Aurora Education System Tajabad Peshawar

Aurora Education System Tajabad Peshawar

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aurora Education System Tajabad Peshawar, Tutor/Teacher, Street No 14 near Sadiq Akber Town Tajabad, Peshawar.

یہ ایک تعلیمی پیج ہیں اور اس پیج سے بچوں کے لئے مواد شئیر کیے جائے گے جس سے والدین اور اساتذہ بچوں کے روحانی ،معاشرتی ، زھنی اور جزباتی نشونما میں استفادہ لیں گے۔ علاوہ ازیں اپ کو ڈیجیٹل ، سوشل میڈیا مارکٹینگ اور آنلائن بزنس کے بارےمیں مواد بھی ملیں گے۔

14/05/2026

تحریر گوہر الرحمان
تعلیمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اس لیے اساتذہ کے
لیے ضروری ہے کہ وہ تدریس کے جدید طریقوں سے باخبر رہیں۔ یہ طریقے نہ صرف طلبہ کی دلچسپی بڑھاتے ہیں بلکہ ان میں تنقیدی سوچ اور مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتے ہیں۔
لھذا درج ذیل میں تدریس کے چند مؤثر اور جدید طریقے دیے گئے ہیں جنہیں آپ اپنی کلاس میں اپنا سکتے ہیں:
1. بلینڈڈ لرننگ (Blended Learning)**
* **تعریف:** اس میں روایتی کلاس روم کی تعلیم اور آن لائن تعلیم کو یکجا کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ طلبہ کو اپنی رفتار سے سیکھنے کی سہولت دیتا ہے۔
* **عملدرآمد:** کلاس روم کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آن لائن وسائل کا استعمال کریں تاکہ طلبہ گھر بیٹھے بھی مواد تک رسائی حاصل کر سکیں اور بحث و مباحثہ کر سکیں۔
2. فلپڈ کلاس روم (Flipped Classroom)**
* **تعریف:** اس طریقے میں روایتی انداز کو الٹ دیا جاتا ہے۔ طلبہ سبق کا بنیادی مواد (مثلاً ویڈیوز) گھر پر دیکھتے ہیں اور کلاس کے وقت کو عملی کام، بحث اور مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
* **عملدرآمد:** ویڈیو لیکچرز گھر کے کام کے طور پر دیں اور کلاس کے وقت کو گروپ پراجیکٹس کے لیے مختص کریں۔
3. پراجیکٹ بیسڈ لرننگ (PBL)**
* **تعریف:** اس میں طلبہ طویل عرصے تک کسی حقیقی زندگی کے پراجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔ یہ طریقہ تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
* **عملدرآمد:** ایسے پراجیکٹس ڈیزائن کریں جو نصاب کے مطابق ہوں اور طلبہ کو اپنی مرضی کے موضوعات پر تحقیق اور نتائج پیش کرنے کا موقع دیں۔
4. انکوائری بیسڈ لرننگ (IBL)**
* **تعریف:** یہ طریقہ طلبہ کو سوالات پوچھنے، تحقیق کرنے اور تجربات کے ذریعے جوابات تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
* **عملدرآمد:** طلبہ کے سامنے کھلے سوالات یا مسائل رکھیں اور ان کی رہنمائی کریں تاکہ وہ خود تجزیہ کرنا سیکھیں۔
5. باہمی تعاون سے سیکھنا (Collaborative Learning)**
* **تعریف:** یہ ٹیم ورک اور رابطے پر زور دیتا ہے۔ طلبہ چھوٹے گروپس میں مل کر مشترکہ تعلیمی اہداف حاصل کرتے ہیں۔
* **عملدرآمد:** گروپ سرگرمیوں اور ہم جماعتوں کے درمیان جائزے (Peer Assessment) کو فروغ دیں تاکہ وہ ایک دوسرے کے خیالات سے سیکھ سکیں۔
6. تفریقی تدریس (Differentiated Instruction)**
* **تعریف:** اس کا مطلب ہے کہ ہر طالب علم کی انفرادی ضرورتوں، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق پڑھانے کا طریقہ اور وسائل تبدیل کیے جائیں۔
* **عملدرآمد:** طلبہ کی مختلف صلاحیتوں کا اندازہ لگائیں اور انہیں سیکھنے کے مختلف راستے فراہم کریں (مثلاً مختلف سطح کا مطالعہ کا مواد یا ٹاسک)۔
7. سماجی اور جذباتی سیکھنا (SEL)**
* **تعریف:** یہ طلبہ کی جذباتی ذہانت، خود آگاہی اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے، جس سے کلاس کا ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔
* **عملدرآمد:** اسباق میں ایسی سرگرمیاں شامل کریں جو ذہنی سکون اور ہمدردی کو فروغ دیں جہاں طلبہ اپنے جذبات کا اظہار محفوظ طریقے سے کر سکیں۔
8. گیمی فیکیشن (Gamification)**
* **تعریف:** سیکھنے کے عمل میں گیم کے عناصر (جیسے پوائنٹس، بیجز اور لیڈر بورڈز) شامل کرنا تاکہ طلبہ کی دلچسپی اور جوش و خروش بڑھے۔
* **عملدرآمد:** پوائنٹس اور چیلنجز کا استعمال کریں تاکہ سیکھنا ایک تفریح بن جائے اور طلبہ اپنی ترقی میں خود دلچسپی لیں۔
9. تجرباتی سیکھنا (Experiential Learning)**
* **تعریف:** یہ طریقہ عملی تجربات اور ان پر غور و فکر کے ذریعے سیکھنے پر زور دیتا ہے، تاکہ طلبہ کتابی علم کو عملی زندگی میں استعمال کر سکیں۔
* **عملدرآمد:** تعلیمی دورے (Field Trips)، تجربات اور عملی سرگرمیاں کروائیں جن سے طلبہ براہِ راست جڑ سکیں۔
10. انفرادی یا شخصی تعلیم (Personalized Learning)**
* **تعریف:** اس میں تعلیمی تجربات کو ہر طالب علم کی اپنی پسند اور اہداف کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔
* **عملدرآمد:** ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور ان کی پسند کے مطابق سیکھنے کا راستہ اور امتحانی طریقے متعین کریں۔
اگر اپ کو ان میتھڈالوجیز کے بارے میں معلومات ہو یا اپ کلاس میں استعمال کرتے ہیں تو اپ برائے مہربانی کنمٹ سیکشن میں اپنے تجربات شئیر کرے

14/05/2026

With Taj Shahi Official – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

14/05/2026

اخیر ھم سڑے خفہ شی چے سہ نہ وائی بیا ئے ھم دہ خلے نہ اف اوزی

14/05/2026

استاد: قوم کا معمار یا حکومت کا 'جیک آف آل ٹریڈز'؟
حکومتِ وقت کا ماننا ہے کہ استاد صرف وہ نہیں جو کتاب پکڑے کلاس میں کھڑا ہو، بلکہ استاد وہ "سپر ہیرو" ہے جو ایک ہاتھ میں چاک اور دوسرے ہاتھ میں پولیو کی بالٹی اٹھائے ہر محاذ پر لڑ سکتا ہے۔
حکومتی وژن اور استاد کی "ملٹی ٹاسکنگ"
پولیو مہم کا سپاہی: حکومت کا خیال ہے کہ اگر استاد بچوں کو الف، ب پڑھا سکتا ہے، تو وہ گلی محلوں میں جا کر بچوں کے منہ میں قطرے بھی بہتر ٹپکا سکتا ہے۔
مردم شماری کا ماہر: شاید حکامِ بالا کو لگتا ہے کہ کلاس میں شور مچاتے بچوں کو گنتے گنتے استاد کی "گنتی" اتنی پکی ہو گئی ہے کہ اب اسے پورے ملک کے سر گننے کی ڈیوٹی سونپ دینی چاہیے۔
الیکشن کا محافظ: الیکشن کے دن استاد کو پولنگ اسٹیشن پر بٹھا دیا جاتا ہے، شاید اس لیے کہ بیلٹ باکس کی حفاظت کے لیے ایک "ڈرانے والے" استاد سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟
عالمی آفات اور 'منسٹرز' کے شاہکار
ایران امریکہ جنگ اور تعلیمی ملبہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کی چنگاریاں اٹھتی ہیں، تو پوری دنیا میں تیل مہنگا ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں سب سے پہلے بچوں کا 'مستقبل' سستا ہو جاتا ہے۔ حکومت شاید اس انتظار میں رہتی ہے کہ کسی طرح عالمی حالات خراب ہوں اور اسے اسکول بند کرنے کا ایک اور بہانہ مل جائے۔ بچوں کی تعلیم ویسے ہی 'میزائلوں' کی زد میں رہتی ہے، رہی سہی کسر فیلڈ ڈیوٹیاں پوری کر دیتی ہیں۔
پنجاب کے وزیرِ تعلیم کی 'دریادلی دوسری طرف پنجاب کے وزیرِ تعلیم نے تین ماہ کی چھٹیوں کا "شاہانہ" اعلان کر کے ثابت کر دیا کہ ان کے نزدیک تعلیم ایک ایسی چیز ہے جسے جتنی جلدی 'چھٹی' دی جائے، ملک اتنی ہی ترقی کرے گا۔ لگتا ہے وزیر صاحب کا مشن ہے کہ بچوں کو اسکول کے راستے کے بجائے صرف پکنک پوائنٹس کے راستے یاد رہ جائیں۔
ایک 'نہ ہونے والی' غلطی
حکومت نے زندگی میں بہت سے تجربات کیے، مگر کبھی یہ 'خوفناک غلطی' نہیں کی کہ چند دنوں کے لیے اقتدار ان اساتذہ کے حوالے کر دے جو پورا سال معاشرے کا کچرا صاف کرتے ہیں۔ سیاستدان جانتے ہیں کہ اگر ملک کا نظام ان پڑھے لکھے 'معماروں' کے ہاتھ لگ گیا، تو وہ ڈنڈے کے زور پر نہ صرف نظام درست کر دیں گے بلکہ شاید حکمرانوں کو بھی دوبارہ 'پرائمری کلاس' سے پڑھنے پر لگا دیں گے۔
حکومت کے لیے "مشورہ
اگر حکومت واقعتاً چاہتی ہے کہ تعلیم کا بیڑا غرق نہ ہو، تو اسے یہ انقلابی بات سمجھنی ہوگی کہ "اساتذہ کو صرف پڑھانا چاہیے" (Teachers should teach)۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسکول کے گیٹ پر بورڈ لگا ہوگا: *"یہاں تعلیم کے علاوہ ہر قسم کی سرکاری ڈیوٹی سرانجام دی جاتی ہے، اور وزیرِ صاحب کی مہربانی سے آج بھی چھٹی ہے!"*

13/05/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Riasat Ali Asad, Waqar Shah, Basharat Naqvi, DrSufyan Ali Shakir, Sardar Sajid Iqbal, Ch Gulzar Hussain, Saifullahkhan Daman Hazro, Asif Ramzan, Abdul Satar, Shama Rana, Lateef Ullah Khan, Waseem Siddique, Rana Shahid, Engr Murad Khan, M Kalim Ullah, Nadeem Younas, Muhammed Jaffar Kalro, Raza Ullah, Shah Faisal Khan, Muzafar Khan, Raja Asghar, Muhammad Tufail, Nasrullah Khan Barech, Syeda Shah, Ikram Hussain, Suffahschool Ahmadani, M***i Shahid Mahmood Madni, Jawad Mjp, Mohammad Imtiaz, Razaq Qazi, Rahmat Karim, M Ilyas M Ilyas, Abdul Akbar, Engr Mumtaz Ali Channa, Umer Wali Khan, Muhammad Musaib Wani, Ashraf Ashraf Ch, Moosa Sultan, Shagufta Qudoos, Majid Ullah, Mohsin Raza Khan Baloch, محمدزعفران بٹگرام محمدزعفران, Fatima Fatima, Nasar Khan Yousafzai, Muhammad Kausar, Asif Hussain, Mumtaz Bibi, Munib Farooq, Gohar Rahman, Nasrat Shah

12/05/2026

کیا اج کل کے والدین اپنے بچوں کی تربیت صحیح انداز میں کرتے ہیں؟

12/05/2026

عنوان: تربوز کی "سائنسی مٹھاس" اور دکاندار کی آئی ٹی (Information Technology)**
تحریر : گوہر الرحمان
کل مجھے احساس ہوا کہ ہم ایلون مسک اور مارک زکربرگ کی ٹیکنالوجی کے پیچھے پاگل ہیں، جبکہ اصل **"ڈیٹا پروسیسنگ"** تو ہمارے فٹ پاتھوں پر بیٹھے تربوز فروش کر رہے ہیں! 🍉
واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں کل ایک جنازے میں شرکت کے لئے پشاور سے ملاکنڈ گیا تھا واپسی پر سوچا کہ مردان میں بہنوئی کا خبر لوں روڈ پر گاڑی سے اترا تو روڈ کے کنارے تربوز کے ڈھیر پڑے تھے ۔ میرے دل میں ایا کہ تربوز خریدتا ہوں تاکہ بہن کے گھر لے جاو ۔ خود بھی خربوز کھانے کو دل کر رہا تھا اس لئے میں ایک تربوز والے بھائی کے سامنے جا کر بڑے معصومانہ اور شاہانہ انداز میں مطالبہ داغ دیا:
*"بھائی! ایک عدد بالکل میٹھے، سرخ اور 'اے ون' تربوز چیک کر کے دے دینا..."* 😌
بس صاحب! میرا یہ کہنا تھا کہ دکاندار بھائی نے یوں قمیض کی آستینیں چڑھائیں جیسے ناسا (NASA) کا کوئی سائنسدان مریخ پر مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہو۔
**مشن کا آغاز کچھ یوں ہوا:**
بھائی نے ایک بھاری بھرکم تربوز اٹھایا، اسے کسی نایاب ہیرے کی طرح گھمایا اور پھر اپنے کان کے ساتھ چپکا لیا جیسے اندر سے کسی خفیہ ایجنسی کا سگنل آ رہا ہو۔ 👂
کچھ دیر سننے کے بعد اس نے "تچ تچ" کی آواز نکالی اور اسے یوں حقارت سے واپس رکھا جیسے وہ تربوز نہیں، کوئی پرانا ڈبہ ہو۔
پھر دوسرا... پھر تیسرا... پھر چوتھا! میں حیرت زدہ کھڑا سوچ رہا تھا کہ یا اللہ! اس تربوز کے اندر شاید کوئی ایسی فریکوئنسی ہے جو صرف اسی بھائی کے کانوں کو سنائی دے رہی ہے۔
پھر بھائی صاحب پوری ڈھیری کے گرد ایک فاتحانہ چکر لگاتے ہیں، آخری کونے سے ایک چھپا ہوا تربوز نکالتے ہیں، دوبارہ کان کے ساتھ لگا کر "ٹیلی پیتھی" کرتے ہیں اور مسکرا کر بولتے ہیں:
"بس بھائی! یہ چیز ہے زبردست! مکھن ہے مکھن!
اسی طرح انہوں نے ایک تربوز "سُن" کر پیک کیے۔ میری تجسس کی انتہا ہو گئی، میں نے پوچھا:"یار بھائی! سچ بتاؤ، یہ کان لگا کر آپ کو اندر سے کیا آواز آتی ہے؟ کیا تربوز خود بتاتا ہے کہ میں میٹھا ہوں؟"
بھائی نے میری طرف دیکھا، ایک پراسرار مسکراہٹ دی اور بولا:"بھائی! ہمیں تو ایک سیکنڈ میں پتہ چل جاتا ہے کون سا میٹھا ہے اور کون سا پھیکا۔
میں نے پوچھا: *"مگر یہ ہنر، یہ ٹیکنالوجی آپ کو کس نے سکھائی؟"*
کہنے لگا:
"یہ میرے والد صاحب کی وصیت ہے! وہ کہتے تھے بیٹا! کبھی بھی پہلا تربوز اٹھا کر گاہک کو مت دے دینا... ورنہ گاہک کو لگے گا تم نے چیک ہی نہیں کیا اور وہ گھر جا کر اسے پھیکا ہی سمجھے گا!"* 🤣🤣🤣ا
اس نے مجھے کہا کہ اس سے پتہ نہیں لگتا اپ اگر کسی سے خریدتے ہو تو چیک کرکے خریدو ۔ ان سے میں اور بھی باتیں سیکھنا چاہتا تھا لیکن بہنوئی بار بار کال کر رہا تھا کہ اپ کہا پر ہو میں راستے میں اپ کا انتظار کر رہا ہوں کل مجھے سمجھ آیا کہ دنیا میں **"ٹیکنیکل سکلز"** سے زیادہ **"پریزنٹیشن سکلز"** کی اہمیت ہے۔ تربوز کا میٹھا ہونا اتنا ضروری نہیں، جتنا دکاندار کا اسے "میٹھا ثابت کرنے" کے لیے کی جانے والی اداکاری اہم ہے۔
یاد رکھیں، مٹھاس اکثر پھل میں نہیں، بیچنے والے کے "کان" میں ہوتی ہے! 😂🍉🔥
نتیجہ۔ ہم اساتذہ بھی اگر اپنے پریزنٹشن سکلز پر توجہ دے تو انشاءاللہ ننھے گاھک خالی ھاتھ ہم سے گھر نہیں جائینگے کچھ نہ کچھ لے جائنگے۔
اس کے علاوہ اپنے بچوں کو موبائل سے دور رکھ بڑوں سے سکلز سیکھنے کی کوشس کرے۔
قصہ تو لکھا لیکن کل تربوز کھانا قسمت میں نہیں تھا بہن نے فریج میں ٹھنڈا کرنے کے لئے رکھا لیکن پھر بہن بھول گئی ہوگی اس لئے کھانے کے لئے پیش نہیں کی گئی لھذا میں اپنے بھانجے سے کہتا ہوں کہ اپ تو خیال رکھے نا لیکن کل وہ بھی پینٹنگ میں مصروف جس نے سب کو مصروف کیا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ سب تربوز لانا بھول گئی تھے۔

12/05/2026

تعلیم یافتہ ماں: گھر کی سب سے بہترین استاد
تعلیم یافتہ ماں ایک بچے کی دس لاکھ روپے سکول کے مد میں بچا سکتی ہیں اگر اس میں اعتماد ہو اور تھوڑا بہت دل میں سیکھنے کا کرب ہو۔ یہ پیسے پچا کر کیسی ملک کا ٹور کر سکتی ہیں یا اپنے لئے کوئی بزنس کے لئے پیسے بچا سکتی ہیں پوسٹ اخر تک ضرور دیکھے۔
​آج میرے پاس دفتر میں ایک خاتون تشریف لائیں جو اپنے بھانجوں کے لیے ٹیوشن کی تلاش میں تھیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس ٹیوشن کا انتظام تو نہیں، البتہ زبان دانی اور خطاطی کے لیے ایک ماہر استاد موجود ہیں جو روزانہ دو گھنٹے کلاس لیتے ہیں۔ وہ فوراً تیار ہو گئیں اور کچھ ہی دیر میں بچوں کی والدہ بھی وہاں پہنچ گئیں۔
​دورانِ گفتگو جب معلوم ہوا کہ بچوں کی والدہ خود ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں، تو مجھے دلی دکھ اور حیرت ہوئی کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی بنیادی پڑھائی اور لکھائی کے لیے دوسروں کی منتیں کر رہی ہے اور پیسے خرچ کر رہی ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ خود کیوں نہیں پڑھاتیں، تو ان کا جواب تھا: "مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں انہیں صحیح طرح نہ پڑھا سکوں۔"
​میرا ان کو جواب یہ تھا کہ آپ نے جس سکول میں بچے داخل کرائے ہیں، وہاں کی ٹیچر شاید ایف اے یا بی اے پاس ہوں گی، جبکہ آپ خود ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں۔ یہ مضمون اسی سوچ کی عکاسی ہے کہ کیوں ایک ماں اپنے بچے کے لیے کسی بھی مہنگے سکول سے بہتر استاد ثابت ہو سکتی ہے۔
​ماں کیوں بہترین استاد ہے؟ (دلائل)
​1. انفرادی توجہ (1:1 Attention):
ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، جو بچے ابتدائی سات سال (0-7 سال) اپنی ماں سے سیکھتے ہیں، ان کا آئی کیو (IQ)، زبان پر گرفت اور خود اعتمادی عام بچوں کی نسبت 30% زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سادہ ہے: سکول میں ایک ٹیچر 25 بچوں کو دیکھتی ہے، جبکہ گھر میں ماں کی پوری توجہ صرف اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
​2. وقت کی بچت اور بہتر نتائج:
​سکول: 1 ٹیچر + 25 بچے = ہر بچے کے لیے صرف چند منٹ۔
​ماں: 1 ماں + 1 بچہ = 60 منٹ کی خالص توجہ۔
نتیجہ: جو چیز سکول ایک ہفتے میں سکھاتا ہے، ماں وہ اپنے بچے کو ایک دن میں سکھا سکتی ہے، خاص طور پر جولی فونکس (Jolly Phonics)، بلینڈنگ اور خوش خطی۔
​3. خوف سے پاک ماحول:
ماں کا اصل فائدہ صرف علم نہیں بلکہ "محبت" ہے۔ بچہ سکول میں ڈانٹ کے خوف سے سوال نہیں پوچھ پاتا، لیکن ماں کی گود دنیا کا سب سے محفوظ کلاس روم ہے جہاں بچہ کھل کر سوال کرتا ہے اور اس کی ذہنی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔
​تعلیم یافتہ ماؤں کے لیے دو اہم شرائط:
​اگر مائیں درج ذیل دو کام کر لیں تو انہیں کسی مہنگے سکول یا ٹیوشن کی ضرورت نہیں رہے گی:
​تھوڑی سی ٹریننگ: یوٹیوب سے "Jolly Phonics" سیکھ لیں۔ اس سے بچہ پہلی کلاس تک روانی سے انگریزی پڑھنے کے قابل ہو جائے گا۔
​مستقل مزاجی: روزانہ صرف 45 منٹ اپنے بچے کو دیں۔ اس کا رزلٹ کسی بھی بڑے سکول سے بہتر آئے گا۔
​نفسیاتی رکاوٹ اور معاشی فائدہ
​ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ ماں بھی خود کو کم تر سمجھتی ہے کہ شاید وہ "بی ایڈ" نہیں ہے تو پڑھا نہیں پائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈگری ہولڈر ٹیچر آپ کے بچے کو ایک رول نمبر سمجھتی ہے، جبکہ آپ اسے اپنا مستقبل سمجھتی ہیں۔
​بچت کا حساب (پشاور کے تناظر میں):
اگر آپ پلے گروپ سے پریپ (4 سال) تک بچے کو گھر پر خود پڑھائیں تو:
​ٹیوشن و سکول فیس: تقریباً 4,32,000 روپے (9000 ماہانہ کے حساب سے)
​کتابیں، یونیفارم، وین: تقریباً 2,00,000 روپے
​دیگر اخراجات (گاڑی و فیول وغیرہ): تقریباً 4,00,000 روپے
​کل بچت: تقریباً 10 لاکھ روپے
ایک تعلیم یافتہ ماں اگر تھوڑی سی فونکس کی سمجھ بوجھ حاصل کر لے، تو وہ نہ صرف لاکھوں روپے بچا سکتی ہے بلکہ اپنے بچے کو ایک ایسا اعتماد دے سکتی ہے جو کوئی دوسرا ادارہ نہیں دے سکتا۔ یاد رکھیں، تعلیم یافتہ ماں گھر کی سب سے بڑی معمار ہوتی ہے۔
تحریر گوہر الرحمان۔

11/05/2026

مؤثر پڑھائی کے لیے
فوری استعمال کے لیے 10 عملی طریقہ
تحریر گوہر الرحمان۔
🗼 سبق شروع کرنے کا طریقہ:
سبق شروع ہونے سے پہلے کلاس کے دروازے پر کھڑے ہوں۔ بچوں کو سلام کریں اور آنکھوں میں دیکھیں۔
فائدہ:* اس سے بچے منظم انداز میں کلاس میں داخل ہوتے ہیں اور پڑھائی کا ماحول بن جاتا ہے۔

🗼2. خاموشی سے شروعات کی ایکٹیویٹی:
سبق کے شروع میں 60-90 سیکنڈ کا اکیلا کام دیں۔
مثال:* "پچھلے سبق سے جو 2 باتیں یاد ہیں وہ لکھو۔"
فائدہ:* بچے فوراً کام پر لگ جاتے ہیں اور کلاس پر سکون ہو جاتی ہے۔

🗼3. جواب کے لیے زیادہ وقت دینا:
سوال پوچھنے کے بعد 10 سیکنڈ خاموش رہیں، پھر جواب مانگیں۔
فائدہ:* بچے سوچ کر بہتر جواب دیتے ہیں اور زیادہ بچے حصہ لیتے ہیں۔

🗼4. کلاس میں جگہ بدل کر پڑھانا:
سمجھاتے وقت کبھی کلاس کے پیچھے یا سائیڈ پر کھڑے ہو کر پڑھائیں۔
فائدہ:* بچے سیدھے بیٹھتے ہیں اور آپ کی طرف دھیان دیتے ہیں۔

🗼5. بغیر بولے نظم و ضبط:
آواز اونچی کیے بغیر اشاروں سے کام لیں۔ جیسے بورڈ پر تھپتھپانا، انگلی اٹھانا، یا آگے بڑھنا۔
*فائدہ:* چیخے بغیر بچوں کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کیا کرنا ہے۔

🗼6. سوال کے لیے وقت دینا:
اکیلے کام شروع کرنے سے پہلے 2 منٹ دیں تاکہ بچے چپکے سے سوال پوچھ لیں۔
فائدہ:* سب بچے کام کو ایک جیسا سمجھ کر شروع کرتے ہیں، کنفیوژن ختم ہو جاتی ہے۔

🗼7. پڑھاتے وقت چلنا پھرنا:
پڑھاتے وقت کلاس کے بائیں، بیچ، اور دائیں طرف جائیں۔
فائدہ:* پوری کلاس کے بچے محسوس کرتے ہیں کہ ٹیچر ان کو دیکھ رہی ہے، دھیان نہیں ہٹتا۔

🗼8. جملے بنانے میں مدد دینا:
بچوں کو بولنے/لکھنے کے لیے جملوں کی شروعات دیں۔
مثال:* "میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کیونکہ…"
"شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ…"
فائدہ:* بچوں کی بولنے اور لکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

🗼9. غلطی سے سیکھنا:
ٹیسٹ کے بعد بچوں سے کہیں کہ اپنی غلطیاں کسی خاص رنگ سے ٹھیک کریں۔
فائدہ:* بچے اپنی غلطی پر سوچتے ہیں اور دوبارہ نہیں دہراتے۔

10. باری باری سمجھانا:
ایک بچے سے کسی تصور کا صرف 1 قدم سمجھانے کو کہیں، پھر اگلا بچہ اگلا قدم سمجھائے۔
فائدہ:* بچے ایک دوسرے کے ذمہ دار بنتے ہیں اور مل کر سیکھتے ہیں۔

10/05/2026

آج کل سوشل میڈیا پر ایک بحث زوروں پر ہے جس میں دنیا بھر کے اساتذہ کے کام کے اوقات کا موازنہ پاکستانی اساتذہ سے کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کہیں استاد دس گھنٹے کام کر رہا ہے تو کہیں سات گھنٹے۔ لیکن بطور ماہرِ تعلیم، میرا ماننا ہے کہ ہم غلط جگہ پر بحث کر رہے ہیں۔ استاد کی کارکردگی کو صرف گھڑی کی سوئیوں سے ناپنا دراصل تعلیم کے اصل مقصد سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ **”استاد کتنے گھنٹے کام کرتا ہے؟“** بلکہ اصل سوالات تو کچھ اور ہیں جن پر ہماری قوم کے مستقبل کا دارومدار ہے۔
🗼1. مسلسل سیکھنے کا عمل (Lifelong Learning)**
ایک بہترین استاد وہ نہیں جو صرف برسوں پرانا نصاب دہرا رہا ہو، بلکہ وہ ہے جو خود بھی ایک طالب علم ہو۔ کیا ہمارا استاد جدید دور کے تقاضوں، نئی ٹیکنالوجی اور نفسیاتِ اطفال سے باخبر رہنے کے لیے خود کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے؟ اگر استاد کا اپنا علمی سفر رک گیا ہے، تو وہ طلبہ کے سفر کو کیسے جاری رکھ سکتا ہے؟
🗼2. تخلیقی تدریس (Creative Teaching)**
کلاس روم کے چار دیواری میں کیا صرف رٹہ لگوایا جا رہا ہے یا وہاں تخلیق کے دیئے جل رہے ہیں؟ گھنٹے اہم نہیں، وہ "لمحات" اہم ہیں جہاں ایک خشک سبق کو استاد اپنی تخلیقی صلاحیت سے ایک دلچسپ تجربے میں بدل دیتا ہے۔ کیا ہمارا تدریسی عمل طالب علم کے تخیل کو مہمیز دے رہا ہے؟
🗼3. سوال پوچھنے کی ہمت (The Courage to Question)**
تعلیم کا سب سے بڑا ثمر سوال ہے۔ جس کلاس روم میں طالب علم سوال پوچھتے ہوئے جھجک محسوس کرے، وہاں تعلیم دم توڑ دیتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ کیا استاد نے ایسا ماحول فراہم کیا ہے جہاں بچے تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اپنائیں اور "کیوں اور کیسے" پوچھنے کی جرات کریں؟
🗼4. امتحان بمقابلہ زندگی (Education for Life)**
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری اور اچھے گریڈز تک محدود کر دیا ہے۔ کیا ہم طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے والی مشین بنا رہے ہیں یا انہیں زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ تعلیم وہی ہے جو کردار سازی کرے اور طالب علم کو ایک ذمہ دار انسان بنائے۔

> قومیں صرف کاغذ پر لکھے نصاب یا عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ قومیں ان اساتذہ سے بنتی ہیں جو اپنے کام کو محض ایک "ڈیوٹی" یا روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک **مقدس مشن** سمجھتے ہیں۔
>
وقت کی پیمائش تو مزدوروں کے لیے ہوتی ہے، معماروں کے لیے تو ہر لمحہ تعمیر کا لمحہ ہوتا ہے۔ ہمیں گھنٹوں کی گنتی سے نکل کر معیارِ تعلیم اور استاد کے جذبے پر توجہ دینی ہوگی، کیونکہ ایک مشنری استاد کا ایک گھنٹہ، روایتی استاد کے دس گھنٹوں سے بھاری ہوتا ہے۔

10/05/2026

تعلیم: صرف کاپیاں کالی کرنا نہیں، شخصیت تراشنا ہے!

​تحریر: گوہر رحمان

​آج اسکول کے دفتر میں چہل پہل معمول سے زیادہ تھی۔ ہماری پرنسپل صاحبہ کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے نظم و ضبط سنبھالنے کے لیے میں خود ان کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ میرے ذہن میں تعلیم کا ایک واضح اور جدید تصور ہے—ایک ایسا طریقہ کار جہاں بچہ کتابوں کا بوجھ اٹھانے سے پہلے زبان کی مٹھاس کو کانوں سے محسوس کرے اور پھر اسے ادا کرنا سیکھے۔

​اسی مقصد کے لیے میں نے اپنے پلے گروپ میں "دو اساتذہ کا ماڈل" متعارف کروایا ہے۔ ایک استاد کا کام پڑھانا ہے، جبکہ دوسری کا کام بچوں کی توجہ اور ارتکاز (Focus) کو برقرار رکھنا ہے تاکہ کھیل ہی کھیل میں بچہ سیکھنے کے عمل سے جڑا رہے۔ ان اساتذہ کو میری خاص ہدایت ہے:

​"پہلے بچے کو ایک اچھا سننے والا (Listener) بناؤ، پھر اسے بولنا سکھاؤ، اور جب وہ زبان سے مانوس ہو جائے، تب اسے پڑھنے اور لکھنے کی طرف لے کر جانا۔"

​ابھی تعلیمی سیشن کے ابتدائی دن ہیں۔ کلاسوں میں اساتذہ بچوں کے ساتھ باتوں، نظموں اور کہانیوں کے ذریعے ان کے کانوں کو الفاظ سے روشناس کروا رہے ہیں۔ بچے خوش ہیں اور بولنا سیکھ رہے ہیں، لیکن ان کی کتابیں ابھی بند اور کاپیاں خالی ہیں۔

​اسی دوران دفتر کا دروازہ کھلا اور ایک پریشان حال خاتون داخل ہوئیں۔ وہ اپنے نواسے کی تعلیم کے حوالے سے سخت ناراض تھیں۔ انہوں نے بیٹھتے ہی شکایتوں کا دفتر کھول دیا: "سر! کیا آپ کے اسکول میں کچھ پڑھایا نہیں جا رہا؟ میرا نواسا ایک ماہ سے آ رہا ہے لیکن اس کی کاپیاں بالکل خالی ہیں۔ کیا آپ کے اساتذہ کتابیں بستہ سے نکالنے کی زحمت بھی نہیں کرتے؟"

​میں نے مسکرا کر پشتو میں جواب دیا: "ا بے! مونگ ورتہ پہ یادو سبق خایوو کنہ" (اماں جی! ہم انہیں زبانی سبق سکھا رہے ہیں)۔ مگر وہ مطمئن نہ ہوئیں، کیونکہ ان کا سوال اس معاشرتی فکر کی عکاسی کرتا ہے جہاں تعلیم کو صرف "بھرے ہوئے صفحات" سے ناپا جاتا ہے۔

​میں نے نہایت تحمل سے انہیں وہ فطری ترتیب سمجھائی جس پر ہمارا اسکول کام کر رہا ہے:

​سننا (Listening): بچہ پیدا ہوتے ہی لکھنا شروع نہیں کرتا، وہ پہلے دو سال صرف سنتا ہے۔ اسی لیے ہم پہلے کہانیاں اور نظمیں سناتے ہیں تاکہ ذخیرہ الفاظ بڑھے۔

​بولنا (Speaking): جب بچہ سنتا ہے، تو اس میں اعتماد کے ساتھ بولنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

​پڑھنا (Reading): زبان سے مانوس ہونے کے بعد ہم اسے حروف کی پہچان کرواتے ہیں۔

​لکھنا (Writing): یہ سب سے آخری مرحلہ ہے، جس کے لیے ہاتھ کے پٹھوں کی مضبوطی ضروری ہے۔

​میں نے انہیں سمجھایا کہ ان کا نواسا جس دوسری استانی کا ذکر کر رہا ہے، وہ فالتو نہیں بیٹھی ہوتی بلکہ بچوں کے فوکس کو برقرار رکھتی ہے۔ میں نے مثال دی کہ جس طرح درخت کی جڑیں زمین کے اندر چھپی ہوتی ہیں اور نظر نہیں آتیں، مگر وہی پورے درخت کو مضبوط بناتی ہیں، بالکل اسی طرح پلے گروپ میں 'سننا اور بولنا' وہ پوشیدہ جڑیں ہیں جو نظر تو نہیں آتیں مگر مستقبل کی تعلیمی عمارت انہی پر کھڑی ہوتی ہے۔

​وہ خاتون شاید اپنی روایتی سوچ کی وجہ سے مکمل مطمئن ہوئے بغیر چلی گئیں، لیکن میرا ایمان پختہ ہے۔ راستہ کٹھن ضرور ہے، مگر منزل یہی درست ہے۔ آج اسمبلی سے پہلے میں نے اپنے اساتذہ کو بھی یہ واقعہ سنایا اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ ہمیں بچوں کو صرف "نقل کرنے والا" (Copyist) نہیں بلکہ سوچنے اور سمجھنے والا انسان بنانا ہے۔

​یاد رکھیے! تعلیم صرف کاپی کالی کرنے کا نام نہیں، بلکہ شخصیت کی نشوونما کا ایک فطری عمل ہے۔ جب یہی بچے چند مہینوں بعد اعتماد کے ساتھ گفتگو کریں گے، تو آج شکایت کرنے والے والدین ہی اس "خاموش تبدیلی" کے گواہ بنیں گے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Street No 14 Near Sadiq Akber Town Tajabad
Peshawar
24700

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 13:00
Saturday 08:00 - 21:00
Sunday 14:00 - 21:00