The Knowledge' افتخارحسینخان

The Knowledge' افتخارحسینخان

Share

"The economy needs knowledge,politics need wisdom,nations need to learn....
All of that can be found in books."

17/04/2026

جرأت و قربانی کی داستان:
قیامِ پاکستان میں میرے خاندان کا کردار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی آزادی کی داستان صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ یہ اُن بے شمار خاندانوں اور افراد کی قربانیوں سے عبارت ہے جنہوں نے ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت کی۔ انہی بہادر لوگوں میں میرے خاندان کا نام بھی شامل ہے، جسکی قیادت میرے محترم چچا محمد عمر خان المعروف گل بابا نے کی۔اُنکی ثابت قدمی اور آزادی سے محبت ہماری خاندانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں ایک قابلِ فخر حصہ بھی۔
برطانوی راج کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کے دوران،جب خوف اور غیریقینی کی فضا ہر طرف چھائی ہوئی تھی، میرے چچا ایک جری اور نڈر رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے، انہوں نے حق کا ساتھ دینے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے دل میں اپنی قوم کے لیے بے پناہ محبت اور آزادی کی تڑپ تھی۔
"گرفتاری پیش کرنا"(نیچے تصویر میں عیاں ہے)اُس دور میں محض ایک علامتی قدم نہیں تھا بلکہ یہ ایک جراتمندانہ اعلانِ بغاوت تھا۔
میرے چچا اور میرے خاندان کے دیگر افراد نے اپنی مرضی سے برطانوی حکام کے سامنے خود کو پیش کیا، حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ اس کے نتیجے میں قید، جسمانی اذیت اور اپنے پیاروں سے جدائی جیسے کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر ان کے نزدیک آزادی ایک ایسی نعمت تھی جس کے لیے ہر قربانی قبول تھی۔
گل بابا کی قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ نہ صرف خود بہادر تھے بلکہ دوسروں کو بھی حوصلہ دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان میں اتحاد، قربانی اور مقصدیت کا جذبہ پیدا کیا۔ ان کے زیرِ سایہ مزاحمت ایک اجتماعی فریضہ بن گئی۔ ایک آزاد وطن کا خواب ان کے لیے محض تصور نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت تھا، جس کے حصول کے لیے وہ ہر آزمائش سے گزرنے کو تیار تھے۔
یہ جدوجہد بالآخر 1947 میں پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔ اگرچہ تاریخ میں بڑے رہنماؤں کا ذکر نمایاں ہوتا ہے، لیکن اصل بنیاد اُن گمنام ہیروز کی قربانیوں پر رکھی گئی ہے جنہوں نے خاموشی سے اپنا کردار ادا کیا۔ میرے چچا محمد عمر خان (گل بابا) بھی انہی عظیم لوگوں میں شامل تھے، جن کی قربانیوں نے آنے والی نسلوں کو آزادی کی نعمت عطا کی۔
آج جب میں اس ورثے پر نظر ڈالتا ہوں تو فخر اور شکرگزاری کے جذبات دل میں موجزن ہو جاتے ہیں۔ گل بابا کی بہادری صرف ایک خاندانی یادگار نہیں بلکہ ایک اخلاقی ورثہ ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آزادی قربانی، حوصلے اور حق پر ثابت قدمی کا تقاضا کرتی ہے۔
ان کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم ہمیشہ سچائی، اتحاد اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہیں، اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی آزادی اور وقار کی حفاظت کریں۔ یہی اُن عظیم قربانیوں کا حقیقی احترام ہے۔

Photos from ‎The Knowledge' افتخارحسینخان‎'s post 10/04/2026
10/04/2026
19/03/2026

چې د خپل زړګي ته ګورم د یارانو په محفل کې
لکه کور د چا کنډر وي په اباده ابادۍ کې
زه خندا د خلکو وینم، خو خپل حال ته چې راشم
اوښکې پټې پټې تویې کړم د زړګي په تنهایۍ کې
هر یو خپل رنګ کې مست دی، هر یو خپل خوبونه لري
زه لا بند یم د پرون د یادونو په بندګۍ کې
چا ته ښکارم لکه خوشحال، بې غمه او بې پروا
خو توپان مې دی راګیر د زړه په ژورې خاموشۍ کې
چې مې نوم د چا په شونډو شي، زه موسکی شم خاموشه
زما درد څوک نه ویني د دې خندا په نندارې کې
یاران ناست وي، خو فاصلې وي تر اسمانه پورې
څوک پوهېږي زما حال په دې ډکه محفلۍ کې؟
زړه مې داسې یتیم شوی، لکه ورک ماشوم په ښار کې
نه یې څوک پوښتنه وکړي په دې ستړې زندګۍ کې

07/03/2026

پشاور ویلی ریلوے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ حکومتِ خیبرپختونخوا نے وفاقی تعاون سے وادی پشاور میں "پشاور ویلی ریلوے" کے نام سے مضافاتی ریلوے سروس کے آغاز کا منصوبہ بنایا ہے۔ Government of Khyber Pakhtunkhwa اور Pakistan Railways کے اشتراک سے اس منصوبے پر پیشگی فزیبلٹی اور عملی اقدامات کا آغاز اس بات کی علامت ہے کہ ماضی کے قیمتی قومی اثاثوں کو دوبارہ فعال بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔
پشاور، نوشہرہ، جہانگیرہ، مردان، چارسدہ، درگئی، جمرود اور کوہاٹ جیسے علاقوں کو ریل کے ذریعے باہم جوڑنا نہ صرف سفری سہولتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی زندگی دے گا۔ ایک وقت تھا جب یہ ریلوے لائنیں عوامی آمدورفت اور تجارت کا اہم ذریعہ تھیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سہولتیں کمزور یا غیر فعال ہو گئیں۔ اب ان کی بحالی درحقیقت ایک قیمتی قومی ورثے کی بحالی کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ یقیناً ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے لاکھوں مسافروں—خصوصاً طلبہ، خواتین اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد—کو محفوظ، سستی اور قابلِ اعتماد سفری سہولت میسر آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور ماحولیاتی بہتری بھی ممکن ہوگی۔
بلاشبہ یہ ایک قابلِ تحسین اور دوراندیش منصوبہ ہے جس کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے صرف اعلانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سنجیدگی، تسلسل اور عزم کے ساتھ ہر قیمت پر عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ یہ خواب جلد حقیقت بن سکے اور خطۂ پشاور ایک بار پھر ریلوے کی اس تاریخی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔

31/01/2026


Day and night view of the Royal Clock Tower💫💚🥹

31/01/2026

💫💫💫💫💫🌙💫🌙🌙🤲🕋







Day and night view of the royal clock tower

31/01/2026

😘










Day and night view of the Royal clock Tower 🙌

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

University Of Peshawar
Peshawar