28/01/2026
Capital College of Pharmacy and Health Sciences Peshawar
WELCOME TO CAPITAL COLLEGE OF PHARMACY AND HEALTH SCIENCES PESHAWAR. ADMISSION OPEN IN SESSION 2025-26
We are offering Category-B Pharmacy Technician 02 Years Program, Affiliated with Pharmacy Council of Pakistan.
28/01/2026
26/01/2026
والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔
اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔
بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟
یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔
اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔
یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔
25/01/2026
Thank you everyone for trusting us.
22/01/2026
Last date to apply 24th January 2026.
07/01/2026
📘 سکول میں موبائل فون کے استعمال کی پالیسی: ضرورت، حدود اور نگرانی
تمہید: موبائل فون آج کے دور کی حقیقت ہے، نہ مکمل فائدہ ہے اور نہ مکمل نقصان۔ سکول میں علم بھی دے سکتا ہے، وقت ضائع کر سکتا ہے، نظم قائم رکھ سکتا ہے یا توڑ سکتا ہے۔ متوازن SOPs ضروری ہیں۔
موبائل کے فائدے: فوری تعلیمی مواد، ریسرچ/تیاری مدد، ایمرجنسی رابطہ، والدین/انتظامیہ سے رابطہ، آن لائن لرننگ ایپس
موبائل کے نقصانات: TikTok/Reels، سوشل میڈیا زیادتی، کلاس میں توجہ کی کمی، بچوں پر منفی مثال، اخلاقی/ذہنی بگاڑ، فیمیل ٹیچرز خطرات
بچوں پر اثرات: ڈسپلن کمزوری، سیکھنے میں عدم دلچسپی، نقالی، اسکرین ایڈکشن، استاد احترام میں کمی
بنیادی اصول: موبائل ضرورت کے لیے، تفریح نہیں، ڈیوٹی میں ذاتی استعمال محدود، کلاس میں ممنوع، Silent موڈ
ٹیچرز SOPs: کلاس میں جیب میں، تعلیمی مقصد، TikTok/Reels/Games ممنوع، سوشل میڈیا منع، ایمرجنسی میں پرنسپل اجازت
فیمیل ٹیچرز SOPs: اجنبی نمبر سے رابطہ منع، غیر ضروری چیٹنگ منع، ویڈیوز/تصاویر تبادلہ ممنوع، مشتبہ رابطے کی رپورٹ، موبائل حفاظت کے لیے
ایڈمنسٹریشن SOPs: آفس ٹائم محدود، کام دوران مسلسل منع، وزیٹر کے سامنے مصروف رہنا منع، پروفیشنل رویہ
اجتماعی سکول موبائل: Official Mobile، ایمرجنسی/ضرورت، ٹیچرز استعمال، کال/واٹس ایپ/ریسرچ، ریکارڈ اور نگرانی
ٹیبلٹ/تعلیمی ڈیوائس: مشترکہ Tablet، صرف تعلیمی Apps، انٹرنیٹ فلٹر، پاس ورڈ کنٹرول
سیکیورٹی و نگرانی: پالیسی تحریری، اسٹاف دستخط، خلاف ورزی وارننگ، بار بار خلاف ورزی پر ایکشن، کیمرہ مانیٹرنگ
شارٹ SOPs: موبائل Silent، کلاس میں ممنوع، TikTok/سوشل میڈیا منع، ایمرجنسی Official Mobile، فیمیل ٹیچرز احتیاط، بچوں کے سامنے مثالی کردار
حتمی خلاصہ: موبائل خود برا نہیں، غلط استعمال برا ہے۔ قانون، حدود اور نگرانی میں موبائل بچوں کو ڈسپلن اور شعور سکھاتا ہے۔
#علم
07/01/2026
سوال:
میں ایک اسکول کا پرنسپل ہوں، اپنے اساتذہ کو باقاعدگی سے تربیتی مواد فراہم کرتا ہوں اور ان سے پیشہ ورانہ گفتگو بھی کرتا ہوں، لیکن اب جب میں نے یہ طے کیا ہے کہ ان تربیتی مواد کے ساتھ ورکشاپس اور اسسمنٹ ٹیسٹس بھی ہوں گے تو کچھ اساتذہ صاف انکار کر رہے ہیں کہ وہ نہ ورکشاپس میں حصہ لیں گے اور نہ ٹیسٹس دیں گے، ایسے میں میں انہیں اس عمل کی اہمیت کیسے سمجھاؤں اور کس حکمتِ عملی سے انہیں رضامند کیا جائے کہ وہ دل سے اس میں شامل ہوں؟
جواب:
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اساتذہ کا انکار اکثر ضد یا بد نیتی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے خوف، عدمِ تحفظ، ماضی کے منفی تجربات یا اضافی دباؤ کا احساس چھپا ہوتا ہے، اس لیے عملی طور پر پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ آپ انہیں یہ یقین دلائیں کہ ورکشاپس اور اسسمنٹ ٹیسٹس سزا، نگرانی یا ناکامی پکڑنے کے لیے نہیں بلکہ سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔ جب استاد یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی عزت، تجربے اور خودداری محفوظ ہے تو اس کی مزاحمت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
دوسرا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس عمل کو حکم کے بجائے مقصد کے طور پر پیش کیا جائے، یعنی اساتذہ کو یہ واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ تربیت ان کے روزمرہ کلاس روم مسائل، بچوں کے رویّوں، نتائج کی بہتری اور ان کے اپنے اعتماد کے لیے ہے، نہ کہ صرف انتظامیہ کی فائل مکمل کرنے کے لیے۔ اگر آپ ہر ورکشاپ اور اسسمنٹ کو کسی حقیقی مسئلے سے جوڑ دیں، مثلاً کلاس مینجمنٹ، سٹوڈنٹ انگیجمنٹ یا والدین سے ڈیلنگ، تو اساتذہ کو اس کی افادیت خود محسوس ہونے لگتی ہے۔
تیسرا عملی حل یہ ہے کہ ابتدا میں اسسمنٹ کو کم دباؤ والا اور غیر رسمی رکھا جائے۔ اگر اساتذہ کو لگے کہ ٹیسٹ کا مطلب فیل یا پاس ہونا، سرزنش یا رپورٹ بننا ہے تو وہ لازماً انکار کریں گے، اس لیے شروع میں اسے self-assessment یا reflection activity کے طور پر متعارف کروائیں، جہاں نتائج خفیہ ہوں اور مقصد صرف یہ ہو کہ استاد خود اپنی بہتری کے پہلو پہچان سکے۔ جب خوف ختم ہوگا تو شمولیت خود بخود بڑھے گی۔
چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اساتذہ کو اس پورے عمل میں شراکت دار بنایا جائے، نہ کہ صرف تابع۔ ان سے پوچھا جائے کہ وہ کس قسم کی ورکشاپ چاہتے ہیں، کن موضوعات پر انہیں مدد درکار ہے اور کس انداز کی اسسمنٹ انہیں قابلِ قبول لگتی ہے۔ جب فیصلہ سازی میں اساتذہ شامل ہوتے ہیں تو وہ اس نظام کو اپنا سمجھتے ہیں اور مزاحمت کے بجائے تعاون کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
پانچواں اہم قدم یہ ہے کہ مثبت مثالیں قائم کی جائیں۔ چند رضاکار یا enthusiastic اساتذہ سے ابتدا کریں، ان کی شرکت، سیکھنے اور بہتری کو نمایاں کریں، اور ان کی عزت افزائی کریں۔ جب دوسرے اساتذہ دیکھیں گے کہ ورکشاپس میں حصہ لینے سے نہ صرف عزت کم نہیں ہوتی بلکہ پیشہ ورانہ مقام بڑھتا ہے تو وہ بھی آہستہ آہستہ شامل ہونے لگیں گے۔
آخر میں بطور پرنسپل یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ کا رویّہ سہارا دینے والا، سیکھنے والا اور رہنمائی پر مبنی ہو، نہ کہ کنٹرول کرنے والا۔ اگر اساتذہ یہ محسوس کریں کہ آپ ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے خوف کو سمجھتے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ ترقی چاہتے ہیں تو وہ مخالفت کے بجائے شمولیت کو ترجیح دیں گے۔ یاد رکھیں، تربیت زبردستی نہیں کروائی جاتی، اسے اعتماد، مقصد اور احترام کے ذریعے قابلِ قبول بنایا جاتا ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم
07/01/2026
تعلیم کے میدان میں AI کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال
میں یہ بات پورے شعور اور تعلیمی تجربے کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ ہم اس وقت تعلیم کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ میرا تعلق بھی براہِ راست تعلیمی میدان سے ہے، اور ایک عرصے سے دینی و تعلیمی نظام کے ساتھ وابستگی کے باعث میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ AI کو نہ تو اندھا اختیار کرنا درست ہے اور نہ ہی مکمل طور پر رد کرنا۔
آج مدارسِ دینیہ ہوں، اسکولز ہوں، کالجز یا جامعات—ہر جگہ سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں نئی سہولتیں شامل ہو رہی ہیں۔ AI بھی انہی سہولتوں میں سے ایک ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس کا استعمال اصول، توازن اور اخلاق کے ساتھ ہو۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ AI کسی صورت استاد کا متبادل نہیں بن سکتا۔ استاد وہ ہستی ہے جو علم کے ساتھ تربیت، فہم اور کردار بھی دیتا ہے۔ البتہ AI ایک ایسا معاون ذریعہ بن سکتا ہے جو طلبہ کو مشکل اسباق سمجھنے، تکرار کو بہتر بنانے اور مطالعہ کو منظم کرنے میں مدد دے۔
مدارس کے طلبہ، حفاظ، درسِ نظامی کے مختلف درجات میں زیرِ تعلیم طلبہ، اور جدید تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ اگر AI کو تحقیق، فہم اور تیاری کے لیے استعمال کریں تو یہ ان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن نقل، کاپی اور محنت سے بچنے کا ذریعہ بنانا علم کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اسی طرح اساتذہ کے لیے بھی AI تدریسی منصوبہ بندی، وضاحت اور مواد کی ترتیب میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، مگر فیصلہ، رہنمائی اور اصلاح ہمیشہ استاد ہی کے ہاتھ میں رہنی چاہیے۔
تعلیم کا مقصد صرف معلومات کا انبار لگانا نہیں، بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت ہے۔ اگر AI ہمیں اس مقصد کے قریب لے جائے تو یہ نعمت ہے، اور اگر ہمیں محنت، غور و فکر اور استاد سے دور کر دے تو یہی چیز نقصان بن جاتی ہے۔
ہمیں بطور تعلیمی نظام یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ
علم امانت ہے، اور اس امانت کے ہر ذریعے کا استعمال بھی امانت داری سے ہونا چاہیے۔
تحریر: مولانا خورشید
#تعلیم
07/01/2026
سوال:
ہم بچوں میں تخلیقی صلاحیت، خود اعتمادی اور مضبوط کردار کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟
جواب:
بچوں میں تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے سب سے پہلے انہیں محفوظ اور کھلا ماحول دینا ضروری ہے جہاں وہ غلطی کرنے سے نہ ڈریں، کیونکہ تخلیق وہیں جنم لیتی ہے جہاں سوال پوچھنے، نیا سوچنے اور مختلف طریقے آزمانے کی آزادی ہو، اس کے لیے والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کے سوالات کو ٹوکنے کے بجائے سنیں، ان کی رائے کو اہمیت دیں، کہانی سنانے، ڈرائنگ، ڈرامہ، مسئلہ حل کرنے والی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کے مسائل پر گفتگو کے مواقع فراہم کریں تاکہ بچے سوچنا سیکھیں، جب بچے محسوس کرتے ہیں کہ ان کے خیالات قابلِ قدر ہیں تو ان کی تخلیقی سوچ آہستہ آہستہ مضبوط ہو جاتی ہے۔
خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے بچوں کو چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کا موقع دینا بہت ضروری ہے، جیسے اپنے کام کا طریقہ منتخب کرنا، اپنی رائے کا اظہار کرنا یا اپنی غلطی کو خود درست کرنا، اس کے ساتھ ساتھ ان کی کوشش کو سراہا جائے نہ کہ صرف نتیجے کو، کیونکہ جب بچے یہ سیکھتے ہیں کہ کوشش قابلِ تعریف ہے تو وہ ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہوتے، والدین اور اساتذہ کا مثبت رویہ، حوصلہ افزا الفاظ اور غیر ضروری موازنہ سے پرہیز بچوں کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ وہ قابل ہیں اور بہتر کر سکتے ہیں، یہی یقین آگے چل کر مضبوط خود اعتمادی کی بنیاد بنتا ہے۔
مضبوط کردار کی تعمیر کا آغاز عملی مثال سے ہوتا ہے، کیونکہ بچے نصیحت کم اور عمل زیادہ سیکھتے ہیں، اس لیے سچائی، ذمہ داری، برداشت، احترام اور انصاف جیسے اوصاف روزمرہ رویے میں دکھانا ضروری ہے، بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ غلطی مان لینا کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے، وعدہ پورا کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنا مضبوط کردار کی علامت ہے، جب بچے دیکھتے ہیں کہ بڑوں کے الفاظ اور عمل میں ہم آہنگی ہے تو وہ بھی انہی اقدار کو اپنانے لگتے ہیں۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تخلیقی صلاحیت، خود اعتمادی اور مضبوط کردار ایک دن میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ مسلسل تربیت، محبت، اعتماد اور رہنمائی کا نتیجہ ہوتے ہیں، جب بچے کو سنا جائے، اس پر بھروسا کیا جائے اور اسے درست راستہ دکھایا جائے تو وہ نہ صرف بہتر سیکھنے والا بنتا ہے بلکہ ایک پُراعتماد، باکردار اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان بھی بن جاتا ہے، یہی وہ سرمایہ ہے جو بچوں کو زندگی کے ہر میدان میں کامیاب بناتا ہے۔
(منصور اختر غوری)
#تعلیم
07/01/2026
سوال:
بلوم ٹیکسونومی کے حوالے سے مزید بتائیں۔ کیا صرف Cognitive Domain ہی ہوتا ہے؟ باقی دو ڈومینز (Affective اور Psychomotor) کے لیول نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو ان کی بھی تفصیل بیان کریں۔
جواب:
بلوم ٹیکسونومی ایک تعلیمی فریم ورک ہے جو سیکھنے کے مقاصد اور سیکھنے کے عمل کو **درجہ وار لیولز** (Levels) میں تقسیم کرتا ہے تاکہ استاد بہتر طور پر سمجھ سکے کہ کون سا طالب علم صرف سادہ معلومات یاد کر رہا ہے، کون سمجھ رہا ہے، کون استعمال کر رہا ہے، تجزیہ، تنقید یا تخلیق کر رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کی سمجھ میں صرف Cognitive Domain آتا ہے کیونکہ تعلیمی نصاب میں اکثر یہی حصہ نمایاں ہوتا ہے، لیکن اصل میں بلوم نے تین بڑے ڈومینز (Domains) بیان کیے ہیں: Cognitive (علمی)، Affective (جذباتی/روانی) اور Psychomotor (عملی/حرکی)۔
بلوم کے Cognitive Domain کے لیولز وہی ہیں جن کا پہلے تفصیل سے ذکر ہوتا ہے:
1. Remembering – معلومات یاد کرنا
2. Understanding – سمجھنا
3. Applying – استعمال کرنا
4. Analyzing – تجزیہ کرنا
5. Evaluating – تنقید/جائزہ
6. Creating – نیا تخلیق کرنا
یہ وہ لیولز ہیں جنہیں عام طور پر نصاب، امتحانات اور درس و تدریس میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ علم کے بڑھتے ہوئے مراحل کو واضح کرتے ہیں۔
اب Affective Domain کی بات کرتے ہیں، جو بلوم نے Cognitive کے ساتھ ساتھ مرتب کیا۔ Affective Domain سیکھنے والے کے جذبات، رویّوں، اقدار، حوصلہ، دلچسپی اور اخلاقی فیصلوں سے متعلق ہے۔ اس میں بھی بلوم ٹیکسونومی کی طرح مختلف درجات (Levels) موجود ہیں، جو سادہ سے پیچیدہ جذباتی سیکھنے کو بیان کرتے ہیں:
1. Receiving (قبول کرنا) – سیکھنے کی ابتدائی سطح جہاں طالب علم توجہ دیتا ہے، سنتا ہے اور کھلے ذہن سے مواد قبول کرتا ہے۔ مثال: طالب علم خاموشی سے استاد کی بات سنتا ہے۔
2. Responding (جواب دینا/شرکت کرنا)** – طالب علم سیکھنے میں حصہ لیتا ہے، سوال پوچھتا ہے یا سرگرمی میں حصہ لیتا ہے۔ مثال: کلاس میں سوال کا جواب دینا۔
3. Valuing (قدر دینا) – طالب علم مضمون، طریقہ یا رویّے کو اہم سمجھتا ہے اور باقاعدگی سے اس کی پیروی کرتا ہے۔ مثال: مطالعہ کو اہمیت دینا اور روزانہ پڑھنے کا عادی ہونا۔
4. Organizing (منظم کرنا)** – مختلف اقدار اور خیالات کو اندرونی طور پر ترتیب دینا اور فیصلہ کرنا کہ کونسی بات زیادہ اہم ہے۔ مثال: حقائق کی روشنی میں اپنے خیالات ترتیب دینا اور دوستوں کو مثبت عمل کی ترغیب دینا۔
5. Characterizing (کردار بنانا) – سیکھا ہوا قدر یا رویّہ مستقل اور خودکار بن جاتا ہے، یعنی وہ طالب علم کا حصہ بن جاتا ہے۔ مثال: ایمانداری، احترام یا وقت کی پابندی جیسے اوصاف روزمرہ عمل میں شامل ہو جائیں۔
یہ مراحل جذباتی اور رویّہ جاتی سیکھنے کو واضح کرتے ہیں، اور یہ صرف جذبہ نہیں بلکہ استاد کی رہنمائی اور تربیت کے زیر اثر ترقی پاتے ہیں۔
تیسرا ڈومین Psychomotor Domain ہے، جو عملی اور جسمانی مہارتوں (Skills) جیسے لکھائی، ڈرائنگ، مشاہداتی تجربہ، لیبارٹری ورک، سائنٹیفک آلات کا استعمال وغیرہ سے متعلق ہے۔ Psychomotor Domain کے لیولز بھی مختلف ماہرین نے بیان کیے ہیں، سب سے عام درج ذیل ہیں:
1. Perception (ادراک – حواس کی مدد سے عمل کی شروعات، مثال: ہاتھ کو صحیح طریقے سے پکڑنا، آلہ جات کو دیکھ کر پہچاننا۔
2. Set (تیاری) – ابتدائی عمل کی تیاری، جسمانی اور ذہنی تیاری، مثال: قلم پکڑنے کی پوزیشن میں بیٹھنا۔
3. Guided Response (رہنمائی شدہ ردِعمل) – استاد کی ہدایت میں عمل کرنا، مثال: استاد کی رہنمائی میں کسی گیم یا مشق کو دہرانا۔
4. Mechanism (میکانزم) – عمل میں روانی آنا، مثال: قلم ٹھیک طرح سے اور صحیح سرعت سے چلانا۔
5. Complex Overt Response (پیچیدہ عمل بروئے کار لانا) – مختلف ردِعملوں کو یکجا کر کے زیادہ پیچیدہ صلاحیت کا استعمال، مثال: کسی تجربے کو خود مراحل میں انجام دینا۔
6. Adaptation (موافقت/ترمیم) – سیکھے ہوئے عمل کو مختلف حالات میں بہتر طریقے سے استعمال کرنا، مثال: مختلف قسم کے لیبارٹری آلات کو مؤثر طور پر استعمال کرنا۔
7. Origination (نئی حرکت / تخلیق) – ایسا عملی عمل بنانا جو پہلے سیکھے ہوئے اعمال پر مبنی ہو لیکن منفرد ہو، مثال: اپنی تحقیق یا تجرباتی طریقہ وضع کرنا۔
یوں بلوم ٹیکسونومی صرف Cognitive Domain تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک *جامع سیکھنے کا فریم ورک* ہے جس میں علمی، جذباتی/روانی اور عملی/حرکی پہلوؤں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، تاکہ بچے نہ صرف معلومات یاد کریں بلکہ اسے سمجھیں، استعمال کریں، جذباتی طور پر قدر دیں اور عملی طور پر بھی مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ یہ ٹیکسونومی تعلیمی منصوبہ بندی، تدریسی حکمت عملی اور اسیسمنٹ (assessment) کو زیادہ مؤثر، متوازن اور مقصدی بناتی ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم
05/01/2026
CAPITAL COLLEGE OF PHARMACY AND HEALTH SCIENCES AND
𝙂𝙚𝙩 𝙚𝙣𝙧𝙤𝙡𝙡𝙚𝙙 𝙞𝙣 𝙩𝙝𝙞𝙨 𝙝𝙞𝙜𝙝 𝙞𝙣-𝙙𝙚𝙢𝙖𝙣𝙙 𝙥𝙧𝙤𝙜𝙧𝙖𝙢 𝙛𝙤𝙧 𝙖 𝙥𝙧𝙤𝙢𝙞𝙨𝙞𝙣𝙜 𝙘𝙖𝙧𝙚𝙚𝙧!
𝐂𝐀𝐓𝐄𝐆𝐎𝐑𝐘-𝐁 𝐏𝐇𝐀𝐑𝐌𝐀𝐂𝐘 𝐓𝐄𝐂𝐇𝐍𝐈𝐂𝐈𝐀𝐍:
𝓓𝓾𝓻𝓪𝓽𝓲𝓸𝓷: 02 𝓨𝓮𝓪𝓻𝓼
Admissions open in Batch # 07, (ADMISSION IS FREE)
Session 2025-26
Last Date to Apply - 20th JAN 2026
𝐅𝐨𝐫 𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐢𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐟𝐞𝐞𝐥 𝐟𝐫𝐞𝐞 𝐭𝐨 𝐜𝐨𝐧𝐭𝐚𝐜𝐭 𝐮𝐬:
𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩: 𝟎𝟑𝟎𝟏𝟓𝟕𝟐𝟐𝟔𝟒𝟑
ᴅᴏɴ'ᴛ ᴡᴀɪᴛ Fᴏʀ ᴛᴏᴍᴏʀʀᴏᴡ.
ʙᴏᴏᴋ ʏᴏᴜʀ Sᴇᴀᴛ ᴛᴏᴅᴀʏ۔
Address: Budhni Pull Charsadda Road Peshawar
05/01/2026
Myth vs Fact: Does Milk Cause Mucus (Balgham / Resha) in Babies?
Myth ❌
Milk increases mucus, phlegm, or chest congestion in babies.
Facts ✅
• Scientific studies show milk does NOT increase mucus production in the nose or lungs.
• The feeling of “thickness” after milk is due to its natural texture, not extra mucus.
• Milk does not worsen cough, cold, asthma, or chest infection in most children.
• During flu or cold, milk is safe to continue if the baby is feeding well.
• Breast milk is protective, boosts immunity, and should never be stopped during illness.
• Cow’s milk allergy is rare and causes symptoms like rash, vomiting, diarrhea, or blood in stools — not simple mucus.
• Stopping milk unnecessarily may lead to poor nutrition and weak immunity.
When to be cautious ⚠️
• Only avoid milk if a true milk allergy or lactose intolerance is diagnosed by a doctor.
Bottom Line ✔️
Milk does NOT cause resha or balgham.
It is a nutritious and essential food for growing children.
References (Brief):
Nelson Textbook of Pediatrics (21st ed)
American Academy of Pediatrics (AAP)
British Medical Journal (BMJ) reviews
WHO Infant Feeding Guidelines
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 04:00 |
| Tuesday | 09:00 - 04:00 |
| Wednesday | 09:00 - 04:00 |
| Thursday | 09:00 - 04:00 |
| Friday | 09:00 - 04:00 |
| Saturday | 09:00 - 04:00 |
04/01/2026