𝗡𝗲𝘇𝗮𝗺𝗶 𝗡𝗲𝘅𝘂𝘀

𝗡𝗲𝘇𝗮𝗺𝗶 𝗡𝗲𝘅𝘂𝘀 𝗜𝗥 || 𝗚𝗲𝗼-𝗽𝗼𝗹𝗶𝘁𝗶𝗰𝘀 || 𝗛𝗶𝘀𝘁𝗼𝗿𝘆.
𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 & 𝗖𝘂𝗿𝗿𝗲𝗻𝘁 𝗜𝘀𝘀𝘂𝗲𝘀..🗣️✊🏻
𝗦𝗰𝗶𝗲𝗻𝗰𝗲 ll 𝗥𝗲𝗹𝗶𝗴𝗶𝗼𝗻 & 𝗯𝗲𝘆𝗼𝗻𝗱.
𝗧𝗼 𝘀𝗼𝗹𝘃𝗲 𝗰𝗼𝗺𝗽𝗹𝗲𝘅 𝗜𝘀𝘀𝘂𝗲𝘀 𝗶𝗻 𝘀𝗶𝗺𝗽𝗹𝗲 𝘄𝗼𝗿𝗱𝘀.
𝐖𝐫𝐢𝐭𝐞𝐫: 𝐍𝐞𝐳𝐚𝐦𝐢✍️

25/08/2026

The Gap Between Knowledge and Understanding

Have you ever wondered why, in an age of unlimited information, we are gradually losing our ability to truly understand?

Firstly, let me tell you that, true understanding comes from exploration, practice, and experience, not from memorization.

Actually, the world we are living in right now is filled with an enormous number of sources of information. People have access to thousands, even millions, of sources of knowledge, and because of this abundance, they are often confused about what is actually right and what is actually wrong. In the past, there were only a limited number of sources through which people could gain knowledge. Today, information is everywhere, but genuine understanding is becoming increasingly difficult.

People are learning, reading, memorizing, and consuming information through different platforms, including various kinds of chatbots, ChatGPT, and other digital sources. But the problem is that they are learning without experiencing. They are gaining information without putting that information into practice. There is a serious lack of practical learning.

And this is where the gap between theory and practice is continuously growing. People are reading more, learning more, theorizing more, and memorizing more than ever before, while actual practice is becoming less and less. The more information we consume, the more we seem to move away from experiencing and applying what we have learned.

As a result, people's ability to think independently, comprehend deeply, and practically perform or apply what they know is gradually becoming weaker. We are producing people who can remember information, but not necessarily people who can understand it, challenge it, apply it, or demonstrate it in real-life situations.

That's why we see so many writers today who can produce impressive essays, use sophisticated vocabulary, and write academically polished pieces. But when you actually sit with them and have a serious academic conversation, many struggle to explain, defend, or practically demonstrate what they have written. Their theoretical knowledge may look impressive on paper, but it does not always translate into practical understanding.

And that's exactly the problem in our society, there is an increasing abundance of information, but a decreasing depth of understanding. There is more learning, but less experience, more memorization, but less comprehension, more theory, but less practice.

Ultimately, knowledge is not about knowing more. Real knowledge is about understanding what you know, questioning it, experiencing it, and being able to apply it when it actually matters.
✍️

24/08/2026

ترکیہ کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑے مخالف کے ساتھ بھی کشیدگی یا جنگ کے دوران اپنے Economic Interests کو مکمل طور پر داؤ پر نہیں لگاتا۔ ترکیہ جذباتی نعروں کے بجائے عملی اور حقیقت پسندانہ پالیسی پر زیادہ توجہ دیتا ہے، جہاں Geopolitical Interests کے ساتھ ساتھ Geo-economic Interests کا بھی تحفظ کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتے ہی اکثر تجارت اور بارڈر بندش جیسے اقدامات سامنے آ جاتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے معاشی مفادات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ترکیہ کا طریقۂ کار اس سے مختلف ہے؛ وہ سیاسی یا عسکری اختلافات کے باوجود اپنے معاشی مفادات کے راستے مکمل طور پر بند نہیں کرتا۔

چین بھی بڑی حد تک اسی Pragmatic Foreign Policy کی مثال پیش کرتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں شدید سفارتی اور اسٹریٹجک اختلافات کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات اور Economic Interests کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے۔
#نظامی✍️

24/08/2026

"یہ انسانوں کا ایک دائمی مسئلہ ہے کہ: جب ہم نہیں بولتے اور خاموش رہتے ہیں تو ہم دکھی ہوجاتے ہیں۔ اور جب ہم بولتے ہیں تو ہم صرف دوسروں کی باتوں پر تنقید کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کے لیے ہی گفتگو کرتے ہیں۔"

-جوس ساراماگو
مترجم: Musa Pasha

23/08/2026

Stay true to your perspective, even if people don't love it. Most people prefer comforting illusions over uncomfortable truths. They will often pressure you to think, speak, and live according to their expectations. But if you constantly follow others, you gradually lose your originality.

The moment you begin filtering your thoughts to please everyone else, you start losing yourself. Your perspective is part of your identity, protect it, refine it, and never surrender it simply to gain approval.
✍️

Same conclusion, completely different mood.Maybe freedom begins when you stop demanding that life arrive with a predefin...
23/08/2026

Same conclusion, completely different mood.
Maybe freedom begins when you stop demanding that life arrive with a predefined meaning.

22/08/2026

اگر سویلین رہنما فوجی قیادت سے ڈیل کر سکتے ہیں، تو پھر ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟ کیا سیاسی جماعتیں مل کر اس چکر کو توڑ نہیں سکتیں، جہاں فوجی قیادت کبھی ایک جماعت کو قریب اور دوسری کو دور کرتی ہے، اور پھر وقت بدلنے پر یہی رویہ الٹ جاتا ہے؟
#نظامی✍️

بھارتی سیاست میں نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے سیاسی رویّوں نے ایک نئے political Trends کو جنم دیا ہے۔ابھی  "Dimagi Naxal Par...
22/08/2026

بھارتی سیاست میں نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے سیاسی رویّوں نے ایک نئے political Trends کو جنم دیا ہے۔ابھی "Dimagi Naxal Party" ایک دلچسپ سیاسی علامت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس کا ظہور 15 اگست کو نریندر مودی کی تقریر میں "دما غی نکسل" کی اصطلاح استعمال کیے جانے کے فوراً بعد ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ اس کا نعرہ "Think | Research | Resist" ہے اور یہ خود کو بھگت سنگھ کے فکری ورثے سے بھی جوڑتا ہے۔

مودی نے جس اصطلاح کو ایک سیاسی اور نظریاتی خطرے کے طور پر پیش کیا، نوجوانوں کے ایک حصے نے اسی اصطلاح کو اپنی سیاسی شناخت، طنز اور مزاحمت کا ذریعہ بنا لیا۔ یعنی جس لفظ کے ذریعے ایک مخصوص سیاسی سوچ کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کی گئی، اسی لفظ کو نوجوانوں نے اپنے پلیٹ فارم کا نام بنا کر اس کے معنی ہی بدل دیے۔

یہ مزاح سے زیادہ سیاسی زبان کی جنگ ہے۔ جب طاقتور حلقے کسی گروہ یا اختلافی سوچ کو ایک مخصوص label دیتے ہیں تو نئی نسل اسی لیبل کو واپس لے کر اسے مزاحمت کی علامت بنا سکتی ہے۔

یہ رجحان Cockroach Janta Party جیسے طنزیہ سیاسی تجربات کے بعد شروع ہوا ہے، نوجوانوں نے طنز، سوشل میڈیا اور Digital Identity کو سیاسی اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے نوجوانوں کو سیاسی نام اور لیبل دیے جاتے تھے، اب نوجوان انہی ناموں اور لیبلز کو اپنے ہاتھ میں لے کر ان کا مطلب خود متعین کر رہے ہیں۔ یہ Gen Z کی سیاست کا ایک نیا انداز ہے، روایتی جماعت بنانے سے پہلے meme، طنز، سوشل میڈیا اور اجتماعی ڈیجیٹل شناخت سیاسی طاقت پیدا کرتے ہیں۔

مودی کی سیاست کی ایک بڑی طاقت بیانیہ سازی رہی ہے، لیکن نئی نسل اس بیانیے کو صرف قبول کرنے کے بجائے اسے سوالوں کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ 15 اگست کی تقریر میں "دما غی نکسل" کو ایک نئے نظریاتی خطرے کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد نوجوانوں کا جواب یہ ہے، کہ اگر سوال کرنا دما غی نکسل ہونا ہے تو ہم سوال کریں گے، اگر تحقیق کرنا دما غی نکسل ہونا ہے تو ہم تحقیق کریں گے، اور اگر اختلاف کرنا دما غی نکسل ہونا ہے تو ہم اختلاف کریں گے۔ یہی "Think, Research, Resist" کا اصل سیاسی مفہوم بنتا ہے۔

اصل کہانی پرانے سیاسی اختیار اور نئی نسل کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی ہے۔ ایک طرف وہ قیادت ہے جو دہائیوں سے سیاسی گفتگو کے مرکزی دھارے کو تشکیل دیتی آئی ہے، اور دوسری طرف ایک ایسی نسل ہے جو روایتی نعروں، جماعتوں اور اتھارٹی کو پہلے کی طرح غیر مشروط طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے مودی کو صرف ایک نئی پارٹی چیلنج نہیں کر رہی، ایک نئی سیاسی زبان جنم لے رہی ہے۔ اس زبان کو بڑے جلسوں، انتخابی نشانوں یا روایتی سیاسی رہنماؤں کی لازمی ضرورت نہیں۔ ایک جملہ، ایک meme، ایک Instagram page اور لاکھوں نوجوان بھی سیاسی بیانیے کو چیلنج کرنے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔

جو نوجوان نئی political parties اور نئے trends شروع کر رہے ہیں، وہ خود بھی تجربہ کار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی واضح vision موجود ہے۔ یہ بنیادی طور پرdestroyer ہیں، مگر خود builder نہیں ہیں۔

اس کے باوجود نئی parties بنانا، نئی movements شروع کرنا اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانا دراصل ان کے اندر موجود شدید frustration کا اظہار ہے۔ روزگار کے مواقع کی کمی، مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی اور مجموعی طور پر محدود ہوتے ہوئے مواقع نے نوجوانوں میں ایک گہری بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اسی لیے وہ اپنی frustration اور غصے کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت کو criticize کرتے ہیں۔
#نظامی✍️
✍️

کیا پاکستان کا مسئلہ حکومتیں ہیں یا نظام؟فرض کریں ایک ملک میں ہر چند سال بعد حکومت بدل جاتی ہے، وزیراعظم بدل جاتا ہے، وز...
19/08/2026

کیا پاکستان کا مسئلہ حکومتیں ہیں یا نظام؟

فرض کریں ایک ملک میں ہر چند سال بعد حکومت بدل جاتی ہے، وزیراعظم بدل جاتا ہے، وزراء بدل جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں بدل جاتی ہیں، نعرے بدل جاتے ہیں، منشور بدل جاتے ہیں، لیکن عام آدمی کی زندگی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ناقص تعلیم، کمزور صحت، انصاف کی تاخیر، سفارش، رشوت، سیاسی مداخلت اور طاقتور کے لیے الگ راستے، سب کچھ جوں کا توں رہتا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ مسئلہ حکومتوں کا ہے یا اس پورے ڈھانچے کا جس کے اندر حکومتیں آتی جاتی ہیں؟
دیکھیں، اگر ایک حکومت ناکام ہو تو اسے ناکام حکومت کہا جا سکتا ہے۔ اگر دو حکومتیں ناکام ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ قیادت میں مسئلہ تھا۔ لیکن اگر نظامِ حکومت کے مختلف چہروں، مختلف جماعتوں اور مختلف ادوار میں تقریباً وہی بنیادی مسائل بار بار پیدا ہوتے رہیں تو پھر ذرا رک کر سوچنا چاہیے کہ شاید مسئلہ حکومت نہیں ہے۔ شاید مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔
شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے حکومتیں تو بہت بنائیں، مگر ایک مؤثر، جواب دہ اور عوام دوست نظام کبھی حقیقی معنوں میں بنایا ہی نہیں۔ اور یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، آخر "نظام" ہوتا کیا ہے؟

ہم بڑی آسانی سے کہتے ہیں کہ پاکستان کا سسٹم خراب ہے، سسٹم کرپٹ ہے، سسٹم ناکام ہے، لیکن کوئی یہ پوچھنے کی زحمت کم ہی کرتا ہے کہ جناب، وہ سسٹم آیا کہاں سے جسے ہم خراب کہہ رہے ہیں؟
نظام صرف پارلیمنٹ کا نام نہیں۔ نظام صرف انتخابات کا نام نہیں۔ نظام صرف بیوروکریسی، عدالتوں، پولیس اور وزارتوں کا نام نہیں۔ نظام دراصل ریاست اور شہری کے درمیان ایک عملی معاہدے Social Contract کا نام ہے۔

ریاست شہری سے کہتی ہے کہ تم قانون کی پابندی کرو، محنت کرو، ٹیکس دو، معاشرے میں اپنا کردار ادا کرو، اور ریاست اس کے بدلے تمہیں تعلیم، صحت، انصاف، تحفظ، بنیادی سہولیات اور آگے بڑھنے کے برابر مواقع فراہم کرے۔

ایک غریب گھر میں پیدا ہونے والا بچہ صرف اس لیے زندگی بھر غریب نہ رہے کہ اس کے والدین غریب تھے۔ ریاست اسے معیاری تعلیم دے، ہنر دے، اس کی صلاحیت کو پیداوار میں تبدیل کرے، وہ معاشرے اور معیشت میں اپنا حصہ ڈالے، ٹیکس دے، اور ریاست اسی اجتماعی دولت کو دوبارہ عوام کی زندگی بہتر بنانے میں استعمال کرے۔ یہ نظام ہے۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ریاست اور شہری کے درمیان یہ معاہدہ ہی انتہائی کمزور اور یک طرفہ رہا ہے۔

عوام سے دولت لی جاتی ہے، لیکن اس دولت کے بدلے عوام کو وہ سہولیات نہیں ملتیں جن کا ایک Modren State میں بنیادی حق ہونا چاہیے۔ اور پھر ہوتا کیا ہے؟ عوام نظام سے مایوس ہو کر چور دروازے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
جب ایک شخص کو میرٹ کے ذریعے نوکری نہیں ملتی تو وہ سفارش ڈھونڈتا ہے۔ جب اسے قانونی راستے سے کام نہیں ہوتا تو وہ رشوت کا راستہ تلاش کرتا ہے۔
جب اسے اپنے حق کے لیے اداروں پر اعتماد نہیں رہتا تو وہ کسی طاقتور شخص کا تعلق تلاش کرتا ہے۔ جب کاروبار قانون کے مطابق چلانا مشکل ہو جائے تو وہ قانون سے بچنے کے راستے نکالتا ہے۔ اور جب پورا معاشرہ یہی کرنے لگے تو پھر مسئلہ چند کرپٹ افراد کا نہیں رہتا۔۔پورا سماج غیر رسمی راستوں کا عادی ہو جاتا ہے۔

پھر سفارش نارمل ہو جاتی ہے۔ رشوت "کام نکلوانے" کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اقربا پروری "اپنوں کا خیال" بن جاتی ہے۔ سیاسی تعلق "رسائی" بن جاتا ہے۔ اور میرٹ ایک خوبصورت لفظ بن کر تقریروں میں رہ جاتا ہے۔ یعنی جس ریاست نے شہری کو قانونی راستے سے آگے بڑھنے کا قابلِ اعتماد طریقہ نہیں دیا، شہری نے اپنے لیے غیر قانونی اور غیر رسمی راستے پیدا کر لیے۔یہاں سے ریاست اور شہری دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کھونا شروع کرتے ہیں۔

اب اصل مسئلہ کہاں ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں طاقت ہمیشہ یکساں طور پر تقسیم نہیں رہی۔ ایک طرف عام شہری ہے، جو ٹیکس دیتا ہے، ووٹ دیتا ہے، قانون کا سامنا کرتا ہے، مہنگائی برداشت کرتا ہے، بجلی کے بل دیتا ہے، اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھاتا ہے اور ہر بحران کا بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ طبقات ہیں جن کے پاس سرمایہ بھی ہے، سیاسی رسائی بھی، ادارہ جاتی اثر بھی اور طاقت کے مراکز تک رسائی بھی۔ یہاں سیاسی اشرافیہ ہے، معاشی اشرافیہ ہے، طاقتور کاروباری طبقات ہیں، جاگیردارانہ مفادات ہیں، بیوروکریسی ہے اور ریاستی طاقت کے دوسرے مراکز ہیں۔

ان سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا درست نہیں، لیکن مسئلہ یہ ضرور ہے کہ پاکستان میں ریاستی طاقت اور وسائل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت عام شہری کے مقابلے میں مخصوص طبقات کے پاس کہیں زیادہ رہی ہے۔ اور جب طاقت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے تو پھر ریاست آہستہ آہستہ عوامی خدمت کے ادارے سے اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بننے لگتی ہے۔

یہیں سے اصل exploitation شروع ہوتا ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے ملک کے لیے قربانی دو۔ لیکن سوال یہ ہے، قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟ اگر ٹیکس عوام دے رہے ہیں تو اس کا فائدہ عوام کی تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میں کیوں نظر نہیں آتا؟ اگر ملک کی دولت اجتماعی ہے تو اس سے پیدا ہونے والے مواقع چند طبقات تک کیوں محدود رہیں؟ اگر آئین سب کے لیے ہے تو قانون کا تجربہ سب کے لیے یکساں کیوں محسوس نہیں ہوتا؟
اور اگر ریاست واقعی عوام کی ہے تو پھر عوام کو ریاست کے بڑے فیصلوں میں صرف ووٹ دینے والے انسان کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے؟
#نظامی✍️
✍️

There must be NO POLITICS over Imran Khan’s health. Regardless of political differences, his health, safety, and well-be...
19/08/2026

There must be NO POLITICS over Imran Khan’s health. Regardless of political differences, his health, safety, and well-being must remain above partisan interests. Human life and basic humanitarian principles should never become casualties of political rivalry.

The Supreme Court’s order must be respected and implemented without delay. But a legitimate question remains, WHY was such an order not issued earlier, before his health condition deteriorated? Unfortunately, in Pakistan, courts appear to act only after decisions have already been shaped by the military establishment.

Justice delayed, especially when a person’s health is at stake, can have grave consequences.
✍️

18/08/2026

The state is the coldest of all cold monsters. Coldly it tells lies too: and this lie creeps from its mouth: ‘I, the state, am the people.
The most dangerous thing about the state is its power to make you believe that its values are your own.

Address

Khyber Pakhtun Khwa
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝗡𝗲𝘇𝗮𝗺𝗶 𝗡𝗲𝘅𝘂𝘀 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share