25/11/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 13 ترجمہ اور تفسیر
And when it is said to them, "Believe as the people have believed," they say, "Should we believe as the foolish have believed?" Unquestionably, it is they who are the foolish, but they know [it] not.
:13
یعنی جس طرح تمہاری قوم کے دُوسرے لوگ سچائی اور خلوص کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی اگر اسلام قبول کرتے ہو تو ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے قبول کرو ۔
06/09/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 12
They are the mischief makers but they do not realize it.
13/08/2020
And when it is said to them, "Do not cause corruption on the earth," they say, "We are but reformers."
13/08/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 10 ترجمہ و تفسیر
In their hearts is disease, so Allah has increased their disease; and for them is a painful punishment because they [habitually] used to lie.
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :12
بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے ۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں ۔
(١٢) یہ وہی بات ہے جو پیچھے آیت نمبر ٧ میں کہی گئی تھی۔ یعنی شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑگئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھادیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔
11/08/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 9 ترجمہ و تفسیر
They [think to] deceive Allah and those who believe, but they deceive not except themselves and perceive [it] not.
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :11
یعنی وہ اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مُبتلا کر رہے ہیں کہ ان کی یہ منافقانہ روش ان کے لیے مفید ہوگی ، حالانکہ دراصل یہ ان کو دنیا میں بھی نقصان پہنچائے گی اور آخرت میں بھی ۔ دنیا میں ایک منافق چند روز کے لیے لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر ہمیشہ اس کا دھوکا نہیں چل سکتا ۔ آخر کار اس کی منافقت کا راز فاش ہو کر رہتا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں اس کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہتی ۔ رہی آخرت ، تو وہاں ایمان کا زبانی دعویٰ کوئی قیمت نہیں رکھتا اگر عمل اس کے خلاف ہو ۔
(١١) یعنی بظاہر تو وہ اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ؛ کیونکہ اس دھوکے کا انجام خود ان کے حق میں برا ہوگا، وہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے وہ کفر کے دنیوی انجام سے بچ گئے، حالانکہ آخرت میں ان کو جو عذاب ہوگا وہ دنیا کے عذاب سے زیادہ سنگین ہے۔
11/08/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 8 ترجمہ مع تفسیر
And of the people are some who say, "We believe in Allah and the Last Day," but they are not believers.
سورت کے شروع میں مومنوں کے اوصاف اور ان کا انجام خیر بیان فرمایا گیا، پھر ان لوگوں کا ذکر ہوا جو کھلے کافر ہیں، اب یہاں سے ایک تیسرے گروہ کا بیان ہورہا ہے جسے منافق کہا جاتا ہے یہ لوگ ظاہر میں تو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
27/07/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 7 ترجمہ و تفسیر
Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil. And for them is a great punishment.
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :10
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مُہر لگا دی تھی ، اس لیے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے ان بنیادی امور کو رد کر دیا جن کا ذکر اُوپر کیا گیا ہے ، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دُوسرا راستہ پسند کر لیا ، تو اللہ نے ان کے دِلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ۔ اس مُہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اس شخص کو ہوگا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو ۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کر دیتا ہے ، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی ، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے ، اور آپ کے طریقے کی خوبیوں کے لیے اس کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ، اور صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ فی الواقع اس کے دل پر مُہر لگی ہوئی ہے ۔
اس آیت میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی بڑی خطرناک چیز ہے، اگر کوئی شخص ناواقفیت یاغفلت وغیرہ کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کی اصلاح کی امید ہوسکتی ہے ؛ لیکن جو شخص غلطی پر اڑ جائے اور تہیہ کرلے کہ کسی بھی حالت میں بات نہیں ماننا ہے، تو اس کی ضد کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے جس کے بعد اس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس حالت سے محفوظ رکھے، لہذا اس پر شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر مہر لگادی تو معذور ہوگئے اس لئے کہ یہ مہر لگانا خود انہی کی ضد اور تہیہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ حق بات نہیں ماننی۔
27/07/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 6 ترجمہ و تفسیر
Indeed, those who disbelieve - it is all the same for them whether you warn them or do not warn them - they will not believe.
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :9
یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں ، جن کا ذکر اُوپر ہوا ہے ، پوری نہ کیں ، اور ان سب کو ، یا ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔
یہاں اُن کافروں کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ چاہے کتنے واضح اور روشن دلائل ان کے سامنے آجائیں، وہ کبھی آنحضرتﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اﷲ عنہما) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ’’’کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر پر اڑگئے ہیں۔ ’’ترجمے میں‘‘ کفر اپنا لیا ہے‘‘ کے الفاظ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔
’’ڈرانا‘‘ انذار کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کو بکثرت ’’ڈرانے‘‘ سے تعبیرفرمایا ہے۔ کیونکہ انبیائے کرام علیہم السلام لوگوں کو کفر اور بداعمالیوں کے بُرے انجام سے ڈراتے ہیں۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوا کہ آپ چاہے ان کو دعوت دیں یا نہ دیں، ان کے سامنے دلائل پیش کریں، یا نہ کریں، چونکہ انہوںنے تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی بات ماننی نہیں ہے، اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
27/07/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 5 ترجمہ
Those are upon [right] guidance from their Lord, and it is those who are the successful
26/07/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 4 ترجمہ و تفسیر
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :7
یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں ۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے ، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں ، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں ، مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں ، رہی اسی سر چشمے سے نکلی ہوئی دُوسری ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے انکار کردیں ۔ ایسے سب لوگوں کو الگ کر کے قرآن اپنا چشمہء فیض صرف ان لوگوں کے لیے کھولتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں ، اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ خدا کی یہ ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے ، اور پھر وہ کسی نسلی و قومی تعصّب میں بھی مُبتلا نہ ہوں بلکہ خالص حق کے پرستار ہوں ، اس لیے حق جہاں جہاں جس شکل میں بھی آیا ہے اس کے آگے سر جھکا دیں ۔
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :8
یہ چھٹی اور آخری شرط ہے ۔ ”آخرت“ ایک جامع لفظ ہے جس کا اطلاق بہت سے عقائد کے مجموعے پر ہوتا ہے ۔ اس میں حسبِ ذیل عقائد شامل ہیں:
( ۱ ) یہ کہ انسان اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اپنے تمام اعمال کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے ۔
( ۲ ) یہ کہ دنیا کا موجودہ نظام ابدی نہیں ہے بلکہ ایک وقت پر ، جسے صرف خدا ہی جانتا ہے ، اس کا خاتمہ ہوجا ئے گا ۔
( ۳ ) یہ کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد خدا ایک دُوسرا عالم بنائے گا اور اس میں پوری نوعِ انسانی کو جو ابتدا ئے آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی ، بیک وقت دوبارہ پیدا کرے گا ، اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا ، اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا ۔
( ٤ ) یہ کہ خدا کے اس فیصلے کی رُو سے جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ جنّت میں جائیں گے اور جو لوگ بد ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔
( ۵ ) یہ کہ کامیابی و ناکامی کا اصلی معیار موجودہ زندگی کی خوشحالی و بدحالی نہیں ہے ، بلکہ در حقیقت کامیاب انسان وہ ہے جو خدا کے آخری فیصلے میں کامیاب ٹھہرے ، اور ناکام وہ ہے جو وہاں ناکام ہو ۔
عقائد کے اس مجمو عے پر جن لوگوں کو یقین نہ ہو وہ قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ، کیونکہ ان باتوں کا انکار تو درکنار ، اگر کسی کے دل میں ان کی طرف سے شک اور تذبذب بھی ہو ، تو وہ اس راستہ پر نہیں چل سکتا جو انسانی زندگی کے لیے قرآن نے تجویز کیا ہے ۔
26/07/2020
سورۃ البقرہ آیت نمبر 3 معہ ترجمہ و تفسیر
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :4
یہ قرآن سے فائدہ اُٹھانے کے لیے دُوسری شرط ہے ۔ ”غیب“ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہِ راست عام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں ۔ مثلاً خدا کی ذات و صفات ، ملائکہ ، وحی ، جنّت ، دوزخ وغیرہ ۔ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا اور اس اعتماد پر ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے ، ایمان بالغیب ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ رہا وہ شخص جو ماننے کے لیے دیکھنے اور چکھنے اور سُونگھنے کی شرط لگائے ، اور جو کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا جو ناپی اور تولی نہ جا سکتی ہو تو وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پا سکتا ۔
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :5
یہ تیسری شرط ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف مان کر بیٹھ جانے والے ہوں وہ قرآن سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ۔ اس سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد فوراً ہی عملی اطاعت کے لیے آمادہ ہو جائے ۔ اور عملی اطاعت کی اوّلین علامت اور دائمی علامت نماز ہے ۔ ایمان لانے پر چند گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ مُوٴَذِّن نماز کے لیے پکارتا ہے اور اسی وقت فیصلہ ہو جاتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والا اطاعت کےلیے بھی تیار ہے یا نہیں ۔ پھر یہ مُوٴَذِّن روز پانچ وقت پکارتا رہتا ہے ، اور جب بھی انسان اس کی پکار پر لبّیک نہ کہے اسی وقت ظاہر ہو جاتا ہے کہ مدّعی ایمان اطاعت سے خارج ہو گیا ہے ۔ پس ترکِ نماز دراصل ترکِ اطاعت ہے ، اور ظاہر بات ہے کہ جو شخص کسی کی ہدایت پر کاربند ہونے کے لیے ہی تیار نہ ہو اس کے لیے ہدایت دینا اور نہ دینا یکساں ہے ۔
یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اقامتِ صلوٰۃ ایک جامع اصلاح ہے ۔ اس کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ آدمی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی طور پر نماز کا نظام باقاعدہ قائم کیا جائے ۔ اگر کسی بستی میں ایک ایک شخص انفرادی طور پر نماز کا پابند ہو ، لیکن جماعت کے ساتھ اس فرض کے ادا کرنے کا نظم نہ ہو تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں نماز قائم کی جا رہی ہے ۔
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :6
یہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے چوتھی شرط ہے کہ آدمی تنگ دل نہ ہو ، زر پرست نہ ہو ، اس کے مال میں خدا اور بندوں کے جو حقوق مقرر کیے جائیں اُنہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہو ، جس چیز پر ایمان لایا ہے اس کی خاطر مالی قربانی کرنے میں بھی دریغ نہ کرے ۔
25/07/2020
اسلام علیکم پیارے دوستوں ماشاء اللہ ھم قرآن کریم کے ترجمے اور تفسیر کی پبلشنگ کا کام شروع کیا ھوا ھے۔ آپ لوگ ھمارے اس کوشش میں ھمارا ساتھ دے اور خود قرآن کو سمجھنے والے بن جائے اور اپنے دوستوں سے بھی شئیر کریں۔ اللہ تعالیٰ ھم سب کو قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنے دوسرے بھائیوں تک پہنچانے کی ہمت عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین
بے شک اسلام ھی سچا دین ھے۔