Excellence Model School

Excellence Model School

Share

Excellence Modal School is used new ways for teaching children’s which suites their mind-set.

08/04/2023
Photos from Excellence Model School's post 18/03/2023

Stars of EMS

Photos from Excellence Model School's post 17/03/2023

Congrates to all "EMS" Momin Town Campus Dalazak Road students for the great results shown in annual examinations 2023..

09/11/2022

Historical event today on November 09, 1877.
یوم پیدائش علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ
آپ9نومبر1877کوسیالکوٹ،پنجاب، پاکستان میں کشمیری والدین کےہاںپیداہوئے۔ اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کا خواب دکھایا۔

محمد اقبال، جنکو علامہ اقبال کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، پاکستان کے قومی شاعر ہیں۔

Photos from Excellence Model School's post 09/11/2022

"میں نے اقبال کو مرتے دیکھا" ـــ علامہ اقبال کے آخری لمحات کی پرنم داستان

علامہ اقبال کی وفات 21اپریل 1938ء کو صبح کے کوئی پانچ بجے واقع ہوئی، اور مجھے اس بات کا شرف حاصل ہے کہ میں اْن تین اشخاص میں سے ایک ہوں جو علامہ کی موت کی شہادت دے سکتے ہیں ۔
علامہ مرحوم کے انتقال کے وقت میرے سوا اور دو اشخاص بھی تھے جن میں سے ایک تو علی بخش تھا اور دوسرے دیوان علی تھے۔ علی بخش علامہ مرحوم کا ایک وفادار نوکر تھا جو کوئی چالیس برس سے علامہ کے ہاں ملازم تھا۔ علامہ اقبال کی موت سے کوئی چوبیس گھنٹے پیشتر ہی تمام گھر والے اور عزیز و اقارب پریشان تھے، ان کے خاندان کا ہر فرد اس غم میں برابر کا شریک تھا۔ علامہ اقبال کا آخری دن اْن کی کئی ایک خصوصیات کا اظہار بھی کررہا تھا، گو کہ بعض وقت وہ شدت ِدرد سے بیتاب ہوجاتے تھے تاہم ان کے چہرے پر خوشی اور مسرت کی جھلک بھی دکھائی دیتی تھی، وہ موت کی آخری گھڑی تک باصحت تھے۔
ان کی موت ایک ایسی رات کو واقع ہوئی جس میں وہ بہت کم سوئے۔ موت سے ایک دن قبل دن کے کوئی ایک بجے علامہ اقبال نے کہا کہ اْن کے پیٹ میں شدید درد ہورہا ہے۔ میں نے انہیں ایک خوراک دوا پیش کی جس کو ان کے پرائیوٹ ڈاکٹر نے تجویز کیا تھا۔ یہ نیند آور دوا تھی، لیکن انہوں نے اسے پینے سے انکار کردیا اور کہا:''میں اس کی ایک خوراک بھی نہیں پیوں گا، اس میں افیون ہے اور میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ مرتے وقت بے ہوش نہیں رہوں گا۔ پانچ بجنے میں ابھی کوئی دس منٹ باقی تھے کہ علامہ اقبال نے شربت کا ایک گلاس پینے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے گلاس میں تھوڑا سا شربت انڈیلا اور اسے اْن کے ہاتھوں میں دے دیا۔ انہوں نے کہا: ''لیکن یہ تمام میں کیونکر پی سکتا ہوں ؟'' اور پھر وہ خود بولے: ''خیر میں اسے پی لوں گا۔'' اور پھر وہ ایک ہی سانس میں سارا گلاس پی گئے۔ اْس کے چند ہی لمحے بعد علامہ کے سینے میں شدت کا درد ہونے لگا اور انہوں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ دیا اور آہستہ سے ''ہائے'' کہا۔ علی بخش فوراً اٹھ بیٹھا اور سیدھا علامہ کے بستر کے قریب جاپہنچا اور انہیں اپنے ہاتھوں سے سہارا دیا، تب علامہ اقبال نے کہا: ''مجھے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے کوئی میرے دل میں کوئی چیز چبھو رہا ہے۔'' اور اس کے بعد انہوں نے اپنی بند آنکھیں کھول دیں اور چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ''اللہ''۔ اور یہی وہ آخری لفظ ہے جو اْن کی موت سے قبل اْن کے منہ سے نکلا۔ علی بخش فوراً علامہ سے لپٹ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ علامہ اب بستر پر دراز ہوچکے تھے، جیسے ہی اْن کا سر تکیہ سے لگا علی بخش نے فوراً آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر دیا اور اس کے چند ہی لمحوں بعد شاعر کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔
اپنی موت سے ایک دن قبل علامہ اقبال روزمرہ کی طرح جلد اپنے بستر سے اٹھ بیٹھے اور پھر ایک پیالی چائے پی۔ اس عرصہ میں چائے پیتے رہے اور میں انہیں اخبار پڑھ کر سناتا رہا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد حجام آیا اور آپ کی داڑھی بنائی۔ اس وقت علامہ میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دکھائی دے رہی تھی سوائے اس کے کہ میں نے آپ کی آنکھوں میں چند لال لال ڈورے دیکھے۔ پھر اقبال اپنے دفتر چلے گئے جو کہ ملاقاتی کمرے سے ملحق تھا اور وہاں جاکر بستر پر لیٹ گئے۔ آپ تکیے کے سہارے بہت دیر بستر پر لیٹے رہے۔ آپ کو کھانسی نہایت شدت کی ہونے لگی۔ بعض دفعہ تو اتنی شدت سے ہوتی کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا اور آپ بالکل بے بس و لاچار دکھائی دیتے۔
آپ کی رحلت سے ایک دن قبل ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے علامہ اقبال بہت مسرور اور خوش دکھائی پڑتے تھے۔ ہوا یہ کہ آپ کا پرانا ساتھی اور ہم جماعت ''بیسرنی'' آپ سے ملنے آیا۔ جوں ہی وہ کمرے میں داخل ہوا علامہ نے اٹھنے کی کوشش کی اور اپنے پرانے ساتھی کو خوش آمدید کہا۔ سب سے پہلے بیسرنی نے علامہ کو وہ دن یاد دلائے جب کہ وہ اور علامہ ایک ساتھ میونخ یونیورسٹی میں تعلیم پایا کرتے تھے۔ پرانے واقعات کو یاد کرکے علامہ بہت خوش ہوئے اور ان کا چہرہ دمک اٹھا۔ علامہ اقبال نے اپنے پرانے ساتھی پر سوالات کی بوچھاڑ شروع کردی۔ انہوں نے لیڈی بیسرن?، بیسرن کی بیٹی اور اپنے کئی دیگر ساتھیوں کے متعلق حالات دریافت کیے۔ اس کے بعد دونوں میں خاصی دلچسپ گفتگو ہوتی رہی۔ ان کی بات چیت سے میں نے اندازہ لگایا کہ بیسرن افغانستان جانا چاہتا تھا۔ اقبال جنہیں کابل کے متعلق بہت کچھ معلوم تھا، اس کے دلفریب مناظر، میوے، پھل اور موسم کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ بیسرن نے آپ سے کابل کے مشہور مقامات کے متعلق بھی بات چیت کی۔
وہ جنہیں علامہ سے گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی تھیں ، اور وہ باتیں کرتے ہوئے تھکتے نہیں تھے۔ اسی موقع پر علامہ نے بیسرن? سے جرمن فلسفہ سے متعلق بھی بحث چھیڑ دی اور اْس کے بعد وہ دونوں سیاسیات پر باتیں کرنے لگے۔ بیسرن? نہیں چاہتا تھاکہ ایک ایسے وقت وہ اپنی گفتگو کو طول دے جبکہ علامہ کی صحت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے کہا: ''شاید میری اس غیر متوقع مداخلت سے آپ کی صحت پر برا اثر پڑرہا ہوگا۔'' اقبال نے فوراً جواب دیا: ''یہ بالکل ہی دوسرا راستہ ہے میرے دوست۔ آپ کی ہر سانس میرے لیے مرہم کا کام کررہی ہے۔''
یہ دلچسپ گفتگو کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد اختتام کو پہنچی اور بیسرن چلا گیا۔ اسی شام کا ایک قصہ بانو سے متعلق ہے۔ بانو علامہ اقبال کی چھوٹی لڑکی کا نام ہے۔ وہ تیز تیز دوڑتی ہوئی علامہ کے کمرے میں داخل ہوئی اور خاموشی سے آپ کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ علامہ کی نظر کافی کمزور ہوچکی تھی۔ آپ نے بچی کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار سے کہا: ''کون آیا ہے، شاید بانو ہوگی۔'' ایک اور موقع پر جیسے ہی بانو کمرے سے باہر نکلی آپ نے فرمایا: ''وہ بخوبی جانتی ہے کہ اس کے باپ کی موت کی گھڑی قریب آچکی ہے۔''
بانو حسب معمول اپنے باپ سے ملنے کے لیے تین دفعہ آیا کرتی تھی۔ ایک تو مدرسہ جاتے وقت، دوسرے واپسی کے وقت، تیسرے سونے سے قبل۔ اقبال، بانو سے اکثر کھانے کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے: ''تم نے آج کیا کھانا کھایا اور کتنا کھایا۔'' ''اتنا کھایا۔'' بانو معصومیت سے اپنے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیتی اور شاعر مسکرانے لگتے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ چھوٹے بچوں سے صرف کھانے پینے کے بارے میں پوچھنا چاہیے، اور یہی وہ آسان طریقہ ہے جس سے بچے کا دل موہ لیا جاسکتا ہے۔''
موت سے ایک دن قبل دوپہر کے وقت بانو آپ سے بغل گیر ہوگئیں ۔ نہ جانے اْس دن اقبال کو کیا ہوگیا تھا، وہ رو رہے تھے اور بانو حیرت سے آپ کا منہ تک رہی تھیں ۔ اْس وقت سورج غروب ہورہا تھا اور اس کی ارغوانی شعاعیں علامہ مرحوم کے مکان کو چھوتی ہوئی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھیں ۔ علامہ کا بستر اْن کے دیوان خانے میں بچھا دیا گیا۔ اسی موقع پر ایک تانگہ راستے سے گزرا۔ تانگے والا ایک غمگین پنجابی گیت الاپ رہا تھا۔ شاعر نے جب اس کی درد بھری آواز سنی تو ایک ''سرد آہ'' بھری اور چھت کو گھورنے لگے۔ اس واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد فاطمہ بیگم اقبال سے ملنے آئیں ۔ فاطمہ ایک مقامی اناث کالج کی پرنسپل تھیں ۔ شاعر نے آپ سے لڑکیوں کے متعلق مذہبی مسائل پر بات چیت کی، آپ نے کہا کہ مسلمان لڑکیوں کو سختی سے اسلام کی تعلیم دینا چاہیے۔
اس وقت آپ کے سارے دوست احباب اور رشتہ دار جمع ہوچکے تھے۔ وہ تمام جانتے تھے کہ اب اقبال کا وقت قریب آچکا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے دبی آواز میں پوچھتے: ''کیا آج رات اقبال زندہ رہ سکیں گے؟'' اور یہی ایک سوال تھا جو ہر ایک دماغ کو پریشان کررہا تھا۔ اسی لمحہ جاوید اندر آیا۔ جاوید?، اقبال کی تیسری بیوی کا پہلا بیٹا ہے۔ جیسے ہی وہ کمرے میں آیا، اقبال نے کہا: ''یہ کون آیا ہے؟'' اور جب انہیں بتایا گیا کہ جاوید آیا ہے تو آپ نے جاوید کو بیٹھنے کے لیے کہا اور پھر فرمانے لگے: ''جاوید کے معنی فارسی میں غیر فانی کے ہیں ۔'' محمد حسین کو جو آپ کے ایک قریبی دوست تھے، مخاطب کرتے ہوئے آپ نے کہا: ''جاوید کے پیدا ہونے کے تھوڑے ہی دنوں بعد میں ''مجدد شاہ'' کے مقبرے پر جو سرہند میں واقع ہے، حاضر ہوا تھا جہاں میں نے خدا سے دعا فرمائی تھی کہ وہ نومولود کو زمانے کی خراب باتوں کی ناپاکی سے پاک کردے۔''
واضح رہے کہ مجدد شاہی عہدِ جہانگیر کے ایک مشہور ولی اور ایک مشہور شاعر گزرے ہیں ۔ اْس وقت بہت شدت کی گرمی پڑ رہی تھی اور شاعر نے خواہش کی کہ ان کا بستر صحن میں منتقل کردیا جائے۔ یہاں پر تین مشہور ڈاکٹروں نے آپ کا معائنہ کیا۔ وہ جاتے وقت وعدہ کرگئے کہ وہ کل دوبارہ انجکشن دینے آئیں گے۔ شاعر نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ بلا کھٹکے ان کی صحت سے متعلق حالات کہہ دیں کیونکہ وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتے۔ رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے کہ شاعر کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا اور انہیں دوبارہ اْن کے دیوان خانے میں لایا گیا۔
علی بخش آپ کے ہمراہ تھا، اس سے آپ کی یہ حالت نہ دیکھی گئی اور وہ بے اختیار رونے لگا۔ جب اقبال کی نظر اپنے وفادار نوکر کے بہتے ہوئے آنسوئوں پر پڑی تو آپ نے فرمایا: ''علی بخش! مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری 40سال کی دوستی عن قریب ختم ہونے والی ہے۔''
تقریباً آدھی رات بیت چکی تھی اور اقبال نیند نہ آنے کی وجہ سے بہت بے چین ہوگئے تھے۔ آپ کے دوست احباب اْس وقت بھی آپ کے قریب تھے۔ اْن میں سے ایک نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ نیند آور دوا کی ایک خوراک بھی پی لیں تو رات کا باقی حصہ نہایت اطمینان سے گزر جائے گا۔ اس دفعہ بھی انہوں نے اس دوا کو پینے سے انکار کردیا۔ اْس کے بعد دوستوں سے آپ نے اجازت چاہی اور آپ سونے کے لیے چلے گئے۔
آپ کو غیر متوقع طور پر جلدی نیند آگئی، لیکن ابھی گھنٹہ بھر بھی سونے نہ پائے تھے کہ پھر سے بیدار ہوگئے اور کہا کہ پیٹ میں شدت کا درد ہورہا ہے۔ عبدالقیوم نے جو آپ کے ایک قریبی رشتے دار تھے، پھر سے آپ سے درخواست کی کہ آپ نیند آور دوا پی لیں ، مگر آپ برابر انکار کرتے رہے۔ وقت تیزی سے گزرتا رہا اور شاعر کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوتا گیا۔ شاید یہ آخری رات تھی جس میں انہوں نے حقہ نہیں پیا۔ اس موقع پر اب ہم صرف تین اشخاص باقی رہ گئے تھے: علی بخش، دیوان علی اور میں ۔
وہ منظر بڑا ہی جگرسوز اور دلخراش تھا جبکہ شاعر نے ہم سے دردبھری آواز میں کہا کہ ہم اْن کے نزدیک بیٹھ جائیں ۔ اور جب ہم میں سے کوئی اونگھنے لگتا تو وہ کہتے: ''تمہیں صرف آج رات ہی جاگنے کی تکلیف گوارا کرنی ہوگی؟'' اس کے بعد انہوں نے دیوان علی سے کہا کہ وہ انہیں ایک پنجابی گیت سنائیں ۔ دیوان علی خوشی سے گانے کے لیے راضی ہوگئے۔ اب شاعر کی موت کو صرف چار گھنٹے باقی تھے۔ لیکن اب بھی اْن کے ہوش و حواس قائم تھے۔
دیوان علی نے پنجاب کے مشہور شاعر ''بلھے شاہ'' کے چند گیت الاپے۔ ان گیتوں سے شاعر بہت متاثر دکھائی دیتے تھے۔ اور بالآخر میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ رات کے کوئی تین بجے ان کی حالت انتہائی خراب ہوگئی اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ حکیم محمد حسین قریشی کو بلا لائوں جو کہ لاہور کے ایک نامی گرامی طبیب تھے۔ ان کا مکان کوئی ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تھا۔ میں سائیکل پر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ان کے مکان پر پہنچا اور اپنی پوری قوت سے انہیں آواز دی لیکن وہ اپنے بنگلہ کی تیسری منزل پر سورہے تھے۔ میری آواز بے کار ثابت ہوئی اور مجھے مایوس واپس لوٹنا پڑا۔
اقبال نے جب مجھے بغیر حکیم کے دیکھا تو کہا: ''اب کیا کیا جائے؟'' تھوڑے ہی وقفہ کے بعد شاعر نے یوں محسوس کیا کہ درد میں کمی ہورہی ہے اور اس طرح انہیں سکون مل رہا ہے، لیکن آہ… جلتی ہوئی چنگاری کی یہ آخری چمک تھی۔ اس وقت صبح کے کوئی پانچ بجا چاہتے تھے کہ ان کے درد میں اچانک شدت پیدا ہوگئی لیکن انہوں نے صبرو استقلال سے اْسے برداشت کیا۔ بجائے آہ و فغاں کرنے کے انہوں نے ہم سے کہا کہ ان کا بستر ان کے دارالمطالعہ میں منتقل کردیا جائے جہاں انہوں نے سالہا سال فلسفہ اور ادب پر غور و فکر کرتے ہوئے گزارے تھے۔ یہ اْن کا پسندیدہ کمرہ تھا۔
وہ ''اللہ'' کہتے ہوئے بستر پر لیٹ گئے اور پھر شاعر مشرق موت کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کی نیند سوگیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اپنی موت سے کیونکہ ایک ہفتہ قبل اقبال نے یہ تحریر اپنے بھائی کے ہاں روانہ کی تھی جو آپ کی بیماری سے سخت پریشان تھے: ''مجھے اجازت دیجیے کہ میں ایک سچے مسلمان کی خصوصیت آپ پر ظاہر کردوں ، جب وہ مرے تو مسکراتے ہوئے چہرے سے موت کو خوش آمدید کہے۔'' اور میں نے اچھی طرح اندازہ لگایا کہ اقبال نے بسترِ مرگ پر اپنے اس کہے پر پوری طرح عمل کیا۔ جب اْن کی آخری گھڑی آن پہنچی تو میں نے دیکھا کہ اْن کے لبوں پر ایک مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

تحریر: سر محمد شفیع

21/10/2022

Original letter written by Rashid Minhas Shaheed NH to his mother in urdu from Risalpur Academy in Nov'1969,he was 18 years old at that time. Beautiful comments of (Mr Asfar Ali Durrani) after reading this letter "purely from the heart! I have fallen in love with his uncanny expression and his sense of humor. The way he saw things was nothing less than a poet / writer's vision. I will always wish i was born in his time and met him at least once."
See the last line in which Rashid Minhas Shaheed says "DUA TUH AAP KARTEE HEE HONGEE YAAD KARANAY KEE ZAROORAT HEE KIYA HAI ."

07/10/2022

The 9th century polymath and engineer dared to make heavier-than-air machine flight a thousand years before motorised aeroplanes were invented.
The Wright brothers may have invented the first motorised aircraft, but the 9th century engineer Abbas Ibn Firnas is considered to be the first human to fly with the help of a pair of wings built by silk, wood and real feathers.

According to historians, when Ibn Firnas was between the age of 65 and 70, he jumped off a cliff from Yemen's Jabal Al-Arus mountain and glided in the air, staying in flight for at least '10 minutes’. The short flight left him both injured and disappointed. He realised that because he had neglected the mechanics of landing, he couldn't balance his flight in the air and ended up crash landing.

Ibn Firnas lived for another 12 years. He realised that slow landing is achieved via the collaborative work between tail and wings, a conclusion he reached after decades of studies of bird flight and their landings. It is Firnas who could successfully claim to be behind the theory that went on to create the ornithopter, an aircraft that mimics birds and flies by flapping its wings. His flying machine diagrams went on to become the cornerstones of aviation engineering in the late 20th century.

Flying had been the dream of human beings for several centuries before it was finally accomplished. History is full of myths and fables featuring humans with wings doing extraordinary things in the sky. In Greek Mythology, Icarus is believed to have flown so close to the sun despite his father's advice, that his waxed feathers melted, leading to his crash landing and subsequent drowning in the sea.

When it comes to the practicality of flying, the first experiment where an object ‘flew’ in the air, was in fact carried out by two Chinese philosophers, Mozi and Lu Ban, who are also said to be the inventors behind the kite. As a result of their pioneering ways in the 5th Century, they were able to gather military intelligence from rival kingdoms.

That said, Ibn Firnas is still considered to be at the forefront of his field given that he was the first aviator to fly with a heavier-than-air machine.

Born in the 9th century in Izn-Rand-Onda Al Andalus, which is present-day Ronda, Spain, he spent most of his adult life in the Emirate of Cordoba, one of the major learning hubs during the Umayyad Caliphate.

Some historical accounts suggest al Firnas was influenced by Armen Firman, who was neither a scientist nor polymath but an astute observer of nature. It was Firman who first built wings made of wooden planks wrapped in silk and bird feathers. In the early 850s, Firman climbed to the top of the tallest mosque minaret in Qurtuba and jumped off wearing the wings. Although his attempt quickly failed and he plummeted to earth, the flying machine inflated just in time and slowed his descent. He was lucky enough not to break any bones in the fall; the delay of his landing proved somewhat life-saving.

Ibn Firnas watched Firman's adventure as he stood among the gathered, fascinated crowds who were all watching the skies above in amazement. Impressed with Firman's result, Ibn Firnas began to realise that the act of flying in the air needed further investigation.

He studied flight patterns of different birds and objects for twenty-three years. He then constructed his flying machine and jumped off Jabal al Arus in Yemen despite his advanced years.

Several centuries later, an Ottoman Turk Ahmed Celebi successfully flew and landed across the Bosphorus in 1630.

Other inventions

Ibn Firnas’ keen interest in science and technology led him to invent water-powered clocks. He also experimented with sand and quartz crystals in order to understand the nature of these properties. Many historians credit him for making transparent glass these materials. He allegedly was also the pioneer behind the famous Andalusian glasses, which are still in demand and use today. The visually-challenged benefited from him, too, as he is credited with making lenses which helped with reading.

Ibn Firnas is of Berber descent. His name's root is Afernas, which is now a common and widespread name heard in both Morocco and Algeria today.

Several airports, bridges, hills, parks, avenues and scientific bodies have been named after him, especially in Muslim majority countries. A statue of him exists near Baghdad Airport and the bridge over the Guadalquivir river in Cordoba, Spain, is also named after him.

He died sometime between 890 and 895 AD and many historians say his death may have been hastened by his injury.

Photos from Excellence Model School's post 04/10/2022
21/09/2022

EMS stars

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Momin Town, Dalazak Road
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 15:00
Wednesday 09:00 - 15:00
Thursday 07:00 - 15:00
Friday 07:00 - 15:00
Saturday 07:00 - 15:00