شعبہ اردو جامعہ پشاور

شعبہ اردو جامعہ پشاور

Share

سارےجہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔۔

Photos from ‎شعبہ اردو جامعہ پشاور‎'s post 11/04/2019

بادل کو کیا خبر کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہوگئے

شعبہ اردو جامعہ پشاور بوندا باندی کے بعد، دُھل کے پاک ہوگیا ہے۔۔
تصویر گر۔ عامر حسرت

07/04/2019

"تقریب یوم تجدید ملاقات 6 اپریل 2019"
آج شعبہ اردو جامعہ پشاور میں ایلومینائی کی ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہ اردو کے 150 سے زیادہ سابقہ طلبا و طالبات نے شرکت کی.
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت فہیم اللہ طالب علم ایم اے فائنل نے حاصل کی. محمد اویس نے حضور پاک کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کیا. جبکہ شارب اور ناصر نے اپنی خوبصورت آواز میں اقبال کی نظم پیش کی.
نظامت کے فرائض ابتدا میں عقیل احمد اور معظمہ نواز نے انجام دیے دونوں نے خوبصورت اشعار اور ادبی جملوں میں آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا.معظمہ نواز کا انداز اور آواز قابل داد تھی.
پھر سٹیج ڈاکٹر مشتاق احمد اور پروفیسر نویلہ خانم کا سپرد کردیا گیا. ڈاکٹر مشتاق احمد کی پروقار شخصیت, ادبی ذوق اور نویلہ خانم کے چٹخارہ دار جملے اور برجستہ گوئی محفل کو لوٹتی رہی.
ڈاکٹر صابر کلوروی اور دوسرے مرحومین اساتذہ کے ایصال ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی.
یونی ورسٹی انتظامیہ کی طرف سے رئیس کلیہ معراج الاسلام بھی شریک محفل تھے.
پروگرام میں ڈاکٹر روبینہ شاہین اور فضل کبیر کی خدمات کو سراہا گیا کہ انہوں نے چاند چہروں کے مل بیٹھنے کا اہتمام کیا.پروگرام میں نئے کا بینہ کا انتخاب بھی کیا گیا.میڈم زوبیدہ ذوالفقار اور ڈاکٹر ناہید رحمان کی سنیر ممبرز کی حیثیت سے رکنیت برقرار رکھی گئی.اسی طرح فوکل پرسن ڈاکٹر فرحانہ قاضی ,جنرل سیکرٹری فضل کبیر اور میڈم روبینہ کے عہدے بھی برقرار رکھے گئے...سابقہ صدر امان اللہ صاحب کی جگہ ڈاکٹر وارث خان منتخب ہوگئے.پریس سیکٹری کے طور پر ظفر خٹک اور پرودفیسر اورنگزیب شیرازی منتخب ہوگئے.مجلس عاملہ میں ڈاکٹر رئیس مغل,ڈاکٹرانوارعالی,ڈاکٹر وہاب اعجاز اور تقویم الحق منتخب ہوگئے.ڈویزنل نمائندوں کا انتخاب کچھ یوں ہوا.مردان صوابی سے ڈاکٹرسبحان اللہ,پشاور سے ساجد علی'ملاکنڈ سے ظفریاب اور ڈاکٹر مشتاق بنو / کرک سے ڈاکٹر عرفان ,ہزارہ سے میڈم نویلہ ,چترال سے شفیق احمد جبکہ پرانے پاکستان کے قبائیلی علاقہ جات سے ڈاکٹر شاہنواز منتخب ہوا.پروگرام میں ایلومینائی اراکین نے سٹیج پر آکراپنے احساسات و جزبات کا اظہار بھی کیا..میڈم زوبیدہ نے ایلومینائی تقریب کو خود سے ملاقات قرار دی اور اپنی نظم"خود سے ملاقات"بھی سنائی.ڈاکٹر ناہید ,شاہین سروراور ڈاکٹر تاج الدین تاجور نے بھی تقاریر کیے اور اپنی خدمات پیش کرنے کا عہد کیا.پروفیسر ظفریاب نے ڈاکٹر وارث کو نشانہ بنا کر تیر برسائے اور مسحورکن آوازمیں گانا سنا کر محفل کو لوٹ لیا . پھر نویلہ نے آکر ان کی خوب خبر لی.پروفیسر اعجاز نے بھی نویلہ خانم کے چٹخاروں کے زیر سایہ اپنی نظم"شہر فگارہ"سنا ئی.پروفیسر اسحاق وردک نے اپنی مشہور غزل"اے شہر پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں"سنا کر سر سہیل سے بالخصوص اور اراکین محفل سے باالعموم داد وصول کی.ڈاکٹر عنبرین شاکر اور ابرارنے آکر شعبہ اردو کی کارکردگی کو سراہا اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کی.رئیس کلیہ معراج الاسلام نے کہا کہ شعبہ اردو میں ایلومینائی کا مقصد یہ ہے کہ ہم آپس میں شیر وشکر ہو جائے اورقومی زبان کو درپیش چیلنجیز سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے منصوبہ بندی کریں.انھوں نے مجلس عاملہ کے ممبران کو شیلڈ دیے.اس کے بعد تمام اراکین کو شیلڈ دیے گئے .آخر میں پرتکلف کھانے کا انتظام کیا گیا تھا اور یوں یہ پروگرام اختتام کو پہنچا....ڈاکٹر سبحان اللہ

Photos from ‎شعبہ اردو جامعہ پشاور‎'s post 06/04/2019

آج 6اپریل کو شعبہ اردو جامعہ پشاور میں یوم تجدید ملاقات کی پروقار تقریب منقعد ہوئی۔جہاں یہ احساس مشترک تھا کہ ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اور اردو زبان اور شعبہ نے ہمیں جوڑا ہوا ہے۔
اس تقریب کو خوب صورت، جاندار اور شاندار بنانے میں شعبہ اردو جامعہ پشاور کی چیرپرسن اور جملہ اسٹاف کی محنت لگن اور دلچسپی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔۔
مستقبل میں بھی ایسی تقاریب کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خصوصی شکریہ کے مستحق پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین، پروفیسر ڈاکٹر سلمان علی، ڈاکٹر سہیل احمد، ڈاکٹر ولی محمد اور ڈاکٹر انوار الحق ہیں۔

Photos from ‎شعبہ اردو جامعہ پشاور‎'s post 21/03/2019

آج 21مارچ 2019 کو شعبہ اردو جامعہ پشاور میں پی ایچ ڈی کے دو عوامی دفاع منقعد ہوئے۔ڈاکٹر روبینہ شاہین کی نگرانی میں ۔۔شاہنواز۔(جو اب ڈاکٹر شاہنواز ہیں)نے وارث علوی کے ادبی سرمایے پر اپنے تحقیقی کام کا دفاع کیا ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار ڈاکٹر الطاف یوسفزئی اور ڈاکٹر سلمان علی ان کے داخلی ممتحنین تھے۔اور دوسرا اہم مقالہ رئیس احمد( جو اب ڈاکٹر رئیس احمد ہیں)۔ کا تھا۔یہ مقالہ ڈاکٹر سلمان علی اور ڈاکٹر عابد صدر شعبہ کمپوٹر سائنس کی نگرانی میں تکمیل تک پہنچا۔اردو ڈیجٹل کتب۔۔کے موضوع پر لکھے جانے والا یہ مقالہ اردو کے اہم مقالات میں شمار ہونے کی نوید ہے۔ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈاکٹر محمد عباس اور ڈاکٹر روبینہ شاہین داخلی ممتحنین تھے۔ڈاکٹر نجیبہ کی آمد سب کے لیے بالخصوص ذاتی طور پر میرے لیے ہمیشہ باعث ازحد مسرت ہوتی ہے۔۔

19/03/2019

18مارچ 2019 کو شعبہ اردو میں انجمن طلبائے قدیم کا اہم اجلاس شعبہ اردوجامعہ پشاور میں منقعد ہوا۔اجلاس میں 4اپریل 2019 کو ایلومنائے کی تقریب کرنے کا فیصلہ ہوا۔انشااللہ۔بنک اکاونٹ کھولا گیا جس کا نمبر جلد سب کو دیا جاے گا۔ایلومنائے کی رجسڑیشن کی آخری تاریخ 28مارچ مقرر کی گئی۔اجلاس میں میڈم زبیدہ ذوالفقار۔میڈم ناہید رحمن ۔میڈم روبینہ شاہین۔میڈم رومینہ۔فضل کیبر۔اورنگ زیب۔وقار احمد۔صبغت اللہ۔سبحان اللہ۔اور دیگر نے شرکت کی۔سب نے رجسڑیشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

Photos from ‎شعبہ اردو جامعہ پشاور‎'s post 19/03/2019

شعبہ اردو میں بہار کی آمد کو بارش خوش آمدید کہتی ہوئی۔

Photos from ‎شعبہ اردو جامعہ پشاور‎'s post 08/02/2019

شعبہ اردو جامعہ پشاور نے سالانہ نتائج کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق چترال سے تعلق رکھنے والے طالب علم محسن حسن ولد شیرحکیم خان نے 784 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اور گولڈ میڈل کے حقدار ٹہرے۔

Photos from ‎شعبہ اردو جامعہ پشاور‎'s post 18/07/2017

آج کی فضاء شعبہ اردو کی۔۔۔۔

Photos 02/03/2017

طالبہ کا اعزاز....🎓🎓🎓🎓
ضلع کرک کی طالبہ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا..

شعبہ اردو جامعہ پشاور کے ایم اے فائنل2016-17 کے نتائج کا اعلان آج کیا گیا.
شعبہ اردو کے سالانہ امتحان میں ضلع کرک سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ مسماۃ فاطمہ خاتون بنت گل بعید نے 735 نمبرز لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی اور گولڈ مڈل حاصل کیا انہوں نے اپنی شاندار کامیابی کو والدین کی دُعا, اساتذہ کی محنت اور اپنے خاندان کی حوصلہ افزایئوں کا نتیجہ قرار دیا.....👏👏👏👏👌👌👌👌✌✌✌✌✌

31/01/2017

نوٹس۔۔۔۔

شعبہ اردو کے وہ طلبہ جو گزشتہ سال ٹاپ ٹین میں تھے ان کے مقالے کا انٹرویو مورخہ 3فروری 2017 بروز جمعہ کو ہے لہٰذا آپ سب اپنی اپنی حاضری یقینی بنائیں

19/01/2017

یہ غزل کل ایم ۔اے اردو (سالِ دوم )کی کلاس میں تقطیع کے دوران میرے اور میرے شاگردوں کی فی البدیہہ تخلیقی کاوش کا نتیجہ ہے ۔(بحر رجز مثمن سالم )
وہ لوگ ہیں اب معتبر جن پر کئی الزام تھے
تاریخ کا حصہ بنے جو کل تلک گمنام تھے
کل تک جنہیں میں شوق سے لکھتا گیا، رکھتا گیا
سب نذرِ آتش ہو گئے ، جو شعر تیرے نام تھے
وہ بھی زمانہ تھا کہ جب ہم کو بہت شہرت ملی
تم بھی بہت بدنام تھے ہم بھی بہت بدنام تھے
مدہوش سی کیفیتیں ابہام میں ڈھلتی گئیں
بہکے ہوئے الفاظ تھے ، الجھے ہوئے الہام تھے
تخلیق کےسوتے جو تھے ،کچھ خشک سے ہوتے گئے
جو میرے فن کو کھا گئے ،یہ کام بھی کیا کام تھے۔۔۔۔۔

Photos 28/09/2016

پروفیسر سھیل احمد

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Departmnt Of Urdu University Of Peshawar Kpk
Peshawar