🔥
☯️Perimeter of a Square - P = 4s
☯️Perimeter of a Rectangle - P=2l+2w
☯️Circumference of a Circle - C = 2πr OR πd
☯️Area of a Square - A=s²
☯️Area of a Rectangle/ Square - A=lw
☯️Area of a Parallelogram - A=bh
☯️Area of a Trapezoid - A=½(b₁+b₂)h
☯️Area of a Circle - A=πr²
☯️Surface Area of a Rectangular Prism - SA = 2lw + 2wh + 2lh
☯️Surface Area of a Circular Prism (Cylinder) - 2pR² + 2pRH
☯️Surface Area of a Triangular Prism - bh + (S1+ S2 + S3)H
☯️Base shape: Triangle: base 'b', height 'h', and sides S1, S2 and S3
☯️Area of base: ½b×h
☯️Perimeter of base: S1+ S2 + S3
☯️Surface Area of a Cone - SA=πrl+πr²
☯️Surface Area of a Sphere - SA=4πr²
☯️Volume of a Cube - V=s³
☯️Volume of a Prism - V =Bh
☯️Volume of a Pyramid - V=⅓Bh
☯️Volume of a Cone - V=1/3πr²h
☯️Volume of a Sphere - V=(4/3)πr³
☯️average = sum of terms / number of terms
☯️average speed = total distance / total time
☯️mode = value in the list that appears most often
☯️median = middle value in the list
☯️Area of a Trapezoid - A=½(b₁+b₂)h
☯️Slope Formula - m=y₂-y₁/x₂-x₁
☯️Slope-Intercept Form - y=mx+b, where m is the slope and b is the y-intercept of the line.
☯️Point-Slope Form - y-y₁=m(x-x₁), where m is the slope and (x₁,y₁) is a given point on the line
☯️Standard Form (Linear Equations) - Ax + By=C, where A, B, and C are not decimals or fractions, where A and B are not both zero, and where A is not a negative
☯️Standard Form (Quadratic Equations) - ax² + bx + c = 0
☯️Quadratic Formula - x = -b ± √(b² - 4ac)/2a
☯️Standard Form (Quadratic Functions) - y=ax²+bx+c
Intercept Form (Quadratic Functions) - the form y=a(x-p)(x-q), where the x-intercepts of the graph are p and q
☯️Vertex Form (Quadratic Functions) - y=a(x-h)²+k
☯️Exponential Growth Formula - y = a (1 + r), r is a decimal value for the percent increase
☯️Exponential Decay Formula - y = a(1 - r), r is a decimal value for the percent decrease
☯️Arithmetic Sequence Formula - a₁+(n-1)d
☯️Geometric Sequence (Definition and Formula) - a sequence that can be defined recursively as An = A(n-1)r
☯️Simple Interest Formula - I=Prt
☯️Compound Interest Formula - A = P(1 + r/n)^(n x t), r is the rate, n is the number of times compounded, t is time
☯️Distance Formula - d = √[( x₂ - x₁)² + (y₂ - y₁)²]
☯️Midpoint Formula - (x₁+x₂)/2, (y₁+y₂)/2
☯️Distance Traveled Formula - d=rt
☯️1 kg (kilograms) --> lbs - 2.2 lbs (pounds)
☯️1 kg (kilograms) --> grams - 1000 g (grams)
☯️1 g (gram) --> milligrams - 1000 mg (milligrams)
☯️1000 mcg (micrograms) --> milligrams - 1 mg (milligram)
☯️1000 mg (milligram) --> gram - 1 g (gram)
☯️1000 mL (milliliters) --> liters - 1 L (liters)
☯️30 mL (millilters) --> ounces - 1 oz (ounce)
☯️30 mL (milliliters) --> tablespoon - 2 tbsp (tablespoons)
☯️5 mL (milliliters) --> teaspoon - 1 tsp (teaspoon)
☯️15 mL (milliliters) --> tablespoon - 1 tbsp (tablespoon)
☯️DO NOT WRITE - trailing zeros ex: 5.0
☯️DO WRITE - leading zeros ex: 0.5
☯️Linear Function Format - Y = mx + b
☯️Identity function format - F(x) = x
☯️Square function format - Y = x^2
☯️Cube function format? - Y = x^3
☯️Square root function format? - Y = (x)^(1/2)
☯️Exponential Function format? - y = e^x
General Knowledge MCQs
All NTS,ETEA And other competitive exams students, candidates and Teachers male and female must join my page to increase your knowledge and experience.
Thank you
::: ہیپی نیو ایئر :::
نئے شمسی سال کے آغاز میں رات بارہ بجے کے بعد پوری دنیا میں ہیپی نیو ایئر ( Happy New Year ) منایا جاتا ہے ، جس میں منچلے مسلمان کفار سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، پوری دنیا میں عیسائی چونکہ اس وقت افرادی لحاظ سے سب سے زیادہ ہیں ، اس لئے ایک لحاظ سے اب یہ ان کا خصوصی تہوار قرار پا چکا ہے ، جب کہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی یہ تہوار اپنے سے سابقہ باطل مذاہب سے اخذ کیا ہے ، تاریخ میں اس قسم کے باطل تہواروں کا ذکر تقریباً دو ہزار قبل مسیح میں بھی ملتا ہے ، جو دیویوں اور دیوتاؤں کی طرف کسی نہ کسی حوالہ سے منسوب تھے ، عیسائیوں کا اس دن کو منانا ، ایک لطیفہ سے کم نہیں ہے ، وہ اس طرح کہ ایک طرف عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ 25 دسمبر کو عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی ، لہٰذا ہم اس دن کو کرسمس ڈے کے طور پر مناتے ہیں ، قطع نظر اس سے کہ یہ عیسیٰ ؑ کی ولادت کا دن ہی نہیں ہے ، جب عیسائیوں پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ پھر تم عیسیٰ ؑ کی ولادت کے دن سے اپنے نئے سال کا آغاز کیوں نہیں کرتے؟ تو ان کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیے ، عذرِ لنگ تراشتے ہوئے کہتے ہیں کہ
مسیحؑ پیدا تو 25 دسمبر کو ہوئے تھے ، لیکن ان کی ختنہ ساتویں دن کی گئی تھی ، اس لئے ہم نیا سال اس دن سے شروع کرتے ہیں ، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عیسیٰؑ کی ختنہ کا دن اتنا اہم ہو گیا کہ اس سے پوری دنیائے عیسائیت نے نئے سال کا آغاز کرنا اور پھر اسے منانا شروع کر دیا اور دوسری طرف مزے کی بات یہ ہے کہ کل جہاں کے عیسائی مَردوں نے کبھی زندگی میں ختنہ ہی نہیں کرایا ، یہ بے چارے بغیر ختنہ ہی کے ختنہ والا دن مناتے رہتے ہیں ، لیکن حیرت ان پر نہیں ہے ، حیرانی تو ان مسلمانوں پر ہے جو اس قسم کے ڈھکوسلوں پر یقین کرتے ہوئے ان کے تہواروں میں شرکت کرتے ہیں ، کفار کے ایسے تہواروں میں شرکت اور انہیں اس پر مبارک باد دینے سے قرآن و سنت ، خلفائے راشدینؓ اور مذاہبِ اربعہ ، حنفیہ ، مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ سب ہی متفقہ طور پر ممانعت کرتے ہیں ، کیونکہ کرسمس ڈے اور ہیپی نیو ائیر کے در پردہ عیسائیوں کا یہ باطل عقیدہ چھپا ہوا ہے کہ العیاذ باللہ
’’ خدا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ۔‘‘
جس کی قرآن کریم میں کھل کر تردید کی گئی ہے ۔
نیز ابوداؤد ، سنن ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضورؐ کی ایک حدیث مبارکہ بھی موجود ہے کہ
’’ حضورؐ کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ کے مقام پر اونٹ قربان کرے گا ، آپؐ نے پوچھا کہ وہاں جاہلیت کے زمانہ میں کوئی بت کی پوجا تو نہیں ہوتی تھی؟ صحابہ نے بتایا کہ نہیں ، آپؐ نے پھر پوچھا کہ وہاں ان کے تہواروں میں سے کوئی تہوار تو منعقد نہیں ہوتا تھا ؟ صحابہ نے بتایا کہ نہیں ، پھر آپؐ نے فرمایا تم اپنی نذر پوری کر لو کیونکہ ایسی نذر کا پورا کرنا درست نہیں جو معصیت ہو یا جو آدمی کے بس سے باہر ہو ۔‘‘
جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا مشرکانہ مراسم اور مقامات سے دور رہنا کس قدر ضروری ہے ۔
چنانچہ خلیفہ راشد حضرت عمرؓ نے تو شام کے عیسائیوں کو پابند کر دیا تھا کہ
’’ وہ دار الاسلام میں اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے ۔‘‘
اسی پر امت کا دورِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے اتفاق چلا آرہا ہے ، چنانچہ کسی کافر کو اس کے مشرکانہ تہوار پر مبارک باد دینے کے حوالہ سے حافظ امام ابن القیمؒ نے کیا خوب تجزیہ فرمایا ہے ، کہتے ہیں کہ
’’ یہ ایسا ہی ہے کہ مسلمان اسے صلیب کو سجدہ کر آنے پر مبارک باد پیش کرے ! یہ چیز اس سے کہیں سنگین ہے کہ آدمی کسی شخص کو شراب پینے یا حرام شرم گاہ کے ساتھ بدکاری کرنے پر مبارک باد پیش کرے ۔‘‘
بعض منچلے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی عیدین پر عیسائی بھی تو ہمیں مبارک بادیں پیش کرتے ہیں اور ہم قبول کرتے ہیں تو ان کی عید پر انہیں مبارک بادیں دینے میں حرج ہی کیا ہے؟
بھلے لوگو ! اتنی موٹی سی بات ہے کہ ہماری عیدین کے پیچھے کوئی شرکیہ عقیدہ نہیں چھپا ہوا ، اس لئے ان کی طرف سے مبارک باد قبول کرنے میں مضائقہ نہیں ، جب کہ ان کی عید کے پیچھے نہ صرف شرکیہ عقیدہ چھپا ہوا ہے بلکہ حرام کاموں کی تلویث بھی مستزاد ہے ، اس لئے
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
مولیٰ کریم تمام مسلمانوں کو ایسی خرافات میں شامل ہونے سے بچائے ۔ آمین بحرمۃ سید المرسلین ۔
22/12/2024
English grammar handwritten notes,
18/12/2024
کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟
1953 میں ایک امریکن کوہ پیماہ George Bell نے K-2 سے شکست کھانے کے بعد ایک عیجب و غریب بیان دیا۔اس نے اس پہاڑ کو The Savage Mountain کا نام دیا اور کہا کے اس پہاڑ کا سر کیا جانا ناممکن ہے۔اس دنیا میں 8000 میٹر کی کل 14 چوٹیاں موجود ہیں جن میں سے 5 پاکستان ،8 نیپال اور ایک چوٹی چائینہ میں واقع ہے۔ 1856 میں برٹیش سرکار نے ایک Trigonmetrical سروے کے دوران ان 5 چوٹیوں کوK5,K4,K3,K2,K1 کا نام دیا۔انھی پانچ چوٹیوں میں دنیا کی دوسری بلند ترین اور پہلی خطرناک ترین چوٹی K2 بھی شامل ہے۔اسکو دنیا خطرناک ترین چوٹی اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس پہ مرنے والوں کی تعداد دنیا کی بلند تریں چوٹی ماوئنٹ ایوریسٹ سے کہیں زیادہ ہے۔شروع شروع میں K2 کو سر کرنے میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ K2 پہ جانے کا صیح راستہ کسی شخص کو معلوم نہ تھا۔K2 کو سر کرنے کی پہلی کوشیش 1902 میں Victor wessely اور اس کی ٹیم نے کی انہوں نے کے۔ٹو کو شمال مشرق کے ڈھلوانی راستے سے سر کرنے کی کوشیش کی لیکن 68 دن کی انتھک محنت کے بعد یہ لوگ صرف K2 بیس کیمپ یعنی 5000 سے 6000 میٹر بلندی تک ہی پہنچ سکے۔اس مہم سے واپسی پر انھوں نے صرف اتنا کہا کہ اس مہم میں نہ تو کسی انسان کو اور نہ ہی Beast کو کوئی نقصان پہنچا۔انھوں نے اس پہاڑ کے لیے Beast کا لفظ استعمال کیا۔K2 کو سر کرنے کی دوسری کوشیش 1909 میں کی گئی لیکن یہ لوگ بھی بیس کیمپ سے آگے نہ جا سکے۔واپسی پر ان کے ٹیم لیڈر Duke نے کہا K2 Would never be climbed یعنی کے۔ٹو کبھی سر نہیں ہو پاے گا۔کے۔ٹو کو سر کرنے میں سب سے اہم کردار ایک امریکن کوہ پیما Charles Houston نے ادا کیا۔اس کے۔ٹو کا پاکستان کی طرف سے جانے والا مغرابی راستہ جسے آجکل Abruzzi روٹ کہا جاتا ہے دریافت کیا۔اس نے کہا کہ کے-ٹو کو سر کرنے کا یہ راستہ سب سے آسان اور پریکٹیکل ہے۔1939 میں Dudly Wolfe اور اس کی ٹیم اس راستہ سے پہلی بار کے۔ٹو پر 8000 میٹر کی بلندی جہاں پہ آجکل کیمپ 4 ہوتا ہےاس تک پہنچے۔لیکن اس سے آگے کے۔ٹو کی چوٹی کی طرف جاتے ہوے ان کے ٹیم ممبرز اس پہاڑ پر کہیں کھو گئے اور ان کو ناکام واپس آنا پڑا۔1953 میں پھر ایک بار Charles Houston اور اس کی ٹیم نے K2 کو سر کرنے کی کوشیش کی لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو Dudly Wlofe کی ٹیم کے ساتھ ہوا تھا۔مشہور زمانہ کوہ پیماہ George Bell بھی اس بار ان کے ساتھ تھے لیکن اس مہم میں ایک Frost Bite کی وجہ سے ان کو اپنی ایک ٹانگ کٹوانی پڑی۔K2 کو پہلی مرتبہ کامیابی سے کرنے کا سہرا اٹلی کے دو کوہ پیماوں کے سر جاتا ہے۔انھوں نے پہلی مرتبہ31جولائی 1954 میں کے۔ٹو کو کامیابی سے سر کیا۔اس مہم میں ان کے ساتھ پاکستانی کوہ پیماہ کرنل عطا محمد اور ہنزا کا ایک پورٹر عامر مہدی بھی شامل تھا۔انھوں نے ان کوہ پیماوں کا سامان 8000 میٹر بلندی تک پہنچانے میں ان کی مدد کی تھی۔اس مہم سے واپسی پر عامر مہدی کو اپنی ایک ٹانگ کٹوانی پڑی۔کے۔ٹو کو پہلی بار کامیابی سے سر کرنے کے ٹھیک 23 سال بعد جاپان سے آئے ہوئے کوہ پیماوں نے کے۔ٹو کو دوسری مرتبہ کامیابی سے سر کیا۔ان کی اس مہم میں تقریبا 1500 پاکستانی پورٹر شامل تھے۔اس کے علاوہ مشہور پاکستانی کوہ پیماہ اشرف امان بھی ان کے ساتھ تھے۔اشرف امان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے کے۔ٹو کی چوٹی پر اپنے قدم رکھے۔1986 میں پہلی مرتبہ کسی خاتون نے کے۔ٹو کو کامیابی کے ساتھ سر کیا۔اس Polish خاتون کا نام *Wanda* تھا۔اور کے۔ٹو کو سر کرنے کے ٹھیک 8 گھنٹے بعد واپسی پر وہ کے۔ٹو کے انتقام کا شکار بن کر جان کی بازی ہار گئی۔یوں بھی کہا جاتا ہے کہ کے۔ٹو خواتین سے انتقام ضرور لیتا ہے۔
اس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف ممالک سے لوگ آتےکچھ کامیابی سے کے۔ٹو کو سر کرتے رہے اور کچھ اس کے غضب کا شکار بنتے رہے۔ کے۔ٹو سے منسلک 3 حادثات کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور ان کو *Three Major Disaster* کا نام بھی دیا جاتا ہے۔پہلا حادثہ اگست 1986 میں پیش آیا جس میں 13 کوہ پیماہ اکٹھے کے۔ٹو پر مارے گئے۔دوسرا حادثہ 1995 میں رونما ہوا جب کے۔ٹو کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد واپسی پر 6 کوہ پیما جان سے گئے۔تیسرا حادثہ اگست 2008 میں پیش آیا جب کے۔ٹو نے 11 ماہر کوہ پیماوں کی جان لی۔ان حادثات پر مختلف موویز بھی بن چکی ہیں۔
اگر آپ کے۔ٹو کے معتلق موویز دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں تو ہالی *وڈ کی یہ 4 موویز آپ کو بہت پسند آئیں گی۔جن میں
K2(1991)
Vertical limit(2001)
The siren of Himalaya(2012)
The Summit(2012)
* شامل ہیں۔ان موویز کو دیکھنے کے بعد آپ کو قدرت کے اس شاہکار کی وسعت اور خدوخال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان زندہ آباد❤❤
18/12/2024
خیبر پختونخواہ پبلک سروس کمیشن نے مختلف پوسٹس کے ٹیسٹ کیلئے شیڈول جاری کردیا
لیکچرر, سبجکٹ سپیشلسٹ سمیت دیگر پوسٹس کے ٹیسٹ جنوری 2025 میں منعقد ہونگے
17/12/2024
17/12/2024
16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے پاکستان میں استعمال ہونے والا 10 روپے کا کرنسی نوٹ۔ ـ
نوٹ پر اردو اور بنگالی دونوں زبانوں میں 10 روپے درج ہے اس زمانے میں اردو اور بنگالی دونوں پاکستان کی قومی زبانیں تھیں
10/12/2024
حج اپڈیٹ 10 دسمبر، 2024
حج درخواستوں کی وصولی کا آج آخری دن۔ دن 12 بجے تک 75 ہزار 337 حج درخواستیں موصول ہوئیں۔ نامزد بینک آج بھی حج درخواستوں کی وصولی جاری رکھیں گے۔ 2 لاکھ روپے کی پہلی قسط کے ساتھ نزدیکی بینک میں درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔ سمندر پار پاکستانی سپانسرشپ سکیم میں بلا قرعہ اندازی شامل ہو سکتے ہیں۔ نئے درخواست گذار پہلے سے کامیاب عزیز و اقارب کے گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں: ترجمان مذہبی امور
10/12/2024
Geometric shapes
06/12/2024
پاسپورٹ کے خواہشمند پاکستانی مکمل فیس کا شیڈول
Click here to claim your Sponsored Listing.