالوجی (گیس کرومیٹوگرافی اور ماس سپیکٹرومیٹری) نے تقریبا پچاس سال بعد بتایا کہ اس مواد میں ملر ارے کےپائے گئے امینو ایسڈز سے زیادہ امینو ایسڈز موجود ہیں۔ چونکہ اس وقت ٹیکنالوجی ایڈوانس نہیں تھی اور انہوں نے پیپر کروپیٹوگرافی سے امینو ایسڈ ڈیٹیکٹ کیے تھے تو کم ہی ڈیٹیکٹ ہو سکے تھے۔

اس تجربے میں بنیادی ان آرگانک مالیکیولز کو آرگانک مالیکیولز میں زمین کے ابتدائی حالات کے اندر تعامل سے بنایا گیا ہے۔

اس تجربے کا ثبوت بھی اس طرح مل چکا ہے کہ آسٹریلیا میں انیس سو انسٹھ میں گرنے والے مرچیسن میٹرائٹ (Murchison Meteroite) میں ملر ارے کے تجربے والی ڈسٹری بیوشن کے امینو ایسڈز ہی پائے گئے۔ یعنی ہمارے نظام شمسی میں جہاں جہاں زمین کے ابتدائی دنوں کے حالات پائے جاتے ہیں، وہاں ابھی بھی اس طرح کے زندگی کے بنیادی مالیکیولز بننے کا عمل جاری ہے۔ مگر سخت حالات کی وجہ سے وہ آگے ڈی این اے آر این اے وغیرہ میں کنورٹ نہیں ہو پاتے۔

اس وقت بھی دنیا میں کئی سائنسدان معمولی ان آرگانک مالیکیولز سے آرگانک مالیکیولز بنانے کی ریسرچ پر کام کر رہے ہیں۔ میری اپنی ریسرچ اور لیب میں ہم ہائڈروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن، امونیا، نائٹروجن آکسائیڈ وغیرہ سے پیچیدہ آرگانک مالیکول جیسے میتھانول، فارمیٹ، ایتھانول، ایتھائلین، لانگ چین آرگانک مالیکیولز اور یوریا وغیرہ روزانہ کی بنیاد پر بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ میری ریسرچ میں بائیوممیٹکس یعنی بائیولیجکیل مالیکیولز کی نقل بنانا بھی شامل ہے۔ ہم آرٹیفیشل ان آرگانک اینزائمز بناتے رہے ہیں اور حال ہی میں ہم نے آرٹیفیشل ان آرگانک وائٹ بلڈ سیل (میکروفیج) بنایا ہے جو ریسرچ جلد ہی شائع ہو گی۔

اسی لیے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں کئی سیارے زمین جیسے ہیں جن میں سے کئی ہزار ہم دریافت کر بھی چکے ہیں اور وہاں زندگی کا پایا جانا عین ممکن ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وہاں زندگی کا ارتقاء کسی اور طریقے سے ہو۔ ہو سکتا ہے وہ لائف ان آرگانک ہو۔ ہو سکتا ہے وہ کاربن بیسڈ کے بجائے سیلیکون بیسڈ ہو۔ ہو سکتا ہے وہاں انسانی شعور ابھی نہ آیا ہو۔ ہو سکتا ہے آ گیا ہو اور ہم سے بھی زیادہ ذہین مخلوقات بن چکی ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئی کانشیئس ذہین مخلوقات موجود ہوں۔

چونکہ کائنات بہت بڑی ہے اور ستارے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں تو ابھی یہ جاننا بہت مشکل ہے۔ اندازہ لگائیں کہ ہمیں اپنے سب سے قریبی ستارے پر جانے میں بھی چار سال لگیں گے اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں، موجودہ ٹیکنالوجی سے ہمیں اس ستارے تک میں کئی ہزار سال لگ سکتے ہیں۔ اور کھربوں کہکشاوں میں سے صرف ہماری درمیانے سائز کی کہکشاں میں سو سے چار سو ارب ستارے موجود ہیں۔

اکثر اوقات ہمیں علم نہیں ہوتا جو چیزیں پہلے سے موجود ہیں ان کا بھی اور ہم دعوی کر دیتے ہیں کہ ایسا کوئی تجربہ کبھی ہوا ہی نہیں۔ اسی لیے ذہن کو وسیع رکھنا ضروری ہے اور کوئی بھی مفروضہ قائم کرنے سے پہلے اچھی طرح علم اور معلومات حاصل کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ copied

23/09/2024

The Princess and the Three Riddles

Once upon a time, in a kingdom surrounded by high mountains and deep forests, there lived a young princess named Angelique. She had long, golden hair and bright blue eyes that sparkled like the stars. Her kingdom was peaceful and beautiful, but a dark curse had fallen upon it. The once lively fields were now dull, and the rivers flowed slowly, as if tired. The villagers whispered about a magical garden that could only bloom under the full moon, hidden deep in the forest. Many believed that the garden held the key to breaking the curse, but no one had ever found it.

One evening, as the full moon rose high in the sky, Princess Angelique decided to go on an adventure. She felt a strange pull toward the forest, as if something was calling her. Wrapping herself in a silver cloak, she quietly slipped out of the castle gates and followed the light of the moon.

As she wandered deeper into the woods, she heard the soft sound of leaves rustling and water gently flowing. Suddenly, she came across a hidden path lined with glowing flowers. Their petals shimmered in the moonlight, lighting her way. Angelique’s heart raced with excitement. She followed the path until she reached a high stone wall covered in ivy. In the center of the wall was an old wooden door, carved with strange symbols.

Curious, she touched the door, and it slowly creaked open. Inside was the most beautiful garden she had ever seen. Trees with silver leaves stood tall, their branches heavy with glowing fruit. Flowers of every color bloomed in the soft light of the moon, their fragrance filling the air. At the center of the garden was a fountain made of crystal, its water sparkling like diamonds.

Angelique stepped closer, her eyes wide with wonder. But then, she noticed something strange. There were no animals or birds in the garden. It was too quiet. She knelt by the fountain and touched the water, only to see ripples form into words. The words read:

"The curse shall break when the moon is full,
Find the heart that grows still,
Three riddles to be told,
Before the garden turns cold."

Suddenly, a soft voice spoke from behind her. "You are not the first to enter, Princess."

Angelique spun around to see an old woman standing at the edge of the garden. She was dressed in a cloak of deep green, and her eyes twinkled with wisdom.

"Who are you?" Angelique asked, her voice trembling slightly.

"I am the guardian of this garden," the woman replied. "And you, young princess, have come to break the curse. But it will not be easy. You must solve three riddles before the garden fades with the moonlight."

Angelique nodded bravely. "I will do whatever it takes to save my kingdom."

The old woman smiled and asked the first riddle.

"I speak without a mouth and hear without ears. I have no body, but I come alive with the wind. What am I?"

Angelique thought for a moment, then smiled. "You are an echo."

The woman nodded. "Very good, Princess. But there are two more to go." She raised her hand and asked the second riddle.

"I am seen in the water but never wet. I am there in the day and gone by night. What am I?"

Angelique gazed into the fountain, watching the reflection of the moon. "A reflection," she answered confidently.

"Well done," the old woman said, her smile growing wider. "But the last riddle is the hardest."

With a wave of her hand, the garden grew darker as the moon started to sink lower in the sky. The old woman asked the final riddle.

"I am not alive, but I can grow. I do not breathe, but I can die. What am I?"

Angelique's heart pounded as she looked around the garden. The trees, the flowers, the fountain—everything was alive in its own way. But then, her eyes fell on a small flower growing near the fountain, its petals drooping.

"A heart," Angelique whispered. "It can grow with love, and it can die without it."

The old woman’s eyes sparkled. "You have answered all the riddles, Princess. The curse is broken."

As soon as the words left her lips, the garden burst into life. Birds began to sing, animals appeared from the trees, and the once still air filled with the sweet sound of life returning. The fountain glowed brighter, and the garden bloomed with even more colors than before.

Angelique smiled, feeling the weight of the curse lifting from her kingdom. The old woman stepped forward and placed a small crystal flower in Angelique’s hand.

"Take this as a reminder of your courage," she said softly. "Your kingdom will now flourish, and the garden will bloom forever."

With a grateful heart, Angelique returned to her castle. When the villagers saw her return, they cheered with joy, for the curse had been lifted. The fields turned green again, and the rivers flowed strong and clear. The kingdom was alive once more.

From that day on, Princess Angelique was known as the brave princess who found the magical garden and saved her kingdom. And every full moon, the garden would bloom, a beautiful reminder of the magic that lay hidden in the heart of the forest.

And so, the kingdom lived happily ever after.

17/09/2024

نصیحت:
اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے...

[نظرانداز کرنا - مارنا - ذلیل کرنا] آج کل شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ یہ سلوک ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو بیشتر گھروں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ شوہر باہر ہنستا ہے، دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، خوش رہتا ہے، لیکن جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے یا بیوی سے بات کرتا ہے، تو اسے بیوی کی موجودگی بوجھ لگتی ہے اور وہ اچانک ایک بور انسان بن جاتا ہے جو بیوی سے عزت کے ساتھ بات بھی نہیں کر سکتا، بلکہ اس کی قدر کو کم کرتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح مردانگی دکھا رہا ہے۔ نہیں، بھائی، خبردار رہو...

عورت شادی کرکے اس لیے تمہارے گھر نہیں آئی کہ وہ اپنے والد کے گھر بھوکی تھی کہ تم اسے کھلاؤ گے، اور نہ وہ اپنے والد کے گھر ننگی تھی کہ تم اسے لباس دو گے۔

کچھ عورتیں اپنے والد کے گھر تمہارے گھر سے زیادہ عزت والی ہوتی ہیں، اور تمہارے گھر سے زیادہ دولت مند ہوتی ہیں، اور ان کا والد کا گھر تمہارے گھر سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔بہت سکوں ہوتا ہے باپ کے گھر مگر پھر بھی وہ اللّه کا حکم مانتے ہووے آپکے نکاح میں آتی ہے ۔* تمہارے ساتھ ایک نیا خاندان بنانے ، وہ چاہتی ہے تو صرف:*

توجہ

محبت

رحم دلی

شفقت اور ہمدردی

تحفظ

اور محبت...

اگر اسے یہ سب اپنے شوہر کے گھر میں نہ ملا، تو وہ گھر اس کے لیے ایک قید خانہ بن جاتا ہے 🚫

وہ تمہاری بیوی ہے، تمہاری محبوبہ ہے، تمہارے بچوں کی ماں ہے، اور تمہاری زندگی کی ساتھی ہے۔ اس پر سختی نہ کرو...

اس کے ساتھ بھلے طریقے سے پیش آؤ ❤

15/09/2024

I gained 24 followers, created 9 posts and received 7 reactions in the past 90 days! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Deans Trade Center
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 05:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 14:15 - 20:00
Saturday 09:00 - 17:00