قاری ایوب برمی نے 1990 سے 1997 تک مسجد نبوی میں امامت کے فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں کچھ عرصے کے وقفے کے بعد، رمضان 1436ھ میں دوبارہ امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی تلاوت قرآن کریم میں خشوع، تجوید اور صوتی حسن کی وجہ سے دنیا بھر میں سنی جاتی ہے۔
قاری ایوب برمی کا انتقال 2016 میں ہوا، اور انہیں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی تلاوتیں آج بھی دلوں کو سکون بخشتی ہیں اور قرآن کریم سے محبت کرنے والوں کے لیے روحانی غذا کا ذریعہ ہیں۔
ان کی تلاوتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے، آپ درج ذیل ویڈیو ملاحظہ کر سکتے ہیں:
#قاریایوببرمی
#تلاوتقرآن
#قرآنکریم
#شیخایوببرمی
#قاریایوببرمی
#تلاوتقرآن
#قرآنکریم
#شیخایوببرمی
Al Quran TV
القرآن ٹی وی آپ کے ساتھ ہر قدم پر!" ❤️
قـــــرآن کـی روشنی ہــــر دل تـــــــک!" 🩷
مفتی تقی عثمانی مدظلہم العالی عالمِ اسلام کے جلیل القدر فقیہ، محدث، اور مفتی ہیں۔ آپ دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست ہیں۔ اسلامی علوم میں گہرے علم کے ساتھ ساتھ عصری موضوعات پر بھی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اور دنیا بھر میں آپ کی تحریریں اور فتاویٰ قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اشعار سنئے اور آگے بھی شیئر کریں شکریہ 💖
دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے تحت ہونی چاہیے یا وزارت تعلیم کے ساتھ ہو
اس حوالے سے جاری بحث میں چند اصولی باتیں یہ ہیں
(1) قیام پاکستان کے وقت ہی سے دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے تحت ہوتی رہی ہے
اور سوسائٹی ایکٹ کے تحت جن قواعد و ضوابط کی پاسداری ضروری تھی وہ دینی مدارس پوری کرتے رہے ہیں
اور کبھی اس حوالے سے مسائل پیدا نہیں ہوئے
(2) جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں سوسائٹیز ایکٹ کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کی گئی
اور دینی مدارس کے معاملات دھاندلی کرتے ہوئے سیکیورٹی ایشوز سے نتھی کرکے انھیں وزارت داخلہ سے منسلک کردیا گیااور ایک طویل زمانہ دینی مدارس کو وزارت داخلہ ڈیل کرتا رہا
(3) بعد کے ادوار میں اور خاص طور پرعمران خان کے دور حکومت میں کافی لمبے چوڑے مذاکرات کے بعد اس چیز پر اصولی اتفاق ہوگیا تھا کہ دینی مدارس کے معاملات کو وزارت تعلیم سے منسلک کیا جائے گا
لیکن اس کی جزئیات اور تفصیلات وزارت تعلیم اور اتحاد تنظیمات کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی اتفاق رائے سے طے کرے گی
اور ان تفصیلات کے بعد مدارس انفرادی حیثیت میں یا اپنے وفاقوں کے تحت اجتماعی طور پر وزارت تعلیم سے منسلک ہو جائیں گئے
(4)لیکن حکومت نے اس معاملے میں بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت عجلت میں محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے وزارت تعلیم کے تحت ڈی جی آر ای ( ڈرائکٹریٹ جنرل ریلیجئس ایجوکیشن) کے نام سے شعبہ قائم کردیا اور اس کا سربراہ ایک ریٹائرڈ جنرل غلام قمر کو بنادیا
اور تفصیلات طے کئیے بغیر اس شعبے نے دینی مدارس کو براہ راست دعوت دینا شروع کردی کہ وہ ان سے منسلک ہو جائیں اور اسی عرصے میں دینی مدارس کے اتحاد اور اجتماعیت میں دراڑ ڈالتے ہوئے دیگر سرکاری بورڈز بھی قائم کردئیے گئے
(5)وزارت تعلیم کے تحت قائم اس شعبے کو کسی قانون کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہے اور یہ صرف ایک نوٹیفکیشن کے سہارے کھڑا ہے
اور اس کا مقصددینی مدارس کی آزادی و خود مختاری سلب کرکے ان کے گرد شکنجہ کسنا اور انہیں بے دست و پا بنانا ہے اور ایجنسیوں کی دینی مدارس کے نظام میں قانونی طور پر مداخلت کا دروازہ کھولنا اور ان اداروں کی جاسوسی کرنا ہے اور اسی وجہ سے اس کا نگران بھی ریٹائرڈ جنرل کو لگایا گیا ہے
(6)اس شعبے کے قائم ہونے کے بعد فوری طور پر اسلام آباد میں وقف ایکٹ 2020 کو بھی نافذ کردیا گیا
جو دینی مدارس کے گرد ریاست کا آہنی شکنجہ مزید کسنے اور اس کی آزادی اور حریت کا گلا گھونٹنے کا ایک مضبوط وار تھا
اور وہ تلوار ابھی بھی دینی مدارس، مساجد اور خانقاہوں کے سر پر لٹک رہی ہے
(7)ڈی جی آر ای نے ملک بھر میں بہت سارے اداروں میں پھوٹ ڈالنے اور فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئیے متوازی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی شروع کردیا تھاجس کی ایک بڑی مثال جامعہ انوار العلوم گوجرنوالہ تھاجہاں اصل انتظامیہ کے برعکس جعلی انتظامیہ نے ڈی جی آر ای میں خفیہ طریقے سے الحاق کروا کر سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا اوراس بنیاد پر گوجرنوالہ کے اس عظیم ادارے میں فتنہ برپا کردیا-ڈی جی آر ای کے اس معاملے کے خلاف بھر پور مہم چلائی گئی اور تقریبا ایک سال متعلقہ محکموں میں کیس لڑا گیا اور اس کے بعد وہ جعلی رجسٹریشن کینسل ہوئی
(8)آج جو یہ دعویٰ بعض حضرات کی جانب سے کیا جارہا ہے کہ ڈی جی آر ای کے ساتھ اٹھارہ ہزار مدارس کا الحاق ہوچکا ہے اور بائیس لاکھ طلباء اس سے منسلک ہیں یہ قطعی طور پر جھوٹا دعویٰ ہے-ڈی جی آر ای کبھی ان منسلک مدارس کی تفصیلات سامنے نہیں لاتا اور یہ سارے مدارس محض کاغذی ہیں-سوائے چند کے جو اپنا حقیقی وجود رکھتے ہیں
(9)چھبیسویں ترمیم کے ساتھ سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم کرکے جس قانون کو دونوں ایوانوں نے منظور کرلیا تھاوہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک بہت اعلی قدم تھا
لیکن اس قانون کو صدر پاکستان نے دستخط کئیے بغیر اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا ہے
اور سرکاری بورڈوں کے ذمہ داران کو جنرل غلام قمر کی ایماء پر اس ڈیوٹی پر لگا دیا ہے کہ وہ سوسائٹی ایکٹ کے نقصانات اور وزارت تعلیم سے منسلک ہونے کے فوائد گنوائیں
(10)آخری بات یہ ہے کہ دینی مدارس کے لئیے رجسٹریشن کروانا زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے-دینی تعلیم کے تحفظ کے لئیے وہ پہلے بھی ریاستی سرپرستی کے بغیر بلکہ ریاستی رکاوٹوں کے باوجود اس فریضے کو احسن انداز میں ادا کررہے ہیں-اور رجسٹریشن ہو یا نہ ہو اس کے باوجود بھی ادا کرتے رہیں گے-رجسٹریشن کے اس قانون میں رکاوٹ ڈال کر خود حکومت اس دروازے کو بند کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
سورہ یاسین کی فضیلت
سورہ یاسین قرآن مجید کی 36ویں سورہ ہے، جسے "قلب القرآن" یعنی قرآن کا دل کہا جاتا ہے۔ یہ سورہ مکی ہے اور اس میں 83 آیات ہیں۔ سورہ یاسین کی تلاوت کی بے شمار فضیلتیں ہیں، اور یہ ایمان والوں کے دلوں کو تقویت دیتی ہے، ان کے روحانی مسائل کا حل فراہم کرتی ہے اور آخرت کی یاد دہانی کرواتی ہے۔
قرآن کی روشنی میں فضیلت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورہ یاسین ہے۔ جو شخص سورہ یاسین کو پڑھتا ہے، اللہ اس کے لیے اس کے پڑھنے کا اجر دس مرتبہ قرآن ختم کرنے کے برابر لکھ دیتا ہے۔"
(ترمذی)
یہ حدیث اس سورہ کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور یہ کہ اس کی تلاوت کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔
مشکل وقت میں مددگار
سورہ یاسین کو مشکل وقت میں پڑھنے کی بہت فضیلت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"اپنے مردوں پر سورہ یاسین پڑھو۔"
(ابو داؤد)
علما اس حدیث کی روشنی میں کہتے ہیں کہ یہ سورہ موت کے وقت سہولت پیدا کرتی ہے اور بندے کی روح کو سکون فراہم کرتی ہے۔
دنیاوی اور اخروی فائدے
1. حاجات کی تکمیل: سورہ یاسین کو حاجات کے لیے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ آسانی پیدا کرتے ہیں۔
2. گناہوں کی معافی: اس سورہ کی تلاوت گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
3. دل کی سکون: سورہ یاسین پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور مایوسی دور ہوتی ہے۔
اہم مضامین
سورہ یاسین کی آیات میں توحید، رسالت، اور قیامت کی حقانیت کو بہت موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں، جنت و جہنم کے احوال اور انسان کے اعمال کی جوابدہی کا ذکر اس سورہ میں موجود ہے۔
عملی نصیحت
مسلمانوں کو چاہیے کہ روزانہ سورہ یاسین کی تلاوت کریں، خاص طور پر صبح کے وقت۔ یہ عمل ان کی زندگی میں برکت اور آخرت میں کامیابی کا سبب بنے گا۔
نتیجہ
سورہ یاسین ایک عظیم سورہ ہے جو ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔ اس کی تلاوت کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی دنیاوی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ آخرت کے لیے بھی بہترین ذخیرہ حاصل کر سکتے ہیں۔
۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

.
☝️
۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔

•

.

•

.
☝️
۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

.
.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islam Zindabad
Peshawar