VOICE of Prisoners

VOICE of Prisoners This organization belief and faith upon to exsert every foulness in the field of law and expediently Noor Alam Khan Advocate Supreme Court of Pakistan.

Voice of Prisoners
The voice of prisoners is a bureau regarding uplifting if the society in the fraternity of law , which is non-governmental non-profiting and free from all aspects of political matters. This organization is struggling for the vast welfare of all the classes of prisoners and supported them legal aid and to provide them every opportunity during imper-viability in the legal system.

The progression of the organization having progress towards systematic way about the penology and demolishing every hurdle which comes as obstacle in pensive issues in this regard. The organization is not limited to the prison and courts but its ingratiate in public at large too, due to different seminars, workshop, lectures and adopted every tolls which would prove a useful expression of rule of law. Its aim to educate public as well as prisoners to their basic and fundamental rights and then protect their rights in every step when and where its violate by any institute governmental or non- governmental country wide or world wide in order to search of justice for every human being. This organization belief and faith upon to exsert every foulness in the field of law and expediently solve the matters which are overhang, therefore this organization over go successfully under the supervision and chairmanship of Mr.

2026 PLC (C.S.) 805فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد سرکاری ملازم کی برطرفی برقرار رہ سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ!سپریم...
25/08/2026

2026 PLC (C.S.) 805
فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد سرکاری ملازم کی برطرفی برقرار رہ سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ!
سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کے درمیان اہم قانونی فرق واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ دونوں کارروائیاں الگ قانونی دائرہ اختیار اور مختلف معیارِ ثبوت کے تحت چلتی ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ کسی ملازم کے خلاف فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت ہے، محکمانہ کارروائی لازماً ختم نہیں ہوتی، اور دونوں کارروائیاں بیک وقت بھی جاری رہ سکتی ہیں۔
تاہم عدالت نے ایک اہم استثنا بھی بیان کیا کہ اگر محکمانہ کارروائی کی پوری بنیاد صرف یہ ہو کہ ملازم کسی فوجداری مقدمے میں ملوث ہے، اور اس کے خلاف کوئی الگ، آزاد اور قابلِ ثبوت محکمانہ بدعنوانی یا بدعنوان طرزِ عمل کا الزام موجود نہ ہو، تو فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد محکمانہ کارروائی کی بنیاد بھی ختم ہوجاتی ہے۔
عدالت کے مطابق محکمانہ کارروائی میں قرائن و شواہد کی مجموعی برتری کو دیکھا جاتا ہے، جبکہ فوجداری مقدمے میں جرم معقول شک سے بالاتر ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا عام حالات میں فوجداری مقدمے کی بریت خود بخود محکمانہ کارروائی کو ختم نہیں کرتی۔
اس کیس میں ملازم کی محکمانہ کارروائی صرف فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر تھی۔ چونکہ فوجداری عدالت نے اسے اسی الزام سے بری کردیا اور محکمانہ طور پر کوئی آزاد بدعنوانی ثابت نہیں کی گئی، اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ ایسی بنیاد پر برطرفی برقرار نہیں رہ سکتی اور ملازم کو ریلیف دیا گیا۔
اہم قانونی اصول
اگر محکمانہ الزام صرف فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے تک محدود ہو اور فوجداری عدالت اسی الزام سے بری کردے، تو محکمانہ کارروائی کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے۔
2026 PLC (C.S.) 805

[Supreme Court of Pakistan]

Present: Syed Mansoor Ali Shah and Aqeel Ahmed Abbasi, JJ

GHULAM MURTAZA

versus

DISTRICT POLICE OFFICER, GUJRAT and others

Civil Petition No. 4757 of 2024, decided on 23rd October, 2025.

(Against the order dated 16.05.2024 passed by

#بریت #برطرفی #قانون

سپریم کورٹ کا : کوٹ رادھا کشن کیس میں 3 ملزمان بری، شواہد ناکافی قرار"* *"J.P.321/2019: سپریم کورٹ نے کہا - 'بے گناہ کو ...
16/08/2026

سپریم کورٹ کا : کوٹ رادھا کشن کیس میں 3 ملزمان بری، شواہد ناکافی قرار"*
*"J.P.321/2019: سپریم کورٹ نے کہا - 'بے گناہ کو پھانسی نہیں دی جا سکتی'"*
6. *"کوٹ رادھا کشن کیس میں سزائے موت کالعدم، سپریم کورٹ نے شک کا فائدہ دیا"*
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلانے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان
کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا

*J.P.321/2019*
*محمد عرفان اور 2 دیگر بمقابلہ ریاست*
*جسٹس ملک شہزاد احمد خان*
*تاریخ: 09-07-2026*
"اگرچہ یہ بات سچ ہے کہ اس کیس کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ اور سفاکانہ ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس عدالت کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ انصاف کرے اور یہ دیکھے کہ آیا استغاثہ نے ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ کسی شک سے بالاتر ثابت کیا ہے یا نہیں۔

تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شخص جو بے گناہ ہو اسے ناقابلِ اعتبار شواہد کی عدم موجودگی میں پھانسی نہ دے دی جائے۔ اور دوسری طرف کوئی مجرم، جس کے خلاف مقدمہ استغاثہ نے معقول شک سے بالاتر ثابت کر دیا ہو، وہ سزا سے بچ نہ جائے۔

کسی زخمی چشم دید گواہ کے جسم پر موجود زخم اس کی ساکھ اور سچائی کا ثبوت نہیں ہیں۔"

واقعہ بہت برا تھا، لیکن عدالت قانون اور شواہد پر فیصلہ کرتی ہے جذبات پر نہیں۔
سزائے موت دینے سے پہلے استغاثہ کو 100% یقینی ثبوت دینے ہوتے ہیں۔ اگر 1% شک بھی رہ جائے تو "شک کا فائدہ ملزم کو" دیا جائے گا۔
صرف زخمی ہونا اس بات کی گارنٹی نہیں کہ گواہ جو کہہ رہا ہے وہ 100% سچ ہے۔

Although it is true that the occurrence of this case is very shocking and brutal but at the sametime, it is also duty of this Court to do justice and to see that as to whether the prosecution has proved its case against the accused beyond the shadow of any doubt in order to ensure that a person,who may be innocent, may not be hanged to death, in absence of reliable evidence against him or a culprit against whom the case has been proved by the prosecution beyond reasonable doubt may not go unpunished.
The injuries on the body of an injured eye-witness are not aproof of his credibility and truth.
J.P.321/2019
Muhammad Irfan & 2 others v. The State
Mr. Justice Malik Shahzad Ahmad Khan
09-07-2026


کمنٹ میں لکھیں: آپ اس فیصلے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

PLD 2026 SC p.29227ویں آئینی ترمیم کے بعد کرایہ داری کے مقدمات میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ!سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کرا...
11/08/2026

PLD 2026 SC p.292
27ویں آئینی ترمیم کے بعد کرایہ داری کے مقدمات میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ!
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کرایہ داری (Rent) اور خاندانی معاملات آئین کے آرٹیکل 175-F(1)(c) کے دائرہ کار سے واضح طور پر خارج ہیں، اس لیے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی ایسے معاملات میں سپریم کورٹ کی اپیلیٹ jurisdiction مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

عدالت نے واضح کیا کہ Article 185(3) کے تحت Leave to Appeal کی درخواست صرف ان معاملات میں barred ہوگی جو Article 175-F کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ چونکہ Rent Matters اس دائرہ کار سے خارج ہیں، اس لیے مناسب صورت میں سپریم کورٹ میں Leave to Appeal قابلِ سماعت ہے۔
اہم اصول:
27ویں ترمیم نے Rent Matters کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔

⚖️ سپریم کورٹ نے انکم ٹیکس،سیل ٹیکس، فیڈرل ایکسائز پر مشتمل FBR کے ٹیکس ریفرنس کے 228 سول پٹیشنز Limitation کے باعث خارج...
06/08/2026

⚖️ سپریم کورٹ نے انکم ٹیکس،سیل ٹیکس، فیڈرل ایکسائز پر مشتمل FBR کے ٹیکس ریفرنس کے 228 سول پٹیشنز Limitation کے باعث خارج کرتے قرار دیا ہے کہ، قانونِ میعاد پر سخت مؤقف برقرار
📌 کیس کی بنیادی معلومات
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
مرکزی مقدمہ: Civil Petition No. 41-L/2026 (دیگر متعدد منسلک سول پٹیشنز کے ساتھ)
کل مقدمات: 228 Civil Petitions
درخواست گزار: Commissioner Inland Revenue, Federal Board of Revenue (FBR)
متعلقہ قوانین: Income Tax، Sales Tax اور Federal Excise Tax کے تحت دائر Tax References
بینچ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس میان گل حسن اورنگزیب
مختصر حکم: 03 جون 2026
تفصیلی فیصلہ: 31 جولائی 2026
⚖️ مقدمے کا پس منظر
FBR نے مختلف ٹیکس مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں 228 Civil Petitions for Leave to Appeal دائر کیں۔
یہ تمام مقدمات Income Tax References، Sales Tax References اور Federal Excise Tax References سے متعلق تھے۔
اصل تنازع یہ تھا کہ مقدمات ابتدائی طور پر مقررہ مدت کے اندر دائر کیے گئے، لیکن رجسٹری کی جانب سے لگائے گئے Office Objections (دفتری اعتراضات) مقررہ وقت میں دور نہیں کیے گئے۔ جب اعتراضات دور کرکے دوبارہ فائلنگ کی گئی تو اس وقت تک قانونِ میعاد (Limitation) ختم ہو چکی تھی۔
اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ ریفرنسز کو Time Barred قرار دے کر خارج کر دیا۔
بعد ازاں FBR نے ان فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
⚖️ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی قانونی سوال
کیا صرف مقررہ مدت کے اندر مقدمہ دائر کر دینا کافی ہے، یا Office Objections کو بھی مقررہ مدت کے اندر دور کرنا لازمی ہے؟
⚖️ FBR کے دلائل
FBR نے مؤقف اختیار کیا کہ:
Office Objections واضح نہیں تھے۔
بعض مقدمات میں فائلیں بروقت واپس نہیں ملیں۔
ابتدائی فائلنگ Limitation کے اندر تھی، اس لیے بعد کی تاخیر کو نظرانداز کیا جانا چاہیے۔
تاخیر کو معاف (Condone) کیا جانا چاہیے۔
⚖️ سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے اور FBR کی تمام 228 سول پٹیشنز مسترد کر دیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر قانونی نوعیت کے Office Objections مقررہ وقت میں دور نہ کیے جائیں اور اس دوران Limitation ختم ہو جائے تو مقدمہ Time-Barred ہو جاتا ہے۔
🌟 سپریم کورٹ کے مقرر کردہ Golden Principles
✅ 1. صرف وقت کے اندر Filing کافی نہیں
اگر مقدمہ قانونی طور پر نامکمل ہو اور Office Objections بروقت دور نہ کیے جائیں تو پہلی Filing خود بخود مقدمہ نہیں بچا سکتی۔
✅ 2. Office Objections کی بروقت تعمیل لازمی ہے
دفتری اعتراضات محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی تقاضا ہیں۔ ان کی بروقت Compliance ضروری ہے۔
✅ 3. قانونِ میعاد (Limitation) لازمی قانون ہے
Limitation محض Technical Rule نہیں بلکہ Public Policy پر مبنی لازمی قانون ہے، جس پر عدالت ہر صورت عمل کرے گی۔
✅ 4. تاخیر کی معافی ہر کیس میں نہیں ملتی
Condonation of Delay صرف اسی صورت ممکن ہے جب تاخیر کی مکمل، معقول اور قابلِ اعتماد وضاحت موجود ہو۔
✅ 5. عدالت صرف مستعد شخص کی مدد کرتی ہے
عدالت نے یہ مشہور قانونی اصول دہرایا:
"Vigilantibus non dormientibus jura subveniunt."
یعنی:
"قانون انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنے حقوق کے تحفظ میں بیدار اور مستعد رہتے ہیں، غفلت کرنے والوں کی نہیں۔"
✅ 6. Contumacious Conduct برداشت نہیں کی جائے گی
اگر کسی فریق کو خامی دور کرنے کا موقع دیا جائے لیکن وہ مسلسل غفلت یا لاپرواہی کا مظاہرہ کرے تو عدالت اسے رعایت دینے کی پابند نہیں۔
✅ 7. Larger Bench کا فیصلہ Binding ہوتا ہے
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے بینچ پر لازماً نافذ (Binding) ہوتا ہے۔
✅ 8. لاہور ہائی کورٹ کے Rules کی پابندی ضروری
اس فیصلے میں High Court Rules and Orders (Volume V) کے Rules 9، 9-A، 11 اور 13 کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ Office Objections کی بروقت تعمیل لازمی ہے۔
✅ 9. سندھ ہائی کورٹ کے قواعد مختلف ہیں
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے قواعد کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے قواعد مختلف ہونے کی وجہ سے ہر مقدمہ وہاں کے قواعد کے مطابق دیکھا جائے گا۔
📚 اہم نظائر (Judgments Relied Upon)
2026 SCMR 533
PLD 1984 SC 289
2009 SCMR 767
PLD 2016 SC 872
PLD 2024 SC 1268
PLD 2025 SC 371
PLD 2015 SC 212
1997 SCMR 1224
PLD 2020 SC 736
⚖️ اس فیصلے کا عملی اثر
یہ فیصلہ وکلاء، ٹیکس پریکٹیشنرز اور تمام قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ:
"صرف وقت کے اندر مقدمہ دائر کرنا کافی نہیں، بلکہ Office Objections کی بروقت تعمیل بھی اتنی ہی ضروری ہے، ورنہ مقدمہ قانونِ میعاد کی بنیاد پر خارج ہو سکتا ہے۔
یہ خلاصہ آپ کی فراہم کردہ سپریم کورٹ کی Judgment کے متن پر مبنی ہے، جس میں 228 سول پٹیشنز، FBR، Office Objections، Limitation، متعلقہ Rules، اور عدالت کے بیان کردہ قانونی اصول شامل ہیں۔ �
c.p._41_l_2026.pdf
Copied and pasted

IN THE SUPREME COURT OF PAKISTAN*
*Civil Petition No. 41-L of 2026*
*with connected 227 Civil Petitions*

*Commissioner Inland Revenue, FBR*
_Vs_
*The Lahore High Court & Others*
# # # *ISSUE:*
Whether filing of Civil Petition within limitation is sufficient, or removal of office objections within limitation period is also mandatory?
# # # *HELD:*
*Filing alone is not enough.* A petition must be "properly instituted" and free from legal office objections within limitation period.
Limitation Law is mandatory.* It is based on public policy and cannot be ignored.
*LHC Rules Vol-V Rule 9, 9-A, 11, 13* are mandatory. Non-compliance = Time Barred.
*Condonation of delay* will not be granted for negligent conduct. The principle _"Vigilantibus non dormientibus jura subveniunt"_ applies.
*Result:* All 228 Civil Petitions of FBR dismissed. LHC judgment upheld.
*JUDGMENTS RELIED:*
`2026 SCMR 533`, `PLD 1984 SC 289`, `2009 SCMR 767`, `PLD 2016 SC 872`, `PLD 2024 SC 1268`, `PLD 2025 SC 371`

کرپٹو کرنسی کی رقم اگر کسی کے اکاؤنٹ میں آجائیں (USDT/P2P)  تو FIA والوں کو اس بنیاد پر fir درج نہیں کر سکتا ہے  اہم فیص...
30/07/2026

کرپٹو کرنسی کی رقم اگر کسی کے اکاؤنٹ میں آجائیں (USDT/P2P) تو FIA والوں کو اس بنیاد پر fir درج نہیں کر سکتا ہے اہم فیصلہ
صرف P2P ٹرانزیکشن یا بینک اکاؤنٹ میں رقم آنے سے کوئی شخص مجرم نہیں بن جاتا
کیس کی تفصیلات
عدالت: لاہور ہائی کورٹ
کیس نمبر: Criminal Misc. No. 1974-B of 2026
جج: مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ
نوعیت مقدمہ: ضمانت قبل از گرفتاری (Pre-Arrest Bail)
نتیجہ: درخواست منظور، عبوری ضمانت برقرار (Confirmed)
مقدمے کا پس منظر
شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے کرپٹو کرنسی (USDT) کی P2P ٹریڈنگ کے دوران اس کے ساتھ فراڈ ہوا، اس کے اکاؤنٹس منجمد ہوئے اور مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم منتقل ہوئیں۔ ایف آئی آر میں درخواست گزاروں پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس فراڈ کا حصہ ہیں کیونکہ ان کے اکاؤنٹس میں رقم وصول ہوئی۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف P2P Merchants تھے، جو پاکستانی روپے وصول کرکے اس کے بدلے USDT منتقل کرتے تھے۔ ان کا کسی فراڈ، دھوکہ دہی، جعلی دستاویز، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ یا شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ منجمد کرانے سے کوئی تعلق نہیں۔
عدالت کے اہم مشاہدات
عدالت نے قرار دیا کہ صرف کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم آ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ فراڈ میں شریک ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ استغاثہ یہ دکھانے میں ناکام رہا کہ درخواست گزاروں نے:
کسی کو دھوکہ دیا؛
جعلی دستاویز یا جعلا الیکٹرانک ریکارڈ بنایا؛
کمپیوٹر ڈیٹا میں ردوبدل کیا؛
یا شکایت کنندہ کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی سازش میں حصہ لیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ تفتیشی ادارے کو ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرنا ہوگا، کیونکہ فوجداری ذمہ داری ہمیشہ انفرادی (Individual Criminal Liability) ہوتی ہے۔
عدالت نے PPC کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے قرار دیا کہ:
دفعہ 468 PPC (Cheating کے لیے Forgery)
دفعہ 471 PPC (جعلی دستاویز کو اصلی ظاہر کرکے استعمال کرنا)
اسی وقت لاگو ہوں گی جب کوئی جعلی دستاویز یا جعلا الیکٹرانک ریکارڈ موجود ہو۔
اس مقدمے میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، اس لیے یہ دفعات ابتدائی طور پر درخواست گزاروں پر لاگو نہیں ہوتیں۔
عدالت نے PECA کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے PECA کی دفعات 13 اور 14 کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا:
Section 13 PECA
صرف اس وقت لاگو ہوگی جب کوئی شخص الیکٹرانک ڈیٹا میں ردوبدل کرکے جعلی یا غیر مستند ڈیٹا تیار کرے تاکہ اسے اصلی سمجھا جائے۔
Section 14 PECA
اس وقت لاگو ہوگی جب کسی شخص نے بدنیتی سے الیکٹرانک نظام استعمال کرکے دھوکہ دیا ہو یا ناجائز فائدہ حاصل کیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ:
صرف USDT ٹرانسفر، آن لائن ٹریڈنگ یا P2P لین دین سے یہ دفعات خود بخود لاگو نہیں ہوتیں۔
عدالت نے FERA کے بارے میں کیا کہا؟
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ USDT غیر ملکی کرنسی کے مترادف ہے، اس لیے FERA لاگو ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ مؤقف قبول نہیں کیا اور قرار دیا کہ:
صرف اس وجہ سے کہ USDT کی قیمت امریکی ڈالر سے منسلک ہے، اسے Foreign Currency یا Foreign Exchange قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ قانون کے تحت ممنوعہ Foreign Exchange Transaction ہوئی ہے، FERA کی دفعات لاگو نہیں ہوں گی۔
عدالت نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ کیوں دیا؟
عدالت نے Internet and Mobile Association of India v. Reserve Bank of India (2020) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ورچوئل کرنسی کو محض اس لیے Currency نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اگر قانون اسے Currency قرار نہ دے تو عدالت بھی اسے خود Currency قرار نہیں دے سکتی۔
عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے کہا کہ:
درخواست گزار پہلے ہی تفتیش میں شامل ہو چکے ہیں؛
تمام بینک ریکارڈ، الیکٹرانک ریکارڈ اور دستاویزات تفتیشی ادارے کے پاس موجود ہیں یا حاصل کیے جا سکتے ہیں؛
درخواست گزاروں نے عبوری ضمانت کا غلط استعمال بھی نہیں کیا۔
لہٰذا ان کی Custodial Interrogation (جسمانی حراست میں تفتیش) کی ضرورت ثابت نہیں ہوئی۔
عدالت کے مقرر کردہ Golden Principles
صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم وصول ہونا جرم ثابت نہیں کرتا۔
صرف P2P یا USDT ٹرانزیکشن جرم نہیں۔
فوجداری ذمہ داری ہمیشہ انفرادی ہوتی ہے۔
ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرنا ضروری ہے۔
PECA کی دفعات لگانے کے لیے الیکٹرانک فراڈ یا جعلی ڈیٹا کا واضح ثبوت ضروری ہے۔
PPC کی دفعات 468 اور 471 صرف جعلی دستاویز یا جعلی الیکٹرانک ریکارڈ کی موجودگی میں لاگو ہوں گی۔
USDT کو خودکار طور پر Foreign Currency یا Foreign Exchange قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ضمانت کے مرحلے پر عدالت صرف یہ دیکھتی ہے کہ Prima Facie جرم بنتا ہے یا نہیں، حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ ثبوت کی بنیاد پر کرے گی۔
حتمی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر درخواست گزاروں کے خلاف PPC، PECA اور FERA کی متعلقہ دفعات Prima Facie ثابت نہیں ہوتیں۔ درخواست گزار تفتیش میں شامل رہے، عبوری ضمانت کا غلط استعمال بھی ثابت نہیں ہوا، اس لیے عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ہر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے اور اسی مالیت کا ایک ضامن جمع کرانے کا حکم دیا۔
یہ فیصلہ کرپٹو کرنسی، USDT/P2P ٹریڈنگ، PECA، FERA اور ضمانت قبل از گرفتاری کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے، کیونکہ عدالت نے واضح کیا کہ صرف بینک ٹرانزیکشن یا کرپٹو لین دین کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ جرم کے ہر قانونی عنصر کا ابتدائی ثبوت موجود ہونا ضروری ہے۔
جی سر
*Lahore High Court - Criminal Misc. No. 1974-B of 2026*
*Mr. Justice Tariq Saleem Sheikh*
*USDT / P2P / Pre-Arrest Bail
*On Bank Transaction:*
> "Mere receipt of amount in bank account does not by itself establish commission of offence. Prosecution must show specific role."
*On P2P/USDT:*
> "Mere P2P transaction or transfer of USDT cannot ipso facto attract provisions of PPC, PECA or FERA."
*On PECA 13 & 14:*
> "Section 13 and 14 PECA require dishonest manipulation of electronic data. Absent such allegation, these sections are not attracted."
*On FERA & USDT:*
> "USDT, merely because it is pegged to US Dollar, cannot be termed as Foreign Currency under FERA, 1947."
*On Individual Liability:*
> "Criminal liability is always individual. Investigating agency must establish role of each accused separately."
*Final Order:*
> "Pre-arrest bail confirmed subject to furnishing bail bonds in the sum of Rs. 10,00,000/- each with one surety in the like amount."
Catchy & Informative*
لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ - USDT P2P ٹریڈنگ جرم نہیں!*
*بینک میں پیسے آنے سے کوئی مجرم نہیں بنتا - LHC کا اہم رولنگ*
*FIA کیلئے جھٹکا: صرف P2P ٹرانزیکشن پر PECA/FERA نہیں لگے گی*
*Crypto Traders کیلئے خوشخبری: LHC نے ضمانت منظور کر لی*
*USDT کو Foreign Currency نہیں مانا جائے گا - لاہور ہائی کورٹ*
*P2P فراڈ کیس میں 8 Golden Principles - ہر پاکستانی کو پتہ ہونے چاہیے*
*LHC: "Only Bank Transaction ≠ Crime" - Big Relief for USDT P2P Traders*
*Game Changer Judgment: Lahore High Court on Crypto & Pre-Arrest Bail 2026*
*FIA Alert: Individual Liability Must Be Proved in Crypto Cases - LHC*
*P2P کرنا جرم نہیں ہے ✅ LHC*
*Crypto پر FIA کا ہر کیس اب خطرے میں*
*بینک میں پیسہ آیا = جیل نہیں*
*USDT = Foreign Currency نہیں*
*8 Golden Rules for Crypto Traders
` ` ` ` ` ` ` ` ` `
` ` ` ` ` ` ` ` ` ` ` ` ` ` ` `
` ` ` ` ` ` ` ` ` ` ` `

"لاہور ہائی کورٹ: صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم آنے یا P2P ٹریڈنگ کرنے سے کوئی مجرم نہیں بن جاتا۔
FIA کو ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرنا ہوگا۔ بڑا ریلیف Crypto Traders کے لیے۔ "
کرپٹو کرنسی
Bitcoin - BTC*
*USDT - Tether*
*Ethereum - ETH*
*BNB - Binance Coin*
*Solana - SOL*
Dogecoin - DOGE*
Ripple - XRP*
Cardano - ADA* پاکستان میں مشہور P2P / Trading Platforms*
*Binance P2P*
*OKX P2P*
Bybit P2P*
KuCoin P2P*
*Huobi / HTX*
*Easypaisa / JazzCash فراڈ*
B4U / B4U Global*
Double Shah سکیم*
*Green Tree / Green Valley*
*FutureNet*
AI Marketing - AIM*
Forsage*
Bitcoin, USDT, Binance P2P پر FIA کا کیس اب نہیں چلے گا`
`B4U, Forsage, Crypto Fraud کے بعد بڑا ریلیف: صرف P2P سے جرم ثابت نہیں ہوتا -
`Bitcoin سے لے کر USDT تک: لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ Crypto, P2P, Online Trading کرنے والوں کیلئے خوشخبری`
` `

‏سپریم کورٹ نے آج مورخہ 24 جولائی 2026 کو اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ تمام نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ...
24/07/2026

‏سپریم کورٹ نے آج مورخہ 24 جولائی 2026 کو اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ تمام نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے
نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت نہ ہے، سپریم کورٹ میں نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گی
( *اختیار نہیں ہے* - آئین کے *آرٹیکل 175F(a)* اور *نیب آرڈیننس کی شق 32 اور 32A* کے تحت سپریم کورٹ اب نیب کے کیسز نہیں سن سکتی۔

2. *تمام کیسز ٹرانسفر* - سپریم کورٹ میں زیرالتوا تمام نیب کے کیسز، اپیلیں اور Leave to Appeal کی درخواستیں اب *"وفاقی آئینی عدالت Federal Constitutional Court"* کو منتقل سمجھی جائیں گی۔
**نیب کیسز** سپریم کورٹ سنتا تھا **وفاقی آئینی عدالت** سنے گی
اپیل، ریویو سب سپریم کورٹ میں سب کچھ نئی آئینی عدالت میں جائے گا
آرٹیکل 175A, 175F کا حوالہ اختیار کی بنیاد
# # # *اہم پوائنٹس*
*یہ 26ویں آئینی ترمیم کا نتیجہ ہے* - جس میں Federal Constitutional Court بنائی گئی تھی۔ نیب کیسز اب اسی کے دائرہ اختیار میں ہیں۔
*پینڈنگ کیسز* - جو بھی نیب کے کیسز سپریم کورٹ میں پھنسے ہوئے تھے، وہ اب آٹومیٹک FCC کو چلے گئے۔
*نئے کیسز* - اب کوئی بھی نیب کی اپیل براہ راست FCC میں دائر ہو گی، سپریم کورٹ میں نہیں۔

)24 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نیب مقدمات میں اپیلوں اور متعلقہ درخواستِ ضمانت کے فورم سے متعلق ایک اہم آئینی تنازع طے کردیا۔ یہ سوال ستائیسویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور 5 مارچ 2026 کو قومی احتساب آرڈیننس میں دفعہ 32-A کے اضافے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ دفعہ 32-A کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ سزا یافتہ شخص یا چیئرمین نیب کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل احتساب، تیس روز میں FCC کے سامنے دوسری اپیل دائر کرسکتا ہے۔

عدالت کے سامنے بنیادی تنازع یہ تھا کہ جب نیب مقدمے کی اصل اپیل FCC کے دائرۂ اختیار میں منتقل ہوچکی ہے تو کیا اسی مقدمے سے متعلق ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ سن سکتی ہے؟ زیرِ سماعت ملزم عامر محمود کے وکیل کا مؤقف تھا کہ زیرِ سماعت قیدی کی ضمانت ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ دفعہ 32-A صرف سزا یافتہ افراد کی دوسری اپیل کا ذکر کرتی ہے اور اس میں لفظ “ضمانت” موجود نہیں۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل اور نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مقدمہ، اپیل اور اس سے پیدا ہونے والی ضمنی کارروائی کو دو مختلف اعلیٰ عدالتوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے 30 صفحات پر مشتمل
فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175F(1)(a)، آرٹیکل 175F(2) اور قومی احتساب آرڈیننس کی دفعات 32 اور 32-A کو یکجا کرکے پڑھنے سے واضح ہے کہ نیب مقدمات کی دوسری اپیلوں اور FCC کے دائرۂ اختیار میں آنے والی متعلقہ زیرِ التوا کارروائیوں کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ عدالت نے کہا کہ درخواستِ ضمانت مرکزی مقدمے سے کٹی ہوئی کوئی آزاد کارروائی نہیں، بلکہ اسی مقدمے سے پیدا ہونے والا ضمنی یا معاون معاملہ ہے۔ لہٰذا اصل اپیل FCC میں اور اسی مقدمے کی ضمانت سپریم کورٹ میں رکھنے سے متوازی کارروائی، قانونی ابہام اور متضاد احکامات کا خطرہ پیدا ہوگا۔
فیصلے کا اہم ترین اصول یہ ہے کہ دائرۂ اختیار عدالت کی خواہش، فریقین کی رضامندی، سابقہ عملی روایت یا عوامی دباؤ سے پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ کسی ادارے کی شکست، فتح، پسپائی یا اختیار سے دست برداری کا معاملہ نہیں، بلکہ آئین کے مطابق عدالتی اختیار کی تقسیم ہے۔ کسی سابق مقدمے میں نیب کی جانب سے اعتراض نہ اٹھایا جانا بھی سپریم کورٹ کو وہ اختیار نہیں دے سکتا جو موجودہ آئینی اور قانونی نظام میں اس کے پاس نہیں رہا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سابقہ صوابدیدی درخواست برائے اجازتِ اپیل کی جگہ FCC میں دوسری اپیل کا باقاعدہ قانونی حق فراہم کیا گیا ہے، اس لیے ملزم کا عدالتی علاج ختم نہیں بلکہ نئے فورم پر منتقل ہوا ہے۔
اس فیصلے کو سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان طاقت کی کشمکش یا کسی ایک سیاسی شخصیت کے مقدمات کے تناظر میں پیش کرنا قانونی مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کے مترادف ہوگا۔ فیصلہ کسی مخصوص ملزم، جماعت یا مقدمے تک محدود نہیں، بلکہ نیب، استغاثہ اور تمام ملزمان پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا اصول وضع کرتا ہے۔ اگر قانون نے FCC کو نیب مقدمات کا حتمی اپیلی فورم بنایا ہے تو کوئی فریق اپنی سہولت، پسند یا متوقع نتیجے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کا انتخاب نہیں کرسکتا۔ فورم کا تعین شخصیت نہیں، قانون کرتا ہے۔
اصل بیانیہ یہ ہونا چاہیے کہ مضبوط عدلیہ وہ نہیں جو ہر معاملہ اپنے پاس رکھے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اختیار اور حدود دونوں کا احترام کرے۔ عدالت کی آزادی کا مطلب صرف ریاست یا حکومت کے سامنے کھڑا ہونا نہیں، بلکہ میڈیا، سیاسی دباؤ اور عوامی مقبولیت سے بالاتر ہوکر آئین کی پابندی کرنا بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے اختیار پر قبضہ نہیں کیا اور نہ اختیار ترک کیا، بلکہ یہ اصول قائم کیا کہ ایک مقدمہ ایک مربوط قانونی فورم پر چلے گا، فورم شاپنگ کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر عدالت وہی اختیار استعمال کرے گی جو آئین اور قانون نے اسے دیا ہے۔
Supreme Court has no jurisdiction to take cognizance in the NAB cases in terms of Article 175F (a) of the Constitution read with Section 32 and 32A of National Accountability Ordinance, 1999. As a consequence thereof, all criminal petitions for leave to appeal and criminal appeals in which leave has been granted and pending in the Supreme Court arising out of National Accountability Ordinance, 1999 stand transferred by fiction of law to the Federal Constitutional Court.
Crl.P.L.A.316/2018
Chairman, National Accountability Bureau thr. Prosecutor General Accountability, NAB, Islamabad v. Adeel Ahmed & another
Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar
24-07-2026

2026 LHR 18(Dispute Resolution Committee) کو جائیداد سے بے دخلی یا قبضہ واگزار کرانے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں بے ...
22/07/2026

2026 LHR 18
(Dispute Resolution Committee) کو جائیداد سے بے دخلی یا قبضہ واگزار کرانے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں بے دخلی کا اختیار نہیں: عدالت نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کوئی بھی جائیداد خالی کرانے، قبضہ واپس دلانے یا زبردستی بے دخل کرنے کا حکم دینا ڈی آر سی (DRC) کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔آرڈیننس کی حد: ڈی آر سی آرڈیننس کے تحت کمیٹی کو قانوناً ایسا کوئی اختیار یا طاقت تفویض نہیں کی
گئی ہے۔
* ڈی آر سی (DRC) کا بڑا فیصلہ: جائیداد خالی کروانا اب کمیٹی کے بس میں نہیں!
* کیا ڈی آر سی آپ کو جائیداد سے بے دخل کر سکتی ہے؟ عدالت کا حتمی فیصلہ آ گیا۔
* شہریوں کے لیے اہم قانون: جائیداد کے قبضے اور بے دخلی پر ڈی آر سی کے اختیارات نہیں
* بڑی خبر! عدالت نے ڈی آر سی (DRC) کے ہاتھ باندھ دیے۔
* اب کوئی بھی کمیٹی آپ کو زبردستی گھر یا دکان سے بے دخل نہیں کر سکتی!
* جائیداد کے تنازعات: ڈی آر سی کا کون سا حکم سراسر غیر قانونی ہے؟

# # 📱 شارٹ اور کرسپی (ٹک ٹاک، ریلز اور اسٹیٹس کے لیے)

* ڈی آر سی (DRC) کے پاس بے دخلی کا کوئی اختیار نہیں۔
* عدالت کا بڑا فیصلہ: قبضہ واگزار کروانا صرف سول کورٹ کا کام!
* DRC vs سول کورٹ: جائیداد کا قانون کیا کہتا ہے؟

سپریم کورٹ - "ہر غلطی پر نوکری سے نکالنا ظلم ہے"*اصولِ تناسب کی جیت:* 31 سال سروس کے بعد معمولی غلطی پر برطرفی کالعدم*سر...
18/07/2026

سپریم کورٹ - "ہر غلطی پر نوکری سے نکالنا ظلم ہے"
*اصولِ تناسب کی جیت:* 31 سال سروس کے بعد معمولی غلطی پر برطرفی کالعدم
*سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری:* اب انتظامی بے ضابطگی پر ڈائریکٹ ڈسمسل نہیں ہوگی
سپریم کورٹ:* سزا جرم کے برابر ہو، انتقامی نہیں
*نئی نظیر:* ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈسمسل → جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل
*Dismissal ≠ Every Mistake* سپریم کورٹ کا واضح حکم
*Proportionality Matters!* سزا جرم کے مطابق ہوگی
*31 سال کی سروس بچ گئی* معمولی غلطی پر برطرفی ختم
چھوٹی غلطی کی سزا بڑی نہیں ہو سکتی۔ 31 سال کی سروس کا احترام لازم ہے۔"
ہر غلطی پر ملازمت سے برطرفی نہیں ہو سکتی!
محکمانہ سزاؤں سے متعلق اہم اصول واضح۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی میں دی جانے والی سزا ہمیشہ جرم کی نوعیت، شدت اور حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر الزام صرف انتظامی بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی تک محدود ہو اور بدعنوانی، مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات ثابت نہ ہوں، تو ملازمت سے برخاستگی (Dismissal from Service) جیسی سخت سزا انصاف اور قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

زیرِ سماعت مقدمے میں ایک سرکاری افسر کو صرف ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کے الزام پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا، حالانکہ اس کے خلاف نہ کرپشن ثابت ہوئی، نہ مالی بدعنوانی، نہ بے ایمانی اور نہ ہی اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی ثبوت سامنے آیا۔ مزید یہ کہ افسر کی 31 سالہ بے داغ سرکاری سروس بھی ریکارڈ کا حصہ تھی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں برخاستگی کی سزا غیر متناسب (Disproportionate) اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے محکمانہ سزا کو کالعدم کرتے ہوئے اسے جبری ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement) میں تبدیل کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں Doctrine of Proportionality (اصولِ تناسب) کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہر سزا جرم کی نوعیت اور سنگینی کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگرچہ محکموں کو اپنے ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال منصفانہ، معقول اور قانونی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالتیں اور سروس ٹربیونلز یہ اختیار رکھتے ہیں کہ اگر کسی ملازم کو اس کے قصور کے مقابلے میں غیر ضروری یا حد سے زیادہ سخت سزا دی گئی ہو تو وہ اس میں مداخلت کر سکتے ہیں اور مناسب ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔
فیصلے میں ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ متعلقہ محکمہ مبینہ خلاف ورزی کے باوجود تقریباً ایک سال تک خاموش رہا۔ عدالت نے اس تاخیر کو بھی ایک اہم قانونی عنصر قرار دیا، کیونکہ غیر ضروری تاخیر محکمانہ کارروائی کی سنجیدگی اور شفافیت پر سوالات پیدا کرتی ہے۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے نہایت اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ محکمانہ سزا انتقامی یا غیر متناسب نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر معاملے میں انصاف، توازن اور قانون کے تقاضوں کو مقدم رکھا جانا ضروری ہے۔
#
` `
` `
` #انصاف

سپریم کورٹ: گواہ کا بیان ویڈیو سے نہ ملے تو 360(2) کے تحت درست کرنا لازمی منصفانہ ٹرائل کا حق! سپریم کورٹ نے کہا بیان می...
10/07/2026

سپریم کورٹ: گواہ کا بیان ویڈیو سے نہ ملے تو 360(2) کے تحت درست کرنا لازمی
منصفانہ ٹرائل کا حق! سپریم کورٹ نے کہا بیان میں غلطی ہو تو ویڈیو سے چیک کر کے درست کریں
Section 360(2) Cr.P.C اب زیادہ طاقتور! اسٹینو کی غلطی کی وجہ سے کسی کا کیس خراب نہیں ہوگا
Article 10-A کی جیت: ٹیکنیکل غلطی سے انصاف متاثر نہیں ہو سکتا
`
بڑی خبر! اب عدالت گواہ کا بیان ویڈیو سے چیک کرے گی
کیا آپ کا بیان غلط لکھا گیا؟ سپریم کورٹ نے دروازہ کھول دیا۔ اب ویڈیو سے موازنہ ہوگا
عدالت میں جو بولا وہی لکھا جائے گا! غلطی ہوئی تو فوراً درست ہوگی
انصاف میں تاخیر نہیں چلے گی۔ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
` #انصاف #پاکستان #قانون #گواہ `
Landmark Judgment: Verbatim Recording + Video Comparison u/s 360(2) Cr.P.C
New Law Point: Trial Court bound to compare video with written statement u/s 360(2)
Memorandum u/s 360(2) is mandatory if discrepancy found. SC sets aside HC order
Fair Trial > Technicality. Supreme Court reinforces Article 10-A
` `
"اگر عدالت میں آپ کا بیان غلط لکھ دیا جائے تو اب خاموش نہ رہیں! سپریم کورٹ نے کہا ویڈیو سے چیک کر کے فوراً درست کریں" "360(2) Cr.P.C" اور "Video vs Written Statement"
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی گواہ کا بیان عدالت میں لفظ بہ لفظ (Verbatim) درج نہ کیا جائے، یا اس میں غلطی، کمی یا تضاد ہو، تو دفعہ 360(2) ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت ٹرائل کورٹ اس اعتراض پر غور کرنے اور درست بیان کو میمورنڈم (Memorandum) کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ بنانے کی پابند ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری کارروائی کا مقصد محض تکنیکی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ منصفانہ ٹرائل (Article 10-A) کو یقینی بنانا ہے۔ اگر گواہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہیں ہوا تو عدالت کو اس کی ویڈیو ریکارڈنگ سے موازنہ کر کے غلطیاں درست کرنی چاہئیں۔ ایسا نہ کرنا غیر قانونی ہے۔
لہٰذا سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ گواہ کے ویڈیو بیان کا تحریری بیان سے موازنہ کرے، جہاں فرق یا غلطی ہو اسے دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے مطابق درست کر کے میمورنڈم ریکارڈ کا حصہ بنائے، پھر فریقین کو دوبارہ دلائل کا موقع دے کر قانون کے مطابق مقدمہ کا فیصلہ کرے۔

Address

New Bar Complex Disstrict & Session Courts, Peshawar
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VOICE of Prisoners posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to VOICE of Prisoners:

Shortcuts

Share