Beautiful ❤️❤️
I love Allah
I Love Muslims
(اصلاح نفس کے چار اصول ہیں)
(1):مشارطہ
اپنے نفس کیساتھ شرط لگانا کہ گناہ نہیں کروں گا
(2):مراقبہ
کہ آج گناہ تو نہیں کیا
(3):محاسبہ
کہ اپنا حساب کرے کہ کتنے گناہ کئے اور کتنی نیکیاں کیں
(4):مواخذه
کہ نفس نے دن میں جو نافرمانیاں کیں ہیں اس کو ان کی سزا دینا اور وہ سزا یہ ھے کہ اس پر عبادت کا بوجھ ڈالے
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلومعلوم میں فرماتے ہیں کہ
(1):هر صبح نفس کے ساتھ شرط لگائی جائے کہ آج دن بھر گناه نہیں کروں گا
(2):دن بھر اپنی نگرانی رهے کہ گناه نہ هوجائے
(3):رات کو سونے سے پہلے تنہائی میں دن بھر کا جائزه لیا جائے کہ کیا غلط هوا اور کیا اچها هوا
(4):جو غلط هوا اس پر شرمندگی کے ساتھ استغفار کرلے اور جو اچها کیا اس پر خوب اللہ تعالیٰ کا شکر کرے
23/06/2022
#جواب
قسطوں پر کاروبار اگر مندرجہ ذیل شرائط کے مطابق ہوتو وہ فقہاء کی تصریح کے مطابق جائز ہےاور شرائط پائے جانے کی صورت میں جو نفع حاصل ہوتا ہےوہ جائز ہےاوراس پرسودکی تعریف صادق نہیں آتی بشرطیکہ مزید کوئی شرط ِفاسد نہ لگائی جائے، اور اس کےجائزہونےکی شرائط یہ ہیں:
(۱)جائز اور حلال اشیاء کا کاروبار ہو۔
(۲)مجلسِ عقد میں مبیع کی پوری قیمت طئے کرلی جائے۔
(۳) قسطیں متعیّن کرلی جائیں۔
(۴)قیمت ادا کرنے کی مدّت متعیّن کرلی جائے۔
(۵)۔۔۔فروخت کرنے والاجس چیز کوفروخت کررہااس کاخودمالک ہواورخریدنےوالےکوسپرد کرنےمیں کوئی رکاوٹ نہ ہو،اوراگروہ خودمالک نہیں ہےتوایسی صورت میں آگےفروخت کرنا جائز نہیں، البتہ فروخت کرنے کاوعدہ کرسکتاہے،اورجب اس چیز کاخود مالک بن جائےتواس وقت سابقہ وعدہ کے مطابق اسےفروخت کرسکتاہے۔
(۶)واپسی کی مدت کے اندر اندر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں خریدار پر مالی جرمانہ،یا اس سے کسی قسم کی مزید رقم کا مطالبہ نہ کیا جائے،کیونکہ یہ سود میں داخل ہے۔
مذکورہ بالا شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگرکوئی شخص قسطوں پرکاروبارکرےاورادھار دینے کی وجہ سے بازاری قیمت سے زیادہ قیمت مقرّر کرے جو کہ مشتری کےعلم میں بھی ہوتو باہمی رضامندی سے یہ جائز ہے، اور ادھار کی وجہ سے بازاری قیمت سے زائد قیمت طئے کرلینا سود میں داخل نہیں ہے بشرطیکہ وہ چیز دوبارہ بائع(فروخت کنندہ)یااس کےکاروباری شریک کوبیچنا مشروط نہ ہو۔البتہ مشتری(خریدنےوالا)اگر چاہے توقسطوں کی ادائیگی سےپہلےبائع کےعلاوہ کسی تیسرےفردکو فروخت کرسکتاہےجوبائع کانہ تووکیل ہواورنہ ہی کاروباری شریک ہو۔
=============
سنن الترمذى - (5 / 7)
حدثنا هناد حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة... وقد فسر بعض أهل العلم قالوا بيعتين في بيعة أن يقول أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيئة بعشرين ولا يفارقه على أحد البيعين فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما
=============
الهداية شرح البداية - (3 / 22)
قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى{ وأحل الله البيع } وعنه عليه الصلاة والسلام أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه ولا بد أن يكون الأجل معلوما
=============
الفقه الإسلامي وأدلته - (5 / 147)
أجاز الشافعية والحنفية والمالكية والحنابلة وزيد بن علي والمؤيد بالله والجمهور: بيع الشيء في الحال لأجل أو بالتقسيط بأكثر من ثمنه النقدي إذا كان العقد مستقلاً بهذا النحو، ولم يكن فيه جهالة بصفقة أو بيعة من صفقتين أو بيعتين، حتى لايكون بيعتان في بيعة.
=============
الفقه الإسلامي وأدلته - (5 / 148)
والواقع يختلف البيع لأجل أو بالتقسيط عن الربا، وإن وجد تشابه بينهما في كون سعر الأجل أو التقسيط في مقابل الأجل، ووجه الفرق أن الله أحل البيع لحاجة، وحرَّم الربا بسبب كون الزيادة متمحضة للأجل. ولأن الربا أي الزيادة من جنس ماأعطاه أحد المتعاملين مقابل الأجل، كبيع صاع حنطة مثلاً في الحال بصاع ونصف يدفعان بعد أجل، أو إقراض ألف درهم مثلاً على أن يسدد القرض ألفاً ومئة درهم. أما في البيع لأجل أو بالتقسيط فالمبيع سلعة قيمتها الآن ألف، وألف ومئة بعد أشهر مثلاً، وهذا ليس من الربا، بل هو نوع من التسامح في البيع
=============
بدائع الصنائع - (11 / 247)
( منها ) أن يكون الأجل معلوما في بيع فيه أجل فإن كان مجهولا يفسد البيع سواء كانت الجهالة متفاحشة : كهبوب الريح ، ومطر السماء ، وقدوم فلان ، وموته ، والميسرة ، ونحو ذلك ، أو متقاربة : كالحصاد ، والدياس ، والنيروز ، والمهرجان ، وقدوم الحاج ، وخروجهم ، والجذاذ ، والجزار ، والقطاف ، والميلاد ، وصوم النصارى ، وفطرهم قبل دخولهم في صومهم ، ونحو ذلك.
=============
المبسوط للسرخسي - (13 / 7)
وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد...وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد
=============
حاشية ابن عابدين - (5 / 142)
ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا
=============
البحر الرائق - (16 / 221)
لأن للأجل شبها بالمبيع ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل ، والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة
=============
فقه البيوع - المفتي محمد تقي عثماني - (1 / 555):
ولكن جواز التورق مشروط بان لا تكون هناك ملابسات اخري تفسد البيع مثل ان يشترط المشتري علي البائع الاول ان يبيع السلعة في السوق نيابة عنه فان هذا الشرط يفسد البيع
=============
بحوث في قضايا فقهية معاصرة - المفتي محمد تقي عثماني - (2/145):
وحاصل ما ذکرنا ان التورق عملية جائزة فی نفسها،...ولکن ما ذکرنا من جواز التورّق عند جمهور الفقهاء انما یتأتی فی التورّق الذي هو عبارة عن عمیلتین بسیطتین،احداهما شراء السلعة بالاجل و ثانیتهما بیعها فی السوق عاجلا
=============
واللہ تعالی اعلم بالصواب
Click here to claim your Sponsored Listing.