I Love Hazrat Muhammad ﷺ From the core of my Heart

I Love Hazrat Muhammad ﷺ From the core of my Heart

Share

This page doesn't belong to any political or any particular denomination. we are not here to insult other religions.

The aim of this page is to spread true message of islam to all human beings.

01/06/2026
17/05/2026

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃ - رضی اللّٰہ عنہ - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ :

''مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبُّ إِلی اللّٰہِ أَنْ یَّتَعَبَّدَ لَہٗ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحَجَّۃِ، یَعْدِلُ صِیَامُ کُلَّ یَوْمٍ مِنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ، وَ قِیَامُ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ''۔ (سنن ترمذی، حدیث: 758)

(حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

''کوئی دن اللہ کو اتنے محبوب نہیں کہ جن میں اللہ کی عبادت اور خشوع و خضوع اختیار کیا گیا ہو، جتنے ذو الحج کے ابتدائی دس دن اللہ کو محبوب ہیں۔ ان میں ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزے کے فوائد و ثمرات کے برابر ہے۔ ان میں سے ہر رات کی عبادت کے نتائج شبِ قدر کے فوائد و ثمرات کے برابر ہیں''۔)

16/03/2026

حقوق العباد کے بارے مشہور اور مستند حدیث (صحیح مسلم 2581:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟"
صحابہ نے کہا: "ہمارے ہاں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ سامان۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیوں میں سے ایک کو (اس کے حق کے برابر) نیکیاں دے دی جائیں گی، دوسرے کو بھی۔ اگر نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔"
(یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے اور بہت سے علماء نے اسے حقوق العباد کی اہمیت پر دلیل بنایا ہے۔)
دوسری مستند حدیث (صحیح بخاری و مسلم میں مشابه):
نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت سے پہلے اپنے حقوق ادا کر لو، کیونکہ قیامت کے دن نہ دینار ہوگا نہ درہم، صرف نیکیاں اور گناہ ہوں گے۔" (مسند احمد وغیرہ میں بھی مشابه روایات صحیح ہیں۔حقوق العباد معاف ہونے کا عملی طریقہ )
اگر مال یا جائیداد کا حق ہو: فوراً واپس کرو یا وارثوں کو دو (اگر مظلوم مر چکا ہو)۔
اگر جسمانی نقصان (مار پیٹ، زخم): قصاص یا دیت ادا کرو، یا مظلوم معاف کر دے۔
اگر زبانی حق (غیبت، تہمت، گالی): براہ راست اس شخص سے معافی مانگو اور کہو کہ "میں نے آپ پر ظلم کیا، اللہ کے لیے معاف کر دیں"۔
اگر مظلوم مر چکا ہو یا تلاش نہ ہو سکے:
سچی توبہ کرو۔
اس کی مغفرت کے لیے دعا کرو۔
اس کی طرف سے صدقہ و خیرات کرو (اس سے اللہ تعالیٰ مظلوم کو راضی کر سکتا ہے)۔
قیامت کے دن اللہ انصاف کرے گا (لیکن نیکیاں ضائع ہونے کا خطرہ رہے گا)۔
اہم بات: اگر مظلوم معاف کر دے تو اللہ بھی معاف فرما دیتا ہے (جیسے متعدد فتاویٰ اور احادیث میں ہے)۔ صرف توبہ کافی نہیں۔
سورۃ الزمر کی آیت 53 اللہ کی رحمت کا اعلان ہے، مگر اس رحمت سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے حقوق اللہ کی توبہ + حقوق العباد کی تلافی دونوں ضروری ہیں۔ دنیا میں ہی مظلوم سے معافی مانگ لو، ورنہ قیامت کے دن "مفلس" بن کر دوزخ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقوق العباد ادا کرنے اور سچی توبہ کی توفیق دے۔ آمین۔

14/02/2026

سورہ البروج قرآن مجید کی 85ویں سورت ہے، جو مکہ مکی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی قسمیں کھا کر کفار کی ہلاکت اور مومنین کی کامیابی کا ذکر کیا ہے۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں "اصحاب الاخدود" یعنی خندقوں والوں کا تذکرہ ہے۔ آیات 4 سے 8 تک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "(ترجمہ: ہلاک ہوئے خندق والے * اس آگ کے جو بھڑکتی ہوئی تھی * جب کہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے * اور جو کچھ وہ مومنوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کے گواہ تھے * اور ان سے ان کی کوئی عداوت نہ تھی مگر یہ کہ وہ اللہ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل تعریف ہے)۔
یہ آیات ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں ایک ظالم بادشاہ نے مومنین کو ایمان کی وجہ سے آگ کی خندقوں میں ڈال کر شہید کیا
جیسا کہ مختلف تفاسیر اور احادیث کی کتب میں مذکور ہے۔ یہ واقعہ ایک کافر بادشاہ (بعض روایات میں یمن کا بادشاہ ذو نواس کا ذکر ہے) کے دور کا ہے، جو عیسائیوں (جو اس وقت کے اعتبار سے توحید پر تھے) کو ظلم کا نشانہ بناتا تھا۔
واقعے کی تفصیل مستند حدیث سے:
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں، مجھے ایک ذہین لڑکا دو تاکہ میں اسے جادوگری سکھا دوں اور یہ علم میرے بعد باقی رہے۔ بادشاہ نے ایک لڑکا (جس کا نام عبداللہ بن تامر تھا) منتخب کیا جو روزانہ جادوگر کے پاس جاتا اور علم سیکھتا۔ راستے میں ایک راہب (جو توحید پر تھا) رہتا تھا۔ لڑکا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور راہب سے ایمان کی باتیں سیکھنے لگا۔ راہب نے اسے اللہ پر ایمان لانے کی تلقین کی اور لڑکا خفیہ طور پر مسلمان (توحید پرست) ہو گیا۔
لڑکا جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو جادوگر اسے مارتا، اور گھر دیر سے پہنچنے پر گھر والے مارتے، مگر وہ راہب کی صحبت نہیں چھوڑتا تھا۔ راہب کے فیض سے لڑکے کو کرامات ملیں۔ ایک دن راستے میں ایک بڑا جانور (شیر یا سانپ کی طرح) لوگوں کا راستہ روکے کھڑا تھا۔ لڑکے نے پتھر اٹھایا اور دعا کی: 'اے اللہ! اگر راہب کا دین سچا ہے تو اس جانور کو اس پتھر سے ہلاک کر دے۔' پتھر مارا اور جانور مر گیا۔ لوگوں نے دیکھا اور لڑکے کی تعریف کی۔ ایک اندھے نے سنا تو درخواست کی کہ میری آنکھیں ٹھیک کر دو۔ لڑکے نے کہا: 'میں نہیں، اللہ ٹھیک کرتا ہے۔ اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں دعا کروں گا۔' اندھا ایمان لایا اور بینا ہو گیا۔
یہ خبریں بادشاہ تک پہنچیں۔ بادشاہ نے لڑکے، راہب اور اندھے کو بلایا۔ راہب اور اندھے کو قتل کر دیا۔ لڑکے کو اونچے پہاڑ سے گروانے کا حکم دیا، مگر اللہ کی قدرت سے لڑکا بچ گیا اور وہ لوگ گر کر ہلاک ہو گئے جو اسے لے کر گئے تھے۔ پھر بادشاہ نے لڑکے کو دریا میں ڈبونے کا حکم دیا، مگر کشتی الٹ گئی اور لڑکا بچ گیا۔ آخر لڑکے نے خود بادشاہ سے کہا: 'تو مجھے نہیں مار سکتا جب تک کہ تمام لوگوں کو جمع کر کے مجھے سوئی پر لٹکا دے اور تیر مارے، اور تیر چلاتے وقت کہے: بسم اللہ رب الغلام (اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے)۔' بادشاہ نے ایسا کیا، تیر لگا اور لڑکا شہید ہو گیا۔
یہ دیکھ کر لوگوں نے کہا: 'ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے!' بادشاہ کو مشورہ دیا گیا کہ اب تو سارے لوگ مسلمان ہو گئے۔ بادشاہ نے غصے میں بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں، ان میں آگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے نہ پھرے، اسے آگ میں ڈال دو۔ لوگ آگ میں گرائے جاتے رہے مگر ایمان نہ چھوڑا۔ ایک عورت کو اس کے دودھ پیتے بچے سمیت لایا گیا۔ عورت گھبرائی تو بچے نے اللہ کے حکم سے آواز دی: 'اے اماں! صبر کر، تو حق پر ہے۔' عورت نے بھی ایمان پر استقامت کی اور شہید ہو گئی۔

08/02/2026

"یَأَیُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ"
اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا؟

ایت کریمہ دراصل ایک عمومی خطاب ہے جو ہر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور اسے دعوتِ فکر دیتا ہے۔ اس سورت کا مرکزی موضوع قیامت کا بیان اور انسان کو اس کی حقیقت یاد دلانا ہے۔
پس منظر اور مفہوم یہ ہیں:
کائناتی تبدیلیوں کے تناظر میں: سورت کے آغاز میں قیامت کے دن ہونے والی ہولناک کائناتی تبدیلیوں کا ذکر ہے (جب آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے وغیرہ)۔ ان مناظر کو بیان کرنے کے بعد فوراً انسان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جب اتنی بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں اور سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے، تو تجھے کس چیز نے اپنے خالق کی طرف سے غافل کر دیا؟
ربِ کریم کی صفات: "ربک الکریم" (تیرے کریم رب) کا لفظ استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی بے پناہ مہربانیوں اور کرم نوازیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اللہ نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا، اسے سیدھا قد اور متوازن جسم دیا۔ اس سوال کا مقصد یہ احساس دلانا ہے کہ جس رب نے اتنے احسانات کیے، اس کی نافرمانی کی جرأت کیسے ہوئی؟
دھوکے کی حقیقت: تفسیری روایات کے مطابق، انسان کو عموماً شیطان یا اس کی اپنی غفلت دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ اللہ کی شانِ کریمی کا سہارا لے کر انسان یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اللہ بخش دے گا، جس کی وجہ سے وہ گناہوں میں جری ہو جاتا ہے۔ یہ آیت اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اللہ کی کریمی کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے عدل سے بے خوف ہو جایا جائے۔
یومِ جزا پر یقین: اس آیت کے فوراً بعد آنے والی آیات میں بتایا گیا ہے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس پر معزز فرشتے (کراماً کاتبین) نگہبان ہیں جو سب کچھ ریکارڈ کر رہے ہیں، اور یومِ جزا ضرور آئے گا۔
یہ آیت دراصل انسان کے غرور، غفلت اور یومِ حساب سے بے پروائی کے رویے پر ایک نرم مگر سخت تنبیہ ہے، جو قیامت کے دن کی جوابدہی یاد دلاتی ہے۔

05/02/2026

بسنت کا تہوار بنیادی طور پر برصغیر کی قدیم ہندو تہذیب سے جڑا ہے، جو سنسکرت کے لفظ "وسنت" سے نکلا ہے اور بہار کے موسم کی آمد پر منایا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر، یہ دیوی سرسوتی کی پوجا سے منسلک ہے، جہاں پیلے کپڑے پہننا، موسیقی، رقص اور خوشی کے اظہار شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں، خاص طور پر لاہور میں، یہ پتنگ بازی کے ساتھ منایا جاتا ہے، لیکن اس کی جڑیں غیر اسلامی روایات میں ہیں۔ اسلام کی روشنی میں، تہواروں کا معاملہ اصول پر مبنی ہے: اسلام صرف دو عیدیں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی اجازت دیتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر قوم کے لیے اس کے تہوار ہوتے ہیں، اور تمہارے لیے عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہیں" (صحیح بخاری)۔ اس سے باہر کے تہوار، اگر وہ غیر مسلموں کی تقلید ہوں، تو منع ہیں، کیونکہ حدیث ہے: "جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہی میں سے شمار ہو گا" (ابو داؤد)۔ بسنت میں عملی طور پر فحاشی، موسیقی، بے پردگی، فضول خرچی اور جانی نقصان (جیسے ڈور سے حادثات) شامل ہوتے ہیں، جو اسلام کے خلاف ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا" (سورۃ المائدہ: 3)، یعنی اسلام مکمل ہے، غیر اسلامی رسومات کی ضرورت نہیں۔ مزید، سورۃ النساء (آیت 59) میں حکم ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، نہ کہ دنیاوی روایات کی۔ اگر بسنت کو خالص تفریح سمجھا جائے تو بھی اس کی اصل غیر اسلامی ہے، اور اس میں حرام عناصر شامل ہونے سے مکمل طور پر ناجائز ہے۔ مستند علماء (جیسے دارالافتاء اور محدثین) کی رائے یہی ہے کہ یہ تقلید کفار ہے اور منع ہے۔ تاہم، اگر کوئی پتنگ بازی کو بغیر تہوار کے صرف کھیل کے طور پر کرے اور حرام سے بچے، تو وہ الگ معاملہ ہے، لیکن بسنت کی شکل میں نہیں۔

05/02/2026

اے پیغمبر! میری طرف سے لوگوں کو کہ دو کہ میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ بے شک وہ بہت بخشنے والا، مہربان ہے۔

القرآن (سورۃ الزمر: 53)

05/02/2026

رَبِّ ہَبْ لِیْ حُکْمًا وَأَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ

اے میرے رب! مجھے حکم (دانش اور فیصلہ کی صلاحیت) عطا فرما اور مجھے صالحین کے ساتھ ملا دے۔

سورۃ الشعراء (26)، آیت 83

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Hayatabad
Peshawar