18/10/2025
محترم وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا
جناب محمد سہیل آفریدی صاحب
موضوع:
قبائلی اضلاع کی محرومیوں کے خاتمے اور نوجوانوں کی تعلیم و ہنرمندی کے فروغ کے حوالے سے
محترم جناب،
امید ہے کہ آپ صحت و عافیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں گے۔
جنابِ عالی، آپ بخوبی واقف ہیں کہ قبائلی اضلاع کو پاکستان کی آزادی سے لے کر آج تک ایک منظم منصوبے کے تحت پسماندہ رکھا گیا۔ 2018 میں انضمام کے عمل نے قبائلی عوام کے دلوں میں نئی امیدیں پیدا کیں۔ اس انضمام کے پیچھے سیاسی، سماجی اور قبائلی رہنماؤں کی طویل جدوجہد شامل تھی، جنہوں نے ایک روشن، پرامن اور مساوی مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔
جب 2018 میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت قائم ہوئی، تو قائد عمران خان نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز ہوا، مختلف محکمے قائم کیے گئے، اور امن و روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ عوام نے بڑی تعداد میں واپس آ کر آبادیاں شروع کیں، جس سے ایک مثبت فضا قائم ہوئی۔
تاہم، بدقسمتی سے سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان کے دور میں ترقیاتی فنڈز اور سرکاری بھرتیوں میں ناانصافیاں سامنے آئیں، جن میں بعض مقامی نمائندوں کی حمایت بھی شامل تھی۔ اس رویے نے قبائلی عوام میں مایوسی اور بےاعتمادی کو جنم دیا۔
اس کے باوجود، یہ دور قبائلی اضلاع کی تاریخ میں ترقی کا ایک سنہرا باب ثابت ہوا۔ لیکن اپریل 2022 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہوا، تو نہ صرف ترقیاتی منصوبے معطل ہوگئے بلکہ انضمام کے عمل پر بھی گویا ایک “فل اسٹاپ” لگ گیا۔
خاص طور پر Accelerated Implementation Programme (AIP) — جو اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تعاون سے جاری تھا — ختم کر دیا گیا۔ نتیجتاً، ترقی کا پہیہ رک گیا، دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور قبائلی اضلاع ایک بار پھر 2008–2009 جیسے حالات سے دوچار ہو گئے۔
قبائلی عوام کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں، مگر آپ کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایک نئی اُمید اور حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں، مگر ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ آپ عمران خان کے وژن کو آگے بڑھائیں گے — وہ وژن جو قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور انہیں برابر مواقع دینے پر مبنی ہے۔
جب اشرافیہ اور مفاد پرست عناصر نے آپ کے منصب سنبھالنے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، تو قبائلی عوام نے بلا تفریقِ زبان و قبیلہ آپ کے حق میں آواز بلند کی۔ آج بھی اگر آپ قبائلی عوام کے حقوق، ترقی اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں تو پوری قبائلی پٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
جنابِ عالی، ایک مخلصانہ مشورہ ہے کہ سب سے پہلے Accelerated Implementation Programme (AIP) کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ترقیاتی منصوبے دوبارہ شروع ہو سکیں۔
ساتھ ہی، قبائلی اضلاع کے طلبہ کے لیے تعلیم اور ہنرمندی کے خصوصی منصوبے متعارف کرائے جائیں۔ بہت سے قبائلی نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے بندوبستی اضلاع کا رخ کرتے ہیں، مگر مالی وسائل کی کمی کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔
نتیجتاً، اکثر نوجوان یا تو بیرونِ ملک مزدوری کے لیے جاتے ہیں یا پاکستان کے بڑے شہروں میں روزگار کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں اگر ان نوجوانوں کو جدید ہنر — بالخصوص ڈیجیٹل اسکلز اور آن لائن روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں — تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں گے بلکہ صوبے اور ملک کی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔
ہم، قبائلی اضلاع کے تمام نوجوان ہر اس اقدام میں آپ کے ساتھ ہیں جو قبائلی کی امن ،ترقی اورنوجوانوں کی تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور پائیدار ترقی کے لیے اٹھایا جائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت، بصیرت اور کامیابی عطا فرمائے
خیراندیش،
خیال زمان اورکزئی
صدر، ٹرائبل یوتھ موومنٹ
23/09/2025
22/09/2025
22/09/2025
22/09/2025
25/08/2025
19/08/2025