الرحمن، الرحيم، الملك، القدوس، السلام، المؤمن، المهيمن، العزيز، الجبار، المتكبر، الخالق، البارئ، المصور، الغفار، القهار، الوهاب، الرزاق، الفتاح، العليم، القابض، الباسط، الخافض، الرافع، المعز، المذل، السميع، البصير، الحكم، العدل، اللطيف، الخبير، الحليم، العظيم، الغفور، الشكور، العلي، الكبير، الحفيظ، المقيت، الحسيب، الجليل، الكريم، الرقيب، المجيب، الواسع، الحكيم، الودود، المجيد، الباعث، الشهيد، الحق، الوكيل، القوي، المتين، الولي، الحميد، المحصي، المبدئ، المعيد، المحيي، المميت، الحي، القيوم، الواجد، الماجد، الواحد، الأحد، الصمد، القادر، المقتدر، المقدم، المؤخر، الأول، الآخر، الظاهر، الباطن، الوالي، المتعالي، البر، التواب، المنتقم، العفو، الرؤوف، مالك الملك، ذو الجلال والإكرام، المقسط، الجامع، الغني، المغني، المانع، الضار، النافع، النور، الهادي، البديع، الباقي، الوارث، الرشيد، الصبور۔
Pak History Hub
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pak History Hub, Education, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan, Peshawar.
18/07/2026
مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کا ایک جذبہ تھا، تو غیر مسلم طاقتیں اس جذبے سے فائدہ کیسے نہ اٹھاتیں؟ پھر اس دہشت گرد تنظیم یعنی ٹی ٹی پی کو ٹریننگ دی گئی، انہیں بڑے پیمانے پر اسلحہ دیا گیا اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
آپ مسلمان پولیس اور فوج کو کیوں مارتے اور شہید کرتے ہو، اور پھر اسلام کا نام لیتے ہو؟ پھر دوسرے مسلمانوں کا جہاد سے دل کیوں نہ اُٹھے؟ اور ہم اس طرح کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کا جو جذبہ تھا، اسے غلط استعمال اور دہشت گردی کی وجہ سے اس قدر بدنام کر دیا گیا کہ آج بہت سے مسلمان لفظ ’’جہاد‘‘ سے ہی خوف محسوس کرنے لگے ہیں۔
اگر جہاد مسلمانوں، پولیس، فوج، علماء اور بے گناہ لوگوں کو مارنے کا نام ہوتا، تو پھر اسلام اور دہشت گردی میں کیا فرق رہ جاتا؟
آج ہر مسلمان کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دہشت گردوں کے اس جال میں صرف ان کے ساتھ شامل ہونا ہی خطرناک نہیں، بلکہ ان کے پروپیگنڈے، ویڈیوز اور غلط نظریات بھی لوگوں کے ذہن خراب کرتے ہیں۔
اگر کوئی شخص اسلام اور جہاد کے نام پر تشدد اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل کی طرف لوگوں کو لے کر جائے، تو مسلمانوں کو بہت ہوشیار رہنا چاہیے۔ صرف اس لیے کسی کی بات پر یقین نہ کریں کہ وہ اسلام کا نام لیتا ہے، بلکہ اس کے عمل کو بھی دیکھیں کہ کیا وہ واقعی اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔
⚠️ احتیاط کریں! دہشت گردوں کے اس جال میں نہ پھنسیں۔ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ شامل ہو، ان کے لیے پروپیگنڈا کرے یا ان کی باتوں سے متاثر ہو، تو وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر سکتا ہے۔
اسلام مسلمانوں کو قتل کرنے کا نام نہیں ہے، اور جہاد کسی بھی مسلح گروہ کا ذاتی نام نہیں ہے۔
🇵🇰⛽ پاکستان کی آج کی بڑی خبر
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 05 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔
🔴 پٹرول: 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر
🔴 ڈیزل: 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر
نئی قیمتیں 18 جولائی 2026 سے نافذ کر دی گئی ہیں۔
📌 پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
#پاکستان #پٹرول #ڈیزل #مہنگائی
سبق آموز واقعہ
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی شخص یا گروہ نے اپنے ہی ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے، دہشت گردی کا ساتھ دیا یا بے گناہ لوگوں کو نقصان پہنچانے والوں کی مدد کی، تو آخرکار اس کے نتائج خود اسی کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔
کئی ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں شدت پسند گروہوں کا ساتھ دینے والے افراد نے یہ سمجھا کہ انہیں طاقت، دولت یا تحفظ ملے گا، مگر انجام میں نہ عزت ملی، نہ سکون، نہ اعتماد۔ بہت سے لوگ قانون کی گرفت میں آئے، کچھ اپنی ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے، اور ان کے خاندان بھی مشکلات کا شکار ہوئے۔
سبق یہ ہے کہ اپنے وطن سے وفاداری، قانون کی پابندی اور امن کا ساتھ دینا ہی عزت کا راستہ ہے۔ دہشت گردی یا اس کی کسی بھی قسم کی معاونت نہ صرف بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ آخرکار خود مدد کرنے والوں کے لیے بھی تباہی کا سبب بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، اور ہمیں ایسا کردار اپنانے کی توفیق دے جو معاشرے میں امن اور خیر کا باعث بنے۔ آمین۔
5 جولائی — پاکستان کی تاریخ کا ایک غمگین دن
5 جولائی 1977 کو پاکستان میں فوجی مارشل لا نافذ کیا گیا اور اُس وقت کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اس کے بعد آئین معطل کر دیا گیا، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگیں اور ملک کئی برس تک فوجی حکمرانی کے زیرِ اثر رہا۔
بہت سے مورخین اور سیاسی تجزیہ کار 5 جولائی کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک اہم اور افسوسناک موڑ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس دن کے بعد ملک کی سیاست، آئین اور جمہوری نظام پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
تاریخ کا مقصد نفرت پھیلانا نہیں بلکہ سبق حاصل کرنا ہے۔ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کے لیے قانون کی بالادستی، آئین کا احترام اور جمہوری اداروں کا استحکام ہمیشہ اہم رہیں گے۔
05/07/2026
کیپٹن (بعد از شہادت) کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر)
دورانِ کارگل جنگ، کیپٹن شیر خان نے انتہائی مشکل حالات میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ شدید گولہ باری اور دشمن کی برتری کے باوجود وہ اپنی اگلی چوکیوں پر موجود رہے، اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور کئی بار دشمن کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
5 جولائی 1999 کو لڑتے ہوئے انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی بے مثال جرات اور وطن کے لیے قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر بعد از شہادت عطا کیا گیا۔
کرنل شیر خان شہید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن سے محبت، فرض شناسی اور بہادری انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام شہداء پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ آمین۔
23/06/2026
پاکستان ہمارا ملک ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کہیں قانون کی خلاف ورزی ہو، قومی خزانے کو نقصان پہنچے، یا عوام کے حقوق پامال ہوں، تو پھر سوال اٹھنا چاہیے اور مکمل شفاف احتساب ہونا چاہیے۔
چاہے وہ کوئی بھی ہو —
سیاسی ہو یا غیر سیاسی،
فوجی ہو یا سول اداروں سے تعلق رکھتا ہو،
جج ہو یا کوئی اور طاقتور شخص —
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
ملک اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب انصاف سب پر یکساں لاگو ہو، اور کوئی بھی شخص اپنے عہدے یا طاقت کی وجہ سے قانون سے بالاتر نہ ہو۔
اصل مسئلہ افراد نہیں، بلکہ نظام کی کمزوریاں ہوتی ہیں، جنہیں درست کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
🤲
یا اللہ!
ہمارے ملک پاکستان کو ہر قسم کی کرپشن، ناانصافی، انتشار اور بددیانتی سے محفوظ فرما۔
اس ملک میں عدل و انصاف قائم فرما، اور ہمیں سچ بولنے، سچ پر چلنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین 🤲
Pak zinda abad pakistan pakistan
📜 آج کے دن — 22 جون 1941
22 جون 1941 کو دوسری جنگِ عظیم کا ایک انتہائی اہم اور حیران کن واقعہ پیش آیا۔ جرمنی کے آمر ایڈولف ہٹلر نے "آپریشن بارباروسا" کے نام سے سوویت یونین پر تاریخ کا سب سے بڑا زمینی حملہ شروع کیا۔
تقریباً 30 لاکھ جرمن فوجیوں نے ہزاروں ٹینکوں اور طیاروں کے ساتھ سوویت سرحد عبور کی۔ ابتدا میں جرمنی نے تیزی سے کامیابیاں حاصل کیں، لیکن روس کی سخت سردی، سوویت فوج کی مزاحمت اور طویل جنگ نے حالات بدل دیے۔
مورخین کے مطابق یہی فیصلہ بعد میں ہٹلر کی شکست کی ایک بڑی وجہ بنا اور دوسری جنگِ عظیم کا رخ بدل گیا۔
💡 دلچسپ حقیقت:
اس حملے میں اتنی بڑی فوج استعمال کی گئی تھی کہ اسے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے فوجی حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
#22جون
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Peshawar
25000 (PESHAWAR GENERAL AREA)