20/04/2026
بچوں میں قدرتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے اُجاگر کیا جائے
اطفال کی بہترین پرورش اور کام یابی کے لیے ان سات اہم نکات پر عمل کریں
ایک لمحے کے لیے ذرا تصور کریں کہ ہماری دُنیا اور زندگی بچوں کے بغیر کیسی ہوگی! بالکل ویران اور بے معنی۔ بچے ہماری دُنیا کی خوب صورتی اور رونق ہیں جن کے بغیر خاندان اور دُنیا کا مکمل ہونا ناممکن ہے۔
بچے ہماری دُنیا کا مستقبل اور سرمایہ ہیں۔ یہ دُنیا کی خوش حالی اور ترقی کا وسیلہ ہیں۔ اس لیے ان کی بہترین پرورش اور قدرتی و تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے پورے معاشرے بالخصوص والدین کو بھرپور توجہ دینے اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت ایک فل ٹائم جاب اور آرٹ ہے۔
والدین بنیادی طور پر آرٹسٹ ہوتے ہیں، اور کسی بھی آرٹسٹ کے لیے اسکلز سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔ بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے خود کو تیار کرنا، خود کو بدلنا اور سیکھنے کے لیے تیار رہنا لازمی امر ہے۔ بچے والدین کے لیے تحفہ بھی ہیں اور ذمے داری بھی۔ یاد رکھیں، بچوں میں کام یابی کے لیے اپنی شخصیت پر اعتماد اور ناکامی کا خوف والدین کی جانب سے ملتا ہے۔
والدین ہی اپنے بچوں میں یہ اعتماد پیدا کرتے ہیں جو اُنہیں معاشرے میں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ بچوں کی پرورش کے لیے اپنی انا اور بڑے ہونے کی ضد کو ایک سائیڈ پر رکھیں، اُنہیں اپنی محبت، شفقت اور وقت سے بہتر انسان بننے میں معاونت کریں۔
اس مضمون میں ہم سات اہم نکات پیش کریں گے جو والدین کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بن اور وہ ان نکات پر عمل پیرا ہو کر اپنے بچوں کی قدرتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ ایک بچے کو زندگی میں کام یاب ہونے کے لیے صرف دو ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کے لیے اُس وقت تالی بجا سکیں، جب دُنیا اسے بالکل نہیں جانتی ہے۔ یہ دو ہاتھ ماں اور باپ کے ہاتھ ہوتے ہیں۔
یونسیف پاکستان کے مطابق ''بچوں کی پرورش کرنا دُنیا کا سب سے اہم کام ہے اور اس میں ماں اور باپ دونوں کو دل چسپی لینی چاہیے۔ اپنے بچوں کے ساتھ وقت ضرور گزاریں۔ آپ کے بچے زندگی میں کام یاب ہوں گے جب آپ بچپن سے کریں گے ان کی پرورش ہر قدم پر۔''
معروف مصنف اور ماہرنفسیات ایڈم گرنٹ نے کیا خوب کہا ہے کہ ''بطور والدین آپ کی کام یابی یہ نہیں، کہ آپ کے بچے بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں یا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ بحیثیت والدین آپ کا اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ کے بچوں نے کیا حاصل کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا بنے ہیں اور وہ دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں۔''
نام ور ماہرنفسیات اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل کہتے ہیں،''میری نگاہ میں انسانی بچہ ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس میں اس کی عظمت کے سب امکانات موجود ہوتے ہیں۔
وہ ایک تن آور درخت بن سکتا ہے اور اپنے معاشرے کو اپنے میٹھے پھلوں کے تحفے دے سکتا ہے لیکن تن آور درخت بننے کے لیے جس طرح کسی بیج کو تازہ ہوا اور سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسانی بچے کو ماں باپ کی محبت اور اساتذہ کی راہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر یہ چیزیں اسے مل جائیں تو وہ ایک پیار اور محبت کرنے والا امن پسند انسان بن جاتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا کر ایک کام یاب ادیب، شاعر، سائنس داں، وکیل یا سیاسی کارکن بن سکتا ہے اور اپنی خاندانی اور معاشرتی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے حقوق و مراعات سے محروم رہے اور اس کا استحصال ہوتا رہے تو وہ ایک شدت پسند اور تشدد پسند انسان بھی بن سکتا ہے۔''
والدین دُنیا میں سب سے زیادہ رسک لینے والے انسان ہو تے ہیں، جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے، اپنی جوانی، سکون، دولت اور وقت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اس آس اور اُمید کے ساتھ کہ ایک دن بچے کام یاب ہو کر اُن کے خوابوں کی تکمیل کریں گے۔ اس سارے عمل میں توقعات کا بوجھ والدین اور بچوں دونوں کے درمیان دُوری پیدا کردیتا ہے۔
27/03/2026
Save Education Save Nation
27/03/2026
#ایک معیاری اسکول کی تین بنیادی خصوصیات ‼ 💛💙
1)پڑھائ پر بھر پور توجہ۔❗❤
2)والدین سےمکمل تعاؤن۔ ❗❤
3)ٹیچرز کی تربیّت، عزّت اور حوصلہ افزائ۔❗❤
درحقیقت کسی بھی معیاری اسکول کی پہچان اس کی پڑھائ ہی ھے۔ جہاں ہر بچے پر انفرادی طور پر توجہ دی جاتی ھے۔ اسکول کے ہر بچے میں بہتری پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ھے۔ ایک اہم بات یہ ھے کہ اسکول کے طالب علم خوشی خوشی اسکول آتے ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی کلاس سے ھو۔
ایک معیاری اسکول ، بچوں کے والدین کی مشکلات اور مسائل کو سمجھتے ھوۓ ان سے ہر قسم کا بھر پور تعاؤن کرتا ھے۔والدین باآسانی اسکول پرنسپل سے مل سکتے ہیں اور اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ والدین کو بچوں کی پڑھائ سے متعلق وقتًا فوقتًا آگاہ کیا جاتا ھے۔
ایک معیاری اسکول میں ٹیچرز کو بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔ قدم قدم پر ان کی رہنمائ کی جاتی ہے۔ اگر ان میں کوئ کمی ھو تو ان کی تربیت کر کے اس کمی کو پورا کیا جاتا ھے۔ان کے مسائل کو ممکنہ طور پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ھے۔
ایک معیاری اسکول میں ان تین بنیادی خصوصیات کا ھونا لازمی ھے۔ اسکول کی عمارت اور دیگر سہولیات کی اہمیت ھوتی ھے لیکن ان کی حیثیت ثانوی ھوتی ھے۔
پروفیسر ڈاکٹر ایم زکریا خان صاحبزادہ
🏅چئیرمین نورابی فاونڈیشن انٹرنیشنل
🏅ڈائریکٹر سی ایم ایس سکول سسٹم
🏅ڈائریکٹر نورابی ہومیوپیتھک میڈیکل کالج
🏅سی سی او ٹوڈے ورلڈ ایڈلٹ ایجوکیشن
🏅سی ای او ای-لرننگ پروگرام کے پی کے
🏅پریزیڈنٹ پیڈز (PADS)
کلینک و ہاسپٹل پشاور سٹی پاکستان
پروفیسر ڈاکٹرایم زکریاخان صاحبزادہ
27/03/2026
بچوں کے مستقبل کا انحصار ان کے والدین پر ہوتا ہے۔ تعلیمی رجحان ان خصلتوں میں سے ایک ہے جس پر والدین اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بہتر تعلیمی کارکردگی کی بنیاد بچے کے ابتدائی ترقیاتی سالوں میں رکھی جا سکتی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اپنے بچوں کے ذہنوں میں مطالعہ اور سیکھنے کی محبت پیدا کرنے کے لیے والدین کچھ طریقے اپنا سکتے ہیں۔
بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے یہ 10 کام کریں
1۔ پڑھائی اولین ترجیح
بچوں کو بتایا جائے کہ ان کی پڑھائی کس طرح اولین ترجیح ہے۔ انہیں باور کرایا جائے کہ پڑھائی کم از کم کوئی اچھی نوکری یا کمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
2. آسانی اور کام جمع نہیں ہوسکتے
بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنے تعلیمی شعبوں میں سبقت حاصل کرنے کے لیے ایک مستحکم ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ خاندانوں کو ان کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لیے بعض اوقات تعطیلات منسوخ کرنا پڑ سکتی ہیں۔
3. روزانہ مطالعہ کا معمول
جس طرح اپنے دانت صاف کرنا یا نہانا روزانہ کی عادت بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح گھنٹوں کو مطالعہ کے لیے وقف کرنے کی عادت بھی اپنانا ہوگی۔ بچوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انہیں روزانہ کچھ گھنٹے بغیر کسی ناکامی کے خود مطالعہ کے لیے وقف کرنے ہیں۔
4. رہنمائی فراہم کرنا
اس بات پر بھی کافی زور دیا گیا ہے کہ ہمارا طرز زندگی اور طرز عمل ہمارے بچوں کی تشکیل میں کس طرح مدد کرتا ہے۔ اگر والدین نئی چیزیں سیکھتے ہیں اور اپنے بچے کے سامنے پڑھتے ہیں تو بچے کے سنجیدہ مطالعہ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
5. حوصلہ افزائی
وہ دن اب نہیں رہے جب بچوں میں چیخ چیخ کر خوف پیدا کرنا ممکن تھا۔ آج کے بچے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ باشعور اور باخبر ہیں۔ والدین کو پڑھائی کو تکلیف دہ اور بورنگ نہیں بنانا چاہیے۔ آپ اکٹھے بیٹھ کر بچے کو مطالعہ کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
6. قربانی دینا ہوگی
ایک بچہ جو گھر میں اکیلے پڑھ رہا ہو اور یہ دیکھ رہا ہو کہ اس کے والدین باہر گھومنے پھرنے میں اچھا وقت گزار رہے ہیں تواس کے لیے مطالعہ کرنا ایک بھاری کام ثابت ہوسکتا ہے۔ والدین اس کے ارد گرد رہ کر اور ان کی مدد کر کے ماحول کو سازگار بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے والدین کو اپنی باہر جانے کی سرگرمیوں کی قربانی دینا ہوگی۔
7. جائزہ لینے کی روٹین
اس کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ بچہ ہفتے کے دوران کیا سیکھتا ہے۔ والدین ہفتے کے دوران سیکھی ہوئی ہر چیز کا جائزہ لینے کے لیے ایک دن مقرر کر سکتے ہیں۔
8. اختتام ہفتہ پر چھٹی
ہفتے کے آخر میں خود مطالعہ کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے کیونکہ بچے سکول کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ہفتے کے دوران کلاسوں کی مشق کرتے ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ ایک واضح ایجنڈا رکھیں اور ہفتے کے آخر میں زیادہ مہمانوں کو مدعو نہ کریں تاکہ اس وقت میں بچوں کے اس اہم وقت کا زیادہ ضیاع نہ ہو۔
9. پڑھنے کی جگہ کی تیاری
بچوں کے لیے ایک صاف اور بے ترتیبی سے پاک مطالعہ گاہ بنانے سے بھی ان کی پڑھائی کی عادت بہتر ہوسکتی ہے۔ اس سے وہ بہت زیادہ خلفشار کے بغیر اچھی طرح توجہ مرکوز کر سکیں گے۔
10. مطالعہ میں مدد
والدین اپنے بچوں کی کفالت کے لیے اپنے سابق اسکول کے تجربات استعمال کر سکتے ہیں۔ نیز بچوں کو ان کے کلاس رومز میں لے جا کر تعلیمی مواد حاصل کرنے میں مدد کرنا بعض اوقات بچے کو سبقت حاصل کرنے کی ترغیب دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
زیرِ نگرانی 👇
پروفیسر ڈاکٹر ایم زکریا خان صاحبزادہ
🏅چئیرمین نورابی فاونڈیشن انٹرنیشنل
🏅ڈائریکٹر سی ایم ایس سکول سسٹم
🏅ڈائریکٹر نورابی ہومیوپیتھک میڈیکل کالج
🏅سی سی او ٹوڈے ورلڈ ایڈلٹ ایجوکیشن
🏅سی ای او ای-لرننگ پروگرام کے پی کے
🏅پریزیڈنٹ پیڈز (PADS)
کلینک و ہاسپٹل پشاور سٹی پاکستان
پروفیسر ڈاکٹرایم زکریاخان صاحبزادہ
26/03/2026
📚 تعلیم اور ہنر کی اہمیت 📚
آجکل ہنر مندی skills ایجوکیشن کی بڑی مانگ ہے ۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔
یہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ انسان کو شعور، اخلاق اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں،
بلکہ مہارت (Skills) سیکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔
خاص طور پر کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کا علم وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں
جو تعلیم کو نظر انداز کرتی ہیں۔
آئیں! ہم سب مل کر یہ عہد کریں
کہ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر(Skills) بھی سکھائیں گے،
تاکہ وہ ایک کامیاب اور باوقار زندگی گزار سکیں۔ ✨
The Convent Model High School System
AI Digital Class Rooms Equipped....
زیرِ نگرانی 👇
پروفیسر ڈاکٹر ایم زکریا خان صاحبزادہ
🏅چئیرمین نورابی فاونڈیشن انٹرنیشنل
🏅ڈائریکٹر سی ایم ایس سکول سسٹم
🏅ڈائریکٹر نورابی ہومیوپیتھک میڈیکل کالج
🏅سی سی او ٹوڈے ورلڈ ایڈلٹ ایجوکیشن
🏅سی ای او ای-لرننگ پروگرام کے پی کے
🏅پریزیڈنٹ پیڈز (PADS)
کلینک و ہاسپٹل پشاور سٹی پاکستان
پروفیسر ڈاکٹرایم زکریاخان صاحبزادہ
10/03/2026
کم جونگ ان مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم کمانڈر و لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے والے پہلے حکمران ہے۔✊✊✊
08/03/2026
فرض کریں کہ آپ کی 16 گھنٹے کی طویل پرواز ہےتو آپ کس شخصیت کے ساتھ بیٹھنا پسند کریں گے؟؟؟