18/04/2026
Atta Online Quran Academy
Education
18/04/2026
📖 **Online Quran Explore Academy** ✨ Learn Quran with Tajweed | Translation | Namaz | Masnoon Duas 🎓 Free 3-day trial classes available!
📱 WhatsApp contact: +92 3209337191
27/01/2026
ابو رافع یہودی کا قتل
رسول اللہﷺ نے ابورافع یہودی ( کے قتل ) کے لیے چند انصاری صحابہ کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔ یہ ابورافع نبی کریمﷺ کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ رہا کرتا تھا۔ جب اس کے قلعہ کے قریب یہ پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ اور لوگ اپنے مویشی لے کر ( اپنے گھروں کو ) واپس ہو چکے تھے۔ عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو میں ( اس قلعہ پر ) جا رہا ہوں اور دربان پر کوئی تدبیر کروں گا۔ تاکہ میں اندر جانے میں کامیاب ہوجاؤں۔ چنانچہ وہ ( قلعہ کے پاس ) آئے اور دروازے کے قریب پہنچ کر انہوں نے خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپا لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کر رہا ہو۔ قلعہ کے تمام آدمی اندر داخل ہو چکے تھے۔ دربان نے (اپنے لوگوں کو) آواز دی، اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلد آ جا، میں اب دروازہ بند کر دوں گا۔ ( عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے کہا ) چنانچہ میں بھی اندر چلا گیا اور چھپ کر اس کی کارروائی دیکھنے لگا۔ جب سب لوگ اندر آ گئے تو اس نے دروازہ بند کیا اور کنجیوں کا گچھا ایک کھونٹی پر لٹکا دیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اب میں ان کنجیوں کی طرف بڑھا اور میں نے انہیں لے لیا، پھر میں نے قلعہ کا دروازہ کھول لیا۔ ابورافع کے پاس رات کے وقت داستانیں بیان کی جا رہی تھیں اور وہ اپنے خاص بالاخانے میں تھا۔ جب داستان گو اس کے یہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو میں اس کمرے کی طرف چڑھنے لگا۔ میں جتنے دروازے اس تک پہنچنے کے لیے کھولتا تھا انہیں اندر سے بند کرتا جاتا تھا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اگر قلعہ والوں کو میرے متعلق علم بھی ہو جائے تو اس وقت تک یہ لوگ میرے پاس نہ پہنچ سکیں جب تک میں اسے قتل نہ کرلوں۔ آخر میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے بال بچوں کے ساتھ ( سو رہا ) تھا مجھے کچھ اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں ہے۔ اس لیے میں نے آواز دی، یا ابا رافع؟ وہ بولا کون ہے؟ اب میں نے آواز کی طرف بڑھ کر تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اس وقت میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہوئی کہ میں اس کا کام تمام نہیں کر سکا۔ وہ چیخا تو میں کمرے سے باہر نکل آیا اور تھوڑی دیر تک باہر ہی ٹھہرا رہا۔ پھر دوبارہ اندر گیا اور میں نے آواز بدل کر پوچھا، ابورافع! یہ آواز کیسی تھی؟ وہ بولا تیری ماں غارت ہو۔ ابھی ابھی مجھ پر کسی نے تلوار سے حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ( آواز کی طرف بڑھ کر ) میں نے تلوار کی ایک ضرب اور لگائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ اگرچہ میں اسے زخمی تو بہت کر چکا تھا لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ مجھے اب یقین ہو گیا کہ میں اسے قتل کر چکا ہوں۔ چنانچہ میں نے دروازے ایک ایک کر کے کھولنے شروع کئے۔ آخر میں ایک زینے پر پہنچا۔ میں یہ سمجھا کہ زمین تک میں پہنچ چکا ہوں ( لیکن ابھی میں پہنچا نہ تھا ) اس لیے میں نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور نیچے گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ اس طرح گرنے سے میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں نے اسے اپنے عمامہ سے باندھ لیا اور آ کر دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ معلوم کر لوں کہ آیا میں اسے قتل کر چکا ہوں یا نہیں؟ جب مرغ نے آواز دی تو اسی وقت قلعہ کی فصیل پر ایک پکارنے والے نے کھڑے ہو کر پکارا کہ میں اہل حجاز کے تاجر ابورافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ چلنے کی جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ابورافع کو قتل کرا دیا۔ چنانچہ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے پاؤں پھیلایا تو آپ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا اور پاؤں اتنا اچھا ہو گیا جیسے کبھی اس میں مجھ کو کوئی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔
واللہ اعلم بالصواب ۔غلطی کوتاہی اللہ پاک معاف فرمائے۔ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
(صحیح بخاری : 4039. 4040
*عقلی دلائل کا بادشاہ اج ھم میں سے نہیں رہا*
مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی صاحب
15/12/2025
اک تعلیم یافتہ انجنیئر جن کے انڈر 35 فیکٹریاں تھیں۔
سال 1990ء کے آس پاس ان کی روزانہ ایک لاکھ تنخواہ تھی۔
یہاں تک رپورٹ ہوا ہے کہ وہ ٹیکس بھی ایمانداری سے دیتے تھے۔
(ریفرنس: بیانات پیر صاحب)
پھر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فقیری کی دنیا میں کیسے چلے گے؟
ایسا کیا تھا کہ پاک و ہند کے ہزاروں علماء ان کی تقلید میں چل دیے۔
پھر علامہ اقبال کا کون سا کلام ان کے دل میں اتر گیا تھا؟
وہ یکم اپریل 1953ء کو جھنگ کھرل خاندان میں پیدا ہوئے۔
گھر میں دین کا ماحول ملا اور ذکر و عبادت عام تھی۔
سال 1972ء میں انہوں نے BSC الیکٹریکل انجیئرنگ کی۔
مزید تعلیم UET Lahore سے حاصل کی تھی۔
چیف انجیئر بننے کے دوران وہ فٹبال،سوئمننگ کے کیپٹن بھی رہے۔
انہوں نے تعلیم و کھیلوں کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
(ریفرنس: آن لائن ویب: کمزور شواہد)
کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ لاہور یونیورسٹی تھا۔
جہاں انہوں نے مولانا سید زوار حسین رح اللہ سے ملاقات کی۔
وہیں انہوں نے مجدد الف ثانی کے مکتوبات بھی پڑھے۔
سال 2013/14 میں دنیا بھر کے بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست جاری کی گی۔ ان 500 Most Powerfulمسلم میں پیر صاحب کو بھی ان لسٹ کیا گیا۔
کتاب کے مطابق:
"شیخ صاحب نقشبندی مجددی صوفی سلسلہ کے شیخ ہیں۔
ان کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
ان کے بے شمار مریدین میں علماء بھی ہیں۔
پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریکل انجینئر رہ چکے ہیں۔"
(صفحات نمبر: 133-134)
موجودہ ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 140 سے اوپر کتب لکھی ہیں۔
ان کی چند مشہور تصانیف درج زیل ہیں:
1): خطباتِ فقیر
2): باادب بانصیب
3): تمنائے دل
4): زادِ حرم
5): قرآن مجید کے ادبی اسرار و رموز
جب وہ پلاننگ اینڈ ڈولیپ منٹ کے ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ رہے تھے۔
انہوں نے خود سے پرامس کر رکھا تھا۔
جیسے ہی 40 سال کے ہوں گے۔
تو دنیا کی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لینی ہے۔
پھر بغیر کسی حیل و حجت کے اس وعدہ کووفا بھی کیا۔
اک بار اک کمشنر نے مدارس کے طلباء پہ سرزنش کی۔
ان کے مطابق یہ نکمے اور ناکارہ ہوتے ہیں۔
جس پہ پیر صاحب نے کہا: (مفہوم)
"دنیا جہان کے معاملات دیکھ کر جب اللہ اپنی ناراضگی دکھاتے۔
تب کوئی طالبعلم اللہ کا نام لیتا ہے تو رب ِکریم کو پیار آتا ہے۔
یوں ان طلباء کی وجہ سے آپ پہ کرم ہے۔
ان کی قدر کیجیے۔"
اک بیان میں کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کا یہ رباعی انتہائی بامعنی ہے۔
(اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا فیورٹ بھی تھا):
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفے پنہاں بگیر
ان اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
اے اللّٰہ بے شک تُو تمام جہانوں سے غنی ہے۔
بے شک میں فقیر ہوں۔
بس تو قیامت والے دن میری ایک درخوست قبول کر لینا۔
اگر وہاں میرا حساب لینا لازمی ہی ہو جائے۔
تو مجھے نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سامنے رسوا نہ کرنا۔
اور ان کی نظروں سے چھپا کر حساب لینا
اکثر تزکیہِ نفس، وظائف اور عبادات کی تلقین کیا کرتے تھے۔
آج پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔
نماز جنازہ 15 دسمبر سوموار دوپہر 2 بجے جھنگ میں ادا کیا جائے گا۔
آپ کو پیر صاحب سے کیسی نسبت ہے؟
اور ان کی کون سی بات نے انسپائرڈ کیا.......?
یقیناً دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
25000