EDWARDIANS

EDWARDIANS

Share

Here you will learn at least something and add to your knowledge. I am an X-EdwardiaN, Be Edwardian,Respect Edwardes College and Love Edwardes 4ever!

Love, not Hate!
انداز قلندرانہ
About Admin:🔻
🟢X-Edwardian
🔴Old Ravian
🔵Quaidian
❤‍🔥ModernMalang

12/09/2025

Quote of the day!

01/09/2025
21/06/2025

Beware!

18/06/2025

ایران جمہوریت سے ملائیت تک کیسے پہنچا۔۔ ہمارے چند سوکالڈ فری تھنکر لبرل دانشوڑ بابوں کی منافقت
———————————

کوئی سیکیولر جمہوریت کا علمبردار، فری تھنکر، ریشنلسٹ، روشن خیال دانشوڑ “ تہذیب اور امن “ کا ٹھیکیدار آپ کو شاید یہ نہ بتائے کہ ایران 1953 میں ایک جمہوری ریاست تھا، ایک ڈیموکریٹک حکومت تھی۔ مصدق شاہ (محمد مصدق) ایران کے سیاستدان اور رہنما تھے جو 1951 سے 1953 تک ایران کے وزیرِ اعظم رہے۔

کبھی تاریخ پر نظر ڈالیں ۔ آپ کو معلوم پڑے گا کہ حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ مصدق نے 1951 میں ایران کے تیل کے وسائل کو
Anglo-Iranian Oil Company (AIOC)
جو کہ برطانوی کمپنی تھی اس سے واپس لے کر ایرانی کنٹرول میں دے دیا۔ ان کئ (Nationalization of the Oil Industry) کی پالیسی برطانیہ اور امریکہ کے مفاد کے خلاف تھی چونکہ تیل کی ایرانی صنعت پر اُس وقت برطانوی کنٹرول تھا۔ یہ اقدام برطانیہ کے مفادات کے خلاف تھا، کیونکہ وہ ایران کے تیل سے زبردست منافع کما رہا تھا۔


جواب میں پہلے تو برطانیہ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، اور معاملہ عالمی عدالت میں بھی لے گیا۔ ایران کو بین الاقوامی سطح پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی دوران مصدق شاہ جو کے منتخب رہنما تھا اس نے بادشاہی نظام (شاہِ ایران) کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی اور پارلیمانی جمہوریت کو فروغ دیا۔

ان دو بڑے جرائم کو بنیاد بنا کر 1953 میں امریکہ (CIA) اور برطانیہ (MI6) نے مشترکہ طور پر ایک خفیہ آپریشن (Operation Ajax) کے ذریعے مصدق کی حکومت کا تختہ 4 دن میں الٹ دیا۔ وہی رجیم چینج کا روایتی واردات جو CIA نے اپنا modus operandiرکھا ہے دنیا بھر میں پورئ دنیا میں 100 کے قریب آپریشن کروا چکا ہے ۔ جمہوریت اور انسانی تہذیب کے چیمپئن امریکہ برطانیہ اور اسرائیل نے شاہِ ایران (محمد رضا پہلوی) کو مکمل اقتدار دلوا دیا، مصدق کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

“تہذیب اور امن “ کے داعیوں نے western colonial mindset کے تحت ایک settler colonial state Israel کی regional hegemony  کیلئے یہ واردات ڈالی ۔ اس طرح 1953 سے لے کر 1978 تک امریکی پٹھو رضا شاہ حکومت میں رہا اور امریکی کٹھ پتلی کے خلاف عوامی ردعمل بڑھا ملاؤں نے عوامی انقلاب کے ذریعے حکومت کا تخت پلٹ دیا فرانس میں موجود exiled ملا خمینی واپس آئے مایرانی عوام پر انقلاب کے نتیجے مسلط ہو گئے ۔ اس طرح جمہوری ریاست کو ایک پولیس سٹیٹ بنانے میں اور بعد میں ملائیت کے ہتھے چڑھانے میں امریکہ کا سب سے بنیادی کردار ہے اور اس میں interest کس کا تھا امریکہ برطانیہ کا اور اسرائیل جس کو علاقائی policemen بنانا مقصد تھا۔

اس لئے مذہبیت اور ملائیت کے ناسور کے خلاف ضرور بات کریں ۔ مگر ہمارے مغرب کے غلام “جعلی فری تھنکر دانشووڑوں” کی منافقت کا جواب دینا بھی سیکھیں۔ ایران کو اگر اس رجعت ، مذہبیت کی طرف اور authoritarian clergy کے rule کی طرف کوئی لے کر گیا تو وہ یہی امریکہ برطانیہ اسرائیل ہیں اور کوئی نہیں، جو ان جعلی ریشنلسٹ دانشوڑوں کے بقول “ تہذیب اور امن “ کے داعی ہیں۔

Source Khalid Younis

11/06/2025

“عبادتیں بہت ہو گئیں، اب کردار چاہیے"

— تہذیبوں کا تضاد اور معاشرتی سچائیوں کا نوحہ—

تحریر:
محمد سعید اختر

تعارف:
بہت خوبصورت اذانیں سنائی دیتی ہیں، قاری حضرات کی تلاوت سے محفلیں جگمگا اٹھتی ہیں، مسجدیں آباد ہیں، مجالس بھری ہوتی ہیں، حج و عمرے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہیں، اور قربانی کے جانور فخر سے دکھائے جاتے ہیں۔ مگر حیرت یہ ہے کہ نہ معاشرہ بہتر ہو رہا ہے، نہ انسان۔ جھوٹ عام ہے، ظلم بڑھتا جا رہا ہے، بے حسی، منافقت، خود غرضی، بددیانتی، نا انصافی، عروج پر ہے، اور خلوص، صبر و تحمل، احترام آدمیت، عورتوں کے مساوی حقوق اور احترام، امانت، دیانت داری، سچائی، عدل جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔

1. رسموں میں لپٹی روح سے خالی مذہبیت
یہ وہ سماج ہے جہاں مذہب ہر چوک پر نظر آتا ہے، مگر سچائی ہر موڑ پر غائب ہے۔

دعائیں ہوتی ہیں، مگر دلوں میں بغض، تعصب اور خودغرضی پل رہی ہوتی ہے۔

خطبے زور و شور سے دیے جاتے ہیں، مگر ان کا اثر بازار، دفتر یا عدالت تک نہیں پہنچتا۔

عبادات کا شور ہے، مگر سکون غائب ہے؛ ایمان کا دعویٰ ہے، مگر اخلاق ناپید ہے۔

2. تہذیب یافتہ معاشروں کی حیران کن سچائی
دنیا کے وہ معاشرے جو مذہبی شدت سے دور ہیں، وہاں انصاف، سچائی، صفائی، قانون کی بالادستی، اور انسانی وقار نظر آتا ہے۔

کوئی کسی کا حق نہیں مارتا، رشوت عام نہیں، ٹریفک قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، وقت کی قدر ہے، اور انسان کی جان کا احترام ہے۔

عورتیں مکمل آزاد ہیں اور انکو مکمل مساوی انسانی حقوق حاصل ہے۔ وہاں 18 سال سے کم عمر اور جبری شادی جرم تصور کی جاتی ہے۔

وہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ان کے پاس “آخری سچ” ہے، مگر وہ سچ کے قریب نظر آتے ہیں۔

وہ مذہب کے شور کے بغیر بھی بہتر انسان بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

3. مسئلہ کہاں ہے؟ عبادت یا نیت؟
جب عبادتیں صرف ثواب کی فائلیں بھرنے کا ذریعہ بن جائیں اور ان کا تعلق زمینی حقیقتوں، سچ، انصاف اور انسانیت سے ختم ہو جائے، تو وہ صرف ایک جذباتی مشغلہ بن جاتی ہیں۔

ہم اچھے انسان اس لیے نہیں بن رہے کیونکہ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ عبادت کافی ہے، کردار ضروری نہیں۔

ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ بخشش کسی خاص دن کے روزے، رات کی عبادت یا مخصوص کلمات سے ہو جائے گی، بھلے ہم نے زندگی میں کسی کا حق مارا ہو۔

4. مذہب کا نمائندہ، مگر اخلاق کا دشمن؟
اکثر وہ افراد جو مذہبی شناخت کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں، اُن کے معاملات، رویے، زبان اور کردار دوسروں کو دین سے دور کرتے ہیں۔

مذہب کا لباس پہننے والے بازار میں جھوٹ بولتے ہیں، دفتر میں فریب کرتے ہیں، گھر میں ظلم کرتے ہیں۔

یہ وہ تضاد ہے جو مذہب کی اصل روح کو مجروح کرتا ہے، مگر براہِ راست مذہب پر سوال نہیں اٹھاتا—کیونکہ مذہب کی اصل تک پہنچنا شاید کبھی مقصد ہی نہیں رہا۔

5. عبادات کا دکھاوا اور خود کو فریب
سوشل میڈیا نے مذہبی اعمال کو بھی "نمائشی پروجیکٹ" بنا دیا ہے۔

حج، عمرہ، قربانی، رمضان کی افطاری—یہ سب دکھانے کی چیزیں بن چکی ہیں، عمل اور رویے کا اثر کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

دل کی تطہیر سے زیادہ تصویر کی خوبصورتی اہم ہو چکی ہے۔

نتیجہ: مذہبی خ*ل میں چھپا ہوا سماجی انکار
یہ سوال اب ناگزیر ہے:
اگر عبادات سے کردار نہیں بدلتا،
اگر نماز سے زبان نہیں سنورتی،
اگر روزے سے دل نہیں نرم ہوتا،
اگر حج سے تکبر نہیں جاتا،
اگر مجالس سے انصاف کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا—
تو سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔
ہماری ان سب مذہبی سرگرمیوں اور عبادات کے نتیجے میں خیر کیوں نہیں پڑ رہی۔۔۔!؟ فلاح کیوں نہیں پیدا ہو رہی۔۔!!؟؟ معاشرہ کیوں نہیں بہتر ہو رہا۔۔۔!!!؟؟؟
تو ہم کن غیرثمرآور، غیر تخلیقی اور حقیقی فلاں سے محروم سرگرمیوں میں اپنا وقت گزار رہے ہیں؟

تجویز:
مذہبی اعمال کو اخلاقی و سماجی شعور سے جوڑے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

تربیت کا نظام صرف مذہب سکھانے پر نہیں، بلکہ انسان بنانے پر ہو۔

مذہب کے ظاہری ڈھانچے سے نکل کر باطنی روشنی کی طرف بڑھنا ہو گا—بصورتِ دیگر، ہم صرف عبادات کی فیکٹری میں وقت گزاریں گے، مگر معاشرہ اندھیروں میں گم رہے گا۔ اور معاشرہ حقیقی فلاح سے یوں ہی محروم رہے گا۔

22/05/2025
Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar
25000