26/01/2026
عنوان: جذبات کے غلام دوسروں کے کھیل کا اندھن۔۔۔
ہم پشتون کب سیکھے گا؟
قدرت اللّٰہ محسود
مرغوں کی لڑائی میں سب سے بڑی بیوقوفی یہ ہوتی ہے کہ لڑنے والے خود کو غیرت مند سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ دراصل کسی اور کے کھیل کا حصہ ہوتے ہیں۔ دو مرغے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، پوری جان لگا دیتے ہیں، خون بہتا ہے، پر نوچے جاتے ہیں، جسم زخمی ہوتا ہے، مگر انہیں یہ شعور نہیں ہوتا کہ نہ یہ جنگ ان کی اپنی ہے، نہ اس کا فائدہ ان کو ملنا ہے۔ اصل فائدہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو دائرے کے باہر کھڑے ہوکر شور مچاتے ہیں، شرطیں لگاتے ہیں، لطف لیتے ہیں۔ جب ایک مر جاتا ہے تو وہ افسوس نہیں کرتے، بس دوسرا لے آتے ہیں۔ یہی سب سے بڑا سبق ہے، اور یہی سب سے بڑی المیہ حقیقت ہے جو آج ہمارے معاشرے میں زندہ ہے۔
پشتون آج بھی غیرت، بہادری اور جذبات کے نام پر فوراً بھڑک اٹھتا ہے۔ کوئی ایک جملہ، ایک افواہ، ایک سیاسی نعرہ، ایک قبائلی مسئلہ، ایک ذاتی انا اور ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے ہم حق کی جنگ لڑ رہے ہیں، مگر ہم میں سے کتنے لوگ اصل حقیقت جاننے کی زحمت کرتے ہیں؟ کتنے لوگ سوچتے ہیں کہ اس لڑائی سے ہماری زمین، ہماری نسل، ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوگا یا مزید برباد؟ جذباتی ہونا آسان ہے، استعمال ہونا اس سے بھی آسان، مگر سوچنا مشکل ہے اور ہم نے یہی مشکل کام چھوڑ دیا ہے۔
مرغوں کی لڑائی میں ایک اور بات ہوتی ہے: مرغے خود فیصلہ نہیں کرتے، انہیں اٹھا کر میدان میں ڈالا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمیں بھی مختلف نعروں، نفرت انگیز باتوں، جھوٹی غیرت، اور ادھوری خبروں کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ، کسی لیڈر کا ایک بیان، کسی گروہ کی ایک اشتعال انگیزی اور ہم بغیر تحقیق، بغیر سوچ، ایک دوسرے کو دشمن بنا لیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اصل طاقتور لوگ کبھی خود میدان میں نہیں اترتے، ان کے بچے محفوظ ہوتے ہیں، ان کے گھر آباد ہوتے ہیں، اور مرنے والے ہمیشہ غریب کے بیٹے ہوتے ہیں۔
سب سے خطرناک کردار صرف لڑنے والے کا نہیں بلکہ لڑوانے والے کا ہے، اور افسوس کہ یہ کردار بھی اکثر ہم میں سے ہی کوئی ادا کر رہا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی وقتی شہرت، سیاسی فائدے، ذاتی دشمنی یا کسی طاقتور کی خوشنودی کے لیے نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آگ لگے گی تو گھر جلیں گے، مگر انہیں فرق نہیں پڑتا کہ و
30/12/2025
دور جدید اس ٹیکنالوجی کے دور میں سب سے مضبوط اور حطرناک ہتھیار پروپیگنڈا ہے جو کئی مومنٹس اور لوگوں کے حلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔
پشتون تحفظ مومنٹ اور منظور احمد پشتون کے حلاف ریاست نے تمام حدود کراس کرکے لاسٹ آپشن پروپیگنڈا کو لانچ کیا ۔
پشتون تحفظ مومنٹ اور منظور احمد پشتون کے ورکرز کو جیلوں میں بند کیے اغوا کیے پورت شیڈول میں ڈال دیے یہاں تک کے کئی نوجوان کو شہید کردیے گئے مگر منظور پشتون پیچھے نہیں ہٹا
ریاست نے ابھی لاسٹ آپشن پروپیگنڈا کو لانچ کیا جس میں ہزاروں صحافی ٫سیاسسی پولیٹیشنز ٫غلماء کرام ٫ملکان٫ اور یوٹوبرز ہے ۔
مگر یاد رکھیں کہ حق سچ اور مظلوموں کے آوازوں کو کوئی حاموش نہیں کر سکتے ہیں
25/10/2025
ګران او مهربان مشر منظور پښتین ته دې د زېږېدو ۳۱مه کلیزه نېکمرغه وي.
مشره لوی رب دې له هر ډول کړاوونو او ستونزو په امان لره او ستا په شتون کې دې خدای محکومه خاوره د ازادۍ تر اختره ورسوي.
Manzoor Ahmad Pashteen
06/10/2025
لا دې نه ګرځي رقیب سینه ایستلی
لا یې زیار پرېوتی نه دی له ځوابه
زیار صیب
20/04/2025
مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گُھورنا شروع کردیتے ہیں۔۔
جیسے ہی کوئی بھیڑیا بُھوک سے نِڈھال ہو کر گِرتا ہے تو باقی سب مِل کر اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اُس کو کھا جاتے ہیں، اِس عمل کو فارسی میں ’’گُرگِ آشتی‘‘ کہتے ہیں۔۔۔۔
اِس عمل کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ رُجحان بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ کافی حد تک ہو بہو انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔۔
ہم انسان بھی ان بھیڑیوں کی طرح ہیں، جو کمزور نظر آۓ اسی پر اپنی دھاگ بٹھاتے ہیں۔۔۔ جو جتنا حالات کا ستایا ہوتا ہے اتنا ہی مزید اس کے ساتھ شدت پسندانہ رویہ اپناتے ہیں۔۔۔
جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے اسی کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کرکے اس کی رہی سہی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔۔۔
ہم کمزور کا سہارا بننے کے بجاۓ، الٹا مزید اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔ جو جتنا کمزور ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے زندگی دشوار بنا دیتے ہیں۔۔۔۔
14/04/2025
کرک میں قدرتی گیس کے پریشر کو چیک کئے جانے کے بعد دیکھا گیا ہے کہ گیس کا پریشر بنوں، کرک، کوہاٹ، ہنگو، اور پشاور تک کا مجموعی فاصلہ 100 کلومیٹر سے بھی کم ہے، جبکہ پنجاب کرک سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پنجاب میں گیس کا پریشر کم نہیں ہوتا اور خیبر پختونخواہ میں گیس کا پریشر کبھی بڑھتا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت میں گیس کی سپلائی موجود نہیں، حالانکہ یہ علاقے صرف 150 سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ خیبر پختونخواہ سے 8 گیس پائپ لائنز (36 انچ) پنجاب کو فراہم کی جا رہی ہیں، اور پنجاب کی تمام فیکٹریاں خیبر پختونخواہ کی فراہم کردہ گیس سے چل رہی ہیں، لیکن ہمارے یہاں گھروں میں کم گیس پریشر کی وجہ سے چولہا بھی نہیں جلتا جس کی وجہ سے مقامی لوگ پیسوں سے گیس خریدتے ہیں اور ہمارے ماں بہنیں بازاروں میں بھیک مانگنے ہیں اور چھوٹے بچے چپل ،جوتے پالش کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۰
02/02/2025
د جيل خاني بنديان به راشي
خاوري ته تللي ياران بيا کله رازينه
ارمان شہید
🖤
27/11/2024
پشتنو زمونږ دشمن يو دي خو مونږ ورته په وشلو لارو وېشلي یو
02/11/2024
بہترین تبلیغ طاقتور ظالم کو ظلم سے باز آنے کی دعوت دینا ہے مظلوم کو ظالم کے ظلم سے نجات دلانے کےلئے جدوجہد کرنا ہے۔
20/10/2024
جنگل میں قانون نہیں ہوتا، بادشاہ کی خواہشات ہوتی ہیں
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
پاکستان
😭
20/10/2024
قومی جرگہ کے اعلان کے مطابق آج خیبر پختونخوا کے تیس اضلاع میں امن مارچ منعقد ہوا، جس میں قومی مشران، سیاسی و سماجی شخصیات، علماء کرام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے پشتون قومی جرگہ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اس کو پشتونوں کے حقوق کے لیے بہتر اقدام قرار دیا