29/05/2026
انجینئر عتیق الرحمان ایک معروف ادبی و علمی شخصیت، ادیب، شاعر اور انجینئر ہیں۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی آف لاہور سے حاصل کی۔ ادب و شاعری کے میدان میں ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں جبکہ ان کی تحریروں میں فکری گہرائی اور فلسفیانہ انداز نمایاں نظر آتا ہے۔
انہوں نے گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فار ویمن پشاور کی پرنسپل ڈاکٹر شاہین عمر کی شخصیت اور علمی خدمات کے حوالے سے ایک جامع مضمون بھی تحریر کیا ہے، جو ذیل میں درج ہے۔
شام یہ شاہیں عمر کے نام ہے
نفسا نفسی اور سوشل میڈیا کے اس دور میں انسان کی وسعتِ فکر اس حد تک محدود ہو چکی ہے کہ لوگوں کی اکثریت ذات کے گنبدِ بے در میں محصور ہو کر تقریباً ان سوشل ہوچکی ہے۔ ایسے ماحول میں چند دلیر، باہمت اور روشن فکر شخصیات ہی ایسی دکھائی دیتی ہیں جو اپنی ذات کے حصار سے نکل کر انسانیت، علم اور معاشرتی شعور کے چراغ روشن رکھنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ ڈاکٹر شاہین عمر پشاور بلکہ خیبر پختونخوا کی ایسی ہی ایک نمایاں، متحرک اور باوقار علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ فرنٹیئر گرلز کالج کی پرنسپل کی ذمہ داری سنبھالنے سے پیشتر بھی وہ پشاور کے اہم کالجز میں درس و تدریس اور انتظامی امور سے وابستہ رہی ہیں ۔ ڈاکٹر شاہین عمر کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے تدریس کو محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ علم و ادب کی خدمت کا مقدس فریضہ سمجھا۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب، باصلاحیت اور باوقار استاد رہی ہیں بلکہ عملی طور تعلیمی اداروں کو ادبی، تہذیبی اور فکری سرگرمیوں سے زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ وہ جس کالج میں بھی گئیں علم ادب اور خوبصورت فکر کی بہار اپنے ساتھ لائیں ۔ نتیجتاً ذوق و آگہی کے پھول کھلتے نظر آئے۔
ڈاکٹر شاہین عمر کے تعلیمی و ادبی کارناموں میں ایک نمایاں اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ ادبی نشستوں، شعری محفلوں اور علمی تقریبات کے انعقاد کا ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ ان کے نزدیک یہ سرگرمیاں محض رسمی تقاضے نہیں بلکہ ایک وسیع وژن کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے طالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب، ثقافت، سماجی شعور اور عملی زندگی کے حقیقی مشاہدات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ وہ علم و ادب کو صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں سمجھتیں بلکہ اسے شخصیت سازی، فکری تربیت اور انسان دوستی کے فروغ کا مؤثر وسیلہ قرار دیتی ہیں۔
ہم نے ہمیشہ انہیں علمی و ادبی تقریبات میں نہایت خندہ پیشانی، محبت اور وقار کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کرتے اور تقریب کے بعد خوش اخلاقی اور احترام سے رخصت کرتے دیکھا ہے ۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، زندہ دلی اور خلوص کا ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو ہر ملنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ ان کی شخصیت میں انتظامی صلاحیت، ادبی ذوق اور انسانی اپنائیت ایک ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہا کہ زندہ دل اور خوش مزاج دکھائی دینے والی ڈاکٹر شاہین عمر کلاس میں طالبات کے ساتھ کس طرح پیش آتی ہیں۔ اس سوال کے درست جواب تو ان کی طالبات ہی دے سکتی ہیں کہ ہمیں تو براہ راست ان کی شاگردی کی سہولت میسر نہیں رہی ۔ البتہ ہمیں ان کی طالبات پر رشک ضرور آتا ہے۔
ادب سے ان کی گہری وابستگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ خود کو خواتین کی ناصر علی سید کہتی ہیں۔ یہ نسبت دراصل ان کے ادبی مزاج، شعری و فکری وابستگی اور علم و ثقافت سے والہانہ محبت کی عکاس ہے۔
ان جیسی شخصیات کسی بھی ادارے کا حقیقی وقار اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں، جو نسلوں کے اذہان کو روشن اور دلوں کو مہذب بنانے میں خاموش مگر گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔
آج ان کے ساتھ یہ خوبصورت علمی اور ادبی شام منانے اور ان کی علمی خدمات کے اعتراف کے حوالے سے کاروانِ حوا یقیناً داد و تحسین کی مستحق ہے ۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر شاہین عمر کی تمام مخلصانہ کاوشوں کو دنیا و آخرت میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں صحت، خوشی اور عزت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے تاکہ وہ اسی طرح نسلوں کی فکری و ادبی رہنمائی کرتی رہیں۔
آج کی شام کے حوالے سے تو ہم یہی کہیں گے
شام یہ شاہیں عمر کے نام ہے
اس حوالے سے جمع ہیں سب یہاں
آپ ہیں علم و ادب کی روشنی
روشنی کا معترف ہے اک جہاں
26/05/2026
23/05/2026
18/05/2026