25/08/2026
واہ رے غریب کی زندگی، واہ رے اشرافیہ کی سہولت! بجلی — عوام کے لیے بل دیکھ کر پسینہ، گیس — عوام کے لیے مہنگی،
پیٹرول — عوام کے لیے جیب خالی،
گاڑی — عوام کے لیے خواب،
گھر — عوام کے لیے عمر بھر کی قسطیں،
علاج — عوام کے لیے بیماری سے بڑا خرچہ،
سفر — عوام کے لیے ٹکٹ مہنگا، مراعات یافتہ کے لیے سہولتیں!عوام سے کہا جاتا ہے: قربانی دو، ٹیکس دو، صبر کرو!
اور مراعات یافتہ طبقے سے شاید کہا جاتا ہے:
"جناب! آپ تشریف رکھیں، سہولت کا انتظام ہم کرتے ہیں۔" غریب بجلی کا بل دیکھ کر پنکھا بند کرتا ہے،مزدور پیٹرول کی قیمت دیکھ کر سفر کم کرتا ہے،مریض علاج کا خرچہ دیکھ کر بیماری برداشت کرتا ہے…اور پھر بھی عوام سے سوال:"ملک کے لیے قربانی کون دے گا؟"
جناب!عوام تو برسوں سے دے رہی ہے…
کبھی بل کی صورت میں، کبھی ٹیکس کی صورت میں، اور کبھی اپنی خواہشات قربان کرکے!پھر بھی امید اللہ سے ہے۔
رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مگر انصاف اور مساوات قائم کرنا انسانوں کی ذمہ داری ہے۔
ڈسکلیمر: یہ عوامی مسائل اور معاشی صورتحال پر طنزیہ عمومی تبصرہ ہے۔ کسی مخصوص فرد یا ادارے پر الزام مقصود نہیں۔