University Of Peshawar Department Of Geography

University Of Peshawar Department Of Geography

Share

The Group is Belonged to the Updates of Peshawar University Accadmic Session. Department Of Geograph

06/07/2025

شاہ مرداں، شیر یزداں، قوت پروردگار
لا فتح الا علی لا فتح الذلفقار

صوابی کے حیدر کیپٹین کرنل شیر خان کی کہانی

جون 1999 کی رات 10:30 بجے، بھارتی انفنٹری نے 800 سپاہیوں کے ساتھ حملہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ کیپٹن شیر خان اور ان کے 21 ساتھیوں کی تعیناتی والے ہدف کو فضائی حملوں سے مکمل طور پر کمزور کر دیا گیا ہے۔

لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب شیر خان کے جوانوں نے بھارتی افواج کی ایک کے بعد ایک یلغار کو پسپا کر دیا۔

شیر خان نے اپنی بقیہ نفری کے ساتھ پیچھے ہٹنے کے بجائے، کمک کی درخواست کی، اپنے جوانوں کو دوبارہ منظم کیا اور جو علاقہ ہاتھ سے نکل چکا تھا، اُسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جوابی حملہ کیا۔
علاقہ دوبارہ حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ اپنے جوانوں کو اس قدر مؤثر طریقے سے تعینات کیا کہ بھارتی فوج کے ایک انٹرسیپٹ شدہ پیغام میں اپنے انٹیلی جنس پر لعنت بھیجی جا رہی تھی، کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہاں صرف چند سپاہی ہیں، جبکہ حقیقت میں لگتا تھا جیسے ایک پوری کمپنی تعینات ہے۔

اپنی شہادت کے دن، شیر کے کمانڈنگ آفیسر نے اطلاع دی کہ آٹھ سکھ رجمنٹ کے ساٹھ سے ستر بھارتی فوجی ان کی پوسٹ اور ایک اور پوسٹ کے درمیان پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔

شیر خان کو دشمن کی فارمیشن اپ پوزیشن (FUP) توڑنی تھی۔

انہوں نے اپنے کچھ سپاہیوں کے ساتھ دشمن پر ایسی بجلی کی طرح حملہ کیا کہ بھارتی فوجی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔

شیر نے پسپا ہونے والے بھارتی فوجیوں کا تعاقب کیا اور ان کے بیس کیمپ تک جا پہنچے، جہاں وہ بھارتی فوجیوں سے گھِر گئے۔ ایک بھارتی فوجی نے شیر خان کو کہا کہ تم چاروں طرف سے گھِر چکے ہو، ہتھیار ڈال دو۔

شیر خان نے فوراً انکار کیا اور جواب دیا کہ ایک مسلمان کی غیرت ہتھیار ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی۔

انہوں نے فوراً اس سپاہی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور باقی فوجیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ شیر خان نے چاروں طرف سے گولیاں کھا کر جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ دن تھا 5 جولائی 1999۔
بھارتی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر شیر خان کی شجاعت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے حکم دیا کہ ان کی لاش کو واپس لایا جائے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ یہ کیسا سپاہی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی میت بھارتی حدود میں پہنچی۔

14/06/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Peshawar