18/11/2022
**a
The main pùrpòsè of that page is to unite thè uñiversity employees sons. So as to solve the issues which they are facing.
18/11/2022
**a
17/10/2022
اپنا فرض جانیں!
16/08/2022
**a
Dr. Jamil Ahmad Chitrali
13/08/2022
تمام محب وطن پاکستانیوں کو یوم آزادی مبارک ہو۔
12/06/2022
07/05/2022
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) ایگزیکٹیو نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے غیر سنجیدہ رویے اور صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی اساتذہ کے منعقدہ سلیکشن بورڈ کی سنڈیکیٹ اجلاس سے منظوری کے حوالے سے برتی گئی سردمہری پر گہرے تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پیوٹا آفس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پیوٹا ایگزیکٹیو کا اجلاس آج ٹیچرز کمیونٹی سنٹر میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد چترالی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اساتذہ, یونیورسٹی اور طلبہ و طالبات کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں شریک اساتذہ یونین کے منتخب نمائندوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سینڈیکیٹ کے اجلاس کے انعقاد کیلئے متعلقہ حکام کو ایجنڈے کی کاپی بروقت فراہم نہ کرنے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے انہوں نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیساتھ کئے گئے معاہدے کی پاسداری کی جائے اور سازشوں سے پرہیز کیا جائے بصورت دیگر سینٹ کی کمیٹی کو خط لکھ کران اقدامات سے آگاہ کیا جائیگا جو جامعہ پشاور نے جانبدارانہ انداز میں اٹھائے اور جامعہ کے ملازمین میں اضطراب کا باعث بنے ۔
انھوں نے یونیورسٹی انتظا میہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے مروجہ قوانین اور ضوابط سے خود کو روشناس کرائیں تاکہ مستقبل میں ایسے غلطیوں کا تدارک ممکن بنایا جاسکے-
واضح رہے کہ جامعہ پشاور کے تمام ملازمیں نے رمضان سے پہلے ایک مہینہ بھرپور کامیاب احتجاج کیا جس کا اختتام ایک معاہدے کے بعد ممکن ہوا اور اس کی بدولت نہ صرف ایک ہی دن میں بارہ مختلف نوٹیفیکیشن کا اجراء ممکن ہوا بلکہ آٹھ اور چار سالہ عرصے سے التواء کا شکار بھرتیوں اور ترقیوں کے حوالے سے سلیکشن بورڈ کے اجلاس بھی تواتر سے منعقد ہوئے تاہم یہ سلسلہ اس وقت ایک بار پھر متنازعہ بنا جب صوبائی حکومت کی نمائندگی میں تینوں متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے بذریعہ خط وائس چانسلر کو سینڈیکٹ کے مجوزہ اجلاس پر سوالات کھڑے کرکے شرکت سے انکار کردیا اور اسکے تسلسل میں پورے سینڈیکیٹ کے آدھے سے زائد ممبران نے شرکت سے معذرت کردی اور تیس اپریل کو بلایا جانے والا اجلاس منعقد نہ ہوسکا تاہم وائس چانسلر جامعہ پشاور اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے اور عید سے ایک دن پہلے چھٹی والے دن ہی اگلا خط جاری کیا جس میں ایک بار پھر بغیر مشاورت کے سینڈیکیٹ اجلاس عید کی چھٹیوں کے محض ایک دن بعد طلب کرلیا جبکہ اجلاس کا ایجنڈا تاحال ممبران تک نہیں بھیجا گیا جس پر خدشہ ہے کہ دس مئی کو بلایا گیا اجلاس ایک بار پھر التوا کا شکار ہوگا جس پھر پیوٹا نے اپنا واضح موقف جاری کیا ہے ۔
اجلاس میں شریک اساتذہ یونین کے منتخب نمائندوں نے پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر بامقصد بات چیت کریں تاکہ جن اساتذہ کا سلیکشن بورڈ ابھی تک نہیں ہوا ہے وہ بھی ممکن بنایا جاسکے اور سنڈیکیٹ اجلاس کے کامیاب انعقاد کیلئے بھی راہ ہموار کی جا سکیں۔ اس حوالے سے غیر قانونی ترقیوں کی سفارشات کو ایجنڈے سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ ایسی سفارشات حقدار اساتذہ اور دیگر ملازمین کی بروقت ترقی میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں جو کئی سالوں سے اپنے قانونی حق کیلیے انتظار میں ہیں اور موجودہ کامیابی بھی ایک طویل جدوجھد اور احتجاج کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اجلاس نے وائس چانسلر کو متنبہہ کیا ہے کہ وہ مخصوص مذہبی جماعت کا الہ کار بننے کی بجائے جامعہ کے قوانین کے تابع کردار ادا کریں۔
پیوٹا ایگز یکٹیو نے یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یونیورسٹی ایکٹ اورمروجہ طریقہ کار میں رہ کر موجودہ مسائل کا حل ڈھونڈیں تاکہ مسائل مزید گھمبیر نہ ہو اور اساتذہ کی ترقی اور یونیورسٹی کے امیج پر کوئی آنچ نہ آئے۔
پیوٹا ایگزیکٹیو نے تمام اساتذہ پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں حوصلہ رکھیں اور اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے منتخب نمائندوں پر یقین رکھیں۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ وہ اساتذہ کے تمام جائز حقوق پر کوئی سمجوتہ نہیں کرے گی اور انکے پروموشن اور دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد یونیورسٹی ایکٹ اور دیگر قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے حل کرے گی ۔
24/04/2022
Whole class room was absent.
As all of them have died in bomb blast outside school in Kabul Afghanistan.
12/04/2022
کل تیرہ تاریخ کو سابقہ وزیراعظم اقتدار کے بعد پہلاجلسہ پشاور میں کرنے جارہاھے۔ حالانکہ کے پشاور میں انکے گورنر صاحب کے بدولت کیمپس کے تعلیمی ادارے جو ایک تاریخ رکھتی ساڑی تین سالو سے بہران کے شکار ھے
حالنکہ کے پشاور شھر اپنا ہی ایک ڈیم رکهتاھے ۔
لیکن بد قسمتی سے یے تاریخی شہر ان تین سالوں میں بجلی سے محروم تھا
پھلے حکومتوں میں گیس سردیوں میں کهبی کهبی غائب ہوا کرتی تھی۔
لیکن اس حکومت میں تین سالوں سے وہ دیکھنے کو نہ ملا اور لوگوں کو خوب عزت بخشی اور روزگار تو چھینا گا لیکن صحت کارڈ کے نام پر ھسپتالو کی پرائیوٹائزیشن مکمل کی گئی
پشاور کے تمام غیور عوام سے گزارش کرتے تھے کے اس ٹولے کے جال میں نہ آیے اور مزید دوهکا نہ کائیں
02/04/2022
University of Peshawar timings during Ramadan ul Mobarak.
28/03/2022
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیو ٹا) ،کلاس تھری اور کلاس فورپر مشتمل جائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں کل سے وائس چانسلر، رجسٹرار اور ٹریژر کو اپنے دفاتر میں کام سے روکنے کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔
24/03/2022
Today P**A press Release