29/01/2026
یہ صرف گاڑیوں کی لائن نہیں، یہ ایک محکوم طبقے کے صبر کی آخری حد ہے۔ سدگی چیک پوسٹ ہو یا کوئی اور راستہ—یہ رکاوٹیں محض سیکیورٹی اقدامات نہیں بلکہ ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی علامت ہیں جو طاقت کو عوام پر مسلط رکھتا ہے۔ ہر دو دن بعد کرفیو اور آسمان پر منڈلاتے ڈرونز اس بات کا اعلان ہیں کہ یہ نظام عوام پر اعتماد نہیں کرتا، بلکہ انہیں ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہے۔
مارکس نے کہا تھا کہ ریاست دراصل حاکم طبقے کا آلہ ہوتی ہے—اور یہاں وہ آلہ پوری بے رحمی سے کام کر رہا ہے۔ عام محنت کش، مزدور، طالب علم، بیمار اور عورت—سب اس مشینری کے نیچے پس رہے ہیں، جبکہ اقتدار میں بیٹھا طبقہ محفوظ، آرام دہ اور جواب دہی سے آزاد ہے۔ یہ “امن” نہیں، یہ طبقاتی جبر ہے؛ یہ “سیکیورٹی” نہیں، یہ نگرانی کی ریاست ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کرفیو کیوں ہے،
سوال یہ ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
ہر بار جواب ایک ہی ہوتا ہے: عوام۔
وہ عوام جو نہ فیصلے کرتے ہیں، نہ جنگیں چھیڑتے ہیں—مگر ہر بار قربانی انہی سے مانگی جاتی ہے۔
یہ نظام ہمیں یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ہماری محرومی ہماری تقدیر ہے، کہ ہماری قید ہماری حفاظت ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ بندوقوں سے خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے، رضامندی نہیں۔ جب راستے بند ہوں، روزگار رکے، زندگی معطل ہو—تو یہ ریاست عوام کے خلاف کھڑی ہو چکی ہوتی ہے۔
ہم ایک آزاد اور پُرسکون صبح مانگ رہے ہیں،
لیکن وہ صبح اس نظام کے اندر ممکن نہیں
جو عوام کو رعایا،
زمین کو چھاؤنی
اور اختلاف کو جرم سمجھتا ہو۔
نجات چیک پوسٹوں کے خاتمے سے نہیں،
بلکہ اس طبقاتی ڈھانچے کے خاتمے سے آئے گی
جو چند ہاتھوں میں طاقت سمیٹ کر
اکثریت کو خوف میں زندہ رکھتا ہے۔
یہ جدوجہد کسی ایک راستے کی نہیں،
یہ جدوجہد وقار، آزادی اور انسانی زندگی کی ہے—
اور تاریخ بتاتی ہے
کہ جب محکوم سوال پوچھنا سیکھ لے
تو جبر کا ہر نظام لرزنے لگتا ہے۔