11/11/2025
آمین۔۔۔🤲
Peshawar Institute of Technology (PIT) is a leading institution dedicated to providing top-notch technical education in Peshawar and Mardan.
We are committed to academic excellence and fostering innovation. Join us to achieve your technical career goals.
11/11/2025
آمین۔۔۔🤲
28/09/2025
Best Opportunity for Matriculate students
Admissions Open at Peshawar Institute of Technology!
Offering:
🔧 DAE (3-Year Diploma)
• Civil Technology
• Electrical Technology
• Electronics Technology
• Petroleum Technology
💻 DIT (1 & 2-Year Diploma)
📜 Short Course Certifications
Join us for the best technical education, with a legacy of academic excellence since 1998.
Please contact or visit us for more information:
+923339122631
Add: Landay Sarak Stop, Charsadda Road Peshawar
Hostel facility available.
وہ 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچا تو انتہائی سستے سے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دو سو روپے سے بھی کم تھی۔سر پرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹر یانائب قاصدکے کپڑے بھی اس سے بہت بہتر تھے۔
منتخب وزیراعظم کو ان کے دفتر لے جایا گیا۔دفترکے باہر چپل اُتاری اورننگے پاؤں چلتا ہوا کرسی پر چوکڑی مارکر بیٹھ گیا۔سیکریٹری اوردیگر عملے کے اوسان خطاہوگئے کہ یہ کس طرح ملک کے لوگوں سے ووٹ کی طاقت سے وزیراعظم بن گیا ہے۔اس نے نے فائلیں منگوائیں اور بڑی محنت سے کام شروع کردیا۔سیکریٹری دوگھنٹے اپنے کمرے میں انتظار کرتا رہا کہ باس اب بلائے گا یا اب۔اس نے کئی بار چپڑاسی سے پوچھا کہ مجھے وزیراعظم نے تونہیں بلایا۔چپڑاسی شرمندگی سے جواب دیتا تھا کہ نہیں۔ابھی تک انھوں نے کسی کو بھی بلانے کے لیے نہیں کہا۔
پورادن گزرگیا۔وزیراعظم شیشیل سرکاری کام کرکے بڑے آرام سے واپس چلاگیا۔سختی سے منع کیا کہ کوئی بھی اسے خوش آمدید کہنے یاخداحافظ کہنے نہ آئے۔ یعنی اس نے ہرطرح کے پروٹوکول کوختم کردیا۔اسی صورتحال میں ایک ہفتہ گزرگیا۔تمام عملہ بیکار بیٹھا رہا۔ وزیراعظم ٹھیک آٹھ بجے صبح دفتر آتا تھا۔رات گئے تک کام کرتا تھا۔ پھر بڑے آرام سے چلاجاتا تھا۔
ایک ہفتہ بعد،سیکریٹری نے کورالا کو چٹ بھجوائی کہ وہ اسے کسی سرکاری کام سے ملنا چاہتا ہے۔چٹ بھجوائے ہوئے دوچارمنٹ ہوئے تھے کہ وزیراعظم خوداس کے کمرے میں آگیا اورتہذیب سے پوچھاکہ فرمایے، کیا کام ہے۔ سیکریٹری کی جان نکل گئی کہ ملک کا وزیراعظم اس کے دفترمیں آکر کام پوچھ رہا ہے۔کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ لجاجت سے اس نے کورالا کو کہا کہ سر،قانون کے مطابق بطوروزیراعظم آپ نے اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہیں۔وزیراعظم نے سیکریٹری سے فارم لیا اور خاموشی سے اپنے دفترچلا گیا۔
شام کوفارم واپس آیا تو سیکریٹری نے پڑھناشروع کردیا۔اثاثوں کا کاغذ دیکھ کر آنکھیں باہراُبل پڑی۔درج تھا،”میرے پاس کوئی گھرنہیں ہے۔ کوئی گاڑی بھی نہیں ہے کیونکہ میں بس میں سفر کرتا ہوں۔کسی قسم کی کوئی جائیداد، پلاٹ، زیور، سونا، ہیرے بھی نہیں ہیں۔جہاں تک زرعی زمین کا تعلق ہے،ساری زمین خیرات کرچکاہوں اوراس وقت میرے پاس ایک ایکڑ زمین بھی نہیں ہے۔میرا کسی قسم کاکوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے۔میرے پاس کوئی رقم ہی نہیں ہے۔میرے پاس صرف تین موبائل فون ہیں جن میں سے ایک آئی فون ہے۔اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے”۔
نیپال جیسا ملک جہاں سیاست اورکرپشن،بالکل ہماری طرح لازم وملزوم ہے۔وہاں وزیراعظم کے ڈیکلیئریشن فارم میں کسی قسم کے اثاثے نہ ہونا اچھنبے کی بات تھی ۔سیکریٹری اگلے دن صرف اس لیے وزیراعظم کے پاس گیاکہ کہیں اس سے کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو۔مگروزیراعظم نے تسلی دی اورکہا کہ میں نے ڈیکلیئریشن فارم کے نیچے دستخط کیے ہیں۔ فکرنہ کریں۔
تھوڑے دن کے بعد کسی صحافی نے اخبارمیں چھاپ دیا کہ یہ دنیاکاسب سے غریب وزیراعظم ہے۔اپوزیشن نے کہناشروع کر دیا کہ یہ شائد جھوٹ ہے۔کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جسکے خاندان میں تین وزیراعظم گزرے ہوں، اتنا مفلوک الحال ہو۔اپوزیشن نے ہر طرح کی تحقیق کرڈالی۔مگرشیشیل کورالاکی لکھی ہوئی باتوں میں کوئی سقم نہ نکال سکے۔واقعی وزیراعظم کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔وہ معاشی کسمپرسی کاشکار تھا۔
ایک سرکاری دورے میں حکومت کی طرف سے اسے چھ سو پنتالیس ڈالر ملے۔ دورے کے بعداس نے یہ تمام ڈالرسرکاری خزانے میں واپس جمع کروا دیے کہ اس کے دورے پرکسی قسم کے کوئی پیسے خرچ نہیں ہوئے۔لہذایہ ڈالراس کے کسی کام کے نہیں ہیں
بطور وزیراعظم شیشیل کورالا نے انتہائی سادگی سے وقت گزارا اورحکومت کے بعد بھائی کے گھرمنتقل ہوگئے۔آخری عمرمیں انھیں پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا۔ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔سیاسی پارٹی کے اراکین نے باقاعدہ چندہ اکٹھا کیا اورپھر وہ اپناعلاج کروانے کے قابل ہوئے۔ بہرحال کینسرجیسے موذی مرض سے بہادری سے لڑتے ہوئے 2016ء میں نیپال کے ایک سرکاری اسپتال میں دم ان کا انتقال ہوگیا۔
آج بھی آپ ان کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں توآنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ انسان پوچھتاہے اے خدا، ایسے درویش لوگ بھی اس دنیا پرحکومت کرتے ہیں۔الیکشن جیتتے ہیں اور اپنے دامن پر کرپشن کی ایک چھینٹ بھی نہیں پڑنے دیتے۔ اسی تنگدستی میں دنیاچھوڑدیتے ہیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو بھی ایسے سیاست دان عطاکرئے۔
Admissions open
DAE (3 Years)
Electronics Electrical
Çivil
Petroleum &
DİT one year
Learn the skills that bring success.
Admission open in
DAE courses as given below
Civil Technology (03 years)
Electrical Technology (03 years)
Computer Information Technology(CIT) (03 years)
Electronics Technology (03 years)
Petroleum Technology (03 years)
&
DIT one Year
DIT two Years
College Name & Location:
Peshawar Institute Of Technology (PIT), Peshawar.
Location; BRT Stop (Landay Sarak), Charsadda Road Peshawar.
Phone Office # 0912041485
Cell # 03339122631
Admissions Open
Session
2025-26
DIT one Year
Landay Sarak, Charsadda Road Peshawar
Cell
0912041485
25/03/2025
| Monday | 07:00 - 17:00 |