Aurora Education System Tajabad Peshawar

Aurora Education System Tajabad Peshawar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aurora Education System Tajabad Peshawar, Tutor/Teacher, Street No 14 near Sadiq Akber Town Tajabad, Peshawar.

یہ ایک تعلیمی پیج ہیں اور اس پیج سے بچوں کے لئے مواد شئیر کیے جائے گے جس سے والدین اور اساتذہ بچوں کے روحانی ،معاشرتی ، زھنی اور جزباتی نشونما میں استفادہ لیں گے۔ علاوہ ازیں اپ کو ڈیجیٹل ، سوشل میڈیا مارکٹینگ اور آنلائن بزنس کے بارےمیں مواد بھی ملیں گے۔

کل اپنے سکول کے افس میں بیٹھا تھا کہ ایک پیرنٹ نے شکایت کی کہ میرے بچے کو لکھائی اور پڑھائی میں بہت دشواری محسوس کرتے ہی...
21/09/2026

کل اپنے سکول کے افس میں بیٹھا تھا کہ ایک پیرنٹ نے شکایت کی کہ میرے بچے کو لکھائی اور پڑھائی میں بہت دشواری محسوس کرتے ہیں۔ میں نے اپنے پرنسپل سے شکایت میسیج کے طور پر ریکارڈ کی اور ریکارڈ شدہ میسیج اپنے پرنسپل صاحبہ کو واٹساپ کے زریعے پہنچائی اور ساتھ اس کلاس کے میڈم کو بھی وہ میسیج فارورڈ کیا۔ میڈم نے عجیب و غریب لیکن خیر مثبت جواب دیا لیکن پھر بھی ان کے راہنمائی کے لئے یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔ جن سے میرے دیگر کالاسسز یعنی نرسری، کےجی ، اول اور دوم کے اساتذہ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان بچوں کے سئکالوجی تقریبا ایک جیسی ہوتی ہیں۔
پلے گروپ سے لیکر کےجی تک کے اساتذہ! آپ کی کلاس پرائمری 6 (چھٹی کلاس) کے کمرہ جماعت جیسی نہیں ہونی چاہیے!
​اگر آپ 2 سے 6 سال کے بچوں کو پڑھاتے ہیں، تو براہِ کرم اس بات کو یاد رکھیں:
​وہ اس لیے نہیں ہیں کہ لمبے سبق کے دوران خاموش بیٹھے رہیں اور آپ شروع سے آخر تک بولتے رہیں۔
​وہ چھوٹے بچے ہیں۔
​وہ حرکت کرنا، چیزوں کو چھونا، گانا، تلاش کرنا، چیزوں کو دہرانا اور کھیلنا چاہتے ہیں۔
​اور وہ اسی طرح سیکھتے ہیں۔ ❤️
​تو، آپ اصل میں انہیں کیسے پڑھاتے ہیں؟
​1. ایک روٹین (معمول) سے شروعات کریں
​بچے اس وقت زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
​آپ اس طرح کی روٹین رکھ سکتے ہیں:
​🎵 خوش آمدیدی کلمات
🙏🏽 مختصر دعا
👋🏽 سلام اور احوال پرسی کی سرگرمی
📚 سیکھنے کی سرگرمی
🎨 عملی سرگرمی
🎶 نظم / گیت
🧸 کھیل کا وقت
👋🏽 رخصتی کا وقت
​آپ کو ہر روز بالکل اسی ترتیب پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ایک جانے پہچانے معمول سے بچوں کو گھلنے ملنے میں مدد ملتی ہے۔
​2. اپنی آواز + اپنے جسم کا استعمال کرتے ہوئے پڑھائیں
​صرف بتائیں نہیں۔
​انہیں کر کے دکھائیں۔
​جسم کے اعضاء سکھا رہے ہیں؟
​👉🏽 اپنے سر کو چھوئیں۔
​افعال (کام) سکھا رہے ہیں؟
​👉🏽 چھلانگ لگائیں۔ تالی بجائیں۔ قدم تھپتھپائیں۔ گول گھوئیں۔
​متضاد الفاظ سکھا رہے ہیں؟
​👉🏽 کھڑے ہو جائیں۔ بیٹھ جائیں۔
​جانوروں کے بارے میں سکھا رہے ہیں؟
​👉🏽 ان کی آوازیں نکالیں۔
​اس عمر میں، آپ کا اپنا جسم آپ کا سب سے بڑا تعلیمی ذریعہ بن سکتا ہے۔
​3. صرف بورڈ پر سے رنگ سکھانا بند کریں
​اگر آپ سرخ (Red) رنگ سکھا رہے ہیں، تو صرف کسی سرخ کارڈ کی طرف اشارہ نہ کریں۔
​کہیں:
​"کون مجھے کوئی سرخ چیز ڈھونڈ کر دکھائے گا؟"
​انہیں ارد گرد دیکھنے دیں۔
​"کیا آپ مجھے وہ سرخ گیند لا کر دے سکتے ہیں؟"
​"مجھے کوئی سرخ چیز دکھائیں۔"
​اب وہ صرف سرخ رنگ کے بارے میں سن نہیں رہے، بلکہ وہ اس کا عملی تجربہ کر رہے ہیں۔
​4. اعداد کو عملی اور متحرک بنائیں
​کسی دو سال کے بچے سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ صرف آپ کے یہ لکھنے سے گنتی سمجھ جائے گا:
​1 2 3 4 5
​ان کے سامنے پانچ اشیاء رکھیں۔
​"چلیں گنتے ہیں!"
​گنتے ہوئے ہر چیز کو چھوئیں۔
​ایک… دو… تین… چار… پانچ!
​انہیں پانچ بار تالی بجانے دیں۔
​انہیں پانچ بار چھلانگ لگانے دیں۔
​عدد کو ایسی چیز بنائیں جسے وہ خود کر سکیں۔
​5. ان کے ہاتھوں کو کسی نہ کسی کام میں مشغول رکھیں
​پلے گروپ میں ہاتھوں سے کی جانے والی عملی سرگرمیوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔
​یہ چیزیں آزمائیں:
​🖍️ کچی پنسل یا رنگوں سے لکیریں کھینچنا (Scribbling)
🧩 سادہ پزل (Puzzles)
🧱 بلڈنگ بلاکس (پلاسٹک کے بلاکس جوڑنا)
🎨 انگلیوں سے پینٹنگ کرنا (Finger painting)
🫘 بڑی اور محفوظ اشیاء کو الگ الگ کرنا
📦 چیزوں کا جوڑ ملانا (Matching activities)
🧸 کھلونوں سے کھیلنا
📚 تصویری کتابیں دیکھنا
​ہو سکتا ہے کہ ان کا نتیجہ بالکل درست یا مکمل نہ ہو۔
​کوئی بات نہیں۔
​اس عمل سے گزرنا ہی اصل سیکھنا ہے۔
​6. ان کی توجہ کے مختصر دورانیے سے لڑائی نہ کریں
​اگر بچے اب آپ کی بات نہیں سن رہے، تو مزید اونچی آواز میں بولنا شروع نہ کریں۔
​سرگرمی کو بدل دیں۔
​بات چیت سے گانے کی طرف آئیں۔
​گانے سے جسمانی حرکت کی طرف آئیں۔
​جسمانی حرکت سے عملی سرگرمی کی طرف۔
​عملی سرگرمی سے کھیل کی طرف۔
​ایک بہترین ابتدائی تعلیمی استاد جانتا ہے کہ کب کہنا ہے:
​"ٹھیک ہے، اب ہم کچھ مختلف کرتے ہیں!"
​7. بچوں کا باہم موازنہ نہ کریں
​ہو سکتا ہے ایک بچہ زیادہ بولتا ہو۔
​دوسرا خاموش طبع ہو۔
​ایک بچہ رنگوں کو جلدی پہچان لیتا ہو۔
​دوسرے کو زیادہ دہرانے کی ضرورت ہو۔
​ایک بچہ فوراً سرگرمی میں حصہ لیتا ہو۔
​دوسرا شامل ہونے سے پہلے چند دنوں تک صرف دیکھتا رہتا ہو۔
​نشوونما کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
​ہر بچے کا مشاہدہ کریں اور اس کی رفتار کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
​8. چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا جشن منائیں
​جب بچہ بالآخر لفظ صحیح ادا کر لے:
​👏🏽 داد دیں۔
​جب وہ کسی رنگ کی شناخت کر لے:
​👏🏽 داد دیں۔
​جب وہ اپنا کھلونا کسی کے ساتھ شیئر کرے:
​👏🏽 داد دیں۔
​جب وہ بالآخر نظم میں شامل ہو جائے:
​👏🏽 داد دیں۔
​بعض اوقات جو چیز ایک بڑے کے لیے معمولی سی کامیابی لگتی ہے، وہ بچے کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہوتی ہے۔
​اور براہِ کرم…
​پلے گروپ کے بچوں کے دل میں اسکول کا خوف نہ بٹھائیں۔
​ہر غلطی کو اصلاح کا ذریعہ نہ بنائیں۔
​بچوں سے بالکل سیدھا اور خاموش بیٹھنے کی توقع نہ رکھیں۔
​ہر چیز کا اندازہ صرف لکھنے سے نہ لگائیں۔
​یہ نہ سمجھیں کہ ایک "سنجیدہ" کلاس روم کا خاموش ہونا ضروری ہے۔
​اس مرحلے پر، سیکھنے کا عمل متحرک، پرمسرت اور بچے کی عمر کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
​آپ کا کلاس روم نظموں اور گانوں سے بھرا ہو سکتا ہے۔
​وہاں شور ہو سکتا ہے۔
​وہاں رنگ ہو سکتے ہیں۔
​وہاں ہنسی ہو سکتی ہے۔
​وہاں چہل پہل ہو سکتی ہے۔
​اور ہاں… بعض اوقات ہر طرف کھلونے بکھرے ہو سکتے ہیں۔
​اسی کو ابتدائی بچپن کی تعلیم (Early Childhood Education) کہتے ہیں۔
​سوال یہ نہیں ہے:
​👉🏽 "کیا وہ خاموش تھے؟"
​بہتر سوال یہ ہے:
​👉🏽 "آج انہوں نے کیا تجربہ کیا، کس چیز کی مشق کی اور کیا سیکھا؟"
ھم اساتذہ ان عمر کے بچوں سے شکایت کرتے ہیں ان پر اوازیں کستے ہیں دانت کاٹتے ہیں اور ڈنڈے اٹھاتے ہیں
وغیرہ وغیرہ

وہ 7 کام جو ہر استاد کو بچوں کے کلاس روم میں آنے سے پہلے کرنے چاہئیں​طلبہ کے کلاس میں داخل ہونے سے پہلے کے چند منٹ یہ طے...
20/09/2026

وہ 7 کام جو ہر استاد کو بچوں کے کلاس روم میں آنے سے پہلے کرنے چاہئیں
​طلبہ کے کلاس میں داخل ہونے سے پہلے کے چند منٹ یہ طے کرتے ہیں کہ آپ کا سبق کتنی روانی اور عمدگی سے آگے بڑھے گا۔
​طلبہ کے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے، اس وقت کا بہترین اور عقلمندی سے استعمال کریں۔
​1۔ اپنے پڑھانے کا سامان تیار رکھیں
​اپنے نوٹس، کتابیں، تدریسی اشیاء (ٹیچنگ ایڈز)، ورک شیٹس، مارکر اور دیگر سامان سبق شروع ہونے سے پہلے تیار رکھیں۔
​کلاس میں بچوں کے سامنے سامان تلاش کرنے سے پڑھائی کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔
​مثال:
اگر آپ پودے کے حصے یا پتے کی ساخت پڑھا رہے ہیں، تو اپنا چارٹ، اصلی پتا، مائیکروسکوپ، سلائیڈ، ورک شیٹ اور مارکر طلبہ کے آنے سے پہلے ایسی جگہ رکھیں جہاں سے آپ آسانی سے اٹھا سکیں۔ اس طرح آپ کو کلاس کے سامنے اپنے بیگ میں چیزیں تلاش نہیں کرنی پڑیں گی۔
​2۔ کلاس روم کے ماحول کا جائزہ لیں
​کلاس روم میں چاروں طرف دیکھیں۔
​کرسیوں کی ترتیب، صفائی، روشنی، ہوا کی آمد و رفت اور ایسی کسی بھی چیز کو دیکھیں جو بچوں کی توجہ بھٹکا سکتی ہو۔
​ایک منظم اور سلیقے سے سجا کلاس روم پڑھانے اور سیکھنے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔
​مثال:
آپ بچوں کو مائیکروسکوپ سے جاندار خلیے (Cells) کا مشاہدہ کروانے والے ہیں، لیکن ڈیسک سیدھی قطاروں میں لگے ہیں۔ طلبہ کے آنے سے پہلے انہیں گروہوں کی شکل میں ترتیب دے دیں اور روشنی کا رخ دیکھ لیں تاکہ بچے مائیکروسکوپ میں آسانی سے دیکھ سکیں اور سبق کے دوران ڈیسک ہلانے میں وقت ضائع نہ ہو۔
​3۔ اپنے سبق کے مقصد کا اعادہ کریں
​ایک نظر دیکھیں کہ سبق کے اختتام پر آپ بچوں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
​خود سے پوچھیں:
"اس سبق کے بعد میرے طلبہ میں کیا صلاحیت پیدا ہونی چاہیے؟"
​یہ سوچ آپ کی تدریس کو مقصد کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔
​مثال:
اگر آپ کا مقصد بچوں کو پودوں اور جانوروں کے خلیات (Plant & Animal Cells) کے درمیان فرق سکھانا ہے، تو پورا وقت صرف خلیے کی تعریف بتانے میں ضائع نہ کریں۔ ایسی سرگرمیاں اور ڈایاگرام تیار رکھیں جن سے بچے سبق ختم ہونے سے پہلے دونوں خلیات کے اعضاء (Organelles) کی شناخت کر سکیں اور ان کا موازنہ کر سکیں۔
​4۔ سوچیں کہ سبق کا آغاز کیسے کرنا ہے
​ہمیشہ اس جملے سے شروعات نہ کریں: "کتاب کا صفحہ نمبر... کھولیں"۔
​کوئی دلچسپ سوال، چھوٹی سرگرمی، روزمرہ زندگی کی مثال، تصویر، کوئی چیز یا سوچنے پر مجبور کرنے والی بات تیار رکھیں جو بچوں کی توجہ فوراً اپنی طرف حاصل کر سکے۔
​مثال:
عملِ تنفس (Photosynthesis) کا مضمون پڑھانے سے پہلے اپنی میز پر ایک تازہ ہرا پودا رکھیں۔ بچوں سے پوچھیں:
"یہ پودا بغیر کچھ کھائے پئے اتنے دنوں سے زندہ اور ہرا بھرا کیسے ہے؟ یہ اپنی خوراک کہاں سے حاصل کرتا ہے؟"
آپ نے بورڈ پر عنوان لکھے بغیر ہی بنیادی بیالوجیکل تصور پر بحث شروع کر دی۔
​5۔ ممکنہ مشکلات کا اندازہ لگائیں
​پہلے سے سوچ لیں کہ سبق کا کون سا حصہ بچوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔
​ایک آسان وضاحت، مثال یا تدریسی مواد تیار رکھیں تاکہ اگر بچوں کو پہلی بار میں سمجھ نہ آئے تو آپ اسے استعمال کر سکیں۔
​مثال:
اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ کے طلبہ کو ڈی این اے کی ساخت (DNA Structure) یا خلیاتی تقسیم (Mitosis & Meiosis) کے مراحل سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، تو سبق سے پہلے ایک سادہ ماڈل یا آسان متحرک خاکے (Visual Diagrams) تیار رکھیں۔ اگر پہلی لفظی وضاحت کام نہ کرے، تو آپ کے پاس دوسرا بصری طریقہ پہلے سے تیار ہو۔
​6۔ اپنے مزاج اور توانائی کا جائزہ لیں
​کلاس میں داخل ہونے سے پہلے خود کو پرسکون کرنے کے لیے ایک لمحہ نکالیں۔
​بچے یہ بات بہت جلد محسوس کر لیتے ہیں کہ استاد پریشان، کسی اور طرف متوجہ یا پڑھانے میں بے دل ہے۔ آپ کو کامل بننے کا دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن آپ کو پڑھانے کے لیے تیار ہو کر کلاس میں جانا چاہیے۔
​مثال:
آپ کی صبح کافی ذہنی دباؤ میں گزری اور آپ پریشانی کے عالم میں کلاس میں پہنچے۔ بچوں کے آنے سے پہلے چند لمحات خاموشی سے بیٹھیں، اپنا سامان منظم کریں اور خود کو یاد دلائیں کہ جو مسئلہ آپ کو پیش آیا، اس میں ان بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔
اپنی پریشانی بچوں پر منتقل کرنے کے بجائے پرسکون انداز میں کلاس میں داخل ہوں۔
​7۔ طے کریں کہ بچوں کی شمولیت کیسے ہوگی
​صرف یہ نہ سوچیں کہ آپ نے کیا بولنا ہے، بلکہ یہ طے کریں کہ بچے کیا کریں گے۔
​کیا وہ سوالات کے جوابات دیں گے، جوڑوں میں کام کریں گے، کوئی مسئلہ حل کریں گے، کسی مفہوم پر بحث کریں گے، کوئی عملی مظاہرہ کریں گے یا کسی مہارت کی مشق کریں گے؟
​مثال:
اگر آپ ایکوسسٹم اور ماحول کے تحفظ (Ecosystem & Biodiversity) کا مضمون پڑھا رہے ہیں، تو پورے سبق میں خود بولتے رہنے کے بجائے ایک چھوٹی گروہی سرگرمی تیار کریں جہاں بچے مقامی جانداروں کے باہمی تعلقات کی فوڈ ویب (Food Web) بنائیں اور ماحول میں بگاڑ کے حل تجویز کریں۔
اس سے بچوں کو سوچنے، بحث کرنے اور بیالوجی کو عملاً سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
゚viralシ

تحریر گوہر الرحمانسبق کا منصوبہ (Lesson Plan) اس وقت تک مت بنائیں جب تک آپ اپنے طلبہ کو اچھی طرح نہ جان لیں۔​دو اساتذہ ا...
19/09/2026

تحریر گوہر الرحمان
سبق کا منصوبہ (Lesson Plan) اس وقت تک مت بنائیں جب تک آپ اپنے طلبہ کو اچھی طرح نہ جان لیں۔
​دو اساتذہ ایک ہی موضوع پڑھا سکتے ہیں، ایک ہی کتاب استعمال کر سکتے ہیں اور ان کے پاس وقت بھی ایک جیسا ہو سکتا ہے—پھر بھی ان کے سبق کا منصوبہ بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔
​کیوں؟
​کیونکہ تمام طلبہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔
​ایک اچھا سبق کا منصوبہ ان طلبہ کو ذہن میں رکھ کر بنایا جاتا ہے جو واقعی آپ کے سامنے کلاس میں بیٹھے ہوتے ہیں۔
​سبق کا منصوبہ بنانے سے پہلے ان 6 باتوں پر غور کریں:
​1. ان کی عمر اور تعلیمی سطح
جو زبان، مثالیں اور سرگرمیاں آپ نرسری کے بچوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ ثانوی (Secondary) سطح کے طلبہ کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہئیں۔
​2. ان کی پہلے سے موجود معلومات
وہ اس موضوع کے بارے میں پہلے سے کیا جانتے ہیں؟
آپ کے سبق کو نئی معلومات کو ان چیزوں سے جوڑنا چاہیے جو طلبہ پہلے سے سمجھتے ہیں۔
​3. ان کی سیکھنے کی صلاحیت
ایک ہی کلاس میں کچھ ایسے بچے ہو سکتے ہیں جو بات جلدی سمجھ جاتے ہیں، اور کچھ ایسے جنہیں مزید وضاحت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ کے منصوبے میں دونوں گروہوں کے لیے سیکھنے کے مواقع ہونے چاہئیں۔
​4. ان کی دلچسپیاں اور تجربات
جہاں تک ممکن ہو، اسباق کو ان حالات سے جوڑیں جنہیں طلبہ پہچانتے ہوں۔
مثال کے طور پر، رعایت (Discounts)، نمبروں یا روزمرہ کی خریداری کے ذریعے فیصد (Percentages) پڑھانا ایک دشوار تصور کو زیادہ با معنی بنا سکتا ہے۔
​5. ممکنہ غلط فہمیاں
خود سے پوچھیں:

​"میرے طلبہ اس موضوع کے بارے میں کیا غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں؟"

​پھر ایک ایسی وضاحت، مثال یا سرگرمی تیار کریں جو اس غلط فہمی کو دور کر سکے۔
​6. سیکھنے کا ماحول اور دستیاب وسائل
ایک تمام سہولیات سے آراستہ کلاس روم کے لیے بنایا گیا منصوبہ محدود وسائل کی صورت میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔
ایک اچھا منصوبہ وہی ہے جو عملی اور حقیقت پسندانہ ہو۔
​یہاں ایک ایسی بات ہے جسے اکثر اساتذہ نظر انداز کر دیتے ہیں:
​درسی کتاب صرف ایک ذریعہ ہے—یہ آپ کے سبق کا منصوبہ نہیں ہے۔
​آپ کتاب کی پیروی کرتے ہوئے بھی ایک غیر مؤثر سبق کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔
​درسی کتاب آپ کو یہ بتا سکتی ہے کہ کیا پڑھانا ہے، لیکن سبق کا منصوبہ آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ:

​میں اس کا تعارف کیسے کرواؤں گا/گی؟

​طلبہ کو پہلے سے کیا معلوم ہونا چاہیے؟

​میں اس کی وضاحت کیسے کروں گا/گی؟

​میں کون سی مثالیں استعمال کروں گا/گی؟

​طلبہ کس چیز کی مشق کریں گے؟

​کیا مشکلات پیش آ سکتی ہیں؟

​میں ان کی جانچ (Assessment) کیسے کروں گا/گی؟

​یاد رکھیں:
سبق کا منصوبہ ان طلبہ کے لیے بنائیں جو واقعی آپ کے پاس موجود ہیں—نہ کہ کسی خیالی یا مثالی کلاس روم کے لیے۔
​ایک مضبوط سبق کا منصوبہ طلبہ کی ضرورت کو سمجھنے والا، با مقصد، لچکدار اور قابلِ عمل ہوتا ہے۔
​اپنا اگلا سبق کا منصوبہ بنانے سے پہلے، یہ تین جملے لکھیں:

​"میرے طلبہ پہلے سے جانتے ہیں کہ..."

​"میرے طلبہ کو اس چیز میں مشکل پیش آ سکتی ہے کہ..."

​"میں ان کی مدد اس طرح کروں گا/گی کہ..."

​یہ تین جملے آپ کے سبق کی منصوبہ بندی کے طریقے کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں۔
​اساتذہ کرام! کیا آپ اپنے اسباق کی تیاری کرتے وقت اپنے طلبہ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہیں؟ آپ کے لیے کس طریقہ کار نے بہترین کام کیا ہے؟

Female staff required.Send your CV on Whatsapp03339470730.
18/09/2026

Female staff required.
Send your CV on Whatsapp
03339470730.

وہ استاد جو بغیر منصوبہ بندی کے کلاس روم میں داخل ہوتا ہے، وہ پہلے ہی سبق کو نقصان میں ڈال چکا ہوتا ہے​تدریس محض اپنے مض...
18/09/2026

وہ استاد جو بغیر منصوبہ بندی کے کلاس روم میں داخل ہوتا ہے، وہ پہلے ہی سبق کو نقصان میں ڈال چکا ہوتا ہے
​تدریس محض اپنے مضمون کو جاننے کا نام نہیں ہے۔
​آپ انگریزی، ریاضی، سائنس، سماجی علوم (سوشل اسٹڈیز) یا کسی بھی دوسرے مضمون کو بہت اچھی طرح جانتے ہوں گے، لیکن مضمون کا علم ہونا اور اسے مؤثر طریقے سے پڑھانے کا طریقہ جاننا دو مختلف باتیں ہیں۔
​یہیں سے سبق کی منصوبہ بندی (Lesson Planning) کی اہمیت شروع ہوتی ہے۔
​سبق کا منصوبہ (Lesson Plan) کسی مخصوص سبق کے لیے استاد کا ایک نقشۂ راہ (Roadmap) ہوتا ہے۔ یہ استاد کو یہ تعین کرنے میں مدد کرتا ہے کہ طلباء کو کیا معلوم ہونا چاہیے یا وہ کیا کرنے کے قابل ہوں گے، کون سے تدریسی تجربات انہیں اسے حاصل کرنے میں مدد دیں گے، کن وسائل کی ضرورت ہوگی، اور تعلیم و تعلم کا اندازہ (Assessment) کیسے لگایا جائے گا۔
​اساتذہ کو اپنے اسباق کی منصوبہ بندی کیوں کرنی چاہیے؟
​یہ سمت فراہم کرتا ہے:
استاد کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ سبق کس سمت میں جا رہا ہے، بجائے اس کے کہ وہ پیریڈ ختم ہونے تک صرف باتیں کرتا رہے۔
​یہ واضح مقاصد طے کرنے میں مدد کرتا ہے:
پڑھانے سے پہلے، استاد کو اس سوال کا جواب معلوم ہونا چاہیے:
​"اس سبق کے اختتام پر میرے طلباء کس قابل ہونے چاہئیں؟"
​یہ سرگرمیوں کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے:
ایک اچھا منصوبہ اس بات پر غور کرتا ہے کہ استاد کیا کرے گا اور طلباء کیا کریں گے۔
​یہ وقت کی بہتر منتقلی اور تنظیم (Time Management) میں مدد کرتا ہے:
آپ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ تعارف، وضاحت، سرگرمیوں، مشق اور جائزہ کے لیے کتنا وقت دینا ہے۔
​یہ طلباء کی شمولیت کو فروغ دیتا ہے:
جب سرگرمیوں کی منصوبہ بندی سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، تو سبق کے محض ایک طرفہ لیکچر بننے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
​یہ جائزے کو زیادہ با معنی بناتا ہے:
استاد سبق کے آخر میں محض بے ترتیب سوالات پوچھنے کے بجائے اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ آیا طلباء نے واقعی مقاصد حاصل کر لیے ہیں یا نہیں۔
​لیکن یہاں ایک اہم بات ہے:
​سبق کے منصوبے کا مقصد استاد کو قید کرنا نہیں ہے۔
​بعض اوقات کلاس میں کچھ غیر متوقع ہو جاتا ہے۔ طلباء کسی مفهوم (Concept) کو سمجھنے میں دشواری کا شکار ہو سکتے ہیں، کوئی اہم سوال پوچھ سکتے ہیں، یا یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ پہلے سے ہی اس بات کو سمجھتے ہیں۔
​ایک اچھا استاد تدریسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے سبق میں بروقت تبدیلی کر سکتا ہے۔
​لہٰذا، صرف اس لیے منصوبہ بندی نہ کریں کہ آپ کا اسکول آپ سے لیسن پلان جمع کروانے کا تقاضا کرتا ہے۔
​منصوبہ بندی اس لیے کریں کیونکہ آپ کے طلباء ایک ایسے سبق کے حقدار ہیں جو سمت، مقصد اور نیت کے ساتھ پڑھایا جائے۔
​آج کے اساتذہ کے لیے چیلنج 👇
​اپنے اگلے سبق سے پہلے، صرف ایک جملہ لکھیں:
​"اس سبق کے اختتام پر، میرے طلباء ______ کے قابل ہونے چاہئیں۔"
​اگر آپ اس جملے کو واضح طور پر مکمل نہیں کر سکتے، تو شاید آپ کے سبق کی ابھی تک کوئی واضح منزل نہیں ہے۔
​اساتذہ کرام! سبق کی منصوبہ بندی میں آپ کے لیے سب سے مشکل حصہ کون سا ہے

آرورا ایجوکیشن اسکول سسٹمتاج آباد، پشاور​خواتین اساتذہ کی ضرورت ہے​ہمیں اپنے تعلیمی ادارے کے لیے محنتی، قابل اور پرعزم خ...
17/09/2026

آرورا ایجوکیشن اسکول سسٹم
تاج آباد، پشاور
​خواتین اساتذہ کی ضرورت ہے
​ہمیں اپنے تعلیمی ادارے کے لیے محنتی، قابل اور پرعزم خواتین اساتذہ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بچوں کی بہتر تربیت اور جدید و عملی اندازِ تدریس پر یقین رکھتی ہیں، تو ہم آپ کو درخواست دینے کی دعوت دیتے ہیں۔
​خالی اسامیاں
​پرائمری لیول ٹیچرز: ابتدائی تعلیم (ECE)، فونکس و انگلش ریڈنگ، ریاضی (میٹھس)، اور جنرل سائنس ، ریاضی، اور انگریزی ادب۔
​مطلوبہ قابلیت اور مہارتیں
متعلقہ مضمون میں بی ایس (BS) یا ماسٹرز۔
​تجربہ: کسی بھی معروف ادارے کا تدریسی تجربہ قابلِ ترجیح ہوگا (نئے فارغ التحصیل افراد بھی اپلائی کر سکتے ہیں)۔
​بنیادی مہارتیں:
​کلاس روم مینجمنٹ اور بہترین طرزِ گفتگو۔
​تصوراتی تعلیم (Concept-based learning) اور عملی تدریسی طریقوں کو اپنانے کی صلاحیت۔
​بچوں کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت پر توجہ۔
​مراعات
​بہترین اور پرامن تعلیمی ماحول۔
​پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تربیتی مواقع۔
​قابلیت اور تجربے کے مطابق مناسب تنخواہ۔
​درخواست جمع کرانے کا طریقہ
​خواہشمند امیدوار اپنی سی وی (CV) اور تعلیمی اسناد ذیل میں دیے گئے نمبر/ای میل یا براہِ راست اسکول دفتر میں جمع کرا سکتی ہیں۔
​پتہ: آرورا ایجوکیشن اسکول سسٹم، تاج آباد، پشاور گلی نمبر 14
​رابطہ نمبر: 03339470730]
​03443295822
゚viralシ
​آ

تحریر گوہر الرحمان آج ایک باپ میرے پاس آیا اور جب میں نے پوچھا کہ ان کا بیٹا اب کس کلاس میں پڑھتا ہے، تو انہوں نے ایک ٹھ...
15/09/2026

تحریر گوہر الرحمان
آج ایک باپ میرے پاس آیا اور جب میں نے پوچھا کہ ان کا بیٹا اب کس کلاس میں پڑھتا ہے، تو انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا، "یار! وہ ذرا کند ذہن تھا، ٹیچر روزانہ اس کی شکایتیں کرتے تھے، اس لیے اسکول سے نکال کر مستری خانے بٹھا دیا ہے تاکہ کم از کم کوئی الیکٹریشن یا میکینک ہی بن جائے۔" ان کا یہ ایک جملہ دل کو دہلا گیا کہ کس طرح ہمارے روایتی تعلیمی نظام اور اساتذہ کی بے صبری نے ایک بچے سے اس کی قلم اور کتاب چھین کر اس کے معصوم ہاتھوں میں پیچ کس اور پانا تھما دیا۔ جو بچہ شاید بصری یا عملی انداز میں بہتر سیکھ سکتا تھا، اسے محض ایک ہی روایتی سانچے میں نہ ڈھلنے کی سزا ملی؛ استاد اپنی تدریسی ناکامی کا ملبہ بچے پر ڈال کر روزانہ شکایتیں کرتا رہا اور ناخواندہ باپ نے مجبور ہو کر بچے کے روشن مستقبل کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

کچھ طلباء کو اسباق سمجھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ یہ بات اساتذہ اور خود ان طلباء دونوں کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے۔ لیکن جو بات میں نے سیکھی ہے وہ یہ ہے:

​1. وہ کم ذہن نہیں ہوتے

​صرف اس لیے کہ کسی کو سیکھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ذرا بھی کم گوہر یا نالائق ہیں۔ ہر انسان کے سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ پڑھنے میں تیز ہوتے ہیں جبکہ کچھ ہاتھوں سے کام کرنے یعنی عملی کام میں بہتر ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان پر اعتماد کیا جائے اور انہیں "سست" یا "نالائق" کا طعنہ نہ دیا جائے۔

​2. اسباق کو چھوٹے مراحل میں تقسیم کریں

​بڑے اسباق کسی اونچی سیڑھی پر چڑھنے کی طرح محسوس ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ سبق کو چھوٹے چھوٹے مراحل میں بانٹ دیں تو اسے سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہر چھوٹا مرحلہ جو وہ سمجھتے ہیں، انہیں فخر کا احساس دلاتا ہے اور ان کی ہمت بڑھاتا ہے۔

​3. مختلف طریقوں سے پڑھائیں

​ہر کوئی ایک ہی طریقے سے نہیں سیکھتا۔ کچھ تصاویر دیکھ کر، کچھ سن کر، اور کچھ خود تجربہ کر کے بہتر سیکھتے ہیں۔ کہانیوں، تصاویر، ویڈیوز یا عملی سرگرمیوں کا استعمال کریں۔ آپ جتنے متنوع طریقوں سے سکھائیں گے، وہ اتنی ہی اچھی طرح سمجھیں گے۔

​4. چھوٹی کامیابیوں پر بھی داد دیں

​چھوٹی سے چھوٹی کامیابی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کیا انہوں نے کسی ایک سوال کا درست جواب دیا؟ کیا انہوں نے خود سے کوشش کی؟ ان کی تعریف کریں! اس سے ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور مزید کوشش کرنے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اعتماد، رفتارسے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔

​5. صبر اور تعاون کا مظاہرہ کریں

​ان کے ساتھ جلد بازی کرنا انہیں صرف نروس اور پریشان کرے گا۔ انہیں وقت، مدد اور حوصلہ افزائی دیں۔ بعض اوقات صرف یہ جاننا کہ کوئی ان پر یقین رکھتا ہے، ان کے لیے سب سے بڑی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک باصلاحیت اور حساس استاد وہی ہوتا ہے جو ہر بچے کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور اپنے تدریسی انداز کو بچے کی ضرورت کے مطابق ڈھالتا ہے۔

​جب ایک استاد روایتی طوطا چشم انداز یا رٹہ سسٹم ک بجائے تدریس میں تنوع لاتا ہے—جیسے:اڈمڈ لز اور سرگرمیوں کے ذریعے مفہوم واضح کرنا۔ مشکل مفاہیم کو چھوٹے اور قابلِ فہم ٹکڑوں میں توڑنا بچے کے خوف اور جھجھک کو دور کر کے اس کا خود اعتمادی بحال کرنا۔

​توابھی وہی بچہ جسے دنیا "پسماندہ" یا "کند ذہن" سمجھ رہی ہوتی ہے، بہترین نتائج دینے لگتا ہے۔ اصل کمال نصاب کو جلدی ختم کرانے میں نہیں، بلکہ ہر بچے کو ساتھ لے کر چلنے اور اس کے اندر چھپے ہوئے جوہر کو نکھارنے میں ہے۔

​آئیے بات کرتے ہیں

اگر آپ ایک استاد ہیں ، تو کسی سست روی سے سیکھنے والے طالب علم کو کامیاب بنانے کے لیے کون سا ایک اقدام کرتے؟

゚viralシ

تمام پرنسپل صاحبان ضرور پڑھے۔
14/09/2026

تمام پرنسپل صاحبان ضرور پڑھے۔

تحریر گوہر الرحمان
آج کا دن میری تدریسی زندگی کے چند یادگار اور بہترین دنوں میں سے ایک رہا، جب میرے پرنسپل جناب اکبر زمان صاحب نے اچانک میری کلاس کا رخ کیا اور خاموشی سے پچھلی نشست پر بیٹھ کر میری تدریس کا مشاہدہ (Classroom Observation) کیا۔ اتفاق سے میں کل کے پڑھائے گئے اسباق کی دہرائی (Revision) کروا رہا تھا، جس کی وجہ سے ایس ایل او (SLO) ماڈل، بورڈ پر ملٹی کلر مارکرز کے استعمال اور کچھ دیگر کلاس روم ایس او پیز کی مکمل پاسداری نہیں ہو پا رہی تھی۔ کلاس ختم ہونے کے بعد جب انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلا کر ایک جامع اور غیر جانبدارانہ ایویلوایشن رپورٹ میرے سامنے رکھی، تو دل کو ایک عجیب سا اطمینان اور خوشی محسوس ہوئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی سربراہ نے روایتی تفتیش کے بجائے ایک حقیقی مینٹور کی طرح میری تدریسی مہارتوں کا پیشہ ورانہ جائزہ لیا تھا—اور یہی وہ مثبت رویہ ہے جو ایک استاد کو واقعی نکھارتا ہے۔ حالانکہ اس سیشن کے اغاز سے دل کچھ بوجھل سا ہیں اور ٹیچنگ سے کچھ برن اوٹ محسوس کرتا ہوں ۔ جس کی وجہ سے میرے تدریسی کام پر برا اثر بھی ہورہا ہیں۔ اور دل و دماغ پر منفی اثرات بھی ارہے ہیں خیر پرنسپل کے کردار پر مضمون میں نے ہفتے کے دن لکھی تھی لیکن فیس بک کے الگورتھم مد نظر رکھا اور شام کو انتظار میں یہ پوسٹ کرنا رہ گیا تھا۔ جونکہ اج کا واقعہ بھی ہوا تو ابھی سوچ ایا کہ اپنے پیج سے یہ پوسٹ کروں
پرنسپل بننے کا مطلب صرف اساتذہ کی نگرانی کرنا، دستاویزات پر دستخط کرنا، اجلاسوں میں شرکت کرنا اور ہدایات دینا نہیں ہے، بلکہ ایک پرنسپل کی حقیقی ذمہ داری لوگوں، تعلیم، نظام، نظم و ضبط، معیار اور اسکول کی مجموعی سمت سے جڑی ہوتی ہے۔ اس کے اصل کردار میں سب سے پہلے اسکول کی درست سمت طے کرنا شامل ہے؛ پرنسپل کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسکول کس سمت میں جا رہا ہے، اس کی کیا پہچان ہونی چاہیے، اساتذہ کو کیا معیار برقرار رکھنا چاہیے اور طلبہ کو کیا حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ واضح سمت کے بغیر اسکول آسانی سے بے نظم ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا کام اساتذہ کی رہنمائی اور ان کی تربیت کرنا ہے، جہاں صرف یہ بتانا کافی نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے، بلکہ اسباق کی تدریس کا جائزہ لینا، اصلاحی رائے دینا، ان کی ضروریات کی نشاندہی کرنا اور پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کرنا ضروری ہوتا ہے۔

​تعلیمی معیار کی حفاظت کرنا بھی پرنسپل کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں اسے مسلسل یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا طلبہ واقعی سیکھ رہے ہیں، اسباق درست طریقے سے پڑھائے جا رہے ہیں، امتحانات اور جائزہ صحیح ہو رہا ہے، کمزور طلبہ کو مدد مل رہی ہے اور اساتذہ اپنے منصوبے و نصاب کی تیاری مکمل کر رہے ہیں یا نہیں، یعنی اسے محض سرگرمیوں پر نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی نتائج پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، ایک اچھا اسکول کسی ایک شخص کی یادداشت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے، اس لیے پرنسپل کو حاضری، اسباق کی نگرانی، جائزہ و امتحانات، طلبہ کا نظم و ضبط، عملے کے فرائض، باہمی مواصلات، ریکارڈ رکھنے، حفاظت اور والدین سے رابطے کے لیے ایک فعال اسکول سسٹم قائم کرنا ہوتا ہے جو ادارے میں مستقل مزاجی اور بہتری لائے۔ عملے کی مؤثر مینجمنٹ میں ذمہ داریاں تقسیم کرنا، کارکردگی کا جائزہ لینا اور تنازعات کو حل کرنا شامل ہے، مگر اس کا مطلب ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ کسی استاد کی تذلیل کیے بغیر اس کی اصلاح کرنا ہے۔

​پرنسپل کی ایک انتہائی اہم ذمہ داری طلبہ کی فلاح و بہبود اور حفاظت ہے، جس کے تحت بلنگ (تنگ کرنا)، ہراساں کرنا، خطرناک رویہ، لاپروائی اور بچوں کی بہتری کے لیے دیگر تمام خطرات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سیکھنے کا محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ طلبہ کے نظم و ضبط کو سنبھالتے ہوئے پرنسپل کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ نظم و ضبط مستقل، منصفانہ اور اسکول پالیسیوں کے مطابق ہو اور اس کا مقصد صرف خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ بچوں کو ذمہ داری سکھانا ہو۔ وہ والدین کے سامنے اسکول کی نمائندگی بھی کرتا ہے، جہاں اسے ان کے حقیقی خدشات سننا، اہم معلومات واضح طور پر پہنچانا اور اسکول و خاندانوں کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی حاضری اور پیشہ ورانہ رویے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اساتذہ وقت کے پابند اور تیار ہو کر آتے ہیں یا نہیں، اور جو استاد بار بار دیر سے آئے یا فرائض میں غفلت برتے اسے ناگواری کے ڈر سے نظر انداز نہ کیا جائے۔

​اساتذہ، طلبہ، والدین اور انتظامیہ کے درمیان تنازعات اور مسائل کو حل کرتے وقت پرنسپل کا کام فوراً کسی ایک کی طرف داری کرنا نہیں بلکہ تمام فریقین کو سننا، حقائق کا پتہ لگانا اور منصفانہ حل نکالنا ہوتا ہے۔ پڑھائی میں جدوجہد کرنے والے کمزور طلبہ کی مدد کے لیے "یہ بچہ سنجیدہ نہیں ہے" کہنے کے بجائے پرنسپل کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ مشکل کی اصل وجہ کیا ہے اور کیا مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول کے وسائل کی نگرانی کرنا، درسی کتب، فرنیچر، تعلیمی مواد اور سامان کا درست استعمال و دیکھ بھال یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ضیاع اور لاپروائی سے تعلیم کا معیار متاثر نہ ہو۔ صرف فائل میں خوبصورت پالیسیاں رکھنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ پرنسپل کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ عملہ، طلبہ اور والدین ان پالیسیوں کو سمجھیں اور ان پر باقاعدگی سے عمل کریں۔

​پرنسپل اسکول کا عوامی چہرہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کا پیشہ ورانہ رویہ، بات چیت، طرزِ عمل اور فیصلے اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ والدین اور برادری اسکول کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ شاید اس کا سب سے اہم کردار اسکول کی ایک بہترین ثقافت قائم کرنا ہے جہاں اساتذہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کر سکیں، طلبہ اعتماد کے ساتھ سیکھ سکیں، والدین محترم محسوس کریں، عملہ کھلم کھلا بات چیت کر سکے، اچھی کارکردگی کو سراہا جائے اور مسائل کو شروعات میں ہی حل کیا جائے۔ قائدانہ صلاحیت کے تحت پرنسپل کو ہر مسئلے کا الزام اساتذہ پر ڈالنے کے بجائے خود سے یہ سوال کر کے جوابدہی اور ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کہ "اسکول کے قائد کے طور پر میں مختلف یا بہتر کیا کر سکتا تھا؟"۔ بلاخر، اسے اسکول کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے مسلسل آگے کی سوچنی ہوتی ہے کہ طلبہ کو کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی، اساتذہ کو کس تربیت کی ضرورت ہے، کن نظاموں میں بہتری درکار ہے اور اگلے تعلیمی دور میں اسکول کو کیا چیز مزید بہتر بنا سکتی ہے۔

​حقیقت یہ ہے کہ ایک پرنسپل صرف اساتذہ کا "افسر" یا "باس" نہیں ہوتا، بلکہ وہ وہ شخص ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے کہ اسکول کے لوگ، نظام، تعلیم اور ثقافت درست سمت میں آگے بڑھیں۔ ایک پرنسپل کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ دفتر میں کتنا بااختیار نظر آتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قیادت کی وجہ سے اسکول میں کیا عملی بہتری آئی ہے۔

​محترم پرنسپل صاحبان، آپ کے خیال میں آج کل کے اسکولوں میں ان میں سے کون سی ذمہ داری سب سے زیادہ نظر انداز کی جا رہی ہے؟

تحریر گوہر الرحمانآج کا دن میری تدریسی زندگی کے چند یادگار اور بہترین دنوں میں سے ایک رہا، جب میرے پرنسپل جناب اکبر زمان...
14/09/2026

تحریر گوہر الرحمان
آج کا دن میری تدریسی زندگی کے چند یادگار اور بہترین دنوں میں سے ایک رہا، جب میرے پرنسپل جناب اکبر زمان صاحب نے اچانک میری کلاس کا رخ کیا اور خاموشی سے پچھلی نشست پر بیٹھ کر میری تدریس کا مشاہدہ (Classroom Observation) کیا۔ اتفاق سے میں کل کے پڑھائے گئے اسباق کی دہرائی (Revision) کروا رہا تھا، جس کی وجہ سے ایس ایل او (SLO) ماڈل، بورڈ پر ملٹی کلر مارکرز کے استعمال اور کچھ دیگر کلاس روم ایس او پیز کی مکمل پاسداری نہیں ہو پا رہی تھی۔ کلاس ختم ہونے کے بعد جب انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلا کر ایک جامع اور غیر جانبدارانہ ایویلوایشن رپورٹ میرے سامنے رکھی، تو دل کو ایک عجیب سا اطمینان اور خوشی محسوس ہوئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی سربراہ نے روایتی تفتیش کے بجائے ایک حقیقی مینٹور کی طرح میری تدریسی مہارتوں کا پیشہ ورانہ جائزہ لیا تھا—اور یہی وہ مثبت رویہ ہے جو ایک استاد کو واقعی نکھارتا ہے۔ حالانکہ اس سیشن کے اغاز سے دل کچھ بوجھل سا ہیں اور ٹیچنگ سے کچھ برن اوٹ محسوس کرتا ہوں ۔ جس کی وجہ سے میرے تدریسی کام پر برا اثر بھی ہورہا ہیں۔ اور دل و دماغ پر منفی اثرات بھی ارہے ہیں خیر پرنسپل کے کردار پر مضمون میں نے ہفتے کے دن لکھی تھی لیکن فیس بک کے الگورتھم مد نظر رکھا اور شام کو انتظار میں یہ پوسٹ کرنا رہ گیا تھا۔ جونکہ اج کا واقعہ بھی ہوا تو ابھی سوچ ایا کہ اپنے پیج سے یہ پوسٹ کروں
پرنسپل بننے کا مطلب صرف اساتذہ کی نگرانی کرنا، دستاویزات پر دستخط کرنا، اجلاسوں میں شرکت کرنا اور ہدایات دینا نہیں ہے، بلکہ ایک پرنسپل کی حقیقی ذمہ داری لوگوں، تعلیم، نظام، نظم و ضبط، معیار اور اسکول کی مجموعی سمت سے جڑی ہوتی ہے۔ اس کے اصل کردار میں سب سے پہلے اسکول کی درست سمت طے کرنا شامل ہے؛ پرنسپل کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسکول کس سمت میں جا رہا ہے، اس کی کیا پہچان ہونی چاہیے، اساتذہ کو کیا معیار برقرار رکھنا چاہیے اور طلبہ کو کیا حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ واضح سمت کے بغیر اسکول آسانی سے بے نظم ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا کام اساتذہ کی رہنمائی اور ان کی تربیت کرنا ہے، جہاں صرف یہ بتانا کافی نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے، بلکہ اسباق کی تدریس کا جائزہ لینا، اصلاحی رائے دینا، ان کی ضروریات کی نشاندہی کرنا اور پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کرنا ضروری ہوتا ہے۔

​تعلیمی معیار کی حفاظت کرنا بھی پرنسپل کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں اسے مسلسل یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا طلبہ واقعی سیکھ رہے ہیں، اسباق درست طریقے سے پڑھائے جا رہے ہیں، امتحانات اور جائزہ صحیح ہو رہا ہے، کمزور طلبہ کو مدد مل رہی ہے اور اساتذہ اپنے منصوبے و نصاب کی تیاری مکمل کر رہے ہیں یا نہیں، یعنی اسے محض سرگرمیوں پر نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی نتائج پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، ایک اچھا اسکول کسی ایک شخص کی یادداشت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے، اس لیے پرنسپل کو حاضری، اسباق کی نگرانی، جائزہ و امتحانات، طلبہ کا نظم و ضبط، عملے کے فرائض، باہمی مواصلات، ریکارڈ رکھنے، حفاظت اور والدین سے رابطے کے لیے ایک فعال اسکول سسٹم قائم کرنا ہوتا ہے جو ادارے میں مستقل مزاجی اور بہتری لائے۔ عملے کی مؤثر مینجمنٹ میں ذمہ داریاں تقسیم کرنا، کارکردگی کا جائزہ لینا اور تنازعات کو حل کرنا شامل ہے، مگر اس کا مطلب ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ کسی استاد کی تذلیل کیے بغیر اس کی اصلاح کرنا ہے۔

​پرنسپل کی ایک انتہائی اہم ذمہ داری طلبہ کی فلاح و بہبود اور حفاظت ہے، جس کے تحت بلنگ (تنگ کرنا)، ہراساں کرنا، خطرناک رویہ، لاپروائی اور بچوں کی بہتری کے لیے دیگر تمام خطرات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سیکھنے کا محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ طلبہ کے نظم و ضبط کو سنبھالتے ہوئے پرنسپل کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ نظم و ضبط مستقل، منصفانہ اور اسکول پالیسیوں کے مطابق ہو اور اس کا مقصد صرف خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ بچوں کو ذمہ داری سکھانا ہو۔ وہ والدین کے سامنے اسکول کی نمائندگی بھی کرتا ہے، جہاں اسے ان کے حقیقی خدشات سننا، اہم معلومات واضح طور پر پہنچانا اور اسکول و خاندانوں کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی حاضری اور پیشہ ورانہ رویے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اساتذہ وقت کے پابند اور تیار ہو کر آتے ہیں یا نہیں، اور جو استاد بار بار دیر سے آئے یا فرائض میں غفلت برتے اسے ناگواری کے ڈر سے نظر انداز نہ کیا جائے۔

​اساتذہ، طلبہ، والدین اور انتظامیہ کے درمیان تنازعات اور مسائل کو حل کرتے وقت پرنسپل کا کام فوراً کسی ایک کی طرف داری کرنا نہیں بلکہ تمام فریقین کو سننا، حقائق کا پتہ لگانا اور منصفانہ حل نکالنا ہوتا ہے۔ پڑھائی میں جدوجہد کرنے والے کمزور طلبہ کی مدد کے لیے "یہ بچہ سنجیدہ نہیں ہے" کہنے کے بجائے پرنسپل کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ مشکل کی اصل وجہ کیا ہے اور کیا مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول کے وسائل کی نگرانی کرنا، درسی کتب، فرنیچر، تعلیمی مواد اور سامان کا درست استعمال و دیکھ بھال یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ضیاع اور لاپروائی سے تعلیم کا معیار متاثر نہ ہو۔ صرف فائل میں خوبصورت پالیسیاں رکھنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ پرنسپل کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ عملہ، طلبہ اور والدین ان پالیسیوں کو سمجھیں اور ان پر باقاعدگی سے عمل کریں۔

​پرنسپل اسکول کا عوامی چہرہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کا پیشہ ورانہ رویہ، بات چیت، طرزِ عمل اور فیصلے اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ والدین اور برادری اسکول کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ شاید اس کا سب سے اہم کردار اسکول کی ایک بہترین ثقافت قائم کرنا ہے جہاں اساتذہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کر سکیں، طلبہ اعتماد کے ساتھ سیکھ سکیں، والدین محترم محسوس کریں، عملہ کھلم کھلا بات چیت کر سکے، اچھی کارکردگی کو سراہا جائے اور مسائل کو شروعات میں ہی حل کیا جائے۔ قائدانہ صلاحیت کے تحت پرنسپل کو ہر مسئلے کا الزام اساتذہ پر ڈالنے کے بجائے خود سے یہ سوال کر کے جوابدہی اور ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کہ "اسکول کے قائد کے طور پر میں مختلف یا بہتر کیا کر سکتا تھا؟"۔ بلاخر، اسے اسکول کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے مسلسل آگے کی سوچنی ہوتی ہے کہ طلبہ کو کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی، اساتذہ کو کس تربیت کی ضرورت ہے، کن نظاموں میں بہتری درکار ہے اور اگلے تعلیمی دور میں اسکول کو کیا چیز مزید بہتر بنا سکتی ہے۔

​حقیقت یہ ہے کہ ایک پرنسپل صرف اساتذہ کا "افسر" یا "باس" نہیں ہوتا، بلکہ وہ وہ شخص ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے کہ اسکول کے لوگ، نظام، تعلیم اور ثقافت درست سمت میں آگے بڑھیں۔ ایک پرنسپل کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ دفتر میں کتنا بااختیار نظر آتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قیادت کی وجہ سے اسکول میں کیا عملی بہتری آئی ہے۔

​محترم پرنسپل صاحبان، آپ کے خیال میں آج کل کے اسکولوں میں ان میں سے کون سی ذمہ داری سب سے زیادہ نظر انداز کی جا رہی ہے؟

Address

Street No 14 Near Sadiq Akber Town Tajabad
Peshawar
24700

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 13:00
Saturday 08:00 - 21:00
Sunday 14:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aurora Education System Tajabad Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category