” وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ○
میرے نبی ﷺ کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا “
Muhammad Yasir Khan
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Yasir Khan, Educational Research Center, peshawar, Peshawar.
حضرت عثمان غنی رضیﷲ عنہ نے فرمایا جب سے میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اپنے دائیں ہاتھ پر بیعت کیا ہے تب سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ کو شرم گاہ سے نہیں لگایا ہے. ادب کی وجہ سے.
حضرت علامہ طاہر عابد صاحب.
لَقَدْجَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ
اس آیت کی تلاوت کے بعد آپﷺؐ نے ارشاد فرمایا
"کہ میں باعتبار حسب نسب کے تم سب سے افضل اور بہتر ہوں۔ میرے آباءواجداد میں حضرت آدمؑ سے لے کر اب تک کہیں زنا نہیں، سب نکاح ہے۔"
سیرۃالمصطفیﷺ جلد اول صفحہ ٨
صدقۃالفطر کی تعریف : صاحب نصاب مسلمان اپنے مال میں سے عیدالفطر کے دن اپنے آپ کو پاک وصاف کرنے کے لئے اور روزہ میں واقع ہونے والی کمی بیشی کے تلافی کے لئے جو دیتا ہے وہ صدقہ فطر کہلاتا ہے۔
صدقہ فطر اس تلافی کے لئے ہے جو کہ روزے میں کوئی خلل ) پڑ جاۓ ، جیسے فحش کلام ، یا بیکار باتیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نے ارشادفرمایا! فرض رسول الله صـلـى الـلـه عـلـيـه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغووالرفث وطعمة للمساكين»
(رواه ابوداؤد ) میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ الفطر کوفرض کیا ہے روزہ دار کو پاک کرنے کے لئے لغو باتیں کرنے سے ، بد کلامی سے ، اور مساکین کو کھانا مہیا کرنے کے لئے صدقۃ الفطر واجب ہے
صدقۃ الفطر کس پر واجب ہے؟
جس شخص کے اندرمندرجہ ذیل (۳) باتیں پائی جائیں اس پر صدقۃ الفطر واجب ہوگا
۱) مسلمان ہونا ؛ کافر پر صدقۃ الفطر واجب نہیں ہے ۔
(۲) آزاد ہونا ؛ غلام پر صدقۃ الفطر واجب نہیں ہے۔
(۳) مالک نصاب ہونا: اور (اس کا مال قرض سے فاضل ہو اور اس کی اصل ضرورت اور اہل وعیال کی ضروریات سے زیادہ (یعنی فاضل ) ہو۔
پس صدقۃ الفطر اس غیر مالک نصاب پر واجب نہیں ہے، جس کے پاس اپنی ضروریات سے زیادہ مال نہ ہو۔ مندرجہ ذیل (۵) چیزیں (اصلی ضرورت ) میں داخل ہیں ۔ ۔
(الف) مکان
(ب) گھر کا سامان۔
(ج) کپڑے۔
(د) اپنی سواریاں۔
(ہ) وہ آلات واوزار جن کے ذریعہ سے وہ اپنے کسب معاش ( روزی کمانے میں مدد لیتا ہو۔ صدقۃ الفطر کے وجوب کیلئے نصاب پر پورے سال کا گزرنا شرط نہیں ہے۔
صدقۃ الفطر کب واجب ہوتا ہے؟
صدقة الفطر عید کی صبح کے وقت واجب ہوتا ہے۔
۔ صدقۃ الفطر کو عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد بھی ادا کر دینا جائز ہے۔ لیکن اپنے گھر سے عید گاہ جانے سے پہلے اس کا ادا کرنا مستحب ہے ۔ جس نے صدقہ الفطر رمضان المبارک ہی میں ادا کر دیا تو یہ جائز ہے، بلکہ یہ زیادہ فضل واحسن ہے، کہ اس کے ذریعے سے محتاج وضرورت مند اپنے کپڑے وغیرہ تیار کر سکیں گے اور لازمی وضروری چیز میں ( جوعید کے لئے ہو تیار کر لیں گے اپنے لئے بھی اور اہل وعیال کے لئے بھی)
۔ عید کی نماز کے بعد اس کا ادا کرنا مکروہ ہے لیکن اگر کوئی عذر ہوتو تاخیر سے ادا کرنا مکروہ نہیں ہے۔
کس کے جانب سے صدقہ الفطر نکالا جاۓ گا ؟ صدقۃ الفطر کا نکالناواجب ہے۔
۱) اپنی طرف سے۔
(۲) اپنے چھوٹے غریب بچوں کی طرف ہے۔
جب بچے مالدار ہوں تو صدقہ الفطران کے مال میں سے نکالا جاۓ گا۔
شوہر پر اس کی اپنی بیوی کی طرف سے صدقۃ الفطر نکالناواجب نہیں ہے، ہاں اگر وہ اس کی طرف سے استحبابا نکال دے تو جائز ہے۔
اس طرح سے آدمی پر اس کی اپنی بالغ محتاج اور عقل مند اولاد کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر کا نکالنا واجب نہیں ہے، لیکن اگر وہ ان کی طرف سے استحبابا نکال دے تو جائز ہے۔ بہر حال بڑی اولاد جو کہ محتاج اور پاگل ہوں انکی طرف سے والد پر صدقہ فطر نکالنا
واجب ہے۔
19/04/2022
ایک کجھور سے روزہ رکھ کر میدان میں نکلنے والے 313 اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کو سلام!
یوم_بدر
17رمضان المبارک
I am from . A dedicated follower of PROPHET MOHAMMAD ﷺ, and I demand from Facebook and you Mark Zuckerberg to please block all the pages that are using blasphemous material about our beloved Prophet Muhammadﷺ.
I request everyone to put it as your status.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Culinary Team
Attire
Website
Address
Peshawar
Peshawar
25000