Ahsanul Uloom Ghaffaria online institute

Ahsanul Uloom Ghaffaria online institute

Share

I am online Quran teacher and I am Hafiz Quran and read nazira Quran with tajwed

12/06/2023

""السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ""
دراصل جناب/میڈم ہم آن لائن ہوم ایجوکیشن سروسز لائیو فراہم کر رہے ہیں۔
ہمارا مقصد صرف اور صرف آپ کو اور آپ کے بچوں کو صحیح تجوید اور تفسیر کے ساتھ قرآن پڑھنے کا صحیح طریقہ سکھانے کے لیے آن لائن قرآن کورسز پیش کرنا ہے۔

اگر آپ اپنے بچے کو ہمارے ساتھ قرآن سیکھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری دو دن کی مفت آزمائشی کلاس کے لیے رجسٹر کر سکتے ہیں۔

ہمارے پاس بہترین صلاحیتوں والے ماہرین تجربہ کار اساتذہ اور جید قرآء حضرات موجود ہیں
ہماری تدریسی خدمات 24/7 دستیاب ہیں۔
کلاسیں ہفتے میں 5 دن پیر سے جمعہ تک ہوتی ہیں لیکن ہم ہفتے کے آخر میں کلاسز بھی پیش کرتے ہیں

ہم مناسب فیس لیتے ہیں
ہم آپ کو رعایت دیں گے۔۔ [ان شاءاللہ تعالیٰ]
اور تفصیلات جاننے کےلئے انتظار کرے
[جزاک اللہ خیرا کثیرا]
{""والسلام""}

12/06/2023
05/02/2023

(مشکوہ المصابیح)
(کتاب الفضائل القرآن)
(فضیلت آیہ الکرسی)
""حدیث نمبر بنسبت کتاب"":؛ 13؛
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ)
حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

(""ترجمہ"")
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت کرنے پر مامور فرمایا ، پس ایک شخص میرے پاس آیا اور غلے سے لپیں بھرنے لگا ، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر جاؤں گا ، اس نے کہا : میں محتاج ہوں ، میرے بچے ہیں اور میں بہت ضرورت مند ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! گزشتہ رات تیرے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے سخت ضرورت اور بچوں کی شکایت کی تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تمہارے ساتھ غلط بیانی کی اور وہ پھر آئے گا ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ پھر آئے گا لہذا میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا ، اور میں نے کہا : میں تمہیں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ اس نے کہا : میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں ، میں پھر نہیں آؤں گا ۔ میں نے اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ ابوہریرہ ! تمہارے قیدی کا کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے سخت ضرورت اور بچوں کی شکایت کی تو میں نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تو تم سے غلط بیانی کی اور وہ پھر آئے گا ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ضرور آئے گا ۔ میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تمہیں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا اور یہ تیسری اور آخری مرتبہ ہے ، تم کہتے ہو میں پھر نہیں آؤں گا لیکن پھر آ جاتے ہو ، اس نے کہا مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں چند کلمات سکھاؤں گا جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے گا ۔ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر آؤ تو مکمل آیت الکرسی پڑھو ، اس طرح اللہ کی طرف سے تم پر ایک محافظ مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا حتیٰ کہ صبح ہو جائے گی ، میں نے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اس نے کہا کہ وہ مجھے چند کلمات سکھائے گا جن کے ذریعے اللہ مجھے فائدہ پہنچائے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تم سے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹا ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ تم تین روز سے کس کے ساتھ باتیں کرتے رہے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شیطان تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

فضائل قرآن کا بیان #2123

28/01/2023

_____"""دعا قبول ہو نے کا ذریعہ""""_______

28/01/2023

(مشکوہ المصابیح )
(کتاب الفضائل القرآن)
""فضیلت آیۃ الکرسی""
"" حدیث نمبر بنسبت کتاب"":: 12
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَك أعظم؟» . قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَك أعظم؟» . قَالَ: قُلْتُ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ القيوم)
قَالَ فَضرب فِي صَدْرِي وَقَالَ: «وَالله لِيَهنك الْعلم أَبَا الْمُنْذر» . رَوَاهُ مُسلم

""ترجمہ ""
حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابومنذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں قرآن کریم کی کون سی سب سے عظیم آیت یاد ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے پھر فرمایا :’’ ابومنذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں قرآن کریم کی کون سی سب سے عظیم آیت یاد ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : «(اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم)» ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا :’’ ابومنذر ! تمہیں علم مبارک ہو ۔‘‘ «رواہ مسلم» ۔

فضائل قرآن کا بیان #2122

27/01/2023

(القرآن الکریم)

""بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے""

27/01/2023

(مشکوہ المصابیح)
( کتاب الفضائل القرآن)
(فضیلت سورہ بقرہ وآل عمران)
"حدیث نمبر بنسبت کتاب"::12
وَعَن النواس بن سمْعَان قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تحاجان عَن صَاحبهمَا» . رَوَاهُ مُسلم
"ترجمہ "
حضرت نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قرآن اور اس پر عمل کرنے والوں کو روز قیامت لایا جائے گا ، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران اس (قرآن کی سورتوں) کے آگے ہوں گی گویا وہ سیاہ بادل ہیں یا دو سائبان ہیں ان کے درمیان روشنی ہے ، یا وہ پرندوں کے دو غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

فضائل قرآن کا بیان #2121

26/01/2023

(مشکوہ المصابیح)
(کتاب الفضائل القرآن)
(فضیلت سورہ بقرہ وآل عمران)
"حدیث نمبر بنسبت کتاب": 11
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَو فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تستطيعها البطلة» . رَوَاهُ مُسلم
"ترجمہ "
حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ،’’ قرآن پڑھا کرو ، کیونکہ وہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا ، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران دو چمکتی ہوئی روشن سورتوں کو پڑھو ، کیونکہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دو سائبان ہیں یا پرندوں کے غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کے حق میں بحث و مباحثہ کریں گے ، سورۂ بقرہ پڑھا کرو ، کیونکہ اسے حاصل کر لینا باعث برکت اور اسے ترک کر دینا باعث حسرت ہے ، اور جادوگر اسے حاصل نہیں کر سکتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

فضائل قرآن کا بیان #2120

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Wazeerbagh Rasheed Ghari Pishawar
Peshawar
25000