02/03/2026
پاکستان کے دانشور، لبرل، ماڈرن لوگ......
ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں پاکستانی لوگوں کی زہنی حالت ہی بتا سکتا ہوں. یہاں پر ایک منافق لوگوں کا طبقہ بھی کثیر تعداد میں رہتا ہے. وہ اپنے شناختی کارڈ پر اپنا مزہب اسلام لکھتے ہیں، اپنے آپکو کہتے ایتھیسٹ ہیں اور اپنے آپکو انسان پرست دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں. سوشل میڈیا کی زبان میں انہیں دانشور، لبرل، ماڈرن خیال کے لوگ کہہ سکتے ہیں. یہ لوگ مزہبی منافقوں سے بھی بڑے منافق ہیں. یہ ہمیشہ یورپ میں جنسی خواہشات کی آزادی کے موضوع پر بحث کرتے اور انکو خیالی معاشرہ بتاتے نظر آتے ہیں.
ان کے نزدیک ہمارا معاشرہ سیکچولی فرسٹریٹیڈ ہے اور اس کی وجہ اسلامی سختی، جنسی تعلقات کی رکاوٹ ہے.....
ابھی کی بات ہے ایپسٹین فائلز لیک ہوئیں جن میں ان شخصیات کا نام آیا جو کہ یورپ کے ایلیٹس ہیں. یورپ جیسا معاشرہ جہاں جنسی تعلقات بلکل عام اور آسان ہیں. وہاں پر اکثر 13 14 سال کی لڑکیاں کنوارہ پن(ورجینیٹی) کھو دیتی ہیں. اور سوشل میڈیا کے مختلف چینیلز جو سڑکوں پر انٹرویو لیتے نظر آتے ہیں انہیں بتاتی نظر آتی ہیں. اور اس معاشرے میں جنسی تعلقات کے لوگوں کی تعداد یعنی الگ الگ پارٹنر کے ساتھ تعلقات بنانا جسے ماڈر زبان میں باڈی کاؤنٹ(body count) کہتے ہیں وہ جس کا زیادہ ہوتا ہے وہ فخر سے بتاتی نظر آتی ہیں. ایسے معاشرے میں بھی ایپسٹین فائلز میں دیکھا گیا کہ بچیوں کے ساتھ ریپ بھی کیا جاتا ہے. مطلب زبردستی....
بہرحال اس معاملے پر ہمارے لبرل لوگوں نے مولویوں میں ریپیسٹ کو گنوانا شروع کر دیا کہ یہاں ایپسٹین بھرے پڑے ہیں وغیرہ وغیرہ. ہمارے معاشرے میں سکول، مدارس، کالجز، یونیورسٹی وغیرہ میں عام جنسی زیادتیاں ہوتی ہیں. کہیں بلجبر کہیں مختلف جھانسے دے کر..محبت، پیسہ وغیرہ وغیرہ. لیکن ان دانشوروں کے نزدیک مزہبی ریپیسٹ ایپسٹین ہے اور کالج یونیورسٹی والا آذادی منا رہا ہے. کیونکہ رضامندی سے کی گئی جنسی تعلقات آزادی کی علامت ہیں پس منظر کی. کوئی قیمت نہیں جس میں جھانسہ یہ پیسہ ہو.
ان دانشوروں کے نزدیک یہ کپڑے وغیرہ ناجائز ہیں. اور یہ مزہب کے بنائے ہوئے ہیں. اور کپڑے آزادی کو روکتے ہیں. انہی کے نزدیک ڈارون کی تھیوری کے مطابق انسان جانور سے انسان بنا. اور جانور میں کپڑے جنسی تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہوتی جو جب جیسے چاہے شروع ہو جائے. اور پھر انسان بنے اور ترقی کر لی. حالانکہ ابھی پھر سے چاہتے یہ یہی ہیں کہ انسان جانور کی طرح بس کھائے پیے، دوسری جنس کو بہلا کر تعلقات بنا کر سو جائے. یہی چلتا رہے. دانشور لبرل ہمیشہ یورپ کے معاشرے کو آگے دیکھا کر کہتے ہیں کہ وہاں عورت آزاد ہے انکو سارے حقوق دیے جاتے ہیں. پارٹیوں میں عورت کو ناچنے، جسموں پر ہاتھ پھیرنے اور بستر رنگین کرنے کیلئے لے جایا جاتا ہے. یورپ یا ان جیسے ممالک میں جسمانی ضرورت کا ایک کھلونا سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے والے اسکو جسمانی آزادی کہتے ہیں کہ روزانہ نئے بستر کی زینت بنا جائے. گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر کو دیکھ لیں مرد نے صرف اپنی جنسی تسکین کے لیے یہ رشتے بنائے اور آزادی کا نام دے دیا. عورتوں کو. مالشی بنا کر پھر وہی جسمانی بھوک مٹانے کے لیے اور اسے انڈیپینڈینٹ ہونے کا نام دے دیا. مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کے چھاتی باہر نکالنا یہ ٹانگیں ساری نکالنے میں کیا آزادی یہ سکون ہے؟ البتہ ایک مرد کیلئے ایک کھلونا پیش ہو جاتا ہے جسے دیکھ کر اندر کے بھیڑیے کی بھوک مرتی رہتی ہے. پھر عورت کو اپنے مقصد کیلئے ننگا کر دیا اور عورت نے اسے آزادی سمجھ لی. نرد بے حد منافق جاندار ہے. اور یہ دانشور لبرل ایتھیسٹ حضرات ایپس(جانور) بنا کر چھوڑیں گے معاشرے کو. جہاں نہ کوئی کپڑا ہو گا نا کوئی اصول قانون نہ کوئی روک تھام اور نہ کوئی آخلاق حدود کیونکہ ان دانشوروں کے نزدیک یہ نیچرل نہیں ہیں. روکنا کلچرل ہے اور غلط ہے..... ان کی سوچ پر بہت زیادہ لکھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بے حد عجیب اور گھٹیا قسم کی مخلوقات ہیں.
ابھی ایران کے لیڈر کی شہادت ہوئی. جو کہ امریکہ اور اسرائیل نے کی. اس پر بھی یہ دانشور منافق ہی رہے. چلیں دیکھتے ہیں ان کے خیالات. پہلے یہ کہتے تھے کہ عورتوں کو زبردستی کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پردے وغیرہ. اور لیڈر ظالم ہیں. ظالم مزہبی اصول اپنائے ہوئے ہیں. ان جیسے منافق ہر. معاشرے میں ہوتے ہیں. ایران کی کچھ عورتیں نے کچھ عرصہ پہلے ننگی ہو کر حکمرانوں کی تصویریں جلائی تھیں اور پیغام دیا تھا کہ ننگا نہیں ہونے دیا جا رہازبردستی کپڑے پہنائے جا رہے ہیں. تو لبرل اور دانشور حضرات فوراً ان کے حق میں آ گئے. کیونکہ زیادہ سے زیادہ باڈی کاؤنٹ ہونا فخر کی بات ہے اور ننگے ہونے سے زیادہ آسانی سے پورا ہو. سکتا ہے. بہرحال میں نے کچھ پوسٹس دیکھیں تو لوگوں کے سامنے اچھے بننے کیلئے غم کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ایران کی ننگی عورتوں خوشی منانا قبل از وقت ہے. کیونکہ آسانی سے آزادی نہیں آئے گی کچھ وقت لگے گا. آیت اللہ صاحب کے سخت اصول ختم ہونے میں وقت لیں گے آزادی میں وقت لگے گا.
انہوں نے نہ کبھی امریکہ میں دنیا کی سب سے زیادہ ریپ کی شرح پر بات نہیں کی. جنسی آزادی اور انتہائی زیادہ باڈی کاؤنٹ ہونے کے باوجود زیادتیاں دنیا میں سب سے زیادہ ہیں. انہوں نے نسل کشی پر. بات نہیں کی کبھی. فلس طین کے لاکھوں بچوں عورتوں آدمیوں کو مار دیا گیا. اور ابھی بھوک سے مارا جا رہا ہے. اگر ایک جسم فروشی کے اڈے پر بم پھٹ جائے تو یہ انسانیت کے علمبردار فوراً آ جائیں گے. میں بھی متفق ہوں کہ جسم فروش ہو. یہ جو بھی ہر انسان کو جینے کا حق ہے. ان کے ساتھ بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. میں کوئی مولوی وغیرہ نہیں. لیکن میں منافق بھی نہیں. ان منافقوں کے ساتھ دلائل سے بات کرو تو مکار جھوٹے مولوی کی طرح فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں. کہ تم یقیناً مزہبی شدت پسند ہو وغیرہ وغیرہ. ان سے عقل کی توقع جہالت ہے.
اور ہاں ایران کے آیت اللہ علی صاحب کی شہادت پر بہت افسردہ ہوں. کیونکہ فلسطین ہو یا اور کسی مضافات کے ممالک ہوں ہمیشہ ظلم کے خلاف یہ بندہ اٹھا. سپر پاور نسل کشوں کے آگے نہیں جھکا. ظالم کے سامنے سر نہ جھکانے کی خوبی نے انہیں ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا. یہ کبھی نہیں مر سکتے. جب بھی مظلوم کے ساتھ ٹھہرنے کی بات آئے گی انکا نام لیا جائے گا. ٹرمپ جیسے ریپیسٹ، قصائی اور ظالم کے خلاف ڈٹا رہنا آخری سانس تک ایک عظیم بات ہے.
ان کے جانے کے بعد باقی ممالک کی طرح شاید اب ایران بھی امریکہ کا ایک اڈا بن جائے گا. 💔
08/12/2025
12/09/2024