01/05/2026
"Legacy Continues, Islamians Shine Again"
It's been pleasure sharing the success story of our alumni Hazrat Bilal- the student of the Department of English (2019-2023) has been allocated in PAS group through CSS. It's worth noticing that Hazrat Bilal stood first in KP and 18th in Pakistan. His success reflects his dedication and determination towards his goal.
Congratulations, You have made us proud.
18/03/2026
جماتیانوں تہ فلسطین او ایران پہ نظر ور زی او افغانستان کابل ہسپتال پہ نظر نہ ورزی ۔۔ #منافقت کی اعلی مثال
04/03/2026
Hafiz jee, better cross the border and go to fight. Pakistanis aren't doing aggressions against Iran so don't make people suffer on roads due to protests . Content Milow sho Nazimano Ta 😬😬🦶
Jumatiyan ❌
Jokers #🤡 ✅
23/02/2026
جماعت اسلامی کی جمعیت طلباء تنظیم نوجوانوں کو خصی کیسے کرتی ہے؟
پہلے دن سے لیکر آخر تک کا منافقت بھرا سفر!
کالج یا یونیورسٹی میں قدم رکھتے ہی اگر کوئی تنظیم سب سے پہلے آپ کو گھیر لیتی ہے تو وہ جمعیتِ طلبہ ہوتی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی ہے۔ ان کا ناظم ہمیشہ ایک ٹرینڈ، مکمل برین واشڈ شخص ہوتا ہے، ایسا شخص جو جماعت کے لیے فکری نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ہر حد پار کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ اس کا کام سوال کرنا نہیں بلکہ حکم ماننا اور دوسروں کو بھی اسی ڈگر پر لگانا ہوتا ہے۔
جیسے ہی نئے طلبہ آتے ہیں، انہیں مائل کرنے کے لیے سب سے پہلا جال “مدد” کے نام پر ڈالا جاتا ہے۔ داخلے، فارم، فیس، ہاسٹل اور دیگر انتظامی معاملات میں یہ لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک ریاستی سرپرستی یافتہ تنظیم ہے، اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ سے ان کے براہِ راست روابط ہوتے ہیں۔ فارم بھرائی کے لیے یونیورسٹی یا کالج سے باہر کے لوگ ہائر کیے جاتے ہیں، جن میں پرائم این جی او سے لے کر الخدمت تک سب شامل ہوتے ہیں۔ نئے طالب علم کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید سب سے منظم، سب سے فعال اور سب سے “خدمت گزار” جماعت یہی ہے۔ اسی مرحلے پر اکثر طلبہ پہلی بار ان کے فکری شکنجے میں آ جاتے ہیں۔
اس کے بعد ذہنی تیاری اور فکری خصی کرنے کا باقاعدہ سفر شروع ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ ویلکم پارٹی ہوتی ہے، جو بظاہر خوش آمدید مگر درحقیقت نظریاتی ذبح خانہ ہوتی ہے۔ یہاں منظم انداز میں دوسری طلبہ تنظیموں اور خاص طور پر قوم پرستانہ سوچ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہر نئے طالب علم کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ہم صرف پاکستانی ہیں، قوم، زبان، ثقافت اور شناخت سب نسل پرستی ہے، اور نسل پرستی کفر ہے۔ یہ سب روسی، کمیونسٹ یا بیرونی سازشیں ہیں۔ تازہ ذہن، جو ابھی سوال کرنا سیکھ ہی رہا ہوتا ہے، اس بیانیے سے متاثر ہو جاتا ہے اور سوچنے کے بجائے ماننے کا عادی بننے لگتا ہے۔
اس کے بعد تحفوں اور خیرات کا مرحلہ آتا ہے۔ جمعیت کے پین، کاپیاں، بیجز، لڑکیوں کو نقاب، برقعے یا عبایے، اور کئی جگہوں پر نقد خرچہ دے کر رخصت کیا جاتا ہے۔ یہ سب بظاہر مدد ہے مگر درحقیقت نفسیاتی غلامی کا آغاز ہوتا ہے۔ طالب علم لاشعوری طور پر احسان کے بوجھ تلے آ جاتا ہے اور تنظیم کا اخلاقی مقروض بن جاتا ہے، جس کے بعد اختلاف اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
اگلا مرحلہ بک فیئر یعنی کتابوں کا میلہ ہوتا ہے۔ یہ علم کا میلہ نہیں بلکہ فکری اسلحہ خانہ ہوتا ہے۔ ننانوے فیصد لٹریچر ایک ہی فکر کا ہوتا ہے: مودودی کا مکمل ذخیرہ، ضربِ مومن جیسے اخبارات، مصر سے بنگلہ دیش تک اخوانی تحریریں، جہادی لٹریچر اور مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانے والا مواد۔ زیادہ تر کتابیں پرائم این جی او اور الخدمت کے خرچ پر مفت تقسیم کی جاتی ہیں تاکہ تازہ ذہن سوال سے خالی اور اطاعت سے بھرا ہوا مکمل جماعتی زومبی بن جائے۔ اس مرحلے کے بعد طالب علم محض ایک ناکارہ، خصی شدہ فکری پرزہ بن چکا ہوتا ہے۔
پھر کشمیر، فلسطین اور برما کے نام پر طلبہ کو بیانیہ بیچا جاتا ہے اور انہیں ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ آیا وہ یہی باتیں آگے پھیلا رہے ہیں یا نہیں۔ وزیرستان، باجوڑ اور دیگر مقامی واقعات پر احتجاج کے بجائے استغفار اور اذکار کے پیغامات گروپس میں ڈالے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ عوام کو ذکر کی تلقین کرو۔ اگر کوئی طالب علم مزاحمت یا سوال کی بات کرے تو فوراً اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ یار، سب پاکستانی ہیں، قوم پرستی نسل پرستی ہے اور کفر ہے۔
اگر اس سب کے باوجود کسی نوجوان میں تھوڑی بہت غیرت باقی ہو تو عورت پر اخلاقی حملے شروع کر دیے جاتے ہیں، ویلنٹائن ڈے کے مقابلے میں حیا ڈے منایا جاتا ہے، تاکہ نوجوان مکمل طور پر اگلے بیس تیس سال تک ایک مذہبی وحشی زومبی بنا رہے۔ اندرونِ خانہ محبت، منافقت اور ہر قسم کی گندگی پر نظریں چرا لی جاتی ہیں، بس شرط یہ ہوتی ہے کہ باہر کسی زومبی کو انسان نظر نہیں آنا چاہیے۔
یوں کالج یا یونیورسٹی میں داخل ہونے والا ایک قابل، سوال کرنے والا بیٹا یا بیٹی چند سالوں میں جمعیت کے ہاتھ چڑھ کر مکمل مذہبی زومبی بن جاتا ہے۔ اگر آپ اس کی پہچان کرنا چاہیں تو اس کی نظر کا زاویہ چیک کریں۔ اسے وزیرستان اور باجوڑ نظر نہیں آئیں گے، مقامی مظالم دکھائی نہیں دیں گے، مگر کشمیر، فلسطین اور برما اسے ہر وقت صاف دکھائی دیں گے۔
مبارک ہو۔
لیں جناب، آپ کا جماعتی زومبی تیار ہے۔ اب اسے جہاں چاہیں فٹ کر دیں۔ یہ طوطے کی طرح ایک ہی بیانیہ چلائے گا، سوال نہیں کرے گا، سوچے گا نہیں، صرف حکم مانے گا
14/01/2026
Ms/MPhil & Phd Date extended
20/12/2025
Mr. Sajid Ali, MPhil Research Scholar at the Department of Economics, Islamia College Peshawar, has successfully defended his thesis titled "IMPACT OF MACROECONOMIC UNCERTAINTY ON ENVIRONMENTAL OUTCOMES: A PANEL DATA EVIDENCE".
The scholar worked under the supervision of Dr. Said Zamin Shah (Assistant Professor, Department of Economics). Dr. Mukamil Shah (Assistant Professor, IM|Sciences Peshawar served as his external examiner.
A large number of participants, the chairman Department of Economics, faculty members, and students attended the defence. The defence was held earlier today.
We wish Mr. Sajid, best of luck for his future endeavours.