Health & Education Hub

Health & Education Hub

Share

All health community under one plateform

16/06/2026

خیبر پختونخوا میں صحت کا بحران: آئی سی یو بیڈز کی شدید کمی

پورے صوبے میں مختلف ہسپتالوں کے چکر لگانے کے باوجود ایک مریض کو آئی سی یو بیڈ دستیاب نہ ہو سکا۔ یہ صورتحال صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبائی صحت کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کی عکاس ہے۔

تیرہ سالہ حکمرانی کے باوجود اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے میں خاطر خواہ توسیع نہ ہو، نئے ہسپتال قائم نہ کیے جائیں اور جدید طبی سہولیات چند بڑے شہروں تک محدود رہیں، تو ایسے ہی حالات جنم لیتے ہیں۔

صحت کی سہولیات کا ارتکاز صرف پشاور تک محدود رکھنے کے بجائے تمام اضلاع میں آئی سی یو، ایمرجنسی اور خصوصی طبی خدمات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام بھی معیاری علاج اور بروقت طبی سہولیات کے یکساں حق دار ہیں۔

15/06/2026

خیبرپختونخوا: شعبہ صحت کی نجکاری اور زبوں حالی ینگ فارماسسٹس کا مؤقف

پشاور پریس کلب میں ینگ فارماسسٹس نے شعبہ صحت کی نجکاری اور موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کے مطابق صوبائی وزیر صحت کا رویہ شعبے کے نوجوان پروفیشنلز کے ساتھ “سوتیلی ماں جیسے سلوک” کے مترادف ہے۔

فارماسسٹس نے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے میں پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے اور نوجوان پروفیشنلز کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔

15/06/2026

*بخدمت جناب وزیرِ اعلیٰ صاحب،*
خیبر پختونخوا

*موضوع: شکایات کے نظام اور کرپشن ثبوتوں پر فوری کارروائی کے متعلق درخواست*

جنابِ عالی!

ادباً گزارش ہے کہ آپ نے عوام کی سہولت کے لیے شکایات درج کروانے کا جو نظام بنایا ہے اور جس آسانی سے عام شہری اپنی شکایت درج کر سکتا ہے، اس پر ہم عوام آپ کے اور عمران خان صاحب کے بے حد شکر گزار ہیں۔ کیونکہ اس کی وجہ سے عام شہری کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی اور کرپشن میں بھی کمی آئے گی۔

لیکن جناب وزیرِ اعلیٰ صاحب، آپ کا بنایا ہوا شکایتی نظام تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ان شکایات اور کرپشن کے ثبوتوں پر عملی کارروائی نہ کی جائے۔

آپ نے جب فرمایا کہ کرپشن کے ثبوت لائیں تو *YDA ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن* کی جانب سے ایسے واضح ثبوت پیش کیے گئے جن میں کھلم کھلا کرپشن اور غیر قانونی تقرریاں سامنے آئیں۔ ان میں انٹرویو کے بعد میرٹ/کرائٹیریا تبدیل کرنا اور نمبرات میں رد و بدل جیسے سینکڑوں ثبوت شامل ہیں، جس پر آپ نے فوری کارروائی کا حکم بھی صادر فرمایا تھا۔

15/06/2026

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور: بنیادی سہولیات کی کمی — بڑے اسپتال کی حالت پر سوالیہ نشان

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے لیبر رومز میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی مریضوں اور تیمارداروں کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ تین لیبر رومز کے لیے صرف ایک واش روم موجود ہے، جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اس کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے۔

یہ صورتحال کے پی کے کے سب سے بڑے تدریسی اسپتال میں انتظامی کارکردگی اور سہولیات کی فراہمی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

اگر صوبے کے سب سے بڑے اسپتال کا یہ حال ہے تو دیگر اضلاع کے صحت مراکز کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

انتظامیہ سے فوری مطالبہ ہے کہ اضافی واش رومز کی فراہمی، موجودہ سہولیات کی مرمت اور صفائی کے مؤثر انتظامات کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔

15/06/2026

کے پی کے ہیلتھ سسٹم: حقیقت یا دعوے؟

تیرہ سالہ حکومتی دور میں بار بار “اصلاحات” اور “ڈیجیٹلائزیشن” کے دعوے کیے گئے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نہ مکمل بائیومیٹرک اٹینڈنس سسٹم مؤثر طریقے سے نافذ ہو سکا، نہ ہی اسپتالوں کا بنیادی انتظامی ڈھانچہ بہتر ہو پایا۔

اس پورے پس منظر میں سابق ہیلتھ منسٹر تیمور جھگڑا سے یہ سوال بنتا ہے کہ جب آپ خود اس نظام کا حصہ اور ذمہ دار رہے ہیں تو 13 سال میں آپ نے 36 گھنٹے ڈیوٹی جیسے نظام کے لیے مکمل اور مؤثر بائیومیٹرک سسٹم کیوں نافذ نہیں کیا؟ آخر وہ نظام کہاں ہے جس کے ذریعے شفاف مانیٹرنگ یقینی بنائی جانی تھی؟

ملین ڈالرز کی لاگت سے خریدی گئی مشینیں آج بھی سوالیہ نشان ہیں کہ ان کا اصل فائدہ کتنا ہوا اور کرپشن یا ناقص عملدرآمد کا پہلو کتنا غالب رہا۔

36 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی جیسے سخت شیڈولز کا بوجھ دراصل ڈاکٹرز پر نہیں بلکہ ایک کمزور اور غیر مؤثر سسٹم پر سوال اٹھاتا ہے، جہاں بائیومیٹرک کے باوجود من پسند ڈیوٹیاں اور غیر شفاف شیڈولنگ عام ہے۔

اصل سوال یہ ہے: کیا واقعی ہیلتھ سسٹم بہتر ہوا، یا صرف کاغذی دعوے اور سیاسی بیانیہ مضبوط کیا گیا

14/06/2026

صحت کا نظام توجہ کا متقاضی

🔹 سرکاری ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی شدید کمی
🔹 مریضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، سہولیات ناکافی ہیں
🔹 ڈاکٹرز سے بہتر تنخواہوں کے وعدے کیے گئے، مگر آج ان کی تنخواہیں کئی دیگر افسران سے کم ہیں
🔹 صحت کے شعبے میں فوری سرمایہ کاری اور ڈاکٹرز کے مسائل کا حل ناگزیر ہے

مضبوط صحت کا نظام ہی عوام کی حقیقی خدمت ہے۔

اسفندیار بیٹنی، صوبائی صدر وائی ڈی اے

YDA #

Photos from Health & Education Hub's post 14/06/2026

‏کیا آپ جانتے ہیں؟؟
‏خیبرپختونخواہ میں صحت کارڈ کا سالانہ بجٹ 35 ارب روپے ہے جس میں 28 ارب روپے سالانہ کی خورد برد اور کرپشن آڈٹ رپورٹ میں پکڑی گئی ہے.

20/12/2025

کیا قانون سب کے لیے برابر ہے
😊 یا یہ کہ تحریک انصاف خود انصاف کا جنازہ نکال رہی ہے

ڈاکٹر مدیر بیک وقت خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ٹرینی میڈیکل آفیسر اور اسی ہسپتال میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، جو قواعد و ضوابط کے مطابق سنگین مفاداتی ٹکراؤ (Conflict of Interest) ہے۔

حیران کن امر یہ ہے کہ اس معاملے پر نہ PGMI، نہ ہی محکمۂ صحت، نہ KTH انتظامیہ ہیلتھ انتظامیہ کوئی کارروائی کر رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے، یا پھر عہدہ اور اثر و رسوخ احتساب سے بالاتر ہو چکا ہے؟

جو لوگ تبدیلی اور احتساب کے نعرے لگاتے ہیں، اگر وہ خود ایک سے زیادہ سرکاری نشستوں پر براجمان ہوں تو یہ طرزِ عمل اصولوں کے منافی اور عوام کے اعتماد سے خیانت کے مترادف ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Mardan
25000