انسان زمینی مخلوق نہیں ہے
امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:
ارتقائی سائنسدان لا جواب:
انسان زمین کا ایلین ہے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور (Ellis Silver) نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth)
میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ (Ecologist) ہے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجیے۔
ذہن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔
اس کا کہنا ہے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رہا ہے وہ سیارہ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ہے وہاں پر انسان بہت ہی نرم و نازک ماحول میں رہتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لیے کچھ بھی تردد نہیں کرنا پڑتا تھا، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی۔
وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا۔
وہ جسے چاہتا، جس سیارے پر چاہتا، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔
ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل، کالا پانی جیل کی طرح ہے۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
*نمبر 1:
زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے۔
*نمبر 2:
انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے۔
ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ہر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے۔
*نمبر 3:
ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے۔
جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
*نمبر 4:
ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔
کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔
*نمبر 5:
زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا،
جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔
*نمبر 6:
انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔
*نمبر 7:
زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کے لیے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے۔
جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔
*نمبر 8:
انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی۔
*نمبر 9:
انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے۔
نمبر 10:
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔ جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔
جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔
نمبر 11:
یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی۔
ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ سال بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔
میں اس کے سائنسی دلائل اور مفروضوں پر غور کر رہا تھا کہ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لیے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور اماں حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے، سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں، جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے۔
ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے۔
یہ سیارہ ہمارا نہیں ہے۔
اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ:
اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی....
Awareness .com
page purposed for online biology lectures in pushto language.so plz join this page if you want to
09/05/2024
5 years experience to get a job ,
02/05/2024
یو ضرورى خبر ده ٹولوں مسلمانانو روڼو دہ پارہ
ملگرو چہ کلہ ھم سوک بجلئ اونیوو نو پہ زمکہ کی یی بالکل مہ حخوئ پہ دی وخت کی مونگ سرہ 6 منٹو پوری ڈیر قیمتی وخت وی چہ گولڈن ٹائم ورتہ وائی چہ ھغہ مونگ د مریض پہ خخلو باندی ضائع کو
داسی ھیس قسمہ کنسیپٹ نشتہ چہ د انسان بدن لکہ د بیٹری چارج کیگی او بجلی پکی سٹور کیگی ، چہ کلہ ھم بدن تہ د بھر نہ کرنٹ راشی نو د انسان د زڑہ حرکت اودریگی او یا بے ترتیبہ شی او ساہ یی بندہ شی دی تہ کلینیکل ڈیتھ وائی پہ دی وخت کی د انسان زڑہ پہ مصنوعی طریقہ پہ حرکت کی راوستل پکار دی او چی داسی عمل (سی پی آر) پہ 6 منٹو کی دننہ اونشو نو زڑہ دماغو تہ وینہ نہ پاس کوی او دی دوران کی د انسان دماغی حلئیی مستقل طور مڑی شی چہ ورتہ بائیولوجیکل ڈیتھ وائی او انسان وفات شی،
د کرنٹ لگیدو سرہ سمدست ایمبولینس یا ذاتی گاڈی راتلو پوری مریض پہ زڑہ باندی پہ دواڑہ لاس سرہ دومرہ زور ورکئ چہ د ھغہ سینہ دوہ انچہ پوری لاندی زی ((کہ پوحتئ یی ماتی شی خیر دے ھو چہ جوند یی بچ شی )) او دا عمل بہ دومرہ تیز کوئ چہ 15 سیکنڈ کی دیرش حرکتونہ برابر شی دی نہ پس بہ مریض لہ پہ پوزہ لاس کیدئ او پہ خلہ کی بہ دوہ پوکی ورکئ او دا عمل بہ دوبارہ شروع کئی انشاء اللہ پہ ڑومبی سائکل یا پہ دویم کی بہ مریض روغ شی او کہ اونہ شو نو د ایمبولینس یا د ہسپتال رسیدو پورے بہ د عمل جاری ساتئ ،
او کہ چرتہ مریض ماشوم وو نو پہ دواڑہ لاس بہ زور نہ ورکوئ صرف پہ دوہ گوتو بہ زور ورکوئ،
آگے شئیر کریں شاید کسی کی جان بچ جائے
If your friends aren't discuss success, stocks, crypto, business and giving you positive encouragement you are in the wrong circle
Weldon Iran👍 , no ceasefire now, keep on continue, isra.el the biggest terrorist state and killer of innocent childs in Gaza.
08/04/2024
انسانیت کہاں دفن ہوگئی
افسوسناک خبر
زیر نظر تصویر میں موجود مجذوب شخص عبید ہے جس کو اکثر آپ نے ہجیرہ گھومتے پھرتے دیکھا ہو گا ، کچھ دن پہلے عبید لاپتہ ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عبید جناح ہسپتال میں ملا ہے ۔مگر کسی درندے نے گردہ نکال کر پھینک دیا تھا اور اب جناح کے ICU میں موت سے لڑ رہا ہے۔اللہ جلد صحت یاب کرے اور گردہ نکالنے والے ظالم شخص کو نشان عبرت بنائے۔ آمین
پشاور کینسر ہسپتال شوکت خانم کے لیے شارجہ کی امیرہ نے 44 لاکھ درہم کا اعلان کر دیا۔
02/04/2024
New mining app launched just like pi, start free mining now.
App name : g network
Referral code:CFZCFZCFZ
Available in playstore.
Don't miss this Opportunity.
د poke کولو پہ اکاؤنٹ سہ اثر ھم نشتہ دا صرف توجہ , یاد یا ھیلو دپارہ استعمالیگی۔
Chatgpt
قبض مختلف عوامل کی وجہ سے ہوسکتا ہے، بشمول:
کم فائبر والی خوراک: کافی فائبر کا استعمال نہ کرنا پاخانہ گزرنے میں دشواری کا باعث بن سکتا ہے۔
پانی کی کمی: پانی کی ناکافی مقدار کے نتیجے میں پاخانہ سخت ہو سکتا ہے، جس سے گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جسمانی سرگرمی کا فقدان: بیٹھے رہنا نظام ہضم کو سست کر سکتا ہے، جس سے قبض ہو جاتی ہے۔
بعض دوائیں: بعض دوائیں، جیسے کہ بعض درد کش ادویات، اینٹی ایسڈز، اور اینٹی ڈپریسنٹس، ضمنی اثر کے طور پر قبض کا سبب بن سکتی ہیں۔
معمولات یا خوراک میں تبدیلیاں: سفر کرنا، کھانے کے اوقات میں تبدیلی، یا خوراک میں تبدیلی آنتوں کی عادات میں خلل ڈال سکتی ہے اور قبض کا سبب بن سکتی ہے۔
طبی حالات: چڑچڑاپن آنتوں کے سنڈروم (IBS)، ہائپوٹائرائڈزم، ذیابیطس، اور اعصابی عوارض جیسی حالتیں قبض کا باعث بن سکتی ہیں۔
پاخانے کی خواہش کو نظر انداز کرنا: آنتوں کی حرکت کی خواہش کو نظر انداز کرنا وقت کے ساتھ قبض کا باعث بن سکتا ہے۔
نفسیاتی عوامل: تناؤ، اضطراب، یا ڈپریشن آنتوں کی حرکت کرنے والوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
17/03/2024
سمجھ گیا اگر آپ کبھی اپنا ارادہ بدلتے ہیں یا مستقبل میں آپ کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ اپنا خیال رکھنا!
ذیابیطس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ پاکستانی محقق کا بڑا کارنامہ
ذیابیطس
مارچ 17, 2024
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
کراچی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محقق اور ڈاکٹر محمد تنویر خان نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ پیٹ کے جراثیم سے ذیابیطس کو لاحق ہونے سے روکنا ممکن ہے۔
کراچی یونیورسٹی سے مائیکرو بیالوجی میں ماسٹرز اور پھر نیدرلینڈز سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر محمد تنویر خان اس وقت سوئیڈن کی گوتھن برگ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور مالیکیولر اور کلینیکل میڈیسنز کے شعبے میں سنگ میل ثابت ہونے والی ریسرچ کر رہے ہیں۔
معروف سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں اس موضوع پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں ڈاکٹر محمد تنویر خان بتایا کہ آنتوں میں رہنے والے جراثیم ہماری صحت پر مثبت اور منفی دونوں طریقوں سے اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
diabetes
پاکستانی محقق ڈاکٹر محمد تنویر خان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ خوشی، غم، اسٹریس، بھوک اور ایسے دیگر عوامل ان ہی جراثیم سے جڑے ہوتے ہیں۔
سائنسی جریدے ‘نیچر‘ میں شائع ہونے والی ان کی نئی تحقیق کے نتائج پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹ کے ان جراثیموں میں واقع ہونے والی تبدیلیاں نہ صرف بہت سی بیماریوں کی پیشگی اطلاع دے سکتی ہیں بلکہ ان کی شدت اور ادویات کے اثرات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
Dr. Muhammad Tanvir Khan
ڈاکٹر محمد تنویر خان تحقیقی رپورٹ میں خاص طور پر ذیابیطس کے مرض پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے، تاہم وہ کہتے ہیں کہ دل کی بیماریاں بھی ان ہی جراثیم کی انسانی جسم میں تعداد سے جڑی ہوتی ہیں۔
تحقیقی مقالے کے مطابق پیٹ میں ان جراثیم سے جڑی تبدیلوں کا سراغ لگانے کے لیے جینوم سیکوئنسنگ (میٹا جینوم) کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر تنویر خان کے مطابق آنتوں میں رہنے والے جراثیم کی تعداد ہمارے جسم کے خلیوں کی مجموعی تعداد سے بھی دس گنا زیادہ ہوتی ہے جبکہ ان میں موجود جینز کی تعداد تقریباً سوگنا زیادہ ہے۔
ڈاکٹر تنویر خان نے مزید بتایا کہ ایک عام انسان دن میں تقریباً آدھا کلو فضلہ خارج کرتا ہے، جس کا نصف وزن ان ہی جراثیم پر مشتمل ہوتا ہے، یہ جراثیم انتہائی حساس ہوتے ہیں اور اکثر ہوا کے ساتھ رابطے میں آنے کے چند لمحوں میں ہی مرجاتے ہیں۔
جراثیم
ڈاکٹر تنویر کے مطابق آنتوں کی توانائی کا 60 فیصد بشمول وٹامنز، ہارمونز اور دیگر کیمیائی اجزاء ان ہی جراثیم سے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کسی مریض پر اینٹی بائیوٹک کا استعمال کیا جاتا ہے تو اچھے جراثیم (جو ہمیں وٹامنز فراہم کرتے ہیں) مرجاتے ہیں اور اسی لیے وٹامنز کی گولیاں بھی تجویز کی جاتی ہیں۔
پاکستانی ریسرچر کا کہنا ہے کہ پری بائیوٹک نامی یہ گولیاں اصل میں وہ فائبر ہوتے ہیں جو انسان ہضم نہیں کرتا بلکہ یہ انسانی جسم میں رہ کر اچھے جراثیموں کی تعداد بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ذیابیطس سے قبل کچھ خاص قسم کے جراثیم جسم میں کم یا ختم ہوجاتے ہیں۔ اس تحقیق سے قبل تک ان جراثیم کو محفوظ بنا کر کسی دوا کی شکل نہیں دی جا سکی تھی۔
ڈاکٹر تنویر خان کی ٹیم نے ان جراثیم کو پیدا کرنے اور محفوظ بنانے کا طریقہ وضع کیا ہے۔ اس پاکستانی ریسرچر کے مطابق یہ طریقہ ابھی پچاس افراد پر استعمال کیا گیا ہے اور اس کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ اب یہ تحقیق انسانوں کے ایک بڑے گروپ پر استعمال کی جا رہی ہے اور اس کے نتائج بھی جلد ہی شائع کیے جائیں گے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Peshawar
180064